Main Icon

باب: لباس کے آداب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 792

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:لَا يَنْظُرُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اِلَى مَنْ جَرَّ اِزَارَهُ بَطَرًا.

عن ابي هريرة رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:لا ينظر الله يوم القيامة الى من جر ازاره بطرا.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”قیامت کے دناللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کی طرف نظر ِ رحمت نہیں فرمائے گا جو تکبر سے اپنا تہبند لٹکاتا ہے ۔ “

شرح حدیث

تکبر کی نیت کے بغیر تہبند لٹکانامنع نہیں:میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو!مذکورہ دونوں احادیثِ مبارکہ میں ایک ہی بات کو بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص تکبر کی نیت سےتہبند کو لٹکائے گا یعنی ٹخنوں سے نیچے کرےگا قیامت کے دناللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرمائے گااور اگر تکبر کی نیت نہ ہو یا کوئی مجبوری ہو کہ جس کے سبب لباس کو ٹخنوں سے نیچے کرنا پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:” جس شخص نے تکبر کی نیت کے بغیر تہبند کو لٹکایا تو اس میں کوئی حرج نہیں،اسی طرح کسی تکلیف کو دور کرنے کے لیے بھی لباس کو لٹکانا جائز ہے مثلاً ٹخنوں کے نیچے کوئی زخم یا خارش وغیرہ ہو اگر وہ ٹخنوں کو نہ ڈھانپے تو مکھیاں اور دوسرے کیڑے مکوڑے اس پر بیٹھ کے اسے تکلیف دیں گے اورقمیص،تہبند یا چادر کے علاوہ کوئی اور چیز ڈھانپنے کے لیے نہ ہو تو گویا یہ ایسا ہی ہے جیسے علاج کے لیے شرمگاہ کو کھولنا جائز ہے۔(یعنی ایسی صورت میں تہبند،چادر یا لمبی قمیص کو ٹخنوں سے نیچے کرنا جائز ہے ۔)
علامہ غلام رسول رضوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”علامہ کرمانی نے کہا:کپڑا گھسیٹ کر غرور سے چلنا حرام ہےاگر غرور سے نہ ہو تو اس میں کچھ حرج نہیں۔محدثین نے کہا:قمیص کا کنارا اور تہبند کا نچلا حصہ نصف پنڈلی تک لٹکانا مستحب ہے اورٹخنوں تک بلاکراہت جائز ہے۔اگر ٹخنوں سے نیچےغرور سے کرے تو مکروہِ تحریمی ہے ورنہ تنزیہا ً مکروہ ہے۔مرآۃ المناجیح میں ہے:” فخریہ طور پر یا فیشن یا یہودونصاریٰ کی نقل کے لیے (ٹخنوں سے)نیچے پاجامے پہننا دوزخ کا ذریعہ ہے۔اس لیے فقہا فرماتے ہیں کہ فیشن یا شیخی کے لیے نیچے پاجامہ پہننا مکروہِ تحریمی ہے اس کے بغیر مکروہِ تنزیہی یا خلافِ مستحب۔“صدیق اکبررَضِیَ اللّٰہ عَنْہُکے تہبند لٹکنے کی وجہ:تفہیم البخاری اور عمدۃ القاری میں حضرت سَیِّدُنا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے تہبند لٹکنےکی وجہ یہ بیان کی گئی کہ”حضرت ابوبکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی کمر کبڑی(یعنی جھکی ہوئی) تھی اس لئے تہبند آگے سے زمین پر گھسنے لگتا تھا نیز آپ کا بدن نحیف(دبلا پتلا) تھا اس لئے دائیں بائیں جانب تہبند گھسنے لگتا تھا کیونکہ غالباً نحیف انسان اپنا تہبند برابر نہیں باندھ سکتا ۔“(یعنی اس کے کمزور اور دبلے پتلے بدن کی وجہ سے تہبند ایک جگہ نہیں ٹھہرتاآگے پیچھے ہوتا رہتا ہے جس کے سبب ڈھیلا ہوجاتا ہے۔)عمدۃ القاری میں مزید ہے:”معلو م ہوا کہ جس کا تہبند اُس کے قصد و اِرادہ کے بغیر لٹک جائے اس میں کوئی حرج نہیں۔“نیت کے بدلنے سے حکم بھی بدل جاتا ہے :عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’اس سے ثابت ہوا کہ اَعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے اور نیت کے بدلنے سے اَحکام بھی بدل جاتے ہیں ،حدیث پاک میں ذکر کی گئی وعید اُن لوگوں کے لیے ہے جو خود پسندی اور تکبر کی وجہ سے تہبند لٹکانے والے ہیں اور جن کی یہ نیت نہ ہو وہ اس حکم میں داخل نہیں۔پاجامہ ٹخنوں سے اُوپر رکھنا سنت ہے :مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:عرب کے رئیس لوگ شیخی میں تہبند بہت نیچا رکھتے تھے جیسے ہمارے ہاں گاؤں کے چوہدری بہت نیچے باندھتے ہیں ان کے متعلق یہ وعید ہے اسی لیےبَطَرًا(تکبر)کی قید لگائی گئی،اگر بغیر فخر کے تہبند نیچا ہو تو یہ وعید نہیں،ہاں سنت یہ ہی ہے کہ مرد کا تہبند یا پاجامہ ٹخنہ سے اوپر رہے۔مدنی گلدستہ’’عاجزی‘‘کے5حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) جو تکبر کی وجہ سے کپڑے کو ٹخنوں سے نیچے لٹکائے گا ،قیامت کے دن
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کی طرف نظر رحمت نہ فرمائے گا۔
(2) کپڑا گھسیٹ کر غرور سے چلنا حرام ہے۔
(3) تکبر کی نیت نہ ہو یا کسی عذرِ صحیح کے سبب ٹخنوں سے نیچے کپڑا کیا تو حرج نہیں۔
(4) قمیص کا کنارا اور تہبند کا نچلا حصہ نصف پنڈلی تک لٹکانا مستحب ہے۔
(5) سنت یہ ہے کہ مرد کا تہبند یا پاجامہ ٹخنو ں سے اوپر رہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں سنت کی نیت سے اپنا پاجامہ،شلوار یا تہبند کو ٹخنوں سے اوپر رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 792