باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 6

حضرتِ سَیِّدُناابو وائل شقیق بن سَلَمَہرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:حضرتِ سَیِّدُناعبداللّٰہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُہر جمعرات ہمیں وعظ ونصیحت فرماتے تھے، ایک شخص نے عَرض کی:اے ابو عبد الرحمٰن!میری تَمنَّا یہ ہےکہ آپ ہمیں ہرروزوعظ ونصیحت فرمایا کریں۔حضرتِ سَیِّدُناعبداللّٰہبن مسعودرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا:میرے لیے اِس میں رُکاوٹ یہ ہے کہ میں تمہیں اُ کتاہَٹ اور مَلال میں ڈالنا پسند نہیں کرتا،میں وعظ و نصیحت میں تمہارا ویسا ہی لِحاظ رکھتا ہوں جیسا نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماکتاہٹ اور مَلال کے خوف سے ہمارا لِحاظ رکھتے تھے۔

عَنْ اَبِيْ وَائِلٍ شَقِيْقِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ:كَانَ ابْنُ مَسْعُوْدٍرَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُذَكِّرُنَا فِيْ كُلِّ خَمِيْسٍ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا اَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ لَوَدِدْتُ اَنَّكَ ذَكَّرْتَنَا كُلَّ يَوْمٍ فَقَالَ:اَمَا اِنَّهُ يَمْنَعُنِيْ مِنْ ذٰلِكَ اَنِّیْ اَكْرَهُ اَنْ اُمِلَّكُمْ وَاِنِّيْ اَتَخَوَّلُكُمْ بِالْمَوْعِظَةِكَمَا كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّلُنَابِهَا مَخَافَةَ السَّآمَةِ عَلَيْنَا.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 699 ، باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنااَبُو الیَقْظانعَمَّاربن یاسِررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں:میں نےرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سُنا کہ’’مَرد کا نَمازکو لمبا کرنا اورخطبہ مختصرکرنا اِس کےدَانَا ہونے کی عَلامت ہے،لہٰذا نَماز لمبی اورخطبہ مختصرکرو۔‘‘

عَنْ اَبِي الْيَقْظَانِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَليْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: اِنَّ طُوْلَ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ فَاَطِيْلُواالصَّلَاةَ وَاَقْصِرُواالْخُطْبَةَ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 700 ، باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان

حضرتِ سَیِّدُنامُعاوِیَہ بِن حَکَمْ سُلَمِیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:میںرسولُﷲصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اِقتداء میں نَماز پڑھ رہا تھا کہ قوم میں سے ایک شخص کو چھینک آئی،میں نے کہا:يَرْحَمُكَ اللّٰهُ(یعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّتم پر رَحم کرے)تولوگ مجھے تیز نِگاہوں سےدیکھنے لگے،میں نے کہا:ہائے میری ماں کا رونا،تم لوگ مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟تو لوگ اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے لگے،جب میں نے سمجھاکہ مجھے خاموش کرارہے ہیں تو میں خاموش ہوگیا،پھرجبرسولُﷲصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نَمازپوری فرمائی، میرے ماں باپ آپ پر نِثار،میں نے ایسا اچھا سکھانے والامُعَلِّمنہ آپ سے پہلے دیکھا نہ آپ کے بعد۔خُدا کی قسم!آپ نے نہ مجھے ڈانٹا، نہ مارا، نہ کچھ بُرا کہا بلکہ فرمایا:”نَماز میں باتیں کرنا دُرُست نہیں ، نَماز میں صِرف تسبیح،تکبیراورقرآن کی قِراءَت کی جاتی ہے۔“یاجورسولُﷲصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا۔میں نےعَرض کی:”یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میں زمانہ ٔجاہِلِیَّت کےقریب کا انسان ہوں اوراباللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے اِسلام کی دولت سےمُشَرَّف فرمادیا ہے۔(پھرپوچھا)ہم میں سےبعض لوگ کاہِنوں کے پاس جاتےہیں؟اِرشادفرمایا:”کاہِنوں کے پاس مت جاؤ۔“میں نے پوچھا:ہم میں سے بعض(پرندوں وغیرہ کے ذریعے)شگون بھی لیتے ہیں؟اِرشادفرمایا:”یہ ایک چیز(یعنی خیال)ہے جسے وہ اپنے دِل میں پاتے ہیں لیکن یہ اُنہیں(اُن کےعَزْم واِرادے سے)نہ روکے۔“

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِیّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:بَيْنَا اَنَا اُصَلِّي مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذْ عَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقُلْتُ:يَرْحَمُكَ اللهُ، فَرَمَانِي القَوْمُ بِاَبْصَارِهِمْ،فَقُلْتُ:وَاثُكْلَ اُمِّيَاهُ! مَا شَاْنُكُمْ تَنْظُرُونَ اِلَيَّ؟فَجَعَلُوْا يَضْرِبُوْنَ بِاَيْدِيْهِمْ عَلٰى اَفْخَاذِهِمْ،فَلَمَّارَاَيْتُهُمْ يُصَمِّتُوْنَنِي لٰكِنِّي سَكَتُّ فَلَمَّا صَلَّى رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبِاَبِيْ هُوَ وَاُمِّي مَارَاَيْتُ مُعَلِّمًا قَبْلَهُ وَلاَبَعْدَهُ اَحْسَنَ تَعْلِيْمًا مِنْهُ فَوَاللهِ مَا كَهَرَنِي وَلاَ ضَرَبَنِي وَلاَ شَتَمَنِي.قَالَ:اِنَّ هٰذِهِ الصَّلَاةَ لاَ يَصْلُحُ فِيْهَا شَيْءٌ مِنْ كَلامِ النَّاسِ اِنَّمَا هِيَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيْرُ وَقِرَاءَةُ القُرْآنِ اَوْكَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ اِنِّيْ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَقَدْ جَاءَ اللهُ بِالْاِسْلاَمِ وَ اِنَّ مِنّارِجَالًا يَاْتُوْنَ الْكُهَّانَ؟قَالَ:فَلاَ تَاْتِهِمْ قُلْتُ: وَمِنّارِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ؟ قَالَ:ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُوْنَهُ في صُدُورِهِمْ فَلاَ يَصُدَّنَّهُمْ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 701 ، باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان

حضرتِ سَیِّدُناعِرباض بِن سَارِیہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُبَیان کرتےہیں کہ حُضُورنبی کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ہمیں ایک ایسا وعظ فرمایا جس سے دِل خوف زدہ اور آنکھیں آبدِیدہ ہو گئیں۔

عَن الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَعَظَنَارَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْعِظَةً وَجِلَتْ مِنْهَا القُلُوبُ وَذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُوْنُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 702 ، باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان