- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب: لباس کے آداب کا بیان
باب: لباس کے آداب کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 6
حضرت سَیِّدَتُنا اسماء بنت یزید اَنصاریہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی آستین کلائی تک تھی۔
عَنْ اَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِ يْدَ الْاَنَّصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ:كَانَ كُمُّ قَمِيْصِ رَسُوْلِ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِلَى الرُّسْغِ .
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 790 ، باب: لباس کے آداب کا بیان
حضرت سَیِّدُناابن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جو شخص تکبر کرتے ہوئے کپڑا لٹکائے گا قیامت کے دناللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا۔“حضرت سَیِّدُنا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میرا تہبند لٹک جاتا ہے جب تک کہ میں اس کا خیال نہ رکھوں تورسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو تکبر کے طور پر ایسا کرتے ہیں۔“
عَنِ ابْنِِ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا اَنَّ النَّبِىَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ اِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَ اَبُوْ بَكْرٍ:يَارَسُولَ اللَّهِ! اِنَّ اِزَارِىْ يَسْتَرْخِى اِلَّا اَنْ اَتَعَاهَدَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:اِنَّكَ لَسْتَ مِمَّنْ يَفْعَلُهُ خُيَلَاءَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 791 ، باب: لباس کے آداب کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”قیامت کے دناللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کی طرف نظر ِ رحمت نہیں فرمائے گا جو تکبر سے اپنا تہبند لٹکاتا ہے ۔ “
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:لَا يَنْظُرُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اِلَى مَنْ جَرَّ اِزَارَهُ بَطَرًا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 792 ، باب: لباس کے آداب کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہے وہ جہنم میں ہے ۔ “
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَـنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:مَا اَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْاِزَارِ فَفِي النَّارِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 793 ، باب: لباس کے آداب کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابو ذرغفاریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”قیامت کے دناللّٰہ عَزَّوَجَلَّتین لوگوں سے کلام نہیں فرمائے گا او ر نہ ہی ان کی طرف نظر فرمائے گا اور نہ انہیں پاک فرمائے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔“حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ کلمات تین بار ارشاد فرمائے۔حضرت ابو ذررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی :وہ لوگ تو نامراد ہوئےاور خسارے میں پڑ گئے،یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!وہ کون ہیں؟آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”(1)کپڑا لٹکانے والا(2)اِحسان جتانے والا اور(3) جھوٹی قسم کے ساتھ سودا بیچنے والا۔ “اورمسلم شریف کی ایک روایت میں ہے:’’تہبند لٹکانے والا۔‘‘
عَنْ اَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامةِ وَلَا يَنْظُرُ اِلَيْهمْ وَلَا يُزَكِّيْهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ قَالَ:فَقَرَاَهَا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ اَبُوْ ذَرٍّ:خَابُوْا وخَسِرُوْا مَنْ هُمْ يَا رَسُوْلَ اللَّهِ؟