Main Icon

امید و حسنِ ظن کی فضیلت - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 441

جلد 4

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرِ بْنِِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَااَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثَةِ اَ يَّامٍ يَقُولُ : لَا يَمُوتَنَّ اَحَدُكُمْ اِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ. ( )

عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهماانہ سمع النبی صلى الله عليه وسلم قبل موته بثلاثة ا يام يقول : لا يموتن احدكم الا وهو يحسن الظن بالله عز وجل. ( )

حدیث ترجمہ

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناجابربنعبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفاتِ ظاہری سے تین دن قبل آپ کویہ فرماتے ہوئے سناکہ : ’’تم میں سے ہر شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّسے حسن ِ ظن رکھتے ہوئے ہی مرے ۔ ‘‘

شرح حدیث

ربّ تعالٰی سے اچھاگمان رکھنا :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیاِس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’تم میں سے جو بھی مرے تو وہ اِس حال میں مَرے کہ اس کا یہ حُسنِ ظن ہوکہاللہ عَزَّ وَجَلَّاُس کی مغفرت فرمادے گا ۔ صوفیائے کرامعَلَیْہِمُ الرَّحْمَہکا اِس پر اتفاق ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّسے امید لگاتے ہوئے عبادت کرنا خوف کرتے ہوئے عبادت کرنے سے افضل ہے کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّسے امیدلگاتے ہوئے عبادت کرناآزادبندوں کی عبادت کاطریقہ ہے جبکہ اس سے خوف کرتے ہوئے عبادت کرنا غلاموں کا طریقہ ہے ۔ اچھے عمل کروتاکہ موت کے وقتاللہ عَزَّ وَجَلَّسے اچھاگمان رکھوکیونکہ جس نے موت سے پہلے بُرے عمل کئے ہوں گے تو وہ موت کے وقت بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّسے بُراہی گمان رکھے گا اورصحت کی حالت میں بندے پراللہ عَزَّ وَجَلَّکا خوف غالب رہناچاہیے تاکہ بندہ نیک اعمال کرنے میں جدوجہد کرتا رہے اور جب موت قریب آجائے اور بندے کے عمل منقطع ہوجائیں تو اُس وقت بندہاللہ عَزَّوَجَلَّسے بخشش کی اُمید اورحُسنِ ظن رکھے کہ یہ اپنے مالک کریم رؤف رحیم سے ملنے کا وقت ہے ۔ ‘‘ ( )

علامہ عبدالرؤف مناوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یعنی تم مختلف اَحوال میں سے فقط حُسنِ ظن کی حالت میں ہی مرنا اوراللہ عَزَّ وَجَلَّسے حُسنِ ظن یہ ہے کہ وہ رب تعالیٰ سے یہ گمان رکھے کہ وہ اس پر رحم فرمائے گا ، اس کے گناہوں کو معاف فرمائے گا ۔ ‘‘ ( )نیک شخص نیکیاں قبول ہونے کی اُمید رکھے :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’ صوفیافرماتے ہیں نیک بختی کی نشانی یہ ہے کہ بندے پر زندگی میں خوفِ خدا غالب ہواورمرتے وقت اُمید ۔ نیک کار ( نیک لوگ ) نیکیاں قبول ہونے کی اُمیدیں رکھیں اور بدکارشخص معافی کی ۔ اُمید کی حقیقت یہ ہے کہ انسان نیکیاں کرے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل وکرم کااُمیدوار رہے کیونکہ بدکاری کے ساتھ اُمیدرکھنا دھوکا ہے امید نہیں ۔ ‘‘ ( )
¥
حُسنِ ظن اوراُمیدکی فضلیت :حضور نبی اکرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمايک ایسے شخص کے پاس تشريف لے گئے جو نز ع کے عالم میں تھا ۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے پوچھا : ’’تم اپنے آپ کو کيسا پاتے ہو؟ ‘‘ اس نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں اپنے آپ کو يوں پاتا ہوں کہ مجھے اپنے گناہوں کا خوف بھی ہے اور اپنے رب تعالیٰ کی رحمت کی اميد بھی ۔ ‘‘ حضور نبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمايا : ’’ایسے وقت میں جس بندے کے دل میں یہ دونوں باتيں ( یعنی اميد اور خوف ) جمع ہوں ،اللہ عَزَّ وَجَلَّاسے اُس کی اميد کے مطابق عطا فرماتا ہے اور جس چیز سے اُسے خوف ہوتا ہے اس سے امن عطا فرماتا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
حُسنِ ظن کے سبب بخشش ہوگئی :حُجَّۃُ الْاِسلامحضرتِ سَیِّدُنا امام محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِیفرماتے ہیں کہ ایک شخص لوگوں کوقرض

دیاکرتاتھا ، وہ مالدارکو معاف کردیا کرتا اور تنگ دست کے ساتھ نرمی کیا کرتا ۔ جب اس کی موت واقع ہوئی تووہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے اس حال میں ملاکہ اس نے کوئی بھی نیک عمل نہیں کیاتھا ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشادفرمایا : ’’ہم سے زیادہ معاف کرنے کاکون حق دارہے ؟ ‘‘ پھر اسے عبادت کے معاملے میں مفلس ہونے کے باجودرب تعالیٰ سے حسن ظن اور معافی کی امید رکھنے کے باعث بخش دیا ۔ ‘‘ ( )
گناہ گار ہوں میں لائق جہنم ہوں ……… کرم سے بخش دے مجھ کو نہ دے سزا یارب
برائیوں پہ پشیماں ہوں رحم فرما دے ……… ہے تیرے قہر پہ حاوی تری عطا یارب
مدنی گلدستہ
’’کعبہ ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1)
ہرمسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے رب تعالیٰ سے ہمیشہ اچھا گمان ہی رکھے ۔
(2) بندے کوچاہیے کہ نیک اعمال کرتارہے تاکہ موت کے وقت
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے اچھاگمان رکھے کیونکہ جس نے موت سے پہلے بُرے عمل کئے ہوں گے تووہ موت کے وقت بھی براہی گمان رکھے گا ۔
(3)
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے امیدلگاتے ہوئے عبادت کرناخوف کرتے ہوئے عبادت کرنے سے افضل ہے ۔(4) ∞زندگی میں ہرشخص پرخوفِ خداغالب ہوناچاہیے ، مرتے وقتاللہ عَزَّ وَجَلَّسے بخشش کی امید ، نیک شخص نیکیاں قبول ہونے کی امیدرکھے اورگناہ گارشخص معافی کی امیدرکھے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہماری مغفرت فرمائے ، موت کے وقتاللہ عَزَّ وَجَلَّسے اچھاگمان رکھنے کی توفیق عطافرمائے اورہمارا خاتمہ ایمان وعافیت کے ساتھ فرمائے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 441