Main Icon

باب: لباس کے آداب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 798

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ قَيْسِ بْنِ بَشَرٍ التَّغْلِبِيِّ قَالَ:اَخْبَرَنِى اَبِي وَكَانَ جَلِيْسًا لِاَبِي الدَّرْدَاءِقَالَ:كَانَ بِدِ مِشْقَ رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ سَهْلُ ابنُ الْحَنْظَلِيَّةِ وَكَانَ رَجُلاً مُتَوحِّدًا قَلَّمَا يُجالسُ النَّاسَ اِنَّمَا هُوَ صَلَاةٌ فَاِذَا فَرَغَ فَاِنَّمَا هُوَ تَسْبِيْحٌ وَتَكْبِيْرٌ حَتّٰى يَاْتِيَ اَهْلَهُ فَمَرَّ بِنَا وَنَحْنُ عِنْدَ اَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ لَهُ اَبُوْ الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ قَالَ : بَعَثَ رَسُوْلُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم سَرِيَّةً فَقَدِمَتْ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَجَلَسَ فِي الْمَجْلِسِ الَّذِيْ يَجلِسُ فِيْهِ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَقَالَ لِرَجُلٍ اِلَى جَنْبِهِ: لَوْ رَاَيْتَنَا حِينَ الْتَقَيْنَا نَحْنُ والْعَدُوُّفَحَمَلَ فَلَانٌ وَطَعَنَ فَقَالَ:خُذْهَا مِنِّى وَاَنَا الْغُلَامُ الْغِفَارِيُّ كَيْفَ تَرَى فِي قَوْلِهِ؟قَالَ:مَا اُرَاهُ اِلَّا قَدْ بَطَلَ اَجْرُهُ فَسَمِعَ بِذٰلِكَ آخَرُ فَقَالَ:مَا اَرَى بِذٰلِكَ باْسًا فَتَنَازَعَا حَتّٰى سَمِعَ رَسُوْلُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَقَالَ:’’سُبْحَانَ اللَّهِ! لَا بَاْسَ اَنْ يُؤْجَرَ ويُحْمَدَ‘‘فَرَاَيْتُ اَبَا الدَّرْدَاءِ سُرَّ بِذٰلِكَ وَجَعَلَ يَرْفَعُ رَاْسَهُ اِلَيْهِ وَيَقُولُ:اَنْتَ سَمِعْتَ ذٰلِكَ مِنْ رَسُوْلِ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم؟ فَيَقُوْلُ: نَعَمْ فَمَا زَالَ يُعِيْدُ عَلَيْهِ حَتّٰى اِنّى لَاَقُوْلُ لَيَبْرُكَنَّ عَلَى رُكْبَتَيْهِ.
قَالَ:فَمَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ فَقَالَ لَهُ اَبُو الدَّرْدَاءِ:كَلِمَةً تَنفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ قَالَ:قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:’’الْمُنْفِقُ عَلَى الْخَيْلِ كَالْبَاسِطِ يَدَهُ بِالصَّدَقَةِ لَا يَقْبِضُهَا‘‘ثُمَّ مَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ فَقَالَ لَهُ اَبُو الدَّرْدَاءِ:كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:’’نِعْمَ الرَّجُلُ خُرَيْمٌ اَلْاَسَدِيُّ لَوْلَا طُولُ جُمَّتِهِ وَاِسْبَالُ اِزَارِهِ‘‘ فَبَلَغَ خُرَيْمًا فَعَجَّلَ فَاَخَذَ شَفْرَةً فَقَطَعَ بِهَا جُمَّتَهُ اِلَى اُذُنَيْهِ وَرَفَعَ اِزَارَهُ اِلَى اَنْصَافِ سَاقَيْهِ ثُمَّ مَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ فَقَالَ لَهُ اَبُو الدَّرْدَاءِ:كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَاَ تَضُرُّكَ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُوْلُ:’’اِنَّكُمْ قَادِمُوْنَ عَلَى اِخْوَانِكُمْ،فَاَصْلِحُوا رِحَالَكمْ، وَاَصْلِحُوْا لِبَاسَكُمْ حَتّٰى تَكُونُوا كَاَنَّكُمْ شَامَةٌ فِي النَّاسِ فَاِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ.‘‘

