Main Icon

باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 702

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَن الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَعَظَنَارَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْعِظَةً وَجِلَتْ مِنْهَا القُلُوبُ وَذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُوْنُ.

عن العرباض بن سارية رضي الله عنه قال: وعظنارسول الله صلى الله عليه وسلم موعظة وجلت منها القلوب وذرفت منها العيون.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُناعِرباض بِن سَارِیہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُبَیان کرتےہیں کہ حُضُورنبی کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ہمیں ایک ایسا وعظ فرمایا جس سے دِل خوف زدہ اور آنکھیں آبدِیدہ ہو گئیں۔

شرح حدیث

پرتاثیر وعظ:مرآۃ المناجیح میں ہے:یوں توحُضُور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کے تمام وعظ ہی مُؤثر ہوتے تھے لیکن خُصوصِیَّت سے یہ وعظ بَہت پُرتاثیرتھا۔جس میں عشقِ خُدا،خَوفِ کِبریا کا دریا موجیں مار رہا تھاعشق سے آنسو بہے اورخوف سے دِل ڈرے۔
میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو!واعظ کے لیےضَروری ہے کہ وہ لوگوں کے حالات ونَفْسِیَّات سے واقِفِیَّت رکھتا ہو اور لوگوں کا دِلی طور پرخیر خواہ ہو نہ تو
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت کی اِس طرح اُمِّید دِلائے کہ لوگ عمل سے غافِل و بے پَرواہ ہوجائیں اور نہ اُن کو اِس قَدْر خوف دِلائے کہ وہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت سے مایوس ہو جائیں۔حُضُورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےوعْظ ونصیحت کااَندازاِنتہائی دِلْنَشِین ہواکرتا۔کبھی خوفِ خُدا کابَیان ہوتاتوکبھی رحمتِ اِلٰہی کی بِشارَتیں،کبھی جنَّت کی خوشخبریاں سُناتے توکبھی دوزخ سے ڈراتےاور کبھی سابقہ اُمّتوں کے حالات سے آگاہ فرماتےتوکبھی آنے والے فِتنوں کی خبراِرشادفرماتے۔ اَلْغَرَض کلام حاضِرین کی حالت اوروقت کے تقاضے کے عَین مُطابِق ہوتا ۔وعظ و نصیحت کے چار طریقے:حُجَّۃُ الْاِسْلامحضرتِ سَیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد بن محمد غَزَالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالِیفرماتے ہیں:’’اگر تم کہو کہ وعظ کا کوئی ایسا طریقہ بَیان ہوجائے جسے واعظین وعظ میں اِختیار کریں تو جان لو کہ اِس میں کافی تفصیل ہے جس کا اِحَاطَہ ناممکن ہے۔البتّہ ہم گُناہ پر اِصرار کے مسئلے کےحل اور گُناہ چھوڑنے کی ترغیب میں فائدہ مند کلام چار طریقوں کی صُورت میں ذِکر کرتے ہیں:
*پہلا طریقہ:قُرآنِ پاک کی وہ آیات بَیان کی جائیں جن میں گُناہ گاروں اور نافرمانوں کو ڈَرایا گیا ہے۔ یونہی اِس حوالے سے مَرْوِی اَحادیثِ مُبارَکہ اور اَقوالِ بُزرگانِ دین بَیان کیے جائیں۔
*دُوسرا طریقہ:اَنبیائے کرام
عَلَیْہِمُ الصَّلٰوةُ وَالسَّلَاماورسَلَف صالِحینرَحِمَہُمُ اللّٰہ الْمُبِیْنکی حِکایات اور اُن کے اِمْتِحان کے سِلسلہ میں اُن پر جو آزمائشیں آئیں وہ بَیان کی جائیں کہ وہ مخلوق کے دِلوں پر خُوب اَثَر کرتی اور اُنہیں نَفْع پہنچاتی ہیں۔
*تیسرا طریقہ: لوگوں کے سامنے یہ بات بَیان کی جائےکہ گُناہوں کی سزا دُنیا ہی میں مِل جانا مُمکن ہے اور بندے کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ اُس کے گُناہوں کے سبب پہنچتی ہے۔اَکثر لوگ آخرت کے مُعامَلے میں بَہت سُستی بَرتتے ہیں اور جَہالت کی وجہ سے دُنیوی سزاؤں سے بَہت ڈرتے ہیں۔ تو مُناسِب یہی ہے کہ اُن کو دُنیوی سزا سے ڈرایا جائے کیونکہ سارے ہی گُناہوں کی نَحوست جَلْد دُنیا کے اندر اکثر کاموں میں ظاہر ہوجاتی ہےحتّٰی کہ بعض اوقات گُناہوں کےسبب بندے پر رِزْق تنگ ہوجاتا ہے اوربعض اوقات لوگوں کے دِلوں میں اِس کی قَدْر ومَنْزِلت کم ہوجاتی ہے اور اِس کے دُشمن اِس پر غالِب آجاتے ہیں۔ مُحسِنِ کائنات،شاہِ مَوجودات
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”بےشک بندہ گُناہ کے باعِث رِزْق سے مَحروم کردیا جاتا ہے۔“
*چوتھا طریقہ: گُناہ کرنے کے نتیجے میں جو سزائیں مِلیں گی اُنہیں بَیان کیا جائےمثلاً شراب نوشی، زِنا، چوری،قَتْل،غیبت،تکَبُّر، حسد وغیرہ کی سزائیں بَیان کی جائیں۔ تمام گُناہوں کی سزاؤں کا شُمارتو نامُمکن ہےاورغَیراَہْل کے سامنے اُن کا ذِکْر ایسے ہی ہے جیسے دوا کوغَیرمحل میں اِستعمال کرنا۔عالِم کو طبیبِ حاذِق کی طرح ہونا چاہیے کہ وہ پہلےنَبْض، رَنگت اور حَرَ کات وسَکَنات سے اندرونی بیماریوں کی جانچ کرتا ہے پھر اُن کے عِلاج میں مصروف ہوجاتا ہے۔ عالِم کو بھی چاہیے کہ پہلےقَرائِن کے ذریعےچھپی ہوئی صِفات معلوم کرےپھرجو صِفات معلوم ہوجائیں تو رسول اکرم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پَیروی کرتے ہوئے اُن کی اِصلاح کرے۔حُضُورنبیّ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خِدمتِ اَقْدَس میں ایک شخص نے عَرْض کی:”مجھے نصیحت فرمائیے لیکن زیادہ نہ ہو۔“آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا:”لَا تَغۡـضَبۡیعنی غصہ نہ کیا کرو۔“ایک شخص نے عَرْض کی:”یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے نصیحت فرمائیے۔“آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا:”لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اُس سے نا اُمّید ہو جاؤ اور لالچ سے بچو کہ(تم فَقْرسے بچنے کے لیے طَمَعْ کرتے ہومگر )طَمَع(بذاتِ خُود) فقرحاضِر ہےاور جب نَماز پڑھو تو زندَگی کی آ خِری نَماز(سمجھ کر)پڑھو اور ہرگز ایسی بات نہ کرو جس سے تمہیں(کل)مَعذِرت کرنی پڑے۔“حضرتِ سیِّدُنا محمد بِن واسعرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکی خِدمت میں ایک شخص نے عَرْض کی:”مجھے نصیحت کیجئے۔“آپ نے فرمایا:”میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ دُنیا اور آخرت میں فِرِشتہ بن جاؤ۔“ اُس نے کہا: ”میرے لئے یہ کیسے ممکن ہے؟“ فرمایا:”خود پر دُنیا سے بےرَغبتی لا زِم کرلو۔“گویا نبیوں کے سردار،غَیبوں پہ خبردارصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پہلے شخص میں غصے کی علامات کو جانا تو اُسے غصے سے منع فرمایا اور دُوسرے میں لوگوں (کے اَموال)میں طَمَعْ اور لمبی اُمیدیں لگانے کی علامات کو مُلاحَظہ فرمایا تو اُسے اِس سے مَنْع فرمایا اورحضرت سیِّدُنا محمد بن واسعرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہنے سائِل میں دُنیا کی حرص کا گُمان کیا تو اُسے اِس بارے میں نصیحت فرمائی۔
