Main Icon

باب : صبر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 26

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِی سَعِیدٍ سَعْدِ بْنِ مَالَکِ بْنِ سِنَانِ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ إِنَّ نَاسًا مِّنَ الْأَنْصَارِ سَأَلُوْا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاہم ثُمَّ سَأَلُوْہُ فَأَعْطَاہم حَتّٰی نَفِدَ مَا عِنْدَہُ، فَقَالَ لَھُمْ حِیْنَ اَنْفَقَ کُلَّ شَیْئٍ بِیَدِہٖ ’’مَا یَکُوْنُ عِنْدِیْ مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَہُ عَنْکُمْ وَمَنْ یَسْتَعْفِفْ یُعِفَّہُ اللہُ وَمَنْ یَسْتَغْنِ یُغْنِہِ اللہُ وَمَنْ یَتَصَبَّرْ یُصَبِّرْہُ اللہُ وَمَا أُعْطِیَ أَحَدٌ عَطَائً خَیْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْر‘‘۔مُتَّفَقٌ عَلَیْہ (بخاری، کتاب الزکاۃ، باب الاستعفاف عن المسئلہ، ۱/۴۹۶، حدیث:۱۴۶۹)

عن ابی سعید سعد بن مالک بن سنان الخدری رضی اللہ عنہ إن ناسا من الانصار سالوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاعطاہم ثم سالوہ فاعطاہم حتی نفد ما عندہ، فقال لھم حین انفق کل شیئ بیدہ ’’ما یکون عندی من خیر فلن ادخرہ عنکم ومن یستعفف یعفہ اللہ ومن یستغن یغنہ اللہ ومن یتصبر یصبرہ اللہ وما اعطی احد عطائ خیرا واوسع من الصبر‘‘۔متفق علیہ (بخاری، کتاب الزکاۃ، باب الاستعفاف عن المسئلہ، ۱/۴۹۶، حدیث:۱۴۶۹)

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو سَعِیْد خُدْرِیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے مروی ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزتصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے سوال کیا آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں عطا فرمادیا انہوں نے پھر مانگا حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پھر عطا فرمادیایہاں تک کہ جو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس مال تھا وہ ختم ہو گیا۔ پس جب آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سب چیزیں اپنے ہاتھ سے خرچ کردیں تو ارشاد فرمایا: جو کچھ میرے پاس ہوگا وہ تم سے بچا نہ رکھوں گا جو سوال سے بچنا چاہےاللہ عزَّوَجَلَّاسے بچائے گا اور جو غنا چاہے گااللہ عزَّوَجَلَّاسے غنی کر دے گا اور جو صَبْر چاہے گااللہ عزَّوَجَلَّاسے صَبْر دے گا اور کسی کو صَبْر سے بہتر اور وسیع کوئی چیز نہ ملی۔

شرح حدیث

عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْبَارِیمرقاۃ المفاتیح میں اس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:’’ انصار کی ایک جماعت نے بارگاہِ اقدس میں حاضر ہو کرکچھ مانگا تو نبیِّ رحمت، شفیعِ امتصَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ان کا سوال پورا کر دیا ، انہوں نے پھر سوال کیاتو آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سائلین کو عطا فرمایایہاں تک کہ اس وقت جوکچھ موجود تھا وہ ختم ہوگیا تو ارشاد فرمایا:’’ جو کچھ میرے پاس تھامیں نے تمہیں دے دیا ، نہ میں تم سے اپنی عطا روکتا ہوں نہ کوئی مال تم سے چھپا کر ذخیرہ کرتا ہوں۔