Main Icon

باب : صبر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 28

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ أَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہ قَالَ لَمَّا ثَقُلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَعَلَ یَتَغَشَّاہُ الْکَرْبُ فَقَالَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا وَا کَرْبَ أَبَتَاہُ فَقَالَ لَیْسَ عَلٰی أَبِیْکِ کَرْبٌ بَعْدَ الْیَوْمِ فَلَمَّا مَاتَ قَالَتْ یَا أَبَتَاہُ أَجَابَ رَبًّا دَعَاہُ یَا أَبَتَاہُ جَنَّۃُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاہُ یَا أَبَتَاہُ إِلٰی جِبْرِیلَ نَنْعَاہُ فَلَمَّا دُفِنَ قَالَتْ فَاطِمَۃُ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا یَا أَنَسُ أَطَابَتْ أَنْفُسُکُمْ أَنْ تَحْثُوْا عَلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ۔ (بخاری، کتاب المغازی، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ، ۳/۱۶۰، حدیث:۴۴۶۲)

عن انس رضی اللہ عنہ قال لما ثقل النبی صلی اللہ علیہ وسلم جعل یتغشاہ الکرب فقالت فاطمۃ رضی اللہ تعالی عنہا وا کرب ابتاہ فقال لیس علی ابیک کرب بعد الیوم فلما مات قالت یا ابتاہ اجاب ربا دعاہ یا ابتاہ جنۃ الفردوس ماواہ یا ابتاہ إلی جبریل ننعاہ فلما دفن قالت فاطمۃ رضی اللہ تعالی عنہا یا انس اطابت انفسکم ان تحثوا علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم التراب۔ (بخاری، کتاب المغازی، باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم ووفاتہ، ۳/۱۶۰، حدیث:۴۴۶۲)

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا اَنَسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہ جب نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو مرض سے گرانی ہوئی ،بے چینی نے غلبہ کیا تو حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَابولیں : ہائے! اباجان کی بے چینی۔ سیِّد عالَمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: آج کے بعد تیرے باپ پر کبھی کسی قِسم کی بے چینی نہیں ، پھر جب آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انتقال فرمایاتو حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَابولیں :اے میرے ابا جان! آپاللہ عزَّوَجَلَّکے بلانے پرتشریف لے گئے ۔اے باپ میرے وہ کہ جنتُ الفردوس جن کا ٹھکاناہے ،اے باپ میرے کہ جن کے انتقال کی مصیبت ہم جبریل سے بیان کرتے ہیں۔ پھر جب آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقبرِاطہر میں اُتار دئیے گئے۔ تو حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے فرمایا : اے انس! تمہارے دلوں نے کیونکرگوارا کیا کہ رَسُوْلُ اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جسمِ اَقدس کو خاک میں پِنہاں کرو ۔

شرح حدیث

