- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- حدیث نمبر 442
امید و حسنِ ظن کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 442
جلد 4
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ : قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : يَا ابْنَ آدَمَ اِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ مِنْكَ وَلَا اُبَالِيْ يَاابْنَ آدَمَ ! لَوْ بَلَغَتْ ذُنُوْبُكَ عَنَانَ السَّمَاءِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِيْ غَفَرْتُ لَكَ وَلَا اُبَالِي يَا ابْنَ آدَمَ اِنَّكَ لَوْ اَتَيْتَنِيْ بِقُرَابِ الْاَرْضِ خَطَايَا ثُمَّ لَقِيْتَنِيْ لَا تُشْرِكُ بِیْ شَيْئًا لَاَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً. ( )
عن انس رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : قال الله تعالى : يا ابن آدم انك ما دعوتني ورجوتني غفرت لك على ما كان منك ولا ابالي ياابن آدم ! لو بلغت ذنوبك عنان السماء ثم استغفرتني غفرت لك ولا ابالي يا ابن آدم انك لو اتيتني بقراب الارض خطايا ثم لقيتني لا تشرك بی شيئا لاتيتك بقرابها مغفرة. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکویہ فرماتے سناکہ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرماتاہے : اے ابن آدم ! توجب بھی مجھ سے امیدلگا کردعا ما نگے گا تو میں تیرے گناہوں کوبخش دوں گا ۔ مجھے پرواہ نہیں اے ابنِ آدم ! اگر تیرے گناہ آسمان کے کناروں تک پہنچ جائیں پھر تومجھ سے معافی مانگے تو میں تجھے بخش دوں گااورمجھے کوئی پرواہ نہیں اے ابن آدم ! اگرتومیرے پاس زمین بھر گناہ لے کر آئے اورپھر مجھ سے اس حال میں ملے کہ میرے ساتھ کسی کوشریک نہ ٹھہرائے تومیں زمین بھر مغفرت لے کرتیرے پاس آؤں گا ۔ ‘‘
شرح حدیث
شرک کے سوا تمام گناہوں کی مغفرت :مذکورہ حدیث پاک میںاللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے بندوں کو اپنی ذات سے حددرجے کے حسن ظن کی تعلیم ارشاد فرمارہا ہے کہ اے میرے بندو ! تمہارے گناہوں سے اگر زمین وآسمان بھی بھرجائیں ، اور تم مجھ سے ان گناہوں کی معافی طلب کرو تو میں ان تمام گناہوں کو معاف کردوں گا ۔ واضح رہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّہر گناہ کو معاف فرمادے گا مگر کفروشرک کی حالت میں مرنے والے کو ہرگز معاف نہ فرمائے گا ۔ یہ حدیث پاک قرآنِ پاک کی اس آیت مبارکہ کی شارح ہے جس میںاللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے :اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ-(پ۵ ،النساء:۴۸ )ترجمۂ کنزالایمان: بے شکاللہاسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے
معاف فرمادیتا ہے ۔
¥رب تعالٰی لغزشوں کومعاف فرمادیتاہے :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں کہ ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّبندے سے فرماتاہے : توکتناہی بڑاگناہگارہوتیرے گناہوں کوبخشنا میرے لیے کوئی بڑی بات نہیں ہے کیونکہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے ، ابن آدم جنس ہے اوراس سے تمام اولادِ آدم مرادہیں ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیاس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’یعنی میں تیرے تمام گناہوں کومٹادوں گا جیسے کفر ہے تو اسے ایمان لانے کے ساتھ اورجواس کے علاوہ گناہ ہیں انہیں توبہ واستغفارکے ذریعے مٹادوں گااورمجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ تیرے گناہ چھوٹے ہوں یا بڑے ہوں ۔ اے ابن آدم ! اگر تیرے گناہ آسمان کے کناروں تک پہنچ جائیں یعنی آسمان اور زمین کے درمیانی خلا کو بھر دیں پھر تو مجھ سے مغفرت کاسوال کرے گا تو میں تجھے بخش دوں گاکیونکہاللہ عَزَّوَجَلَّکریم ہے اور لغزشوں کومعاف کرتا اورنیکیوں کوقبول کرتاہے ۔ یہ مثالاللہ عَزَّ وَجَلَّکے کرم ، فضل اور اس کی رحمت پر دلالت کرتی ہے جس کی کوئی انتہانہیں ہے ۔ یعنی تومجھ سے اس حال میں ملے کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے ۔ گناہوں سے معافی اس وقت ہوگی جباللہ عَزَّ وَجَلَّپرایمان لائے گاکیونکہ اطاعت کو قبول کرنا اورگناہوں کومعاف کرناایمان پرموقوف ہے ۔ ‘‘ ( )
¥گناہ کے مطابق بخشش :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ یعنی تیرے کیسے ہی گناہ ہوں میں بخش دوں گا ، میں آنے والے کونہیں دیکھتا بلکہ اپنے دروازے کو دیکھتا ہوں کہ کس دروازے پر آیا ہے اورصوفیائے کرام اس کے معنیٰ کرتے ہیں مطابق ۔ یعنی تجھے تیرے گناہ کے مطابق
بخشوں گا ، چھوٹے گناہ کی چھوٹی بخشش ، بڑے گناہ کی بڑی بخشش ، لاکھوں گناہو ں کی لاکھوں بخششیں ۔ کسی شاعرنے کیاخوب لکھاہے :
گنہِ رضاؔ کا حساب کیا وہ اگرچہ لاکھوں سے ہیں سوا
مگر اے کریم تیرے عفو کا نہ حساب نہ شمار ہے
” اگر تیرے گناہ آسمان کے کناروں تک پہنچ جائیں ۔ “ ( یعنی ) اگر تو گناہوں میں ایسا گھر جائے جیسے زمین آسمان سے گھری ہوئی ہے کہ ہر طرف تیرے گناہ ہوں ، بیچ میں تُو ہو ، پھر مجھ سے معافی مانگے تو میں تیرے سارے گناہ بخش دوں گا ، بلکہ آسمان زمین کی چکی سب کو پیس دیتی ہے ، کسی ہندی شاعر نے کیا خوب کہا :
چکیا چکیا سب کہیں اور کلیا کہے نہ کوئے
جو کلیا سے لاگا اس کا بال نہ بیکا ہوئے
” میں زمین بھر مغفرت لے کرتیرے پاس آؤں گا ۔ “جیسے رازق ہر مرزوق کو بقدر حاجت روٹی دیتا ہے ، ہاتھی کو مَن اور چیونٹی کو کَن ( ذَرہ ) دیتا ہے ، ایسے ہی وہ غفار بقدرِ گناہ مغفرت عطا فرمائے گا مگر شرط یہ ہے کہ گنہگار ہو ، غدار نہ ہو ۔ اسی لیے شرط لگائی گئی کہ میرا شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔ خیال رہے کہ ایسے مقامات پر شرک بمعنیٰ کفر ہوتا ہے ، رب تعالیٰ فرماتاہے : (αاِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ) (پ۵ ،النساء:۴۸ ) (ترجمۂ کنزالایمان: ’’بے شکاللہاسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے ۔ ) یعنی جوکفر پرمَرے اس کی بخشش نہیں اورنبی یا کتاب یااِسلامی اَحکام میں سے کسی کااِنکارکرنادرحقیقت رب تعالیٰ کاہی اِنکارکرناہے لہٰذاحدیث بالکل واضح ہے اوراس میں کفارکی مغفرت کا وعدہ نہیں کفر و مغفرت میں تضادہے ۔ ‘‘ ( )
¥تمام گناہوں سے توبہ کرلیجئے :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! جو گنہگار اس پاک پروردگارعَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں اپنے تمام سابقہ گناہوں سے سچی پکی توبہ کرلے تو وہ رب تعالیٰ بھی اسے ضرور معاف فرمادے گا ۔ لہٰذا اپنے تمام سابقہ گناہوں سے
توبہ کرلیجئے ، ان پر ندامت اختیار کیجئے اور آئندہ کوئی بھی گناہ نہ کرنے کا پکا عہد کرلیجئے کہ جس نے دنیا میں رہتے ہوئے اپنے گناہوں سے توبہ کرلی وہ کامیاب ہوگیا ، ورنہ قبر وحشر میں سخت عذاب کا سامنا ہوسکتا ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں سچی توبہ کی توفیق نصیب فرمائے ۔ آمین
کرلے توبہ رب کی رحمت ہے بڑی
قبر میں ورنہ سزا ہوگی کڑیمدنی گلدستہ
’’مغفرت ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1)رب تعالیٰ کی رحمت اور اس کی پاک ذات سے کبھی بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے ۔
(2) کوئی شخص کتناہی بڑاگناہگارکیوں نہ ہو ،اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے اس کے گناہوں کوبخشنا کوئی بڑی بات نہیں ہے ، بس بندہ سچے دل سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے تو رب تعالیٰ سب گناہ معاف فرمادے گا ۔
(3) جب کوئی شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّسے امیدلگاکرتوبہ کرتاہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے گناہوں کومعاف فرمادیتا ہے اگرچہ اس کے گناہ آسمان کے کناروں تک پہنچ جائیں یازمین کے خلاکوبھردیں ۔
(4)اللہ عَزَّ وَجَلَّکفر وشرک کے سواتمام گناہوں کو جسے چاہے بخش دے گا ۔
(5) رب تعالیٰ کی رحمت تو اتنی وسیع ہے کہ وہ سوافراد کے قاتل کو بھی توبہ کی نیت سے چلنے کے سبب بخش دیتا ہے تو جو شخص اس کی بارگاہ میں سچی پکی توبہ کرلے تو اسے بھی ضرور معاف فرمادے گا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں ایمان کی سلامتی عطا فرمائے ، کفر و شرک کی گندگی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ومامون فرمالے ، ہمارا ایمان پر خاتمہ بالخیر فرمائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 442