- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 6
حضرت سَیِّدُنا ابو ابراہیمعبداللّٰہبن ابی اوفیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُجنہیں ابو محمد اور ابو معاویہ بھی کہا جاتا ہے،ان سےمروی ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدَتُنَاخَدِیْجَۃُ الْکُبْرٰیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَاکو جنت میں موتی سے بنے ہوئے گھر کی خوشخبری دی جس میں نہ شوروغل ہوگا اور نہ ہی تھکاوٹ۔
عَنْ اَبِي اِبْرَاهِيْمَ وَيُقَالُ اَبُوْ مُحَمَّدٍ وَيُقَالُ اَبُوْ مُعَاوِيَةَ عَبدِ اللَّهِ بْنِ اَبِيْ اَوْفٰي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشَّرَ خَدِيْجَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَابِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَاصَخَبَ فِيْهِ وَلَا نَصَبَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 708 ، باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا ابو موسیٰ اشعریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ انہوں نے وضو کیا پھر گھر سے نکلے اور یہ کہنے لگے کہ میں آج کا دن حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں رہوں گا، مسجد میں حاضر ہوئے اور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بارے میں دریافت کیا صحابہ کرام نے بتایا کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس طرف تشریف لے گئے ہیں۔فرماتے ہیں:میں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قدموں کے نشانات پرچل پڑا اور پوچھتا گیا یہاں تک کہ بیراریس میں داخل ہو گیااور دروازے کے پاس بیٹھ گیا ۔نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقضائے حاجت سے فارغ ہوئے اور وضو فرمایاتو میں اٹھ کر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہو گیا ،دیکھا کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبیراریس کے منڈیر پردرمیان میں اس طرح تشریف فرما تھے کہ پنڈلیوں سے کپڑا ہٹا یاہوا اور پاؤں مبارک کوئیں میں لٹکائے ہوئے ہیں۔میں نے سلام عرض کیا اور واپس لوٹ کر دروازے میں بیٹھ گیا اور(دل میں ) کہنے لگا: آج میں ضرور حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا دربان رہوں گا،اتنے میں حضرت سَیِّدُنَاابو بکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُآئے اور دروازہ کھٹکھٹایا ،میں نے پوچھا :کون ؟فرمایا:ابو بکر ہوں۔میں نے کہا:ٹھہر جائیے،پھر میں خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! حضرت ابوبکر اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ارشاد فرمایا:انہیں اجازت دو اور جنت کی خوشخبری بھی دو ۔میں واپس لوٹا اور حضرت ابو بکررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے عرض کی :داخل ہو جا یئے اوررسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ کو جنت کی خوشخبری دیتے ہیں۔حضرت ابو بکرصدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاندر آئے اور منڈیر پر حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دائیں جانب بیٹھ گئے،پاؤں نیچے لٹکا لئے جیسا کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کیا ہوا تھا اور پنڈلیوں سے کپڑا ہٹا دیا،پھر میں واپس لوٹا اور بیٹھ گیا ۔میں اپنے بھائی کو وضو کرتے ہوئے چھوڑ آیا تھاکہ وہ آکر مجھ سے ملے گا۔میں نے(دل میں)کہا: اگراللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے فلاں کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمایا (راوی کہتے ہیں :ان کی مراد اپنا بھائی تھا)تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّاسے بھی لے آئےگا۔اتنے میں دیکھا کہ کوئی شخص دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے۔میں نے پوچھا کون ؟فرمایا: عمر بن خطاب۔میں نے کہا: ٹھہر جائیے،پھر میں خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور سلام کے بعد عرض کیا:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!