قَالَ:الْمُسبِلُ وَالْمَنَّانُ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلْفِ الْكَاذِبِ. وَ فِیْ رِوَایَۃٍلَہُ: الْمُسْبِلُ اِزَارَہُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 794 ، باب: لباس کے آداب کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے،نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :اِسْبَال(کپڑا لٹکانا)تہبند ،قمیص اور عمامہ میں ہے جس نے تکبر کی وجہ سے (ان میں سے ) کسی چیز کو لٹکایا قیامت کے دناللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرمائےگا ۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَاعَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:الْاِسْبَالُ فِي الْاِِزَارِ وَالقَمِيصِ وَالْعِمَامَةِ مَنْ جَرَّ شَيْئًا خُيَلَاءَ لَم يَنظُرِ اللَّهُ اِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 795 ، باب: لباس کے آداب کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابو جُرَی جابر بن سُلَیمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: میں نےا یک آدمی کو دیکھا کہ لوگ اس کی رائے پر عمل کرتے ہیں ،وہ جو بات کہتا ہے لوگ اسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟لوگوں نے بتایا:یہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے رسولصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہیں۔میں نے دو مرتبہ عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! عَلَیْکَ السَّلَام(آپ پر سلام ہو)۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’عَلَیْکَ السَّلَام‘‘نہ کہوکہ ’’عَلَیْکَ السَّلَام‘‘مُردوں کا سلام ہے بلکہ ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ‘‘ کہو،میں نے عرض کی: کیا آپاللّٰہکےرسول ہیں؟آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :ہاں،میں اساللّٰہ عَزَّوَجَلَّکارسولہوں کہ جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو تم اُسی کو پُکارتے ہو پھر وہ تکلیف کو دور فرما دیتا ہے، جب تم قحط سالی کا شکار ہوتے ہو تو اُسی کو پکارتے ہو اور وہ تمہارے لیے سبزیاں اُگاتا ہے ،اور جب تم کسی بے آب و گیاہ جنگل میں ہوتے ہو اور تمہاری سواری گم ہو جاتی ہے تو اُسی کو پکارتے ہو اور وہ تمہاری سواری واپس کر دیتا ہے۔حضرت سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں: میں نے عرض کی:مجھے وصیت فرمایئے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”کسی کو گالی نہ دو۔“حضرت جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں: اس کے بعد سے میں نے کسی آزاد، غلام ،اونٹ اور بکری کو گالی نہیں دی ،نیز آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”کسی نیکی کو حقیر نہ جانوں اور جب اپنے (مسلمان) بھائی سے گفتگو کرو توخندہ پیشانی سے پیش آؤ کہ یہ نیکی ہے،تہبند کو آدھی پنڈلی تک اُٹھا کے رکھواگر یہ نہ ہو تو ٹخنوں تک اوراس سے نیچے تہبند لٹکانے سے بچوکہ یہ تکبر ہے اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّتکبر کو پسند نہیں فرماتا اور اگر کوئی شخص تمہیں کسی ایسی بات پر گالی دے یا عار دلائے کہ جسے وہ تم میں پاتا ہے تو تم اسے کسی ایسی بات پر عار نہ دلاؤ جسے تم اس میں پاتے ہو،بیشک اس کا وبال اسی پر ہے ۔∞
عَنْ اَبِي جُرَيٍّ جَابِرِ بْنِ سُلَيْم ٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:رَاَيْتُ رَجُلًا يَصْدُرُ النَّاسُ عَنْ رَاْيِهِ لَايَقُوْلُ شَيْئًا اِلَّا صَدَرُوْا عَنْهُ قُلْتُ:مَنْ هَذَا؟قَالُوْا:رَسُوْلُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم.قُلْتُ:عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُوْلَ اللَّه مَرَّتَيْنِ قَالَ:لَا تَقُلْ عَلَيْكَ السَّلَامُ عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ المَوْتَى قُلْ: اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ قَالَ:قُلْتُ:اَنْتَ رَسُوْلُ اللَّهِ؟قَالَ:اَنَا رَسُولُ اللَّهِ الَّذِي اِذَا اَصَابَكَ ضُـرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ وَاِذَا اَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ اَنْبَتَهَا لَكَ وَاِذَا كُنْتَ بِاَرْضٍ قَفْرٍ اَوْ فَلَاةٍ فَضَلَّتْ رَاحِلَتُكَ فَدَعَوْتَهُ رَدَّهَا عَلَيْكَ قَالَ:قُلْتُ:اِعْهَدْ اِلَيَّ.