Main Icon

باب: لباس کے آداب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 794

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامةِ وَلَا يَنْظُرُ اِلَيْهمْ وَلَا يُزَكِّيْهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ قَالَ:فَقَرَاَهَا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ اَبُوْ ذَرٍّ:خَابُوْا وخَسِرُوْا مَنْ هُمْ يَا رَسُوْلَ اللَّهِ؟قَالَ:الْمُسبِلُ وَالْمَنَّانُ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلْفِ الْكَاذِبِ. وَ فِیْ رِوَایَۃٍلَہُ: الْمُسْبِلُ اِزَارَہُ.

عن ابي ذر رضي الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال:ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة ولا ينظر اليهم ولا يزكيهم ولهم عذاب اليم قال:فقراها رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث مرار قال ابو ذر:خابوا وخسروا من هم يا رسول الله؟قال:المسبل والمنان والمنفق سلعته بالحلف الكاذب. و فی روایۃلہ: المسبل ازارہ.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ذرغفاریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”قیامت کے دناللّٰہ عَزَّوَجَلَّتین لوگوں سے کلام نہیں فرمائے گا او ر نہ ہی ان کی طرف نظر فرمائے گا اور نہ انہیں پاک فرمائے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔“حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ کلمات تین بار ارشاد فرمائے۔حضرت ابو ذررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی :وہ لوگ تو نامراد ہوئےاور خسارے میں پڑ گئے،یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!وہ کون ہیں؟آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”(1)کپڑا لٹکانے والا(2)اِحسان جتانے والا اور(3) جھوٹی قسم کے ساتھ سودا بیچنے والا۔ “اورمسلم شریف کی ایک روایت میں ہے:’’تہبند لٹکانے والا۔‘‘

شرح حدیث

تین بُرے کام:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:قیامت کے دناللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا مذکورہ تین لوگوں سے کلام نہ فرمانے کا مطلب یہ ہےکہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّاُن سے اِعراض فرمائے گا اوریہ بھی کہا گیا ہےکہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّان سے رضا مندی کا کلام نہ فرمائے گا بلکہ ناراضی و سختی والا کلام فرمائے گا۔ ’’نہ ہی ان کی طرف نظر فرمائے گا۔‘‘ یعنیاللّٰہ عَزَّوَجَلَّاُن سے اِعراض فرمائے گا اوران کی طرف رحمت ولطف والی نظر نہ فرمائے گا۔’’نہ انہیں پاک فرمائے گا۔‘‘ یعنی ان کو گناہوں کے میل سے پاک نہ فرمائے گا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی تعریف نہ فرمائے گا۔’’اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔‘‘علامہ واحدیرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: یہ عذاب ایسا ہوگا جس کی تکلیف دلوں پر چھا جائےگی ۔عذاب ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کو عاجز کر دے اورمشقت میں ڈال دے۔حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مذکورہ کلمات تین بار اس لئے ارشاد فرمائے تا کہ سامعین کے ذہن میں یہ بات اچھی طرح بیٹھ جائے ۔حضرت ابو ذررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی:وہ لوگ نامراد ہوئےاور خسارے میں پڑے۔‘‘یعنی وہ لوگ تو تباہ ہو گئے جن کے بارے میں یہ وعید ہے۔”یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!وہ کون لوگ ہیں؟“تا کہ ان کے اوصاف کے ذریعے انہیں پہچانا جا سکے۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”کپڑا لٹکانے والا‘‘یعنی تکبر کرتے ہوئے کپڑے کو لٹکانے والا۔’’احسان جتانے والا ‘‘یعنی جس پر احسان کیا ہو اس کے سامنے اپنے احسان کو جتانا، اگر بار بار ایسا کیا جائے تو یہ کبیرہ گناہ بن جائے گا ورنہ ایک بار کرنا بھی حرام ہےکہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّارشادفرماتا ہے:﴿لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ ﴾(پ۳،البقرۃ:۲۶۴)(ترجمہ ٔکنز الایمان:اپنے صدقے باطل نہ کردو احسان رکھ کر۔) ’’اور جھوٹی قسم کے ساتھ سودا بیچنے والا۔‘‘یعنی کثرت سے جھوٹی قسمیں کھا کر اپنا سامان بیچنے والا جیسے کہ کوئی کہے:اللّٰہکی قسم! یہ بہت اچھا ہے ،اللّٰہکی قسم! یہ بہت نایاب ہے ۔تین قسم کے لوگ تین عنایتوں سے محروم :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: کلام سے مراد محبت کا کلام ہے،دیکھنے سے مراد کرم کا دیکھنا ہے اور پاک فرمانے سے مراد گناہ بخشنا ہے یعنی دوسرے مسلمانوں پر یہ تینوں کرم ہوں گے مگر اِن تین قسم کے لوگ اِن تینوں عنایتوں سے محروم رہیں گے لہٰذا اِن سے بچتے رہو۔یعنی جو فیشن کے لیے ٹخنوں سے نیچا پاجامہ تہبند استعمال کریں جیسے آجکل جاہل لوگوں کا طریقہ ہےاور جو کسی کو کچھ صدقہ و خیرات دے کر اُن کو طعنے دیں،اِحسان جتائیں،لوگوں میں اُنہیں بدنام کردیں کہ فلاں آدمی ہمارا دست نگر رہ چکا ہے اور جو جھوٹی قسم کھا کر دھوکا دے کر مال فروخت کریں۔مدنی گلدستہ’’اَہلِ صُفہ‘‘کے6حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) غرور وتکبراور فیشن کے لئے اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا جہنمی ہے۔
(2) ٹخنوں سے اوپر شلوار ،پاجامہ یا تہبند وغیرہ رکھنا یہ حکم مردوں کے لیے ہے عورتوں کو ٹخنوں کے نیچے رکھنا چاہیے تاکہ ان کی پنڈلی کا کوئی حصہ حتی کہ ٹخنے بھی دکھائی نہ دیں کہ یہ سترعورت ہیں۔
(3) زمانہ ٔرسالت میں اکثر لوگوں کا لباس تہبند اور اوپر لینے والی چادر تھااسی وجہ سے اَحادیث میں عام طور پر تہبند لٹکانے کی مذمت کی گئی ہے۔
(4) تہبند لٹکانے والا، اِحسان جتانے والااور جھوٹی قسم کھا کر سودا بیچنے والا قیامت کے دن
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے محبت والے کلام،اس کی نظرِرحمت اور اس کی بخشش سے محروم رہیں گے ۔
(5)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے کلام نہ فرمانے سے مراد محبت کا کلام نہ فرمانا ہے اور نہ دیکھنے سے مراد نظر رحمت سے نہ دیکھنا ہے اور پاک نہ فرمانے سے مراد گناہوں کا نہ بخشنا ہے۔
(6) حضور نبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبسا اوقات اپنی بات کو تین بار دہراتے تا کہ سننے والے کو اچھی طرح سمجھ آ جائے ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے،اِحسان جَتلانے اور جھوٹی قسم کھانے سےبچائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 794