عمر بن خطاب اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔فرمایا:انہیں اجازت دو اور جنت کی خوشخبری بھی دو ۔میں حضرت عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس آیا اور کہا:رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آ پ کو اجازت مرحمت فرمائی ہے اور جنت کی خوشخبری بھی دی ہے۔ وہ اندر داخل ہوئے اوررسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بائیں جانب منڈیر پر کوئیں میں پاؤں لٹکا کر بیٹھ گئے ۔میں واپس لوٹ گیا اور دل میں کہنے لگا: اگراللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے میرے فلاں بھائی کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے تو اسے بھی لے آئے گا۔اتنے میں ایک اور شخص نے دروازہ کھٹکھٹایا۔میں نے پوچھا کون ؟فرمایا: عثمان بن عفان۔میں نے کہا: ٹھہر جائیے۔(یہ کہہ کر)میں بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا اور عثمان بن عفانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی خبر دی ۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:انہیں اجازت دو اور جنت کی خوشخبری کے ساتھ ایک مصیبت میں مبتلا ہونے کی خبر بھی دو۔میں واپس آیا اورکہا:داخل ہو جایئےاوررسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ کو جنت کی خوشخبری کے ساتھ ایک مصیبت میں مبتلا ہونے کی خبر دے رہے ہیں۔وہ داخل ہوئے تو دیکھا کہ منڈیر کا کنارہ بھر چکا ہے تووہ دوسری جانب ان کے مقابل بیٹھ گئے۔حضرت سَیِّدُنَا سعید بن مسیبرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں ان کے اس طرح تر تیب سے بیٹھنے کو ان کی قبور مراد لیتا ہوں۔ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے دروازے پر نگرانی کا حکم ارشاد فرمایااورایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا عثمانِ غنیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے خوشخبری سن کراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا شکر ادا کیا پھر فرمایا:اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہی مددگار ہے۔
عَنْ اَبِي مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّهُ تَوضَّاَفِيْ بَيْتِهِ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ:لَاَلْزَمَنَّ رَسُوْلَ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَاَ كُوْنَنَّ مَعَهُ يَوْمِي هٰذَا فَجَاءَ الْمَسْجِدَ فَسَاَلَ عَنِ النَّبِيِِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فقَالُوْا:وَجَّهَ هَهُنَا قَالَ:فَخَرَجْتُ عَلٰى اَثَرِهِ اَسْئَلُ عنْهُ حَتّٰى دَخَلَ بِئْرَ اَرِيْسٍ فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبابِ حَتّٰى قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم حَاجَتَهُ وَتَوضَّاَ فَقُمْتُ اِلَيْهِ فَاِذَا هُوَ قَدْجَلَسَ عَلَى بِئْرِ اَرِيْسٍ وَتَوَسَّطَ قُفَّهَا وَكَشَفَ عنْ سَاقَيْهِ وَدَلَّاهُمَا فِي الْبِئْرِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ انْصَرَفْتُ فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ فَقُلتُ:لَاَكُوْنَنَّ بَوَّابَ رَسُوْلِ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ فَجَاءَ اَبُوْ بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَدَفَعَ الْبَابَ فَقُلْتُ:مَنْ هٰذَا؟ فَقَالَ: اَبُوْ بَكْرٍ فَقُلْتُ:عَلَى رِسْلِكَ ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُلتُ:يَا رَسُولَ اللَّهِ هٰذَا اَبُوْ بَكْرٍ يسْتَاْذِنَ؟ فَقَالَ:ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَاَقْبَلْتُ حَتّٰى قُلْتُ لِاَبيْ بَكْرٍ:اُدْخُلْ وَرَسُولُ اللَّهِ يُبشِّرُكَ بِالْجَنَّةِ فَدَخَلَ اَبُوْ بَكْرٍ حَتّٰى جَلَسَ عَنْ يَمِيْنِ النَّبِيِِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم مَعَهُ فِي الْقُفِّ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم وَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ ثُمَّ رَجَعْتُ وَجَلَسْتُ وَقَدْ تَرَكْتُ اَخِيْ يَتَوَضَّاُ وَيَلْحَقُنِيْ فَقُلْتُ:اِنْ يُرِدِ اللَّهُ بِفُلَانٍ يُرِيْدُ اَخَاهُ خَيْرًا يَاْتِ بِهِ فَاِذَا اِنْسَانٌ يُحَرِّكُ الْبَابَ فَقُلْتُ:مَنْ هٰذَا؟