- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- حدیث نمبر 796
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي جُرَيٍّ جَابِرِ بْنِ سُلَيْم ٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:رَاَيْتُ رَجُلًا يَصْدُرُ النَّاسُ عَنْ رَاْيِهِ لَايَقُوْلُ شَيْئًا اِلَّا صَدَرُوْا عَنْهُ قُلْتُ:مَنْ هَذَا؟قَالُوْا:رَسُوْلُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم.قُلْتُ:عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُوْلَ اللَّه مَرَّتَيْنِ قَالَ:لَا تَقُلْ عَلَيْكَ السَّلَامُ عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ المَوْتَى قُلْ: اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ قَالَ:قُلْتُ:اَنْتَ رَسُوْلُ اللَّهِ؟قَالَ:اَنَا رَسُولُ اللَّهِ الَّذِي اِذَا اَصَابَكَ ضُـرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ وَاِذَا اَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ اَنْبَتَهَا لَكَ وَاِذَا كُنْتَ بِاَرْضٍ قَفْرٍ اَوْ فَلَاةٍ فَضَلَّتْ رَاحِلَتُكَ فَدَعَوْتَهُ رَدَّهَا عَلَيْكَ قَالَ:قُلْتُ:اِعْهَدْ اِلَيَّ.قَالَ:لَا تَسُبَّنَّ اَحَدًا قَالَ:فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ حُرًّا وَلَا عَبْدًاوَلَا بَعِيْرًاوَلَا شَاةً وَلا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَيْئًاوَاَنْ تُكَلِّمَ اَخَاكَ وَاَنْتَ مُنْبَسِطٌ اِلَيْهِ وَجْهُكَ اِنَّ ذٰلِكَ مِنَ الْمَعْرُوْفِ وَارْفَعْ اِزَارَكَ اِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَاِنْ اَبَيْتَ فَاِلَى الْكَعْبَيْنِ وَ اِيَّاكَ وَاِسْبَالَ الْاِزَارِ فَاِنَّهَا مِنَ الْمَخِيْلَةِ وَاِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيْلَةَ وَاِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيْكَ فَلَا تُعَيِّرُهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيْهِ فَاِنَّمَا وَبَالُ ذٰلِكَ عَلَيْهِ.
عن ابي جري جابر بن سليم رضي الله عنه قال:رايت رجلا يصدر الناس عن رايه لايقول شيئا الا صدروا عنه قلت:من هذا؟قالوا:رسول الله صلى الله عليه وسلم.قلت:عليك السلام يا رسول الله مرتين قال:لا تقل عليك السلام عليك السلام تحية الموتى قل: السلام عليك قال:قلت:انت رسول الله؟قال:انا رسول الله الذي اذا اصابك ضـر فدعوته كشفه عنك واذا اصابك عام سنة فدعوته انبتها لك واذا كنت بارض قفر او فلاة فضلت راحلتك فدعوته ردها عليك قال:قلت:اعهد الي.قال:لا تسبن احدا قال:فما سببت بعده حرا ولا عبداولا بعيراولا شاة ولا تحقرن من المعروف شيئاوان تكلم اخاك وانت منبسط اليه وجهك ان ذلك من المعروف وارفع ازارك الى نصف الساق فان ابيت فالى الكعبين و اياك واسبال الازار فانها من المخيلة وان الله لا يحب المخيلة وان امرؤ شتمك وعيرك بما يعلم فيك فلا تعيره بما تعلم فيه فانما وبال ذلك عليه.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابو جُرَی جابر بن سُلَیمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: میں نےا یک آدمی کو دیکھا کہ لوگ اس کی رائے پر عمل کرتے ہیں ،وہ جو بات کہتا ہے لوگ اسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟لوگوں نے بتایا:یہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے رسولصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہیں۔