قَالَ:لَا تَسُبَّنَّ اَحَدًا قَالَ:فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ حُرًّا وَلَا عَبْدًاوَلَا بَعِيْرًاوَلَا شَاةً وَلا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَيْئًاوَاَنْ تُكَلِّمَ اَخَاكَ وَاَنْتَ مُنْبَسِطٌ اِلَيْهِ وَجْهُكَ اِنَّ ذٰلِكَ مِنَ الْمَعْرُوْفِ وَارْفَعْ اِزَارَكَ اِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَاِنْ اَبَيْتَ فَاِلَى الْكَعْبَيْنِ وَ اِيَّاكَ وَاِسْبَالَ الْاِزَارِ فَاِنَّهَا مِنَ الْمَخِيْلَةِ وَاِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيْلَةَ وَاِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيْكَ فَلَا تُعَيِّرُهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيْهِ فَاِنَّمَا وَبَالُ ذٰلِكَ عَلَيْهِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 796 ، باب: لباس کے آداب کا بیان
حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :ہمارے درمیان ایک شخص تہبند لٹکائے نماز پڑھ رہا تھا ،رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے فرمایا:”جاؤ وضو کرو۔“وہ گیا اور وضو کر کے حاضر ہوا،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جاؤدوبارہ وضو کرو۔“ایک شخص نے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا بات ہے آپ نے اسے وضو کرنے کا حکم دیا پھرکچھ نہ کہا۔ ارشاد فرمایا:”وہ تہبند لٹکائے نماز پڑھ رہا تھا ،بیشکاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکپڑا لٹکانے والے کی نماز قبول نہیں فرماتا۔ “
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّىْ مُسْبِلٌ اِزَارَهُ قَالَ لَهُ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اذْهَبْ فَتَوَضَّاْ فَذَهَبَ فَتَوضَّاَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ:اذْهَبْ فَتَوضَّاْ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ:يَا رُسْولَ اللَّهِ!مَالَكَ اَمَرْتَهُ اَنْ يَتَوَضَّاَ ثُمَّ سَكَتَّ عَنْهُ؟ قَالَ: اِنَّهُ كَانَ يُصَلِّى وَهُوَ مُسْبِلٌ اِزَارَهُ وَاِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 797 ، باب: لباس کے آداب کا بیان
حضرت سَیِّدُنا قیس بن بشر تغلبیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :مجھے میرے والد نے بتایااور وہ حضرت سَیِّدُناابو درداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے ہم نشین تھے کہ دمشق میں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صحابہ میں سے ایک صحابی رہتے تھے انہیں سہل بنحَنْظَلِیّہکہا جاتا تھا جو گوشہ نشین رہتے اور لوگوں کے پاس بہت کم بیٹھا کرتے تھے،صرف نماز میں مشغول رہتے اور جب فارغ ہوتے تو (مسجد سے)گھرکی طرف لوٹنے تک تسبیح و تکبیر میں مصروف رہتے۔ایک دن وہ ہمارے پاس سے گزرے اور ہم حضرت سَیِّدُناابودرداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔حضرت سَیِّدُنا ابو درداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے ان سے کہا :ہمیں کوئی ایسی بات بتایئےجو ہمارے لیے فائدہ مند ہو اور آپ کو نقصان نہ دے ،تو انہوں نے کہا:نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک چھوٹا لشکر بھیجا جب وہ لشکر واپس لوٹا تو ان میں سے ایک شخص آ یا اور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مجلس میں بیٹھ گیا،اور اپنے ساتھ بیٹھے شخص سے کہنے لگا:کاش !آپ نے ہمیں اس وقت دیکھا ہوتا جب دشمن سے ہمارا آمنا سامنا ہوا۔ فلاں آدمی نے نیزہ اٹھایااور (دشمن پر وار کرتے ہوئے )کہنے لگا :یہ لو میری طرف سے اور میں قبیلہ غفار کا فرزند ہوں۔آپ کا اس غفاری لڑکے کے اس قول کے بارے میں کیا خیال ہے ؟دوسرے آدمی نے جواب دیا:میرے خیال میں اس غفاری لڑکے کا اجر ضائع ہو چکا ہے ۔ایک اور آدمی نے یہ بات سنی تو کہا :میں اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔چنانچہ وہ دونوں اس معاملے میں جھگڑنے لگے یہاں تک کہرسولُ اللّٰہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سن لیا اور ارشاد فرمایا:”سُبْحَانَ اللّٰہ!اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ اسے آخرت میں ثواب دیا جائے اور دنیا میں تعریف کی جائے ۔“حضرت سَیِّدُنَا بشر بن قیسرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ حضرت سَیِّدُنا ابو درداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُیہ بات سن کر خوش ہو ئے اوران کی طرف سر اٹھا کر پوچھنے لگے:کیا آپ نے بھی نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے یہ بات سنی ہے ؟