عَلَّامَہ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفتح الباری میں فرماتے ہیں : حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمۃ الزہرارَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے جوکہا: ہائے! اباجان کی بے چینی ، یہ آہستہ آوازمیں کہاتھا اگرآپ بلندآواز سے کہتیں تو نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ کو منع فرمادیتے ۔ مزید فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پا ک سے یہ فا ئدہ حا صل ہوا کہ جس انداز میں حضرتِ سَیِّدَتُنافاطمہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے اظہار کیا بس اس طرح ہی درد و غم کا اظہار کرناکسی شخص کی موت کی شدت کے وقت جائز ہے اس میں بھی شرط یہ ہے کہ نوحہ کے اندازمیں درد و غم کا اظہار نہ ہو۔اس سے استدلال کیا جاتا ہے کہ آدمی کے مرنے کےبعد ایسے الفاظ کہناجن سے وہ متصف ہو منع نہیں۔اور ایسے اوصاف بیان کرنا جن سے آدمی متصف نہ ہو وہ منع ہیں۔ (فتح الباری،کتاب المغا زی، باب مرض النبی و وفاتہ، ۹/۱۲۷، تحت الحدیث:۴۴۶۲)
میر ے آقا اعلٰیحضرت، اِمامِ اَہْلسُنّت، ولیٔ نِعمت، عظیمُ البَرَکَت، عظیمُ المَرْتَبت، پروانۂِ شَمْعِ رِسالت، مُجَدِّدِ دین ومِلَّت، مولانا شاہ امام اَحْمَد رَضا خَان
عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں :’’حضرت بتول زہرانے یہ کلمات نہ صَیحہ وفریاد (بلند آواز) کے ساتھ کہے نہ ان میں کوئی غلطی یابے تحقیق وصف بیان فرمایانہ کوئی کلمہ شکایت رب العزۃ وناراضی قضائے الٰہی پردال تھا، لہٰذا اس میں کوئی وجہ ممانعت نہیں۔ زُرقانی میں ہے:فَقَالَ لَھَا لَاکَرْبٌ عَلٰی اَبِیْکَ بَعْدَالْیَوْمِ وَھٰذَا یَدُلُّ عَلٰی اَنَّھَا لَمْ تَرْفَعْ صَوْتَھَا وَاِلَّانَھَاھَا۔ حضور اقدسصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی بیٹی سے فرمایا: آج کے بعد تیرے والد گرامی کو گھبراہٹ اور کوئی بے چینی نہ ہوگی۔ یہ ارشاد اس پردلالت کرتاہے کہ سیدہ نے اپنی آواز (کلمات مذکورہ کہتے ہوئے)بلندنہ کی تھی ورنہ آپ منع فرمادیتے۔‘‘(فتاوی رضویہ، ۲۴/۴۸۵)
فقیہ اعظم حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں :حضرتِ سَیِّدہ فاطمہ زہراءرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے جن دردناک الفاظ میں حضورِ اقدسصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مُفَارَقَت (جدائی) پر اپنے غم کا اظہار فرمایا یہ شدتِ غم میں ، حالتِ اضطرار میں ان کے دَہَنِ پاک سے نکلا، یہ نِیَاحتِ مَمْنُوعَہ (ایسا رونا جو کہ شرعا منع ہے) نہیں جو اپنے قَصْد و اختیار سے چیخ چیخ کر آواز بنابنا کر کیا جاتا ہے جس میں جھوٹ بھی ہوتا ہے ، کسی کے فوت ہونے پر حالتِ اضطرار میں آنسو نکل آئیں یا کچھ کلمات ایسے نکل آئیں جن سے اندرونی غم و اَندَوہ کا اظہار ہو یہ ممنوع نہیں بلکہ مستحب ہے ، جیسا کہ (اپنے صاحبزادے) حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیمعَلٰی اَبِیْہِ وَ عَلَیْہِ السَّلامکے وِصال پر خود حضور اقدسصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمکی چشمانِ مبارک سے آنسو جاری ہوگئے تھے اور یہ فرمایا تھا’’اَلْعَیْنُ تَدْمَعُ وَلَا نَقُوْلُ اِلَّا مَایُحِبُّ رَبُّنَا وَیَرْضَی وَ اَنَا بِفِرَاقِکَ لَمَحْزُوْنُوْنَ یَا اِبْرَاھِیْم‘‘آنکھ سے آنسو جاری ہے مگرہم وہی کہتے ہیں جو ہمارے رب کو پسند ہے اور ہم تمہاری جدائی میں اے ابراہیم غمزدہ ہیں اسی قبیل (قِسم) سے حضرت سیدہ فاطمہ زہراءرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاکے یہ کلمات ہیں۔ (نزھۃ القاری، ۴/ ۸۹۰)حضرتِ فاطمہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاکا گِریَہ و زاری کرنا نوحہ و بے صبری نہیںمُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ خیال رہے کہ سیدہ کے یہ الفاظ نہ تو نوحہ ہیں نہ بے صبری بلکہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فِراق (جدائی)پر بے چینی ہے جو بذاتِ خود عبادت ہے نوحہ یہ ہے کہ میت کے ایسے اوصاف بیان کئے جاویں جو اس میں نہ ہوں او ر پیٹا جاوے ۔ بے صبری یہ ہے کہ رب تعالی کی شکایت کی جاوے۔ جناب سَیِّدَہ ان دونوں سے محفوظ ہیں۔ ‘‘ (مراٰۃ المناجیح، ۸/ ۲۹۱)کیا نزع کے وقت صرف گناہ گاروں کو تکلیف ہوتی ہے؟نزع کے عالم میں محبوبانِ خدا کو بھی تکلیف محسوس ہوتی ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا کہ’’آج کے بعد تیرے باپ پر کبھی کسی قِسم کی بے چینی نہیں ‘‘ ایک حدیث جو کہ اُمُّ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں :’’ نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میرے سینے اور گلے کے درمیان وفات پائی ، تو میں حضور انورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد کسی کے لیے موت کی سختی کو کبھی ناپسند نہیں کرتی۔‘‘ اس حدیث کی شرح میں عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِیمِرْقَاۃُ الْمِفْاتِیْح میں فرماتے ہیں :’’ یعنی میں یہ گمان کرتی تھی کہ نزع کی سختی گناہوں کی کثرت کی وجہ سے ہوتی ہے لیکن جب میں نے حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شدت نزع دیکھی تو میں نے جان لیا کہ موت کی سختی گناہوں کی وجہ سے نہیں بلکہ درجات کی بلندی کے لئے بھی ہے۔ اور آسان موت نیکی و مقبولیت کی نشانی نہیں وگرنہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس کے زیادہ حقدار تھے ۔‘‘ (مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الجنائز، باب عیادۃ المریض، ۴/۲۱تحت الحدیث:۱۵۴۰)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں :’’ خیال رہے کہاللہ عزَّوَجَلَّنے بیماریوں اور وفات کی تکلیفوں کو حضور انورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر اس لیے زیادہ کیا کہ قیامت تک آپ کے مصیبت زدہ امتی آ پ کے ان حالات کو سن کر تسلی پائیں۔ مبارک ہیں وہ رسول جن کی بیماری بھی تبلیغ اور امت کے لیے ذریعہ رحمت ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۲/ ۴۱۱)
آپ ہم سے بڑھ کر ہم پر مہربان ہم کریں جرم آپ رحمت کیجئے
جو نہ بھولا ہم غریبوں کو رضا یاد اس کی اپنی عادت کیجئے
آخری وقت میں بھی صبر کی تلقینامامُ الصَّابِرین، سَیِّدُ الشَّاکِرِیْنصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمنے آخری وقت میں بھی حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاکو صبر کی تلقین فرمائی، جب حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاشدتِ غم کی وجہ سے اپنے دکھ کا اظہار فرما رہی تھیں تو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :لَیْسَ عَلٰی أَبِیْکِ کَرْبٌ بَعْدَ الْیَوْمِیعنی آج کے بعد تمہارے بابا کو کبھی تکلیف نہ ہوگی۔مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس کے تحت فرماتے ہیں :یعنی اے بیٹی! تیرے باپ پر بس یہ آخری تکلیف ہے۔ اس کے بعد کبھی تکلیف نہ ہوگی۔ کیونکہ اب میں دار التکلیف سے رخصت ہورہا ہوں وہاں جارہا ہوں جہاں راحت ہی راحت ہے ۔(مراٰۃ المناجیح، ۸/ ۲۹۰)
’’ فَتْحُ الْبَارِی شرحِ بخاری‘‘میں ہے کہ حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمۃ الزہرا
