Main Icon

باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 700

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي الْيَقْظَانِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَليْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ: اِنَّ طُوْلَ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ فَاَطِيْلُواالصَّلَاةَ وَاَقْصِرُواالْخُطْبَةَ.

عن ابي اليقظان عمار بن ياسر رضي الله عنهما قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ان طول صلاة الرجل وقصر خطبته مئنة من فقهه فاطيلواالصلاة واقصرواالخطبة.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنااَبُو الیَقْظانعَمَّاربن یاسِررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں:میں نےرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے ہوئے سُنا کہ’’مَرد کا نَمازکو لمبا کرنا اورخطبہ مختصرکرنا اِس کےدَانَا ہونے کی عَلامت ہے،لہٰذا نَماز لمبی اورخطبہ مختصرکرو۔‘‘

شرح حدیث

نماز لمبی اور خطبہ مختصر ہونے سے مراد:مرآۃ المناجیح میں ہے:’’یعنی فَرضِ جمعہ خُطبۂ جمعہ سے بڑے ہوں کیونکہ نمازمقصود ہے،خُطبہ اِس کے تابِع،نیز خُطبہ میں خَلق سے خِطاب ہے اور نَماز میں خالِق سے عَرْض و مَعرُوض، لہٰذا یہ دَرَاز چاہیئے، مگر خطبہ اِتنا مختصربھی نہ ہوکہ اِس کی سُنَّتیں رہ جائیں۔‘‘عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:یہاں نَماز کے لمبا ہونے سے مُرادیہ ہے کہ نَماز خُطبے کی بَہ نِسبت لمبی ہو لہذا یہ اِعتراض وارِد نہیں ہوگا کہ حدیث شریف میں توہے:جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نَماز پڑھائے تو ہلکی نَماز پڑھائےاور خُطبے سے مُراد وعظ ونصیحت ہے اورجو وعظ ونصیحت قلیل ہواور(سننے والے کے دل میں)قَرارپکڑ جائےاُس وعظ ونصیحت سے بہتر ہےجوکثیرہواوردل میں نہ اُترے۔مدنی گلدستہ’’وعظ‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) نَماز لمبی اورخطبہ چھوٹا ہونا سمجھ داری کی عَلامت ہے۔
(2) ∞خطبہ میں مخلوق سے خِطاب ہوتا ہے اورنَماز میں خالق سےعَرض ومَعرُوض ہوتی ہے اِس لیے نَماز خطبے کے مُقابَلے میں لمبی ہونی چاہیے۔(3) ∞تھوڑااور ذہن میں اترجانے والا وعظ اس وعظ سے بہتر ہے جو زیادہ ہو مگردل میں نہ اُترے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دُعا ہے کہ وہ ہمیں مختصراور جامِع وعظ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 700