(امام غزالی
رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہمزید فرماتے ہیں:)ہر واعظ کو اپنی مکمل تَوَجُّہ باطِن میں چھپی ہوئی صِفات کی جانچ میں مصروف رکھنی چاہیے اور لوگوں کے اَحوال پہچاننے کی کوشش کرنا چاہیے تاکہ اس کی مَشغولیت مَقصد کی طرف رہے کیونکہ ہر بندے کوشریعت کے تمام مَواعظ اورنصیحتیں بَیان کردینا ناممکن ہےاورجس بات کی اِنسان کو ضَرورت نہیں وعْظ میں اُسے بَیان کرنا وَقت ضائِع کرنا ہے۔سُوال:اگر واعظ کسی مجمع میں وعْظ کر رہا ہو یا کوئی نصیحت کا طالِب ہو مگر واعظ اُس کی باطِنی کیفیت سے واقِف نہ ہو تو واعظ کو کیا کرنا چاہئے؟جواب: ایسی صُورت میں واعظ کو چاہئے کہ اُن باتوں کی نصیحت کرے جن کی عُمومی طور پر یا اَکثر تمام لوگوں کو حاجت ہوتی ہے کیونکہ عُلُومِ شَرْعِیَّہ میں غذائیں بھی ہیں اور دوائیں بھی۔ غذائیں سب کے لئے ہیں جبکہ دوائیں صرف بیماروں کے لئے ہیں۔ اِس کی مثال یہ رِوایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا ابوسعید خُدْریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہکی خِدمت میں عَرْض کی:”مجھے نصیحت فرمائیے۔“آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:”اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرو کیونکہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرنا تمام بھلائیوں کی جڑ ہے اور جِہاد کرو کیونکہ اِسلام کی رَہْبَانِیَّت (گوشہ نشینی) یہی ہے اور قُرآنِ پاک کو لازِم پکڑلو کیونکہ یہ زمین والوں میں تمہارے لئے نُور اور اَہْلِ آسمان میں تمہارے چَرچے کا سبب ہے اور اچھی بات کے سِوا خاموشی اِختیار کرو اِس طرح تم شیطان پر غَلَبہ حاصِل کرلوگے۔مدنی گلدستہ’’واعظ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) واعظ کو لوگوں کے حالات و نَفْسِیَّات سے آگاہ ہونا چاہیے اور لوگوں کا دِلی طور پر خَیر خواہ ہونا چاہیے۔
(2) وعظ میں رحمتِ الٰہی کی اِس طرح اُمید نہیں دِلانی چاہیے کہ لوگ عَمَل سے غافِل اور بے پَروا ہو جائیں۔
(3) وعظ میں اِس قَدر خوف بھی نہیں دِلانا چاہیے کہ لوگ
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت سے مایوس ہوجائیں۔
(4) وعظ میں کبھی خوفِ خُدا کا بَیان ہو تو کبھی رحمتِ اِلٰہی کاذِکر،کبھی جنَّت کی خوشخبریاں سُنائی جائیں تو کبھی دوزخ سے ڈرایا جائے۔اَلغَرَض کلام حاضِرین کی حالت اور وَقت کے تقاضے کے مُطابِق ہو۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دُعا ہے کہ وہ ہمیں اِخلاص کے ساتھ حاضِرین کی حالت کے مُطابِق وعظ ونصیحت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 702