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاکو صحابۂ کرامعَلَیْہم الرِّضْوَانکی حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کی کیفیت خوب معلوم تھی اسی لئے کہا کہ اے انس ! ا تنی شدید محبت کے باوجود اپنے نبی کو قبر میں اتارنا تم نے کیسے گوارا کر لیا؟ حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسَیِّدَہ زہرارَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاکی یہ بات سن کر ادباً خاموش رہے۔ لیکن زبان حال سے گویا یوں کہہ رہے تھے کہ ہم نے اپنی جانوں پر جبر کر کے یہ سب کچھ کیا ہے ہم بھی خوش نہیں ہیں۔ لیکن حکمِ نبی یہی تھا اس لئے مجبوراً اس پر عمل کرنا پڑا ۔ (فتح الباری ،کتاب المغا زی، باب مرض النبی و وفاتہ ، ۹/۱۲۷، تحت الحدیث:۴۴۶۲)مصائب پر صبر کیسے کریں ؟حضرتِ سَیِّدُناامام محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَالِیایک سوال قائم کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اگرصبر سے مراد یہ ہے کہ کسی مصیبت پر بندہ اپنے دل میں کراہت محسوس نہ کرے ، یہ بات تو بندے کے اختیار میں نہیں پھراسکا شمار صابرین میں کیسے ہو گا؟
جواب :بندہ صابرین کے مرتبہ (درجہ) سے اس وقت نکلتا ہے جب وہ بے جاروئے پیٹے ،اپنا گریبان پھاڑے ، چہرے پر تھپڑ مارے ، بہت زیادہ شکوہ وشکایت کرکے لوگوں پر اپنی مصیبت کا اظہار کرے ، معمول کا لباس وکھانا وغیرہ ترک کرکے ایسا انداز اختیار کرے کہ لوگ اسے مصیبت زدہ جانیں تو ایسا کرنے والا صابرین کے مقام سے خارج ہوجائے گا کیونکہ یہ اُمور بندے کے اختیار میں ہیں ان میں وہ مجبور نہیں ہے ،لہٰذاایسی باتوں سے بچے اور
اللہ عزَّوَجَلَّکے فیصلے پر رضا کا اظہار کرے، نیز اپنے معمول کے کام برقرار رکھے اور یہ عقیدہ رکھے کہ یہ چیز اس کے پاس امانت تھی، پس واپس لے لی گئی۔(احیاء العلوم ، ۴/۹۰)صبر ہو تو ایسا ہوحضرتِ سَیِّدُناانَسرَضِیَ اللہ تَعَا لٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضرتِ ابو طلحہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکا ایک صاحبزادہ بیمار تھا۔ آپ گھر سے باہر تشریف لے گئے توبچے کا انتقال ہوگیا، واپس آکر بچے کا حال پوچھا تو بچے کی والدہ حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ سُلَیْمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَانے کہاکہ پہلے سے زیادہ پُرسکون ہے، پھران کے سامنے کھانا رکھا، انہوں نے کھایا اور پھر بیوی سے ہم بستر ہوئے اس کے بعد اُمِّ سُلَیْم نے کہا: بچے کو دفن کرو۔پھر صبح کے وقت حضرتِ ابو طلحہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنبیِّ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوئے اور واقعہ سنایا ۔آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پوچھا: کیا تم نے رات کو ہم بستری کی ؟عرض کی: ہاں ! آپ نے دعا مانگی: اےاللہ عزَّوَجَلَّ ! ان دونوں کو برکت دے۔ چنانچہ، ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔ حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ فرماتے ہیں حضرتِ ابو طلحہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنےمجھ سے فرمایا: اسے اٹھا کر رسولِ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں لے جاؤ ساتھ ہی کچھ کھجوریں بھی دِیں۔نبیِّ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پوچھا: اس کے ساتھ کچھ ہے ؟ عرض کی: جی ہاں ! چند کھجوریں ہیں۔ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں چبایا اور پھر بچے کے منہ میں رکھ دیں اور یوں اس کی تَحْنِیْک فرمائی اور اس کا نامعَبْدُ اللہرکھا۔(بخاری، کتاب العقیقۃ، باب تسمیۃ المولود غداۃ یولد …الخ، ۳/۵۴۷، حدیث:۵۴۷۰ )