فَقَالَ:عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ فَقُلْتُ:عَلَى رِسْلِكَ ثُمَّ جِئْتُ اِلٰی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَقُلْتُ:هَذَا عُمَرُ يَسْتَاْذِنُ؟فَقَالَ:ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَجِئْتُ عُمَرَ فَقُلْتُ:اَذِنَ وَيبُشِّرُكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بِالْجَنَّةِ فَدَخَلَ فجَلَسَ مَعَ رسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقُفِّ عَنْ يَسَارِهِ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ثُمَّ رَجَعْتُ فَجلَسْتُ فَقُلْتُ:اِن يُرِدِ اللَّهُ بِفُلَانٍ خَيْراً يَعْنِي اَخَاهُ يَاْتِ بِهِ فَجَاءَ اِنْسَانٌ فَحَرَّكَ الْبَابَ فَقُلْتُ:مَنْ هٰذَا؟فَقَالَ:عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقُلْتُ:عَلَى رِسْلِكَ وَجِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَاَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ائْذَنْ لَهُ وبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ مَعَ بَلْوَى تُصِيْبُهُ فَجِئْتُ فَقُلتُ:اُدْخُلْ وَيُبشِّرُكَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم بِالْجَنَّةِ مَعَ بَلْوَى تُصِيْبُكَ فَدَخَلَ فَوَجَدَ القُفَّ قَدْ مُلِئَ فَجَلَسَ وِجَاهَهُمْ مِنَ الشِّقِّ الآخَرِ قَالَ سَعِيْدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ:فَاَوَّلْتُهَا قُبُوْرَهُمْ.وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَاَمَرَنِيْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ بحِفْظِ الْبَابِ وَفِيْهَا:اَنَّ عُثْمانَ حِيْنَ بَشَّرَهُ حَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى ثُمَّ قَالَ: اَللَّهُ الْمُسْتعَانُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 709 ، باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ہم لوگ حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےاِرد گرد بیٹھے تھے۔ہمارے ساتھ حضرت ابوبکروحضرت عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَابھی تھے اچانک نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے درمیان سے اُٹھے اور تشریف لے گئے۔واپس آنے میں تاخیر ہوئی تو ہم ڈر گئے کہ کہیں ہماری غیر موجودگی میں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو کوئی ایذا نہ پہنچ جائے، ہم گھبراکر اٹھ کھڑے ہوئےاور میں گھبرانے والا پہلا شخص تھا۔چنانچہ میں حضوراکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو تلاش کرتے ہوئے قبیلہ بنو نجار کے باغ میں پہنچااور دروازہ ڈھونڈھنے کے لئے باغ کے ارد گرد گھومالیکن دروازہ نہ ملا۔اچانک ایک چھوٹی سی نالی پر نگاہ پڑی جو بیرونی باغ سے اندر کو جا رہی تھی۔میں سمٹ کر اندر داخل ہوا اور حضور پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہو گیا۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”ابو ہریرہ تم ہو؟“میں نے عرض کی:’’جییارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!“آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”تمہیں کیا ہوا؟“میں نے عرض کی:آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے درمیان تشریف فرما تھے پھر آپ تشریف لے گئے اور واپس آنے میں کافی تاخیر ہو گئی تو ہمیں ڈر پیدا ہوا کہ کہیں ہماری غیر موجودگی میں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو کوئی ایذا نہ پہنچ جائےتو ہم گھبرا گئے اور گھبرانے والوں میں پہلا میں تھااور اس باغ تک پہنچ گیا ،میں لومڑی کی طرح سمٹ کر اندر داخل ہوا باقی لوگ میرے پیچھے ہیں۔یہ سن کر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے نعلین شریف مجھے دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:”اے ابو ہریرہ! جاؤاور اس باغ کے باہر جو بھی شخص دل کے یقین کے ساتھلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہکی گواہی دیتا ہوا ملے اسے جنت کی خوشخبری دو۔“اور امام مسلم نے اس حدیث پاک کو طوالت کے ساتھ ذکرکیا ہے۔
