Main Icon

باب: لباس کے آداب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 797

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّىْ مُسْبِلٌ اِزَارَهُ قَالَ لَهُ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اذْهَبْ فَتَوَضَّاْ فَذَهَبَ فَتَوضَّاَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ:اذْهَبْ فَتَوضَّاْ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ:يَا رُسْولَ اللَّهِ!مَالَكَ اَمَرْتَهُ اَنْ يَتَوَضَّاَ ثُمَّ سَكَتَّ عَنْهُ؟ قَالَ: اِنَّهُ كَانَ يُصَلِّى وَهُوَ مُسْبِلٌ اِزَارَهُ وَاِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال:بينما رجل يصلى مسبل ازاره قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم:اذهب فتوضا فذهب فتوضا ثم جاء فقال:اذهب فتوضا فقال له رجل:يا رسول الله!مالك امرته ان يتوضا ثم سكت عنه؟ قال: انه كان يصلى وهو مسبل ازاره وان الله لا يقبل صلاة رجل مسبل.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :ہمارے درمیان ایک شخص تہبند لٹکائے نماز پڑھ رہا تھا ،رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے فرمایا:”جاؤ وضو کرو۔“وہ گیا اور وضو کر کے حاضر ہوا،آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جاؤدوبارہ وضو کرو۔“ایک شخص نے عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا بات ہے آپ نے اسے وضو کرنے کا حکم دیا پھرکچھ نہ کہا۔ ارشاد فرمایا:”وہ تہبند لٹکائے نماز پڑھ رہا تھا ،بیشکاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکپڑا لٹکانے والے کی نماز قبول نہیں فرماتا۔ “

شرح حدیث

دو بار وضو کا حکم دینے کی حکمت :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث میں ذکر ہے کہ ایک شخص(ٹخنوں سے نیچے )تہبند لٹکائے نماز پڑھ رہا تھا،نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے حکم ارشاد فرمایا کہ جاؤ وضو کرو، وہ وضو کر کے آیا تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دوبارہ حکم ارشاد فرمایا:جاؤ دوبارہ وضو کرو۔عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:وہ شخص تہبند لٹکائے نماز پڑھ رہا تھا اور اس کا یہ فعل تکبر اور بڑائی کی وجہ سے تھا ،ممکن ہے آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے دوبارہ وضو کرنے کا جو حکم ارشاد فرمایا وہ تہبند لٹکانے کے گناہ کے کفارے کے طور پر ہو کہ ایک حدیثِ پاک میں آیا ہے:’’طہارت گناہوں کا کفار ہ ہے۔‘‘ تہبند لٹکانے والے کو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دوبارہ وضو کرنے کا حکم ارشاد فرمایا لیکن نماز لوٹانے کا حکم ارشاد نہ فرمایا کیونکہ نماز صحیح تھی اگر چہ قبولیت کے درجے کو نہ پہنچی تھی جیسا کہ حدیث میں حضور نے فرمایا:’’بیشکاللّٰہ عَزَّوَجَلَّتہبند لٹکانے والے کی نماز قبول نہیں فرماتا۔‘‘تہبند لٹکانے سے وضو واجب نہیں ہوتا:مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:یعنی فیشن اورتکبر کے طریقہ پر اس کا تہبندٹخنوں سے نیچے تھا جیسا کہ آج کل بعض لوگوں کا پہناواہے یہ مکروہِ تحریمی ہے۔اگر فیشن سے نہ ہو تو مضائقہ نہیں،جیساکہ حضرت ابوبکرصدیق سے منقول ہے کہ آپ کے پیٹ پر تہبند رُکتا نہ تھا ڈھلک جاتا تھاجس سے ٹخنوں کے نیچے ہوجاتا حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے سوال کیا،فرمایا:’’تم ان لوگوں میں سے نہیں جو تکبر کی نیت سے ایسا کرتے ہیں۔‘‘لہٰذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔ تہبند لٹکانے سے وضو واجب نہیں ہوتا یہاں وضو کا حکم دینا یا اس لیے تھا کہ اس کی وجہ سے اس شخص کو یہ واقعہ یاد رہے اور آئندہ کبھی نیچا تہبند نہ پہنے کیونکہ قدرے سزا دے دینے سے بات یاد رہتی ہے یا اس لیے کہ ان کے دل میں فیشن اورتکبرتھا،ظاہری طہارت کے ذریعہ باطنی طہارت نصیب ہو،ہاتھ پاؤں دُھلنے سے دِل غروروتکبر سے دُھل جائے۔بعض صوفیافرماتے ہیں: پاک کپڑوں میں رہنا،پاک بِستر پرسونا ہمیشہ باوضو رہنا دِل کی صفائی کا ذریعہ ہے۔اُن کا ماخذ یہ حدیث ہے۔مدنی گلدستہ’’سُنّت ‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکو راور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھو ل
(1) جس کا تہبند ،شلوار وغیرہ حالتِ نمازمیں ٹخنوں سے نیچے ہوں
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کی نماز قبول نہیں فرماتا۔
(2) تہبند لٹکانے کی وجہ سے وضو واجب نہیں ہوتا حدیث پاک میں وضو کا حکم دینا اِس لیے تھا کہ اس کی وجہ سے اس شخص کو یہ واقعہ یاد رہے اور آئندہ کبھی نیچا تہبند نہ پہنے۔
(3) وضو کرنا گناہوں کا کفارہ ہے ۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سنت کے مطابق لباس زیب تن کرنے اور اپنے پائنچے ٹخنوں سے اونچے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 797