انہوں نے کہا:ہاں۔حضرت سَیِّدُنا ابو درداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُبار بار ان سے پوچھتے رہے یہاں تک کہ میں نے کہا:یہ ان کے آگے گھٹنے ٹیکنے والے ہیں(جیساکہ شاگرد استاد کے آگے گھٹنے ٹیکتا ہے)۔ دوسرے دن وہ صحابیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُپھر ہمارے پاس سے گزرے تو حضرت سَیِّدُنا ابو درداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے ان سے کہا :ہمیں کوئی ایسی بات بتایئےجو ہمارے لیے فائدہ مند ہو اور آپ کو نقصان نہ دے ۔انہوں نے کہا:نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں فرمایا:”(جہاد کے لیے)گھوڑوں پر خرچ کرنے والا اس آدمی کی طرح ہے جو صدقہ کرنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھاتا ہے اور اسے بند نہیں کرتا۔“حضرت سَیِّدُنابشر بن قیسرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:وہ صحابیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُایک دن پھر ہمارے پا س سے گزرے تو حضرت سَیِّدُنَا ابو درداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے ان سے کہا:ہمیں کوئی ایسی بات بتایئےجو ہمارے لیے فائدہ مند ہو اور آپ کو نقصان نہ دے،تو انہوں نے کہا:نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”خُرَیم اَسَدِی بہترین آدمی ہے کاش اس کے بال لمبے اور تہبند ٹخنوں سے نیچے نہ ہوتا۔“سَیِّدُنا خُرَیمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو جب یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے چُھری لے کر کانوں تک بال کاٹ ڈالےاور تہبند کو آدھی پنڈلیوں تک اٹھا لیا۔حضرت سَیِّدُنا بشر بن قیسرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:وہ صحابیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُایک دن پھر ہمارے پا س سے گزرے تو حضرت سَیِّدُنا ابو درداءرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے ان سے کہا:ہمیں کوئی ایسی بات بتایئےجو ہمارے لیے فائدہ مند ہو اور آپ کو نقصان نہ دے،تو انہوں نے کہا:میں نے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے سنا کہ ”تم اپنے بھائیوں کے پاس آ رہے ہو،اپنے کَجاوے اور اپنا لباس درست کر لو یہاں تک کہ تم لوگوں میں تِل کی مانند(خوبصورت ومنفرد) نظر آنے لگو،بیشکاللّٰہ عَزَّوَجَلَّفحش بکنے اور بدحال رہنے کو پسند نہیں فرماتا۔ “
عَنْ قَيْسِ بْنِ بَشَرٍ التَّغْلِبِيِّ قَالَ:اَخْبَرَنِى اَبِي وَكَانَ جَلِيْسًا لِاَبِي الدَّرْدَاءِقَالَ:كَانَ بِدِ مِشْقَ رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ سَهْلُ ابنُ الْحَنْظَلِيَّةِ وَكَانَ رَجُلاً مُتَوحِّدًا قَلَّمَا يُجالسُ النَّاسَ اِنَّمَا هُوَ صَلَاةٌ فَاِذَا فَرَغَ فَاِنَّمَا هُوَ تَسْبِيْحٌ وَتَكْبِيْرٌ حَتّٰى يَاْتِيَ اَهْلَهُ فَمَرَّ بِنَا وَنَحْنُ عِنْدَ اَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ لَهُ اَبُوْ الدَّرْدَاءِ: كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ قَالَ : بَعَثَ رَسُوْلُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم سَرِيَّةً فَقَدِمَتْ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَجَلَسَ فِي الْمَجْلِسِ الَّذِيْ يَجلِسُ فِيْهِ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَقَالَ لِرَجُلٍ اِلَى جَنْبِهِ: لَوْ رَاَيْتَنَا حِينَ الْتَقَيْنَا نَحْنُ والْعَدُوُّفَحَمَلَ فَلَانٌ وَطَعَنَ فَقَالَ:خُذْهَا مِنِّى وَاَنَا الْغُلَامُ الْغِفَارِيُّ كَيْفَ تَرَى فِي قَوْلِهِ؟قَالَ:مَا اُرَاهُ اِلَّا قَدْ بَطَلَ اَجْرُهُ فَسَمِعَ بِذٰلِكَ آخَرُ فَقَالَ:مَا اَرَى بِذٰلِكَ باْسًا فَتَنَازَعَا حَتّٰى سَمِعَ رَسُوْلُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَقَالَ:’’سُبْحَانَ اللَّهِ! لَا بَاْسَ اَنْ يُؤْجَرَ ويُحْمَدَ‘‘فَرَاَيْتُ اَبَا الدَّرْدَاءِ سُرَّ بِذٰلِكَ وَجَعَلَ يَرْفَعُ رَاْسَهُ اِلَيْهِ وَيَقُولُ:اَنْتَ سَمِعْتَ ذٰلِكَ مِنْ رَسُوْلِ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم؟ فَيَقُوْلُ: نَعَمْ فَمَا زَالَ يُعِيْدُ عَلَيْهِ حَتّٰى اِنّى لَاَقُوْلُ لَيَبْرُكَنَّ عَلَى رُكْبَتَيْهِ.