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:كُنَّا قُعُوْدًا حَوْلَ رَسُوْلِ اللَّہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم وَمعَنَا اَبُوْ بَكْرٍ وعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا في نَفَرٍ فَقامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بينِ اَظْهُرِنَا فَاَبْطَاَ علَيْنَا وخَشِيْنَا اَنْ يُقْتَطَعَ دُونَنَا وَفَزِعْنَا فَقُمْنَا فَكُنْتُ اَوَّلَ مَن فَزِعَ فَخَرَجْتُ اَبْتَغِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى اَتَيْتُ حَائِطاً لِلْاَنْصَارِ لِبَنِي النَّجَّارِ فَدُرْتُ بِهِ هَلْ اَجِدُ لَهُ بَابًا فَلَمْ اَجِدْ فَاِذَا رَبِيْعٌ يَدْخُلُ فِي جَوْفِ حَائِط مِنْ بِئْرٍ خَارِجَہُ وَالرَّبِيْعُ:الْجَدْوَلُ الصَّغيْرُ فَاحْتَفَزْتُ فَدَخَلْتُ عَلى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:اَبُوْ هُرَيْرَةَ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ يَا رسُولَ اللَّهِ قَالَ:مَا شَاْنُكَ؟ قُلْتُ:كُنْتَ بَيْنَ ظَهْرَيْنَا فقُمْتَ فَاَبْطَاَتَ علَيْنَا فَخَشِيْنَا اَنْ تُقَتَطَعَ دُوْنَنَا ففَزِعْنَا فَكُنْتُ اَوَّلَ مَنْ فَزِعَ فاَتَيْتُ هٰذَا الْحَائِطَ فَاحْتَفَزْتُ كَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ وَهٰؤُلَاءِ النَّاسُ وَرَائيِْ فَقَالَ: يَا اَبَا هُرَيْرَةَ وَاَعْطَانِيْ نَعْلَيْهِ فَقَال:اِذْهَبْ بِنَعْلَي هاتَيْنِ فَمَنْ لَقِيْتَ مِنْ وَرَاءِ هٰذَا الْحَائِطِ يَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ وذَكَرَ الْحدِيْثَ بطُوْلِهِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 710 ، باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابنِ شُماسہرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ ہم حضرت سَیِّدُناعَمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی خدمت میں حاضر ہوئے وہ حالت نزع میں تھے،وہ بہت روئے اور اپنا چہرہ دیوار کی طرف پھیر لیا۔ان کے صاحبزادے ان سے کہنے لگے: ابا جان! کیا نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ کو فلاں بات کی خوشخبری نہیں دی؟کیا حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ کو فلاں چیز کی خوشخبری نہیں دی؟ حضرت عمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاپنے صاحبزادے کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:ہمارے نزدیک سب سے افضلاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی وحدانیت اور حضرت محمدصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رسالت کی گواہی دینا ہے۔مجھ پر تین دور گزرے ہیں۔ایک وہ وقت تھا جب مجھ سے بڑھ کر حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے دشمنی رکھنے والا کوئی نہ تھا اور مجھے اس سے بڑھ کر کوئی بات محبوب نہ تھی کہ میں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر قابو پا کر آپ کو شہید کر ڈالوں اور اگر میں اسی حالت پر مر جاتا تو میں جہنمی ہوتا۔پھر جباللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے میرے دل میں ایمان پیدا کیا تو میں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوا اورعرض کی: اپنا دایاں ہاتھ بڑھا یئے تا کہ میں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے شر فِ بیعت حاصل کر سکوں۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنا دست مبارک آگے بڑھایا لیکن میں نے اپنا ہاتھ روک لیا ۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :اے عمر و!تمہیں کیا ہوا؟میں نے عرض کی:میری ایک شرط ہے۔ فرمایا:کیا شرط ہے؟میں نے عرض کی:میرے گناہ معاف ہوجائیں۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے اسلام پہلے کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے ،ہجرت سابقہ گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے اور حج سابقہ گناہوں کی بخشش کا باعث ہے۔ اس وقت حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بڑھ کر مجھے کوئی محبوب نہ تھااور میری نگاہوں میں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بڑھ کر عظمت والا کوئی نہ تھااور آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جلال کی وجہ سے مجھ میں اتنی طاقت نہ تھی کہ میں آپ کو آنکھ بھر کر دیکھ سکتااور اگر مجھ سے کوئی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا حلیہ بیان کرنے کا کہے تو میں آپ کا حلیہ بیان نہیں کرسکتا کیونکہ میں آپ کو آنکھ بھر کردیکھ نہ سکا۔ اگر میں اس حال میں مر جاتا تومجھے امید ہے کہ میں جنتی ہوتا ۔پھر بعض چیزوں پر ہمیں ذمہ دار بنایا گیا ،میں نہیں جانتا کہ اس ذمہ داری میں میرا کیا حال ہے،جب میں فوت ہو جاؤں تو میرے جنازے کے ساتھ نہ تو رونے پیٹنے والی عورت ہواور نہ ہی آگ ۔جب مجھے دفن کر چکو تو میری قبر پر مٹی ڈال کر میری قبر کےگرد اتنی دیر کھڑے رہنا جتنی دیر میں اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے تا کہ میں تم لوگوں سے مانوس ہو سکوں اور دیکھوں کہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے فرشتوں کو میں کیا جواب دیتا ہوں۔
عَنِ ابْنِِِ شُمَاسَةَ قالَ:حَضَرْنَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ فيْ سِيَاقَةِ الْمَوْتِ فَبَكٰى طَوِيْلًا وَحَوَّلَ وَجْهَهُ اِلَى الْجِدَارِ فَجَعَلَ ابْنُهُ يَقُولُ:يا اَبَتَاهُ! اَمَا بَشَّرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَذَا؟ اَمَا بَشَّرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَذَا؟فَاَقْبَلَ بوَجْهِهِ فَقَالَ:اِنَّ اَفْضَلَ مَا نُعِدُّ شَهَادَةُ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّااللَّهُ وَاَنَّ مُحمَّدًا رَسُوْلُ اللَّهِ اِنِّي قَدْ كُنْتُ عَلٰى اَطْبَاقٍ ثَلَاثٍ:لَقَدْ رَاَيْتُنِيْ وَمَا اَحَدٌ اَشَدَّ بُغْضًا لِرَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم مِنِّي وَلَا اَحَبَّ اِلَيَّ مِنْ اَنْ اَكُوْنَ قَدِ استَمْكَنْتُ مِنْهُ فقَتَلْتُهُ فَلَوْ مُتُّ عَلٰى تِلْكَ الْحالِ لَكُنْتُ مِنْ اَهْلِ النَّارِ فَلَمَّا جَعَلَ اللَّهُ الْاِسْلَامَ فِي قَلْبِيْ اَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ:ابْسُطْ يَمِيْنَكَ فَلِاُبَايِعْكَ فَبَسَطَ يَمِيْنَهُ فَقَبَضْتُ يَدِي فَقَالَ:مَالَكَ يَا عَمْرُو؟قُلْتُ:اَرَدْتُ اَنْ اَشْتَرِطَ قَالَ: تَشْتَرِطُ مَاذَا؟ قُلْتُ اَنْ يُغْفَرَ لِيْ قَالَ:اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ الْاِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ وَاَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا وَاَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ؟وَمَا كَانَ اَحَدٌ اَحَبَّ اِلَيَّ مِنْ رَسُوْلِ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا اَجَلَّ فِيْ عَيْنِيْ مِنْهُ وَمَا كُنْتُ اُطِيْقُ اَنْ اَمْلَاَ عَيْنِيْ مِنْهُ اِجْلَالًا لَهُ وَلَوْ سُئِلْتُ اَن اَصِفَهُ مَا اَطَقْتُ لِاَنِّي لَمْ اَكُنْ اَمْلَاُ عَيْنِيْ مِنْهُ وَلَوْ مُتُّ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ لَرَجَوْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنْ اَهْلِ الْجَنَّةِ ثُمَّ وُلِّيْنَا اَشْيَاءَ مَا اَدْرِيْ مَا حَالِيْ فِيْهَا؟فَاِذَا اَنَا مُتُّ فَلَا تَصْحَبَنِّي نَائِحَةٌ وَلَا نَارٌفَاِذَا دَفَنْتُمُوْنِیْ فَشُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ شَنًّا ثُمَّ اَقِيْمُوْا حَوْلَ قَبْرِيْ قَدْرَمَا تُنْحَرُ جَزُوْرٌوَيُقْسَمُ لَحْمُهَا حَتّٰى اَسْتَاْنِسَ بِكُمْ وَاَنْظُرَ مَا اُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ رَبِّي.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 711 ، باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان