Main Icon

امید و حسنِ ظن کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 442

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ : قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : يَا ابْنَ آدَمَ اِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ مِنْكَ وَلَا اُبَالِيْ يَاابْنَ آدَمَ ! لَوْ بَلَغَتْ ذُنُوْبُكَ عَنَانَ السَّمَاءِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِيْ غَفَرْتُ لَكَ وَلَا اُبَالِي يَا ابْنَ آدَمَ اِنَّكَ لَوْ اَتَيْتَنِيْ بِقُرَابِ الْاَرْضِ خَطَايَا ثُمَّ لَقِيْتَنِيْ لَا تُشْرِكُ بِیْ شَيْئًا لَاَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً. ( )

عن انس رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : قال الله تعالى : يا ابن آدم انك ما دعوتني ورجوتني غفرت لك على ما كان منك ولا ابالي ياابن آدم ! لو بلغت ذنوبك عنان السماء ثم استغفرتني غفرت لك ولا ابالي يا ابن آدم انك لو اتيتني بقراب الارض خطايا ثم لقيتني لا تشرك بی شيئا لاتيتك بقرابها مغفرة. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ فرماتے سناکہ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرماتاہے : اے ابن آدم ! توجب بھی مجھ سے امیدلگا کردعا ما نگے گا تو میں تیرے گناہوں کوبخش دوں گا ۔ مجھے پرواہ نہیں اے ابنِ آدم ! اگر تیرے گناہ آسمان کے کناروں تک پہنچ جائیں پھر تومجھ سے معافی مانگے تو میں تجھے بخش دوں گااورمجھے کوئی پرواہ نہیں اے ابن آدم ! اگرتومیرے پاس زمین بھر گناہ لے کر آئے اورپھر مجھ سے اس حال میں ملے کہ میرے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہرائے تومیں زمین بھر مغفرت لے کرتیرے پاس آؤں گا ۔ ‘‘

شرح حدیث

شرک کے سوا تمام گناہوں کی مغفرت :مذکورہ حدیث پاک میںاللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے بندوں کو اپنی ذات سے حددرجے کے حسن ظن کی تعلیم ارشاد فرمارہا ہے کہ اے میرے بندو ! تمہارے گناہوں سے اگر زمین وآسمان بھی بھرجائیں ، اور تم مجھ سے ان گناہوں کی معافی طلب کرو تو میں ان تمام گناہوں کو معاف کردوں گا ۔ واضح رہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّہر گناہ کو معاف فرمادے گا مگر کفروشرک کی حالت میں مرنے والے کو ہرگز معاف نہ فرمائے گا ۔ یہ حدیث پاک قرآنِ پاک کی اس آیت مبارکہ کی شارح ہے جس میںاللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے :اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ-(پ۵ ،النساء:۴۸ )ترجمۂ کنزالایمان: بے شکاللہاسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے

معاف فرمادیتا ہے ۔
¥
رب تعالٰی لغزشوں کومعاف فرمادیتاہے :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں کہ ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّبندے سے فرماتاہے : توکتناہی بڑاگناہگارہوتیرے گناہوں کوبخشنا میرے لیے کوئی بڑی بات نہیں ہے کیونکہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے ، ابن آدم جنس ہے اوراس سے تمام اولادِ آدم مرادہیں ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیاس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’یعنی میں تیرے تمام گناہوں کومٹادوں گا جیسے کفر ہے تو اسے ایمان لانے کے ساتھ اورجواس کے علاوہ گناہ ہیں انہیں توبہ واستغفارکے ذریعے مٹادوں گااورمجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ تیرے گناہ چھوٹے ہوں یا بڑے ہوں ۔ اے ابن آدم ! اگر تیرے گناہ آسمان کے کناروں تک پہنچ جائیں یعنی آسمان اور زمین کے درمیانی خلا کو بھر دیں پھر تو مجھ سے مغفرت کاسوال کرے گا تو میں تجھے بخش دوں گاکیونکہاللہ عَزَّوَجَلَّکریم ہے اور لغزشوں کومعاف کرتا اورنیکیوں کوقبول کرتاہے ۔ یہ مثالاللہ عَزَّ وَجَلَّکے کرم ، فضل اور اس کی رحمت پر دلالت کرتی ہے جس کی کوئی انتہانہیں ہے ۔ یعنی تومجھ سے اس حال میں ملے کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے ۔ گناہوں سے معافی اس وقت ہوگی جباللہ عَزَّ وَجَلَّپرایمان لائے گاکیونکہ اطاعت کو قبول کرنا اورگناہوں کومعاف کرناایمان پرموقوف ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
گناہ کے مطابق بخشش :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ یعنی تیرے کیسے ہی گناہ ہوں میں بخش دوں گا ، میں آنے والے کونہیں دیکھتا بلکہ اپنے دروازے کو دیکھتا ہوں کہ کس دروازے پر آیا ہے اورصوفیائے کرام اس کے معنیٰ کرتے ہیں مطابق ۔ یعنی تجھے تیرے گناہ کے مطابق

بخشوں گا ، چھوٹے گناہ کی چھوٹی بخشش ، بڑے گناہ کی بڑی بخشش ، لاکھوں گناہو ں کی لاکھوں بخششیں ۔ کسی شاعرنے کیاخوب لکھاہے :
گنہِ رضاؔ کا حساب کیا وہ اگرچہ لاکھوں سے ہیں سوا
مگر اے کریم تیرے عفو کا نہ حساب نہ شمار ہے
” اگر تیرے گناہ آسمان کے کناروں تک پہنچ جائیں ۔ “ ( یعنی ) اگر تو گناہوں میں ایسا گھر جائے جیسے زمین آسمان سے گھری ہوئی ہے کہ ہر طرف تیرے گناہ ہوں ، بیچ میں تُو ہو ، پھر مجھ سے معافی مانگے تو میں تیرے سارے گناہ بخش دوں گا ، بلکہ آسمان زمین کی چکی سب کو پیس دیتی ہے ، کسی ہندی شاعر نے کیا خوب کہا :
چکیا چکیا سب کہیں اور کلیا کہے نہ کوئے
جو کلیا سے لاگا اس کا بال نہ بیکا ہوئے
” میں زمین بھر مغفرت لے کرتیرے پاس آؤں گا ۔ “جیسے رازق ہر مرزوق کو بقدر حاجت روٹی دیتا ہے ، ہاتھی کو مَن اور چیونٹی کو کَن ( ذَرہ ) دیتا ہے ، ایسے ہی وہ غفار بقدرِ گناہ مغفرت عطا فرمائے گا مگر شرط یہ ہے کہ گنہگار ہو ، غدار نہ ہو ۔ اسی لیے شرط لگائی گئی کہ میرا شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔ خیال رہے کہ ایسے مقامات پر شرک بمعنیٰ کفر ہوتا ہے ، رب تعالیٰ فرماتاہے : (
αاِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ) (پ۵ ،النساء:۴۸ ) (ترجمۂ کنزالایمان: ’’بے شکاللہاسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے ۔ ) یعنی جوکفر پرمَرے اس کی بخشش نہیں اورنبی یا کتاب یااِسلامی اَحکام میں سے کسی کااِنکارکرنادرحقیقت رب تعالیٰ کاہی اِنکارکرناہے لہٰذاحدیث بالکل واضح ہے اوراس میں کفارکی مغفرت کا وعدہ نہیں کفر و مغفرت میں تضادہے ۔ ‘‘ ( )
¥
تمام گناہوں سے توبہ کرلیجئے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! جو گنہگار اس پاک پروردگارعَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں اپنے تمام سابقہ گناہوں سے سچی پکی توبہ کرلے تو وہ رب تعالیٰ بھی اسے ضرور معاف فرمادے گا ۔ لہٰذا اپنے تمام سابقہ گناہوں سے

توبہ کرلیجئے ، ان پر ندامت اختیار کیجئے اور آئندہ کوئی بھی گناہ نہ کرنے کا پکا عہد کرلیجئے کہ جس نے دنیا میں رہتے ہوئے اپنے گناہوں سے توبہ کرلی وہ کامیاب ہوگیا ، ورنہ قبر وحشر میں سخت عذاب کا سامنا ہوسکتا ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں سچی توبہ کی توفیق نصیب فرمائے ۔ آمین
کرلے توبہ رب کی رحمت ہے بڑی
قبر میں ورنہ سزا ہوگی کڑی
مدنی گلدستہ
’’مغفرت ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)
رب تعالیٰ کی رحمت اور اس کی پاک ذات سے کبھی بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے ۔
(2) کوئی شخص کتناہی بڑاگناہگارکیوں نہ ہو ،
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے اس کے گناہوں کوبخشنا کوئی بڑی بات نہیں ہے ، بس بندہ سچے دل سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے تو رب تعالیٰ سب گناہ معاف فرمادے گا ۔
(3) جب کوئی شخص
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے امیدلگاکرتوبہ کرتاہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے گناہوں کومعاف فرمادیتا ہے اگرچہ اس کے گناہ آسمان کے کناروں تک پہنچ جائیں یازمین کے خلاکوبھردیں ۔
(4)
اللہ عَزَّ وَجَلَّکفر وشرک کے سواتمام گناہوں کو جسے چاہے بخش دے گا ۔
(5) رب تعالیٰ کی رحمت تو اتنی وسیع ہے کہ وہ سوافراد کے قاتل کو بھی توبہ کی نیت سے چلنے کے سبب بخش دیتا ہے تو جو شخص اس کی بارگاہ میں سچی پکی توبہ کرلے تو اسے بھی ضرور معاف فرمادے گا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں ایمان کی سلامتی عطا فرمائے ، کفر و شرک کی گندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ومامون فرمالے ، ہمارا ایمان پر خاتمہ بالخیر فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 442