اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 4

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا یزید بن حیانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ میں ، حُصَیْن بن سَبْرَہ اور عَمرو بن مسلم ہم تینوں حضرت سَیِّدُنَا زید بن اَرْقَمْرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْکی خدمت میں حاضر ہوئے پس جب ہم ان کے پاس بیٹھ چکے تو حضرت سیدنا حُصَینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ان سے کہا : ’’اے زید ! آپ نے بہت بھلائی پائی کیونکہ آپرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زیارت سے مشرف ہوئے ، آپ نے ان سے احادیث سنیں ، ان کے ساتھ غزوات میں شریک ہوئے اوران کی اقتداء میں نماز ادا کی ۔ اے زید ! آپ نے خیر کثیر پائی ، آپ ہمیں بھی وہ باتیں بتائیں جو آپ نےرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنیں ۔ حضرت سَیِّدُنا زید بن ارقمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ’’اے بھتیجے ! خدا کی قسم ! میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور میرے اس یادگار زمانے کو مدت گزر گئی ہے اور جو کچھ حضورعَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَامسے میں نے یاد کیا تھا اس میں سے بھی کچھ

بھول گیا ہوں پس جو کچھ میں تم سے بیان کروں اسے قبول کرلو اور جو نہ بیان کرسکوں اس کے متعلق مجھے زحمت نہ دو ۔ ‘‘ پھر فرمایا کہ ایک دن
رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممکہ و مدینہ کے درمیان خم نامی تالاب پر خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ۔ آپعَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَامنے پہلےاللہتعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور لوگوں کووعظ و نصیحت فرمائی ۔ پھر ارشاد فرمایا : ” خبردار ! اے لوگو ! میں ایک بشرہوں ، قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد آجائے اور میں اس کا پیغام قبول کرلوں ۔ میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑ رہا ہوں ۔ ان میں سے پہلی تواللہ عَزَّ وَجَلَّکی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے ، تماللہ عَزَّ وَجَلَّکی کتاب پر عمل کرو اور اسے مضبوطی سے تھام لو ۔ “ پھرآپ نےکِتَابُ اللہپر عمل کرنے پر اُبھارا اور اس کی رغبت دلائی ۔ پھر ارشاد فرمایا : ’’دوسرے میرے اہل بیت ہیں ، میں تمہیں اپنے اہل بیت کے متعلقاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈراتا ہوں ، میں تمہیں اپنے اہل بیت کے متعلقاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈراتا ہوں ۔ ‘‘ حضرت سیدنا حصینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے پوچھا : ’’اے زید ! اہل بیت کون ہیں؟ کیا ان میں ازواجِ مُطَہَّرات شامل نہیں؟ ‘‘ حضرت سیدنا زید بن اَرقمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ’’ آپ کی ازواج بھی اہلِ بیت میں سے ہیں لیکن یہاں اہل بیت سے مراد وہ لوگ ہیں جن پر آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد صدقہ لینا حرام ہے ۔ ‘‘ پوچھا : ’’ وہ کون ہیں؟ ‘‘ فرمایا : ’’وہ آلِ علی ، آلِ عقیل ، آلِ جعفر اور آلِ عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْہیں ۔ ‘‘ پوچھا : ’’ان سب پر صدقہ لینا حرام ہے ؟ ‘‘ فرمایا : ’’ہاں ۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’سنو ! میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں ۔ ان میں سے ایکاللہ عَزَّ وَجَلَّکی کتاب ہے جواللہ عَزَّ وَجَلَّکی رسّی ہے جو اس پر عمل پیرا ہوگا وہ ہدایت پر رہے گا اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ گمراہ ہوا ۔ ‘‘

عَنْ يَزِيْدَ بْنِ حَيَّانَ قَالَ : اِنْطَلَقْتُ اَنَا وَحُصَيْنُ بْنُ سَبْرَةَ وَعَمْرُوبْنُ مُسْلِم اِلَى زَيْدِ بْنِِ اَرْقَمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فَلَمَّا جَلَسْنَا اِلَيْهِ قَالَ لَهُ حُصَيْنٌ : لَقَدْ لَقِيْتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيْرًا رَاَيْتَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