میں نے دو مرتبہ عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! عَلَیْکَ السَّلَام(آپ پر سلام ہو)۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’عَلَیْکَ السَّلَام‘‘نہ کہوکہ ’’عَلَیْکَ السَّلَام‘‘مُردوں کا سلام ہے بلکہ ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ‘‘ کہو،میں نے عرض کی: کیا آپاللّٰہکےرسول ہیں؟آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :ہاں،میں اساللّٰہ عَزَّوَجَلَّکارسولہوں کہ جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو تم اُسی کو پُکارتے ہو پھر وہ تکلیف کو دور فرما دیتا ہے، جب تم قحط سالی کا شکار ہوتے ہو تو اُسی کو پکارتے ہو اور وہ تمہارے لیے سبزیاں اُگاتا ہے ،اور جب تم کسی بے آب و گیاہ جنگل میں ہوتے ہو اور تمہاری سواری گم ہو جاتی ہے تو اُسی کو پکارتے ہو اور وہ تمہاری سواری واپس کر دیتا ہے۔حضرت سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں: میں نے عرض کی:مجھے وصیت فرمایئے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”کسی کو گالی نہ دو۔“حضرت جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں: اس کے بعد سے میں نے کسی آزاد، غلام ،اونٹ اور بکری کو گالی نہیں دی ،نیز آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”کسی نیکی کو حقیر نہ جانوں اور جب اپنے (مسلمان) بھائی سے گفتگو کرو توخندہ پیشانی سے پیش آؤ کہ یہ نیکی ہے،تہبند کو آدھی پنڈلی تک اُٹھا کے رکھواگر یہ نہ ہو تو ٹخنوں تک اوراس سے نیچے تہبند لٹکانے سے بچوکہ یہ تکبر ہے اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّتکبر کو پسند نہیں فرماتا اور اگر کوئی شخص تمہیں کسی ایسی بات پر گالی دے یا عار دلائے کہ جسے وہ تم میں پاتا ہے تو تم اسے کسی ایسی بات پر عار نہ دلاؤ جسے تم اس میں پاتے ہو،بیشک اس کا وبال اسی پر ہے ۔∞
شرح حدیث
میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےنیکی کی دعوت دیتے ہوئے اچھے کام کرنے اور بُرے کاموں سے بچنے کی وصیت ارشاد فرمائی اوران ہی کاموں میں سے تہبند کو آدھی پنڈلی تک یا ٹخنوں تک رکھنے کاحکم فرمانا اور اسے ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کی ممانعت بھی ہے کہ یہ تکبر ہے اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّتکبر کو پسند نہیں فرماتا ۔عَلَیْکَ السَّلَامنہ کہو:حضرت سَیِّدُنا ابو جُرَی جابِر بن سُلَیمرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:میں نےا یک آدمی کو دیکھا کہ لوگ اس کی رائے پر عمل کرتے ہیں،وہ جو بات کہتا ہے لوگ اسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں‘‘ یعنی آپ کی ہر بات مانتے ہیں وجہ نہیں پوچھتے۔صَدَرُوْا صُدُوْرٌسے بنا جس کے معنی ہیں بے سمجھے سوچے چل پڑنا۔’’میں نے پوچھا یہ کون ہے؟لوگوں نے بتایا یہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے رسولصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہیں یعنی میں نے اُمَرا حکام اور بادشاہوں کے خدّام بھی دیکھے مگر کسی کے خدّام ایسے بندۂ بے دام نہ پائے مجھے تعجب ہوا کہ ان کی شان تو شاہانہ نہیں مگر فرمان شاہوں سے اعلیٰ ہیں اس لیے تعجب سے پوچھا۔(میں نے دو مرتبہ عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! عَلَیْکَ السَّلَام(آپ پر سلام ہو)۔)مگر آپ نے جواب نہ دیا کیونکہ سلام غَلَط تھا۔معلوم ہوا کہ صحیح سلام کا جواب دینا واجب ہے غلط سلام کو درست کرنا ضروری ہے۔(آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’عَلَیْکَ السَّلَام‘‘نہ کہوکہ یہ مُردوں کا سلام ہے بلکہ ’’اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ‘‘ کہو۔) اس جملہ کے بہت سے معنی کئے گئے ہیں:ایک یہ کہ قبرستان میں جاکر مُردوں کو ’’عَلَیْکَ السَّلَام‘‘ کہو مگر یہ غلط ہے کیونکہ وہاں بھیاَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْکہنا سنت ہے۔دوسرے یہ کہ کفارِعرب قبرستان جاکر مُردوں کو یہ سلام کرتے تھے۔تیسرے یہ کہ جب مُردے آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو’’عَلَیْکَ السَّلَام‘‘کہتے ہیں۔چوتھے یہ کہ ’’عَلَیْکَ السَّلَام‘‘ کہنا مُردوں کے لیے مناسب ہے زندے سلام تواَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْسے کریں اور جواب میںوَعَلَیْکُمُ السَّلَامبولیں۔
تیسری توجیہ قوی ہے۔(حضرت سَیِّدُنَا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکہتے ہیں: میں نے عرض کیا:مجھے وصیت فرمایئے،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:کسی کو گالی نہ دو۔) اگرسَبٌّ(یعنی گالی ) سے مراد فُحش گالی ہے تب تو حدیث بالکل ظاہر ہے کہ مسلمان فُحش گو نہیں ہوتا اور اگر بُرا کہنا مُراد ہے تو اگرچہ بعض وقت کسی کو برا کہناجائز تو ہوتا ہے مگر اس سے بچنا بہتر،ان صحابی نے اس بہتر پر عمل کیا۔(نیز آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:کسی نیکی کو حقیر نہ جانوں اور جب اپنے (مسلمان) بھائی سے گفتگو کرو توخندہ پیشانی سے پیش آؤ کہ یہ نیکی ہے۔)یعنی اگر خدا تجھے تھوڑی نیکی کی بھی توفیق دے تو اسے کر گزر اور خدا کا بہت شکر کر،موقع کو غنیمت جان کہ کبھی تھوڑی نیکی سے ہی نجات ہوجائےگی اور شکر کی توفیق سے آئندہ بڑی نیکیاں بھی نصیب ہوجائیں گی۔(تہبند کو آدھی پنڈلی تک اُٹھا کے رکھواگر یہ نہ ہو تو ٹخنوں تک اوراس سے نیچے تہبند لٹکانے سے بچو۔)یہ حکم مرد کے لیے ہے کہ اسے ٹخنوں کے نیچے پاجامہ یا تہبند رکھنا بطریق تکبر حرام ہے اور بے پرواہی سے خلاف اولیٰ لہذا ٹخنوں کے اوپر رکھے،عورتوں کا تہبند یا پاجامہ ٹخنوں سے نیچے چاہیے۔(اور اگر کوئی شخص تمہیں کسی ایسی بات پر گالی دے یا عار دلائے کہ جسے وہ تم میں پاتا ہے تو تم اسے کسی ایسی بات پر عار نہ دلاؤ جسے تم اس میں پاتے ہو۔) یہ انتہائی حُسنِ اخلاق کی تعلیم ہےکہ اگر کوئی تمہارے عیب کھولے تو تم اس کے عیب نہ کھولو مگر یہ اپنے ذاتی معاملات میں ہے اور وہ بھی مسلمانوں کے ساتھ اگر کوئی بدنصیبﷲکے محبوبوں کو عیب لگائے تو اس کے سارے چھپے عیب کھول دینا سنتِ الٰہیہ ہے،دیکھو ولید اِبنِ مغیرہ نے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو مجنون کہا تو رب تعالیٰ نےجو ستّارِ عیوب ہے سورۂ نون میں اس کے دس عیب کھولے حتی کہ اخیر میں فرمایا:﴿عُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ(۱۳)﴾(پ۲۹،القلم:۱۳)کہ وہ حرام کا تُخم ہے لہذا یہ حدیث ان آیات کے خلاف نہیں۔اپنے دشمن کو معافی دینا کمال ہے اور دین کے دشمنوں سے بدلہ لینا کمال۔(بیشک اس کا وبال اسی پر ہے ۔)خیال رہے کہ ذاتی معاملات میں کسی مسلمان کے عیب کھولنا سخت جرم ہے جس کا وبال بہت ہے مگر دینی معاملات میں خود مسلمان کے عیب کھولنا عبادت ہے۔محدثین حدیث کے راویوں کے عیوب بیان کرجاتے ہیں غیبت یا عیب لگانے کے لیے نہیں بلکہ حدیث کا درجہ معین کرنے کے لیے کہ اس کے راویوں میں چونکہ فلاں عیب ہے لہذا یہ حدیث ضعیف ہے فضائلِ اعمال میں کام آئے گی،احکام میں کام نہ دے گی۔مشکل کشا نبی:مذکورہ حدیث میں جو تکلیف ٹالنے ،قحط سالی دور کرنے اور بے آب وگیاہ جنگل میں مدد کرنے کا ذِکر ہے اس کے متعلقمُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”ممکن ہے یہاں تینوں صیغے متکلم کے ہوں اوراَلَّذِیرسول کی صفت ہو یعنی میں وہ رسول ہوں کہ میری دعا سےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّلوگوں کی مصیبتیں ٹالتا ہے،حضورِانورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی یہ دعائیں حضورِ اَنورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے معجزے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ تینوں صیغے مخاطب کے ہوں اوراَلَّذِی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی صفت ہو یعنی میں اساللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا رسول ہوں کہ اگر تو مصیبتوں میں میرے وسیلہ سے اس سے دعائیں کرے تو پروردگار تیری آفتیں ٹال دے۔مدنی گلدستہ’’مُشکِل کشا ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکو راور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھو ل
(1)عَلَیْکَ السَّلَامکہنا مُردوں کا سلام ہےاورحدیث پاک میں ان الفاظ سے سلام کرنے کی ممانعت ہے۔
(2) مسلمان فُحش گو نہیں ہوتا یعنی کسی کو گالی وغیرہ نہیں دیتا اگرچہ بعض اوقات کسی کو بُرا کہناجائز ہے مگر اس سے بھی بچنا بہتر ہے ۔
(3) کسی نیکی کو حقیر نہیں جاننا چاہیے،اگراللّٰہ عَزَّوَجَلَّچھوٹی نیکی کی توفیق بھی دے تو اسے کر گزرنا چاہیے کہ کبھی چھوٹی نیکی ہی ذریعہ نجات بن جاتی ہے۔
(4) مَردوں کے لیے شلوار، تہبند یا پا جامہ کو تکبر کی نیت سے ٹخنوں سے نیچے رکھنا حرام ہے اور لاپر واہی کی وجہ سے ہو تو نا منا سب، لہٰذا مَردوں کا لباس ٹخنوں سے اُوپر ہونا چاہیے، جبکہ عورتوں کا لباس ٹخنوں سے نیچے ہو ۔
(5) ذاتی معاملات میں اگر کوئی ہمارے عیب کھولے تو بدلے میں ہمیں اس کے عیب نہیں کھولنے چا ہیں کہ کسی مسلمان کے عیب کھولنا سخت جرم ہے۔
(6) اگر کوئی بدنصیباللّٰہ عَزَّوَجَلَّکےمحبوبوں کو عیب لگائے تو اس کے سارے چھپے عیب کھول دینا سنتِ اِلٰہیہ ہے۔اپنے دشمن کو معافی دینا کمال اور دین کے دشمنوں سے بدلہ لینا کمال ہے۔
(7) رسولِ پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دعا سےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّلوگوں کی مصیبتیں ٹالتا ہے،قحط سالی دور کرتا ہے اورمشکلات میں ان کی مدد کرتا ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیںرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دی ہوئی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 796