حضرت سفیان بن عُیَیْنَہ فرماتے ہیں : ایک انصاری نے کہا کہ میں نے
عَبْدُ اللہکی اولاد سے نو لڑکے دیکھے جوسب کے سب قراٰن کے قاری تھے ۔ (بخاری، کتاب الجنائز، باب من لم یظہر حزنہ عند المصیبۃ، ۱/۴۴۰، حدیث:۱۳۰۱)
اللہ عزَّوَجَلَّ کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صَدْقے ہم اری بے حساب مغفرت ہو۔
اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدرونا صبر کے خلاف نہیںبعض بزرگ فرماتے ہیں :صبرِ جمیل یہ ہے کہ مصیبت زَد ہ شخص کسی سے پہچانا نہ جائے، اگر کوئی قریبی عزیز مر جائے تو اس کی وجہ سے باکل ہی دل چھوڑ کر نہ بیٹھ جائے ، ہاں شدت ِغم سے آنسوبہہ نکلیں اور بندہ اُداس ہوجائے تو یہ صبر کے خلاف نہیں کیونکہ یہ باتیں بشری تقاضوں میں سے ہیں جو موت تک انسان سے علیحدہ نہیں ہوتیں۔ جیسا کہ کوئی شخص جب بخوشی اپنے زخم کا علاج کرائے تو اگرچہ اسے درد محسوس ہوتا ہے ،کبھی شدت درد سے آنسو بھی نکل جاتے ہیں توآنسو نکلنا اس کی طرف سے جَزَع وفَزَع( رونا پیٹنا) نہیں (بلکہ طبیعت کے تقاضے کی وجہ سے ہے)۔ (احیاء العلوم، ۴/۹۱)میت پر نوحہ کرنا ناجائز ہےمیت پر نوحہ کرنا یعنی چیخنا چلّانا کپڑے پھاڑنا بال نوچنا سینہ پیٹنا اور ناشکری کے کلمات زبان پر لانا ممنوع و ناجائز ہے اور وہ جو حدیث میں آیا ہے کہ میت کو نوحہ کرنے سے عذاب ہوتا ہے تو یہ اس صورت میں عذاب ہوگا جبکہمیت نے نوحہ کی رسم کو جاری کیا ہو یا نوحہ کی وصیت کی ہو۔ اگر یہ صورت نہ ہو تو پھر صرف نوحہ کرنے والے گنہگار ہوں گے میت پر اس کا بوجھ نہ ہوگا ۔ (فیوض الباری، ۵/۹۲)مدنی گلدستہ
’’صبرِ جمیل‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حد یث مذ کور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1) کسی قریبی عزیز کے فوت ہونے پر آنکھوں سے آنسوؤں کا نکل آنا یا زبان سے ایسے کلمات کا نکل جانا جن سے رَنْج و اَلَم کا اظہار ہو یہ منع نہیں۔
(2) کسی عزیز کے آخری وقت میں اس کی جدائی پر غم کا اظہار کرنا جائز ہے ۔
(3) میت کے ان اوصاف کا ذکر کرنا جائز ہے جو اس میں موجود ہوں۔
(4) حضرتِ فاطمہ
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَاکے وہ کلمات نوحہ نہیں تھے بلکہ حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فِراق میں شدید غم کا اظہار تھا۔
(5) کسی کے مرنے پر اس کے ایسے اوصاف بیان کرنا جو اس میں نہیں تھے یا ایسے کلمات بولنا جو
اللہسے شکایت پر مبنی ہوں یہ ناجائز ہے۔
(6) نوحہ یعنی میت کے اوصاف مُبالَغہ کے ساتھ بیان کر کے آواز سے رونا جس کو بیَن کہتے ہیں بِا لْاِجْماع حرام ہے۔ ( بہار شریعت ،۱/۸۵۴، حصہ۴ )
(7) اگر کسی شخص نے نوحہ کی رسم جاری کی تھی یا وہ نوحہ کی وصیت کرکے مرا تو نوحہ کرنے سے میت کو بھی عذاب ہوگا ورنہ صرف نوحہ کرنے والوں پر ہی عذاب ہوگا ان کے نوحہ کرنے سے میت کو عذاب نہیں ہوگا۔
یا اللہ عزَّوَجَلَّ! ہمیں اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صَدقے بڑی سے بڑی مصیبت پر بھی صبر کرنے کی توفیق عطا فرما اور اُس صبر پر اجرِ عظیم عطا فرما !اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 28