قَالَ:فَمَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ فَقَالَ لَهُ اَبُو الدَّرْدَاءِ:كَلِمَةً تَنفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ قَالَ:قَالَ لَنَا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:’’الْمُنْفِقُ عَلَى الْخَيْلِ كَالْبَاسِطِ يَدَهُ بِالصَّدَقَةِ لَا يَقْبِضُهَا‘‘ثُمَّ مَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ فَقَالَ لَهُ اَبُو الدَّرْدَاءِ:كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَا تَضُرُّكَ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:’’نِعْمَ الرَّجُلُ خُرَيْمٌ اَلْاَسَدِيُّ لَوْلَا طُولُ جُمَّتِهِ وَاِسْبَالُ اِزَارِهِ‘‘ فَبَلَغَ خُرَيْمًا فَعَجَّلَ فَاَخَذَ شَفْرَةً فَقَطَعَ بِهَا جُمَّتَهُ اِلَى اُذُنَيْهِ وَرَفَعَ اِزَارَهُ اِلَى اَنْصَافِ سَاقَيْهِ ثُمَّ مَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ فَقَالَ لَهُ اَبُو الدَّرْدَاءِ:كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلَاَ تَضُرُّكَ قَالَ:سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يَقُوْلُ:’’اِنَّكُمْ قَادِمُوْنَ عَلَى اِخْوَانِكُمْ،فَاَصْلِحُوا رِحَالَكمْ، وَاَصْلِحُوْا لِبَاسَكُمْ حَتّٰى تَكُونُوا كَاَنَّكُمْ شَامَةٌ فِي النَّاسِ فَاِنَّ اللَّهَ لاَ يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ.‘‘
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 798 ، باب: لباس کے آداب کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابو سعید خُدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”مسلمان کا تہبند آدھی پنڈلی تک ہے اور اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ ٹخنوں اور پنڈلی کے درمیان ہو البتہ جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو تو وہ آگ میں ہے اور جو شخص فخر سے اپنے تہبند کو گھسیٹے گااللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کی طرف نظر (رحمت)نہیں فرمائے گا۔ “
عَنْ اَبِي سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم َ اِزرَةُ الْمُسلِـمِ اِلٰی نِصْفِ السَّاقِ وَلَاحَرَجَ اَوْ لَا جُنَاحَ فِيْمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ فَمَا كَانَ اَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَينِ فَهُوَ فِي النَّارِ وَمَنْ جَرَّ اِزَارَهُ بَطَرًا لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ اِلَيْهِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 799 ، باب: لباس کے آداب کا بیان
حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہابن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:میں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس سے گزرا اور میرا تہبند لٹکا ہوا تھا ۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”اےعبداللّٰہ! تہبند اونچا کرو۔“میں نے اونچا کر دیا، پھر فرمایا:”اور اونچا کرو۔“میں نے اور اونچا کیا اس کے بعد میں ہمیشہ تہبند کا خیال رکھتا ۔کسی نے (سَیِّدُنا ابن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے)پوچھا :کہاں تک اونچاکیا؟فرمایا: آدھی پنڈلیوں تک۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:مَرَرْتُ عَلَى رسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي اِزَارِي اِسْتِـرْخَاءٌ فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ!اِرْفَعْ اِزارَكَ فَرَفَعْتُهُ ثُمَّ قَالَ:’’زِدْ‘‘ فَزِدْتُ فَمَا زِلْتُ اَتَحَرَّاهَا بَعْدُفَقَالَ بَعْضُ القَوْمِ: اِلَى اَيْنَ ؟ فَقَالَ: اِلَى اَنْصَافِ السَّاقَيْنِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 800 ، باب: لباس کے آداب کا بیان
حضرت سَیِّدُناعبداللّٰہبن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جو شخص تکبر کرتے ہوئے کپڑا لٹکائےگاقیامت کے دناللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کی طرف نظر (رحمت)نہیں فرمائے گا۔“حضرت سَیِّدَتُنَا اُمِّ سَلَمہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَانے عرض کی:عورتیں اپنی چادروں کو کس طرح استعمال کریں،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”ایک بالشت نیچے کریں۔“انہوں نے عرض کی:اِس طرح تو پاؤں کُھل جائیں گے۔ارشاد فرمایا:”ایک گز نیچے چھوڑ دیں لیکن اس سے زیادہ نہ کریں۔“
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:مَنْ جَرَّ ثَوبَهُ خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ اِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَقَالَتْ اُمُّ سَلَمَةَ:فَكَيْفَ تَصْنَعُ النِّسَاءُ بِذُيُولِهنَّ قَالَ:يُرْخِيْنَ شِبْراً قَالَتْ:اِذًا تَنكَشِفُ اَقْدَامُهُنَّ قَالَ: فَيُرْخِيْنَهُ ذِراعًالَا يَزِدْنَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 801 ، باب: لباس کے آداب کا بیان