وَسَمِعْتَ حَدِيْثَهُ وَغَزَوْتَ مَعَهُ وَصَلَّيْتَ خَلْفَهُ : لَقَدْ لَقِيْتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيْرًا حَدِّثْنَا يَا زَيْدُ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَا اِبْنَ اَخِيْ وَاللهِ لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَقَدُمَ عَهْدِيْ وَنَسِيْتُ بَعْضَ الَّذِيْ كُنْتُ اَعِيْ مِنْ رَسوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا حَدَّثْتُكُمْ فَاقْبَلُوْا وَمَا لَا فَلَا تُكَلِّفُوْنِيْهِ ثُمَّ قَالَ : قَامَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِيْنَا خَطِيْبًا بِمَاءٍ يُدْعَى خُمًّا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَحَمِدَ اللهَ وَاَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ وَذَكَّرَ ثُمَّ قَالَ : اَمَّا بَعْدُ اَلَا اَيُّهَا النَّاسُ فَاِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ يُوْشِكُ اَنْ يَاْتِيَ رَسُوْلُ رَبِّيْ فَاُجِيْبَ وَاَنَا تَارِكٌ فِيْكُمْ ثَقَلَيْنِ : اَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللهِ فِيْهِ الْهُدٰى وَالنُّوْرُ فَخُذُوْا بِكِتَابِ اللهِ وَاسْتَمْسِكُوْا بِهِ فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللهِ وَرَغَّبَ فِيْهِ ثُمَّ قَالَ : وَاَهْلُ بَيْتِيْ اُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِيْ اَهْلِ بَيْتِيْ اُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِيْ اَهْلِ بَيْتِيْ فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ : وَمَنْ اَهْلُ بَيْتِهِ يَا زَيْدُاَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ اَهْلِ بَيْتِهِ؟ قَالَ : نِسَاؤُهُ مِنْ اَهْلِ بَيْتِهِ وَلٰكِنْ اَهْلُ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ قَالَ : وَمَنْ هُمْ؟ قَالَ : هُمْ آلُ عَلِيٍّ وَآلُ عَقِيْلٍ وَآلُ جَعْفَرٍ وَآلُ عَبَّاسٍ. قَالَ : كُلّ ُهٰؤُلَاءِ حُرِمَ الصَّدَقَةَ؟ قَالَ : نَعَمْ. ( ) وَفِيْ رِوَايَةٍ : اَلَا وَاِنّي تَارِكٌ فِيْكُمْ ثَقَليْنِ : اَحَدُهُمَا كِتَابُ اللهِ وَهُوَ حَبْلُ اللهِ مَنِِ اتَّبَعَهُ كَانَ عَلَى الهُدٰى وَمَنْ تَرَكَهُ كَانَ عَلَى ضَلَالَةٍ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 346 ، اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابن عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاحضرتِ سَیِّدُنا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے موقوفًا روایت کرتے ہیں کہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ’’محمدصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ان کے اہل بیت کا خیال رکھو ۔ ‘‘
اُرْقُبُوْا“ کا معنی ہے : ’’ان کی رعایت کرو ، ان کا احترام کرو اور ان کی عزت کرو ۔ ‘‘

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِىَ اللهُ عَنْهُمَا ، عَنْ اَبِيْ بَكْرٍ الصدِّيق رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَوْقُوْفًا عَلَيْهِ اَنَّهُ قَالَ : ارْقُبُوا مُحَمَّدًا

صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِىْ اَهْلِ بَيْتِهِ. ( ) مَعْنَى ” اُرْقُبُوْا “ : رَاعُوْهُ وَاحْتَرِمُوْهُ وَاَكْرِمُوْهُ وَاللهُ اَعْلَمُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 347 ، اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان