Main Icon

اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 347

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِىَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنْ اَبِيْ بَكْرٍ الصدِّيق رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَوْقُوْفًا عَلَيْهِ اَنَّهُ قَالَ : ارْقُبُوا مُحَمَّدًا

صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِىْ اَهْلِ بَيْتِهِ. ( ) مَعْنَى ” اُرْقُبُوْا “ : رَاعُوْهُ وَاحْتَرِمُوْهُ وَاَكْرِمُوْهُ وَاللهُ اَعْلَمُ.

عن ابن عمر رضى الله عنهما ، عن ابي بكر الصديق رضي الله عنه موقوفا عليه انه قال : ارقبوا محمدا

صلى الله عليه وسلم فى اهل بيته. ( ) معنى ” ارقبوا “ : راعوه واحترموه واكرموه والله اعلم.

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاحضرتِ سَیِّدُنا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے موقوفًا روایت کرتے ہیں کہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ’’محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ان کے اہل بیت کا خیال رکھو ۔ ‘‘
اُرْقُبُوْا“ کا معنی ہے : ’’ان کی رعایت کرو ، ان کا احترام کرو اور ان کی عزت کرو ۔ ‘‘

شرح حدیث

حدیث موقوف کی تعریف :مذکورہ حدیث پاک امیرالمؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے موقوفًا روایت ہے ۔ موقوف اس روایت کو کہتے ہیں جس کی اضافت صحابی کے قول یا فعل کی طرف کی جائے ۔ ( )
¥
صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی نصیحت :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے لوگوں کو یہ حکم دیا کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَامکے اہل بیت کے معاملے میں حضور کا خیال رکھو ، اس طرح کہ اہل بیت کی حفاظت کرو ، انہیں اذیت نہ پہنچاؤ اور ان کی اہانت ( توہین ) نہ کرو ۔ نیز حضورعَلَیْہِ السَّلَامکے اہل بیت سیّدہ فاطمہ ، سیدناعلی المرتضیٰ اور سیدنا امامِ حسن وحسینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْہیں کیونکہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامنے انہیں کمبل میں لپیٹ کر فرمایا : یہ میرے اہل بیت ہیں یا یہ حضرات اور ازواجِ مُطَہَّرات دونوں اہل بیت ہیں کیونکہ اہل بیت سے مطلقًا ذہن اُن کی طرف جاتا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
اہل بیت وصحابہ کرام کا ادب لازم ہے :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اہل بیت کی قدر و منزلت کے پیش نظر

اُن کی تعظیم کرنا ، اُن سے محبت و مؤدت کرنا لازم ہے اور اہل بیت کی تعظیم کے ساتھ ساتھ اُن تمام لوگوں کا ادب و احترام بھی لازم ہے کہ جن کی تعظیم کا شریعت نے حکم دیا ہے یعنی صحابہ کرام ، علمائے عاملین اور اَولیاءِ کاملین
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
امامِ ’’حَسَن ‘‘ کے 3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اُس کی وضاحت سے ملنے والے 3مدنی پھول
(1)
اہل بیت اور اُن تمام لوگوں کا ادب و احترام کرنا لازم ہے کہ جن کی تعظیم کا شریعت نے حکم دیا ہے ۔
(2) اہل بیت کی تعظیم میں سے یہ بھی ہے کہ ان کی سیرت پر عمل کیا جائے اور ان کی اتباع کی جائے ۔
(3) مذکورہ حدیثِ پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھی لوگوں کو اہل بیت سے محبت کرنے کا حکم دیتے اور انہیں اِس پر اُبھارتے تھے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اَہل بیت سے محبت اور اُن کا ادب واِحترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور کل بروزِ قیامت ہمیں اُن کی شفاعت نصیب فرمائے ۔
کیا بات رضا اس چمنستانِ کرم کی
زہرا ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول
اہل سنت کا ہے بیڑا پار اَصحابِ حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت
رسولُ اللہکیصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 347