جو شخص مانگنے سے بچنا چاہےاللہ عزَّوَجَلَّاسے بچاتا ہے یعنی جو اپنے آپ کو سوال سے روکے یا سوال نہ کرنے کی توفیقاللہ عزَّوَجَلَّسے طلب کرے تواللہ عزَّوَجَلَّسے سوال اور دیگربُری باتوں سے بچنے کی توفیق عطا فرما دیتا ہے ، جو کوئی تھوڑی غذا پر صبر کر لے اور لوگوں سے سوال نہ کرے تواللہ عزَّوَجَلَّاسے قناعت کی دولت سے نوازتا ہے اور قناعت ایسا خزانہ ہے جوکبھی ختم نہیں ہوتا، جو کوئی بے نیازی اختیار کرناچاہےاللہ عزَّوَجَلَّاسے بے نیازکر دیتا ہے، یعنی جو لوگوں کے مال سے بے نیاز ہو کر اپنے آپ کو غنی ظاہر کرے اور سوال کرنے سے بچے یہاں تک کہ لوگ اسے غنی سمجھنے لگیں تواللہ عزَّوَجَلَّایسے شخص کو دل کا غنی بنا دیتا ہے اور یہی حقیقی غَنا ہے کیونکہ کثرتِ مال سے کوئی شخص غنی نہیں ہوتا بلکہ غنی تو وہ ہے جودل کا غنی ہو اور جو صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے تواللہ عزَّوَجَلَّاسے صبر کی دولت عطا فرما دیتا ہے۔ یعنی جو شخص حقیقی صبر کے حصول کے لئے تکلیف دہ اُمور پر بتکلّف صبر کرتا ہے ،اللہ عزَّوَجَلَّسے صبر کی توفیق مانگتا ہے یا اپنے آپ کو لوگوں کے مال کی طرف نظر کرنے سے روکتا اور سوال سے بچنے کی بھر پور کوشش کرتا ہے تواللہ عزَّوَجَلَّا س کے لئے صبر کرنا آسان فرما دیتا ہے۔ حدیث پاک میں صبر کو انسان کے لئے سب سے اچھا اور وسیع عطیہ بتایا گیا ، کیونکہ صبر ہر اعلیٰ مقام کے حصول کے لئے لازم ہے اور صبر خود سب سے اعلیٰ مقام ہے کیونکہ صبر تمام اچھی صفات و کمالات کا جامع ہے۔قراٰن کریم میں بھی صبر کو نماز سے پہلے بیان کیا گیا فرمانِ خدا وندی ہےاِسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ۔‘‘(ترجمہ کنز الایمان: صبر اور نماز سے مدد چاہو) (مرقاۃ المفاتیح،کتاب الزکاۃ، باب من لا تحل لہ المسئلۃ ومن تحل لہ، ۴/۳۵۲ تا۳۵۳، تحت الحدیث:۱۸۴۴)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں :’’ ظاہر یہ ہے کہ یہ مانگنا بلا ضرورت تھا جیسا کہ اگلے فرمان سے معلوم ہورہا ہے۔ ضرورۃً مانگنے والوں کو حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخود بھی دیتے تھے اور دوسروں سے بھی دلواتے تھے یعنی وہ حضرات مانگتے رہے اور حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدیتے رہے انہیں سب کچھ دے کر پھر مسئلہ بتایا ۔اس میں تبلیغ بھی ہے اور سَخاوَتِ مُطْلَقَہ کا اظہار بھی ۔ خیال رہے کہ جس کو حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کچھ خوش ہوکر دیا ہے وہ بہت عرصہ تک ختم نہ ہوا۔ چنانچہ، حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَااور حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکو تھوڑے تھوڑے جَو عطا فرمائے تھے جواُن بزرگوں نے سالہا سال کھائے اور کھلائے ، پھر جب تو لے تو اتنے ہی تھے مگر تولنے سے خَتْم ہوگئے۔ حضرت طلحہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکے ہاں ساڑھے چارسَیر جَو کی روٹی پر سینکڑوں آدمیوں کی دعوت فرمادی۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۳ /۵۹)
میرے کریم سے گر قطرہ کسی نے مانگا دریا بہا دیئے ہیں دُر بے بہا دیئے ہیں
بلا ضرورت سوال کرنامنع ہےحدیثِ مذکور میں بلا وجہ شرعی سوال کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے اور حضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ جو سوال سے بچنا چاہےاللہ عزَّوَجَلَّاُسے بچائے گا اور جو غَنا چاہے گااللہ عزَّوَجَلَّاسے غَنا دے گا۔ مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : یہاں مانگنے سے مراد ذِلَّت و خواری کا مانگنا ہے یعنی بھیک مانگنا، لہٰذا باپ کا اولاد سے یا آقا کا غلام سے یا اس کے برعکس یا اُن سے کچھ مانگنا جن سے مانگنے میں عار نہ ہو، مطلقاً جائز ہے، حضور انورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے شفاعت اور انعامِ الٰہیہ اور اُخروی نعمتوں کی بھیک مانگنا بادشاہوں کے لئے فخر و عزت ہے۔ اس پر علما کا اتفاق ہے کہ بلا ضرورت مانگنا ممنوع ہے۔(مراٰۃ المناجیح۳/۵۳)