عن قيس بن بشر التغلبي قال:اخبرنى ابي وكان جليسا لابي الدرداءقال:كان بد مشق رجل من اصحاب النبى صلى الله عليه وسلم يقال له سهل ابن الحنظلية وكان رجلا متوحدا قلما يجالس الناس انما هو صلاة فاذا فرغ فانما هو تسبيح وتكبير حتى ياتي اهله فمر بنا ونحن عند ابي الدرداء فقال له ابو الدرداء: كلمة تنفعنا ولا تضرك قال : بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية فقدمت فجاء رجل منهم فجلس في المجلس الذي يجلس فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لرجل الى جنبه: لو رايتنا حين التقينا نحن والعدوفحمل فلان وطعن فقال:خذها منى وانا الغلام الغفاري كيف ترى في قوله؟قال:ما اراه الا قد بطل اجره فسمع بذلك آخر فقال:ما ارى بذلك باسا فتنازعا حتى سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال:’’سبحان الله! لا باس ان يؤجر ويحمد‘‘فرايت ابا الدرداء سر بذلك وجعل يرفع راسه اليه ويقول:انت سمعت ذلك من رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فيقول: نعم فما زال يعيد عليه حتى انى لاقول ليبركن على ركبتيه.
قال:فمر بنا يوما آخر فقال له ابو الدرداء:كلمة تنفعنا ولا تضرك قال:قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم:’’المنفق على الخيل كالباسط يده بالصدقة لا يقبضها‘‘ثم مر بنا يوما آخر فقال له ابو الدرداء:كلمة تنفعنا ولا تضرك قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:’’نعم الرجل خريم الاسدي لولا طول جمته واسبال ازاره‘‘ فبلغ خريما فعجل فاخذ شفرة فقطع بها جمته الى اذنيه ورفع ازاره الى انصاف ساقيه ثم مر بنا يوما آخر فقال له ابو الدرداء:كلمة تنفعنا ولا تضرك قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:’’انكم قادمون على اخوانكم،فاصلحوا رحالكم، واصلحوا لباسكم حتى تكونوا كانكم شامة في الناس فان الله لا يحب الفحش ولا التفحش.‘‘

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا قیس بن بشر تغلبیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :مجھے میرے والد نے بتایااور وہ حضرت سَیِّدُناابو درداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے ہم نشین تھے کہ دمشق میں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صحابہ میں سے ایک صحابی رہتے تھے انہیں سہل بنحَنْظَلِیّہکہا جاتا تھا جو گوشہ نشین رہتے اور لوگوں کے پاس بہت کم بیٹھا کرتے تھے،صرف نماز میں مشغول رہتے اور جب فارغ ہوتے تو (مسجد سے)گھرکی طرف لوٹنے تک تسبیح و تکبیر میں مصروف رہتے۔ایک دن وہ ہمارے پاس سے گزرے اور ہم حضرت سَیِّدُناابودرداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔حضرت سَیِّدُنا ابو درداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے ان سے کہا :ہمیں کوئی ایسی بات بتایئےجو ہمارے لیے فائدہ مند ہو اور آپ کو نقصان نہ دے ،تو انہوں نے کہا:نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک چھوٹا لشکر بھیجا جب وہ لشکر واپس لوٹا تو ان میں سے ایک شخص آ یا اور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مجلس میں بیٹھ گیا،اور اپنے ساتھ بیٹھے شخص سے کہنے لگا:کاش !آپ نے ہمیں اس وقت دیکھا ہوتا جب دشمن سے ہمارا آمنا سامنا ہوا۔ فلاں آدمی نے نیزہ اٹھایااور (دشمن پر وار کرتے ہوئے )کہنے لگا :یہ لو میری طرف سے اور میں قبیلہ غفار کا فرزند ہوں۔آپ کا اس غفاری لڑکے کے اس قول کے بارے میں کیا خیال ہے ؟