Main Icon

باب: لباس کے آداب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 793

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَـنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ:مَا اَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْاِزَارِ فَفِي النَّارِ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه عـن النبى صلى الله عليه وسلم قال:ما اسفل من الكعبين من الازار ففي النار.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہے وہ جہنم میں ہے ۔ “

شرح حدیث

جہنمیوں کا لباس:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کردہ حدیث پاک میں اُن لوگوں کے لیےلمحۂ فکریہ ہے جو تکبر کرتے ہوئے اپنے لباس کو ٹخنوں سے نیچے لٹکاتے ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں یہ وعید ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہے وہ جہنم میں ہے۔“مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:’’اس کا مطلب یا تو یہ ہے کہ ٹخنے سے نیچے تہبند جہنمیوں کا لباس ہے یا یہ مطلب ہے کہ وہ حصہ تہبند کا دوزخ میں جائے گا اس شخص کو ساتھ لے کر،یہ مطلب نہیں کہ تہبند تو دوزخ میں جاوے اور یہ متکبر سیدھا جنت میں،یہاں بھی تکبر شیخی فیشن کے لیے تہبند نیچا رکھنا مراد ہے۔ یہ حکم مَردوں کے لیے ہے عورتوں کو ٹخنہ کے نیچے تہبند رکھنا چاہیے تاکہ ان کی پنڈلی کا کوئی حصہ حتی کہ ٹخنہ بھی نہ کھلے کہ یہ سترعورت ہے۔‘‘حدیث میں تہبند کا ذِکر ہے لیکن یہ حکم قمیص وغیرہ کو بھی شامل ہے۔علامہ کرمانیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’یہ مطلق ہے اس کو مقید پرمحمول کرنا واجب ہے یعنی جو لباس غرور وتکبر سے ٹخنوں سے نیچے کرے اس کا یہ حکم ہے۔“تہبند کی تخصیص کی وجہ:شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”بعض شارحین نے کہا:حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تہبند کو ٹخنوں سے نیچے رکھنا مذموم ہے اور جہنمیوں کے اَفعال میں سے ہے۔خیال رہے کہ اکثر طور پر گھسیٹنے اور لٹکانے کی مذمت تہبند کے بارے میں وارد ہے اور اس پر شدید وعید واقع ہوئی ہے ۔ تحقیق یہ ہے کہ لٹکانا تمام کپڑوں میں پایا جاتا ہے جو کپڑا سنت کی موافقت اور حاجت سے زیادہ ہو وہ لٹکانے میں داخل ہے۔ تہبند کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ اس میں یہ عمل عموما ً زیادہ واقع ہوتا ہے کیونکہ نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے زمانے میں اکثر لوگوں کا لباس تہبند اور اوپر لینے والی چادر تھااسی وجہ سے تہبند کا ذکر کیا۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 793