بلا وجہ شرعی سوال کرنے کی مَذَمَّت میں بھی بہت سی احادیث آئی ہیں۔ چنانچہ ،
بلا ضرورت مانگنے والے کے چہرے پہ گوشت نہ ہوگافرمانِ مصطفیٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے :’’مَا یَزَالُ الرَّجُلُ یَسْأَلُ النَّاسَ حَتَّی یَأْتِیَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ لَیْسَ فِی وَجْہِہِ مُزْعَۃُ لَحْمٍترجمہ: آدمی لوگوں سے مانگتا رہتا ہے یہاں تک کے قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت نہ ہوگا۔‘‘ (بخاری، کتاب الزکاۃ، باب من سئل الناس تکثرا ،۱/۴۹۷، حدیث:۱۴۷۴)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں :’’ یعنی پیشہ ور بھکاری اور بِلا ضرورت لوگوں سے مانگنے کا عادی قیامت میں اس طرح آئے گا کہ اس کے چہرے میں صرف ہڈی اور کھال ہوگی گوشت کا نام نہ ہوگا۔ جس سے محشر والے پہچان لیں گے کہ یہ بھکاری تھا، یا یہ مطلب ہے کہ اس کےچہرے پر ذِلَّت و خواری کے آثار ہوں گے، جیسے دنیا میں بھی بھکاری کا منہ چھپا نہیں رہتا، لوگ دیکھتے ہی پہچان لیتے ہیں کہ یہ سائل ہے ۔ (مراٰۃ المناجیح، ۳ /۵۶)بھیک مانگنے والا انگارہ مانگتا ہےحضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہرَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: کہ جو شخص مال بڑھانے کے لیے بھیک مانگے تو وہ انگارہ مانگتا ہے اب چاہے کم کرے یا زیادہ۔ (مشکوۃ المصابیح، کتاب الزکاۃ، باب من لا تحل لہ المسألۃ ومن تحل لہ، ۱/۵۱۰، حدیث:۱۸۳۸)
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں یعنی بِلا سخت ضرورت بھیک مانگے بقدر حاجت مال رکھتا ہو زیادتی کے لیے مانگتا پھر ے وہ گویا دوزخ کے انگارے جمع کررہا ہے چونکہ یہ مال دوزخ میں جانے کا سبب ہے اِسی لیے اسے انگارہ فرمایا، اس حدیث سے آج کل کے عام پیشہ ور بھکاریوں کو عبرت لینی چاہیے ، افسوس ہے کہ آج مسلمانوں میں بھیک مانگنے کا مرض بہت زیادہ ہے، اس گناہ میں وہ بھی شریک ہیں جو اُن موٹے مسٹنڈے پیشہ ور بھکاریوں کو بھیک دیتے ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۳ /۵۵)سائل کو دیکر اُسے سوال سے روکنامُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : زمانۂ جاہلیت میں لوگ مانگنے کو عیب نہ سمجھتے تھے بلا ضرورت بھی دستِ سوال دراز کردیتے تھے۔ نو مسلم حضرات اسی عادت کے مطابق اولاً مانگتے تھے، نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماکثر انہیں دے کر سوال سے منع فرماتے تھے ۔ (مراٰۃ المناجیح ، ۳/ ۵۷)
حدیث مذکور میں فرمایا گیا کہ ’’میں مال جمع نہیں کرتا‘‘ اس فرمانِ عالیشان سے پتہ چلتا ہے کہ مال کی محبت اچھی شے نہیں ، مگر افسوس!آج جسے دیکھو اُسی پر دَھن کی دُھن سوار ہے ،مال کمانے کے لئے ہر جائز و ناجائز راستہ اختیار کیا جاتا ہے اور مال ودولت کی محبت میں انسان جہنم کے عمیق گڑھے میں گرتا چلا جاتا ہے ۔ قراٰن وحدیث میں متعدد مقامات پر جمعِ مال کی مَذَمَّت بیان کی گئی ہے ۔ چنانچہ، چند آیاتِ مبارکہ اور روایات ملاحظہ فرمائیے :
اللہ عزَّوَجَلَّ نے قراٰنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرمایا :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(پ ۲۸، المنافقون: ۹)
ترجمۂ کنز الایمان : اے ایمان والو! تمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئی چیز تمہیں