دوسرے آدمی نے جواب دیا:میرے خیال میں اس غفاری لڑکے کا اجر ضائع ہو چکا ہے ۔ایک اور آدمی نے یہ بات سنی تو کہا :میں اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔چنانچہ وہ دونوں اس معاملے میں جھگڑنے لگے یہاں تک کہرسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سن لیا اور ارشاد فرمایا:”سُبْحَانَ اللّٰہ!اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ اسے آخرت میں ثواب دیا جائے اور دنیا میں تعریف کی جائے ۔“حضرت سَیِّدُنَا بشر بن قیسرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ حضرت سَیِّدُنا ابو درداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُیہ بات سن کر خوش ہو ئے اوران کی طرف سر اٹھا کر پوچھنے لگے:کیا آپ نے بھی نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے یہ بات سنی ہے ؟انہوں نے کہا:ہاں۔حضرت سَیِّدُنا ابو درداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبار بار ان سے پوچھتے رہے یہاں تک کہ میں نے کہا:یہ ان کے آگے گھٹنے ٹیکنے والے ہیں(جیساکہ شاگرد استاد کے آگے گھٹنے ٹیکتا ہے)۔ دوسرے دن وہ صحابیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُپھر ہمارے پاس سے گزرے تو حضرت سَیِّدُنا ابو درداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے ان سے کہا :ہمیں کوئی ایسی بات بتایئےجو ہمارے لیے فائدہ مند ہو اور آپ کو نقصان نہ دے ۔انہوں نے کہا:نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں فرمایا:”(جہاد کے لیے)گھوڑوں پر خرچ کرنے والا اس آدمی کی طرح ہے جو صدقہ کرنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھاتا ہے اور اسے بند نہیں کرتا۔“حضرت سَیِّدُنابشر بن قیسرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:وہ صحابیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُایک دن پھر ہمارے پا س سے گزرے تو حضرت سَیِّدُنَا ابو درداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے ان سے کہا:ہمیں کوئی ایسی بات بتایئےجو ہمارے لیے فائدہ مند ہو اور آپ کو نقصان نہ دے،تو انہوں نے کہا:نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”خُرَیم اَسَدِی بہترین آدمی ہے کاش اس کے بال لمبے اور تہبند ٹخنوں سے نیچے نہ ہوتا۔“سَیِّدُنا خُرَیمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو جب یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے چُھری لے کر کانوں تک بال کاٹ ڈالےاور تہبند کو آدھی پنڈلیوں تک اٹھا لیا۔حضرت سَیِّدُنا بشر بن قیسرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:وہ صحابیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُایک دن پھر ہمارے پا س سے گزرے تو حضرت سَیِّدُنا ابو درداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے ان سے کہا:ہمیں کوئی ایسی بات بتایئےجو ہمارے لیے فائدہ مند ہو اور آپ کو نقصان نہ دے،تو انہوں نے کہا:میں نے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے سنا کہ ”تم اپنے بھائیوں کے پاس آ رہے ہو،اپنے کَجاوے اور اپنا لباس درست کر لو یہاں تک کہ تم لوگوں میں تِل کی مانند(خوبصورت ومنفرد) نظر آنے لگو،بیشکاللّٰہ عَزَّوَجَلَّفحش بکنے اور بدحال رہنے کو پسند نہیں فرماتا۔ “

شرح حدیث

