Main Icon

باب : صبر کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 38

جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یُوْعَکُ فَقُلْتُ:یَا رَسُوْلَ اللہِ! إِنَّکَ تُوْعَکُ وَعْکًا شَدِیْدًا؟ قَالَ:أَجَلْ إِنِّیْ أُوْعَکُ کَمَا یُوْعَکُ رَجُلَانِ مِنْکُمْ، قُلْتُ:ذٰلِکَ أَنَّ لَکَ أَجْرَیْنِ ؟ قَالَ:أَجَلْ ذٰلِکَ کَذٰلِکَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ یُصِیْبُہُ أَذًی،شَوْکَۃٌ فَمَا فَوْقَہَا إِلَّا کَفَّرَاللہُ بِہَا سَیِّئَاتِہٖ، وَحُطَّتْ عَنْہُ ذُنُوْبُہُ کَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَۃُ وَرَقَہَا۔ مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ ’’وَالْوَعْکُ‘‘ مَغْثُ الْحُمّٰی ، وَقِیْلَ :اَلْحُمّٰی (بخاری، کتاب المرضی، باب اشد الناس بلاء الانبیاء ثم الاول، ۴/۵، حدیث:۵۶۴۸)

عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ قال: دخلت علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم وہو یوعک فقلت:یا رسول اللہ! إنک توعک وعکا شدیدا؟ قال:اجل إنی اوعک کما یوعک رجلان منکم، قلت:ذلک ان لک اجرین ؟ قال:اجل ذلک کذلک ما من مسلم یصیبہ اذی،شوکۃ فما فوقہا إلا کفراللہ بہا سیئاتہ، وحطت عنہ ذنوبہ کما تحط الشجرۃ ورقہا۔ متفق علیہ ’’والوعک‘‘ مغث الحمی ، وقیل :الحمی (بخاری، کتاب المرضی، باب اشد الناس بلاء الانبیاء ثم الاول، ۴/۵، حدیث:۵۶۴۸)

حدیث ترجمہ

حضرتِسَیِّدُنا عَبْدُ اللہ بِنْ مَسْعُوْدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا :میں نبیِّ کریمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوا آپ بخار میں مبتلا تھے ، میں نے عرض کی:’’یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ کو تو شدید بخار ہے۔‘‘ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:’’ ہاں ! مجھے تمہارے دو آدمیوں کے برابر بخار ہے ۔ ‘‘ میں نے عرض کی: یہ اس لئے کہ آپ کو دوگنا ثواب ملے ؟ فرمایا:’’ہاں یہی بات ہے اور اسی طرح جب کسی مسلمان کو کانٹاچبھے یا اس سے زائد کسی مصیبت سے تکلیف اٹھانی پڑے تواللہ عزَّوَجَلَّاس کے بدلے اُس کی برائیاں مٹا دیتا ہے اور اس کے گناہ اِس طرح جھڑ جاتے ہیں جس طرح درخت اپنے پتوں کو گرا دیتا ہے ۔‘‘ ’’اَلْوَعْکُ‘‘ بخار چڑھنے کو کہتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ صرف بخار کو بھی کہتے ہیں۔