اللہکے ذکر سے غافل نہ کرے اور جو ایسا کرے تو وہی لوگ نقصان میں ہیں۔
ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے :
اِنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌؕ-وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۱۵)(پ ۲۸، التغابن: ۱۵)
ترجمۂ کنز الایمان : تمہارے مال اور تمہارے بچے جانچ ہی ہیں ، اور
اللہکے پاس بڑا ثواب ہے ۔زیادہ مال والوں کے لئے مقامِ غورحضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُسے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ ،راحتِ قلب و سینہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :ھَلَکَ الْمُکَثِّرُوْنَ، یعنی زیادہ مال والے ہلاک ہوئے مگر وہ کہ جس نے اپنا مالاللہ عزَّوَجَلَّکے بندوں میں اس طرح اور اس طرح خرچ کیا ،( نیک کاموں میں خرچ کیا )اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ (مسند امام احمد، ۳/۱۸۰، حدیث :۸۰۹۱)انسان کے تین دوستنبیِّ اکرم، نورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں (۱)اس کے گھروالے (۲) اس کا مال اور(۳) اس کا عمل ۔پھر دوچیزیں واپس لوٹ آتی ہیں جبکہ ایک اس کے ساتھ باقی رہتی ہے۔گھر والے اور مال لَوٹ آتے ہیں جبکہ اس کاعمل اس کے ساتھ جاتا ہے ۔ (بخاری، کتاب الرقاق، باب سکرات الموت، ۴/۲۵۰، حدیث:۶۵۱۴)پُلْ صِراط پر مالداروں کی حالتحضرتِ سَیِّدُنا سلمان فارسیرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکو حضرتِ سَیِّدُنا اَبو دَرْدَاءرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے لکھا :’’اے میرے بھائی! دنیا سے اتنا مال جمع نہ کرنا کہ اس کا شکر ادا نہ کرسکو۔ میں نے رسولِ اکرمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’قیامت کے دن ایک ایسے دُنیا دار کولایا جاے گا جس نے دنیا میں مال کے بارے میںاللہ عزَّوَجَلَّکا حکم مانا ہوگا ،اس کا مال اس کے سامنے ہوگا جب پل صراط پر اس کے قدم لڑکھڑائیں گے تو اس کا مال کہے گا کہ چلو چلو تم نے مجھ سے متعلقاللہ عزَّوَجَلَّکا حق ادا کردیا ہے۔ پھر ایک ایسے دُنیا دار کو لایا جائے گا جس نے دنیا میںاللہ عزَّوَجَلَّکا حق ادا نہیں کیا ہوگا تواس کا مال اس کے کاندھوں کے درمیان ہوگااور اسے پل صراط سے پھسلائے گا اور کہے گا تجھے خرابی ہو تو نے اپنے مال میںاللہ عزَّوَجَلَّکا حق ادا کیوں نہیں کیا وہ شخص اسی حالت پر رہے گا اور کہے گا (ہائے میری) ہلاکت (ہائے میری) بربادی ۔‘‘(مصنف عبدا لرزاق، کتاب الجامع لمعمر بن راشد، باب اصحاب الاموال، ۱۰/۱۳۵، حدیث: ۲۰۱۹۸)تُوْبُوْا اِلَی اللہ اَسْتَغْفِرُ اللہشیطان کا غلامحضرتِ سَیِّدُنا حسن بَصْریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْقَوِیفرماتے ہیں :اللہ عزَّوَجَلَّکی قسم !جو شخص دِرہم کی عزت کرتا ہےاللہ عزَّوَجَلَّاسے ذلیل کرتا ہے ۔ سب سے پہلے دِرہم و دِینار تیار ہوئے تو شیطان نے اُن کو اُٹھا کر اپنی پیشانی پر رکھا پھر ان کو بوسہ دیا اور کہا: جس نے تم دونوں سے محبت کی حقیقت میں وہی میرا غلام ہے ۔ ( احیاء العلوم،۳/۲۸۸)ہر مال بُرا نہیں ہوتامذکورہ بیان سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ مال میں کوئی خیر نہیں اور ہر مال باعثِ ہلاکت ہے۔ بلکہ یہاں کلام اُس مال کے بارے میں ہے جسے حرام ذریعے سے کمایا گیا ہو یا جس سےاللہ عزَّوَجَلَّکا حق ادا نہ کیا گیا ہو اور جو مالاللہ عزَّوَجَلَّکے ذکر سے غافل کردے وہ مال بُرا ہے۔ جبکہ وہ مال جو حلال ذریعے سے کمایا گیا ہو، جس کے ذریعے صدقہ و خیرات کی گئی ہو ، اس کی زکوٰۃ ادا کی گئی ہو اور دیگر اُمورِ خیر میں خرچ کیا گیا ہو وہ ہرگز برا نہیں بلکہ اچھا ہے ۔ فرمانِ مصطفیٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمہے :’’نِعْمَ الْمَالُ الصَّالِحُ لِلرَّجُلِ الصَّا لِحِ،ترجمہ:کیا ہی اچھا مال نیک مرد کے لئے ہے۔‘‘ (شعب الایمان ، باب التوکل ب اللہ والتسلیم لامرہ، ۲/۹۱، حدیث:۱۲۴۸)فرمان مشکل کُشااَمیرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا مولائے کائنات ،علیُّ الْمُرْتَضٰی شیرِ خُداکَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں کہ صبر وہ سواری ہے جس سے گرنے کا ڈر نہیں ہوتا۔ (رسالہ قشیریۃ، باب الصبر، ص۲۲۰)صبر سے متعلق حضرت جنید بغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْہَادِیکا فرمانِ عالیشانحضرت جنیدبغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْہَادِیفرماتے ہیں کہ مومن کے لئے دنیا سے آخرت کو جانا آسان ہے لیکناللہ عزَّوَجَلَّکی خاطر مخلوق کو چھوڑدینا مشکل ہوتا ہے پھر خواہشات چھوڑکراللہ عزَّوَجَلَّکی طرف توجہ اس سے بھی مشکل ہے اور ہر وقتاللہ عزَّوَجَلَّپر نظر رکھ کر صبر تو اور بھی مشکل ہے ۔جب آپرَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہسے صبر کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا: بُرا جانے بغیر کڑوی چیزوں کا گھونٹ پی جاناصبر کہلاتا ہے ۔(رسالہ قشیریۃ، باب الصبر، ص ۲۱۹)بچھو کے کاٹنے پر صبرحضرتِ سَیِّدُنا سِرّیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْوَلِیسے صبر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے صبرسے متعلق بیان شروع کر دیا ، اسی دوران ایک بچھو آپ کی ٹانگ پر مسلسل ڈنک مارتا رہا لیکن آپ پُرسکون رہے ،آپ سے پوچھا گیا کہ اس موذی کو ہٹایا کیوں نہیں ؟ فرمایا:’’ مجھےاللہ عزَّوَجَلَّسے حیا آرہی تھی کہ میں صبر کا بیان کروں لیکن خود صبر نہ کروں۔ (رسالہ قشیریۃ، باب الصبر، ص۲۲۳)مدنی گلدستہ
’’سوال سے بچ‘‘ کے 8حروف کی نسبت سے حد یث مذ کور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 8مدنی پھول
(1) بلا ضرورت سوال کرنے والے کو اگر ممکن ہو تو حکمت عملی کے ساتھ سوال سے روک دینا چاہیے۔
(2) جو ضرورۃ ًمانگے اُسے دے دینا چاہیے اور ہو سکے تو دوسروں سے بھی دلوانا چاہیے۔
(3) جو سوال سے بچنا چاہتا ہے
اللہ عزَّوَجَلَّاس کو بچالیتا ہے، لیکن جو لوگوں کے سامنے بِلا وجہِ شرعی دستِ سوال دراز کرتا ہے تواس کا فقر مزید بڑھ جاتا ہے۔
(4) صبر
اللہ عزَّوَجَلَّکی ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ حدیث میں فرمایا گیا کہ صبر سے بہتر اور وسیع چیز کوئی نہیں۔
(5) لوگوں کے سامنے اپنی مصیبت بیان کرنے سے بہتر ہے کہ صبر کیا جائے اور بندوں کے بجائے
اللہ عزَّوَجَلَّسے امید رکھی جائے ۔
(6) مال کی محبت دل میں نفاق پیدا کرتی ہے ۔
(7)جمعِ مال بری چیز ہے لیکن اگر اِسی مال کو
اللہ عزَّوَجَلَّکی راہ میں صَدَقہ و خیرات کیا جائے تو یہاللہ عزَّوَجَلَّکی خوشنودی کا باعث بن سکتا ہے ۔
(8) مال بڑھانے کے لئے بھیک مانگنا اپنے لئے انگارہ جمع کرنا ہے ۔
یا اللہ عزَّوَجَلَّ! ہمیں ہر آن اپنی رحمت کی نظر میں رکھ، دوسروں کی محتاجی سے بچا کر صرف اور صرف اپنا محتاج رکھ، دنیا کی محبت سے بچا کر اپنی اور اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سچی محبت عطا فرما! اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 26