سہل بن حنظلیہ کا تعارف:حضرت سہلرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے والد کا نام ربیع بن عمرو ہے،حنظلیہ یا تو ان کی پردادی کا نام ہےیا ان کی والدہ کا نام۔حضرت سہلرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبیعت رضوان میں شریک تھے،گوشہ نشین عابد تھے،شام میں قیام رہا،حضرت امیر معاویہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے دور خلافت کی ابتدا میں دمشق میں وفات پائی۔مذکورہ حدیث پاک میں درج ذیل چار باتیں بیان کی گئی ہیں ۔دُشمن پررُعب ڈالنے کے لیے بڑائی بیان کرنا:(1)جہاد میں دشمن کے سامنے ان پر رُعب ڈالنے کے لئے اپنی بڑائی بیان کرناجیسا کہ مذکورہ حدیث پاک میں ہے کہ ’’فلاں آدمی نے ایک نیزہ اٹھایااور (دشمن پر وار کرتے ہوئے )کہنے لگا :یہ لو میری طرف سے اور میں ایک غفّاری لڑکا ہوں۔‘‘عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:یہاں اس بات کا جوا ز ہے کہ حالت جنگ میں انسان اپنے دشمن پر رُعب ڈالنے کے لیے اپنا نام لے کر اپنی تعریف کرے یا اپنا نسب اور بڑائی بیان کرے جبکہ اس سے مقصود دشمن کو ڈرا نا ہو ۔جب اس غفاری لڑکے کا یہ معاملہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتک پہنچا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”سُبْحَانَ اللّٰہ!اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ اسے آخرت میں ثواب دیا جائے اور دنیا میں تعریف کی جائے۔‘‘یعنی آخرت میں بھی اسے ثواب دیا جائےگا اور دنیا میں بھی اس کی تعریف کی جائے گی یہاں بہادرشخص کو حالت جنگ میں اپنی بڑائی بیان کرنے پر ابھارا گیا ہے جبکہ اس سے مقصود کفار پر دہشت طاری کرنا ہو نہ کہ غرور و تکبر وغیرہ۔ہمیشہ صدقہ کرنے والا:(2)جہاد کے لیے اپنا مال و اسباباللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی راہ میں دینا۔ حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ”(جہاد کے لیے )گھوڑوں پر خرچ کرنے والا یعنی اس کو چَرانے والا،اس کو پانی پلانے والا،اس کو چارہ وغیرہ کھلانے کے لیے اپنا مال خرچ کرنے والا ’’اس آدمی کی طرح ہے جو صدقہ کرنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھاتا ہے اور اسے بند نہیں کرتا۔‘‘یعنی جو ہمیشہ صدقہ کرنے کے لیے اپنا ہاتھ کھولے رکھتا ہے اور ہاتھ میں جو کچھ ہوتا ہے اسے روکتا نہیں بلکہ صدقہ کر دیتا ہے ۔مرد کو لمبے بال رکھنا:(3)”خُرَیم اَسَدی بہترین آدمی ہے کاش اس کے بال لمبے اور تہبند ٹخنوں سے نیچے نہ ہوتا۔“مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:سر کے بالوں کا کچھ دراز ہونا(یعنی کندھوں تک ہونا اس سے نیچے نہ ہونا) ممنوع نہیں مگر چونکہ ان کی نیت اظہارِ فخر کی تھی اس لیے اس سے منع فرمادیا گیا ا س لیے بالوں کے ساتھ درازی تہبند کا ذکر فرمایا ورنہ خود حضورِ اَنورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے بال شریف کبھی دراز ہوتے تھے(جو کبھی کبھار مبارک شانوں کو چھو جاتے تھے اس سے دراز نہ ہوتے تھے)۔خیال رہے کہ مردوں کے لیے دونوں حکم ہیں یعنی سر کے بال کٹوانا تہبند اونچا پہننا،عورتوں کو یہ دونوں کام حرام ہیں عورتیں اپنے سر کے بال خود دراز رکھیں ہرگز نہ کٹوائیں تہبند نیچا باندھیں،ہاں اِحرام سے فارغ ہونے پر عورتیں بالوں کی نوکیں ایک پورا کٹوادیں۔یہ بھی خیال رہے کہ مرد کو لمبے بال رکھنا ان میں عورتوں کی سی مانگ چوٹی کرنا حرام ہے۔