شرح حدیث

اس حدیث کے تحت مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : معلوم ہوا کہ غلام آقا کی مزاج پُرسی بھی کرے ، خیال رہے کہ بخار مرضِ انبیا ہے، ہمارے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفات بخار ہی سے ہوئی ۔
( کیا آپ
صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کا یہ بخار آپ کے اجر میں اضافے کے لئے ہے؟) اس کے تحت مفتی صاحب مزید فرماتے ہیں : یہ ہے صحابۂ کِرامعَلَیْہم الرِّضْوَانکا ادب و احترام یعنییَا رَسُوْلَ اللہ! یہ تو وہم بھی نہیں کیاجاسکتا کہ آپ کی بیماری خطاؤں کی معافی کے لیے ہو آپ کو گناہ و خطا سے نسبت ہی کیا ، آپ کی بیماری صرف بلندیٔ درجات کے لیے ہوسکتی ہے ، اس سے معلوم ہوا کہ جن چیزوں سے ہم گنہگاروں کے گناہ معاف ہوتے ہیں ان سے نیک کاروں کے درجے بڑھتے ہیں۔ (حدیث ِمذکور میں )مسلمان سے مراد گنہگار مسلمان ہے۔ (مراٰۃ المناجیح، ۲ / ۴۱۰)
بخار ایک رحمت بھری بیماری ہے۔ چنانچہ، اس ضمن میں بخار کی فضیلت پر مشتمل 4 روایات ملاحظہ فرمائیے !
(1)بخار گناہوں کو دور کر دیتا ہےحضرتِ سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں :اللہ عزَّوَجَلَّکے مَحبوب، دانائے غُیوبصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُمّ سائبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْھاکے پاس تشریف لائے تو اُن سے پوچھا:’’ تمہیں کیا ہوا؟ کیوں کانپ رہی ہو؟‘‘ عرض کی: مجھے بخار ہے،اللہ عزَّوَجَلَّاس میں برکت نہ دے !حضو ر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’بخار کو برا نہ کہو کیونکہ یہ آدمی کے گناہوں کو اس طرح دور کردیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو دور کردیتی ہے۔‘‘( مسلم، کتاب البروالصلۃ، باب ثواب المومن ، ص۱۳۹۲، حدیث: ۲۵۷۵)(2)صرف اچھائی باقی رہ جاتی ہےخَاتمُ الْمُرْسَلِین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’بندۂ مومن کو جب لُولگتی ہے یابخار ہوتاہے تو اس کی مثال اس لو ہے کی طر ح ہوتی ہے جسے آگ میں ڈالا گیا تو آگ نے اس کا زنگ دور کردیا اور اچھا ئی باقی رکھی۔‘‘(مستدرک،کتاب معرفۃ الصحابۃ، ذکر مناقب عبدالرحمن، ۴/۵۳۶، حدیث:۵۸۸۰)(3)ہر وقت نیکیاں ہی نیکیاںحضرتِ سَیِّدُنا اُبَی بِنْ کَعْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُفرماتے ہیں :میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!بخار کا ثواب کیا ہے ؟‘‘ ارشاد فرمایا: جب تک بخار میں مبتلاشخص کے قد م میں درد رہتا ہے اور اس کی رگ پھڑکتی رہتی ہے اسے اسکے عوض نیکیاں ملتی رہتی ہیں۔ یہ سن کرحضرتِ سَیِّدُنا اُبَی بِنْ کَعْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُنے دعا کی :یا اللہ عزَّوَجَلَّ!میں تجھ سے ایسے بخار کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری راہ میں جہاد کرنے، تیرے گھر اور تیرے نبیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مسجد شریف کی طرف جانے سے نہ روکے۔ اس کے بعد حضرت ِ سَیِّدُنا اُبَی بِنْ کَعْبرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُکو روزانہ شام کے وقت بخار ہوجایا کرتا تھا۔ (التر غیب والترھیب ،کتاب الجنائز ، باب التر غیب فی الصبر…الخ، ۴/۱۵۳، حدیث:۸۲)(4)پہاڑ کے برابر گناہ معاففرمانِ مصطفٰےصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے :’’ جب کوئی مرد یاعورت مسلسل بخار یا سر درد میں مبتلا ہو اور اس پر اُحُد پہاڑ کی مثل گناہ ہوں توجب وہ بیماری اُس سے جدا ہوتی ہے تو اس کے سر پر رائی کے برابر بھی گناہ نہیں ہوتے۔‘‘(التر غیب والترھیب، کتاب الجنائز ، باب التر غیب فی الصبر…الخ، ۴/۱۵۱،حدیث:۶۷)مدنی گلدستہ’’صالحین‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حد یث ِ مذکوراور اُس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول(1) مومن کو پہنچنے والی چھوٹی سے چھوٹی مصیبت یا تکلیف بھی اس کے گناہوں کی معافی کا سبب بنتی ہے ۔
(2) تکلیف یا مرض کی وجہ سے مومن کے گناہ درخت کے پتوں کی طرح جھڑ جاتے ہیں۔
(3) بار گاہِ خداوندی میں جو جتنا زیادہ مُقَرَّب ہوتا ہے اس پر اتنے ہی زیادہ مصائب و آلام آتے ہیں۔سب سے زیادہ مصائب انبیائے کرام
عَلَیْھِمُ السَّلَامپر اورپھر اُن کے بعد درجہ بدرجہ اولیائے کرامرَحِمَھُمُ اللہ السَّلَامپر آتے ہیں۔
(4) مصیبت پر صبر کرنے سے گناہوں میں کمی اورنیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔
(5)بخار باعثِ رحمت ہے کہ انبیائے کرام
عَلَیْھِمُ السَّلَامکو بھی بخار ہواکرتا تھا ۔
(6)بخار کو بُرا کہنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ اس کے ذریعے گناہ جھڑتے اور نیکیاں بڑھتی ہیں۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 1 , حدیث نمبر: 38