- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
امید و حسنِ ظن کی فضیلت
فیضان ریاض الصالحین جلد 4
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ دو عالم کے مالک ومختارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’اللہعَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں ، جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تومیں اس کے پاس ہوتاہوں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم ! ربّ تعالیٰ تم میں سے کسی ایک کی توبہ سے اتنا زیادہ خوش ہوتا ہے جتناکوئی شخص جنگل میں اپنی گمشدہ چیز پا کر خوش ہوتا ہے اورجوایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے تومیری رحمت اس سے ایک ہاتھ قریب ہوجاتی ہے اور جوایک ہاتھ میرے قریب آئے تو میری رحمت اُس سے دو ہاتھ قریب ہوجاتی ہے اور جب وہ پیدل چل کرمیری طرف آئے تو میری رحمت اس کی طرف دوڑتی ہوئی آتی ہے ۔ ‘‘
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ قَالَ : قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِيْ وَاَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي وَاللهُ لِلّٰهِ اَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ اَحَدِكُمْ يَجِدُ ضَالَّتَهُ بِالْفَلَاةِ وَمَنْ تَقَرَّبَ اِلَيَّ شِبْرًاتَقَرَّبْتُ اِلَيْهِ ذِرَاعًا وَمَنْ تَقَرَّبَ اِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ اِلَيْهِ بَاعًاوَ اِذَا اَقْبَلَ اِلَيَّ يَمْشِيْ اَقْبَلْتُ اِلَيْهِ اُهَرْوِلُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 440 ، امید و حسنِ ظن کی فضیلت
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناجابربنعبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفاتِ ظاہری سے تین دن قبل آپ کویہ فرماتے ہوئے سناکہ : ’’تم میں سے ہر شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّسے حسن ِ ظن رکھتے ہوئے ہی مرے ۔ ‘‘
عَنْ جَابِرِ بْنِِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَااَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثَةِ اَ يَّامٍ يَقُولُ : لَا يَمُوتَنَّ اَحَدُكُمْ اِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 441 ، امید و حسنِ ظن کی فضیلت
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ فرماتے سناکہ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرماتاہے : اے ابن آدم ! توجب بھی مجھ سے امیدلگا کردعا ما نگے گا تو میں تیرے گناہوں کوبخش دوں گا ۔ مجھے پرواہ نہیں اے ابنِ آدم ! اگر تیرے گناہ آسمان کے کناروں تک پہنچ جائیں پھر تومجھ سے معافی مانگے تو میں تجھے بخش دوں گااورمجھے کوئی پرواہ نہیں اے ابن آدم ! اگرتومیرے پاس زمین بھر گناہ لے کر آئے اورپھر مجھ سے اس حال میں ملے کہ میرے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہرائے تومیں زمین بھر مغفرت لے کرتیرے پاس آؤں گا ۔ ‘‘
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ : قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : يَا ابْنَ آدَمَ اِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ مِنْكَ وَلَا اُبَالِيْ يَاابْنَ آدَمَ ! لَوْ بَلَغَتْ ذُنُوْبُكَ عَنَانَ السَّمَاءِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِيْ غَفَرْتُ لَكَ وَلَا اُبَالِي يَا ابْنَ آدَمَ اِنَّكَ لَوْ اَتَيْتَنِيْ بِقُرَابِ الْاَرْضِ خَطَايَا ثُمَّ لَقِيْتَنِيْ لَا تُشْرِكُ بِیْ شَيْئًا لَاَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 442 ، امید و حسنِ ظن کی فضیلت