دوستوں سے اچھےحُلیے میں ملنا چاہیے:(4)اپنے مسلمان بھائیوں سے ملاقات کے لیےظاہری حُلیہ کپڑے ،عمامہ وغیرہ درست کر لینا چاہیےکہ حدیث پاک میں فرمایا گیا:’’تم اپنے بھائیوں کے پاس آ رہے ہو،اپنے کَجاوے‘‘ یعنی اپنی سواری کہ جس پر تم سوار ہو۔’’اور اپنا لباس دُرست کر لو۔‘‘یعنی چادر،تہبند اور عمامہ وغیرہ۔’’یہاں تک کہ تم لوگوں میں تِل کی مانند(خوبصورت)نظر آنے لگو۔‘‘یہاں اس بات کو بیان کیا ہے کہ جب انسان اپنے دوستوں سے ملنے جائے تو اس کے کپڑے اور بدن صاف ہوں تا کہ دوستوں کو دیکھنے میں اچھا لگے کہ دوستوں کی نگاہیں ظاہر پر پڑیں گی نہ کہ باطن پر اور یہ طریقہ (یعنی ظاہری حُلیہ کا اچھا ہونا )دوستوں کی مذمت و ملامت کے خوف سے بچنے اور ان کے دلوں میں ادب و احترام کو بڑھانے کا طریقہ ہےاور شریعت کو بھی یہ مطلوب ہے۔ حدیث پاک میں اس بات کی دلیل ہے کہ انسان مذمت والے کاموں سے بچے اور اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے راحت کا طلبگار ہواور ان کے دلوں کو خود سے مانوس کرے تا کہ وہ اسے بُرااور بوجھ نہ سمجھیں اور یہ تمام اُمور مباحات میں سے ہیں تکبر میں شامل نہیں بلکہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی نعمت کو ظاہر کرنے کی قِسم سے ہے ۔مسلمان بھائیوں سے ملاقات کے لیے بننا سنورنا:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات کے لئے بن سنور کے جانا یہ ہمارے پیارے نبیصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے عمل سے ثابت ہے چنانچہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جب اپنے دولت کدے سے باہرتشریف لانے کا ارادہ فرمایا تو پانی کے عکس میں اپنا چہرہ مبارک ملاحظہ فرما کر عمامہ شریف اور گیسوؤں کو درست فرمایا تو حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کی :یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی ایسا کر رہے ہیں؟تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”ہاں!اللّٰہ عَزَّوَجَلَّبندے کا بننا سنورنا اس وقت پسند فرماتا ہے جب وہ اپنے بھائیوں کے پاس جانے لگے۔“مدنی گلدستہ’’مسلمان ‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکو راور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھو ل
(1) حالت جنگ میں انسان دشمن پر رُعب ڈالنے کے لیے اپنے نام ونسب کے ذریعے اپنی تعریف کر سکتا ہے جبکہ اس سے مقصود دشمن کو ڈرانا ہو نہ کہ غرور و تکبر۔
(2) جہاد کے لیے اپنا مال و اسباب
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی راہ میں دینے والا ہمیشہ صدقہ کرنے والے کی طرح ہے ۔
(3) آدمی ایسے کاموں سے بچے جو اس کی مذمت اور ملامت کا باعث ہوں۔
(4) مرد کو فخرو غرور کے لئے لمبے بال رکھنایا عورتوں کی طرح بالوں میں چوٹی رکھنا منع ہے ۔
(5) اپنا حلیہ خراب رکھنے والا دوسروں کی مذمت اور ملامت کا شکار ہوتا ہے۔
(6) دوستوں سے ملاقات کے لیے جا تے وقت کپڑے اور بدن صاف ہو کہ ان چیزوں سے دوستوں کے دلوں میں ادب و احترام بڑھتا ہے ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں اپنےظاہر وباطن کو ستھرا رکھنے اور ایسے کاموں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے جو مذمت اور ملامت کا باعث ہوں۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 798