Main Icon

باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 711

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِِِ شُمَاسَةَ قالَ:حَضَرْنَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِي اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ فيْ سِيَاقَةِ الْمَوْتِ فَبَكٰى طَوِيْلًا وَحَوَّلَ وَجْهَهُ اِلَى الْجِدَارِ فَجَعَلَ ابْنُهُ يَقُولُ:يا اَبَتَاهُ! اَمَا بَشَّرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَذَا؟ اَمَا بَشَّرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَذَا؟فَاَقْبَلَ بوَجْهِهِ فَقَالَ:اِنَّ اَفْضَلَ مَا نُعِدُّ شَهَادَةُ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّااللَّهُ وَاَنَّ مُحمَّدًا رَسُوْلُ اللَّهِ اِنِّي قَدْ كُنْتُ عَلٰى اَطْبَاقٍ ثَلَاثٍ:لَقَدْ رَاَيْتُنِيْ وَمَا اَحَدٌ اَشَدَّ بُغْضًا لِرَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم مِنِّي وَلَا اَحَبَّ اِلَيَّ مِنْ اَنْ اَكُوْنَ قَدِ استَمْكَنْتُ مِنْهُ فقَتَلْتُهُ فَلَوْ مُتُّ عَلٰى تِلْكَ الْحالِ لَكُنْتُ مِنْ اَهْلِ النَّارِ فَلَمَّا جَعَلَ اللَّهُ الْاِسْلَامَ فِي قَلْبِيْ اَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ:ابْسُطْ يَمِيْنَكَ فَلِاُبَايِعْكَ فَبَسَطَ يَمِيْنَهُ فَقَبَضْتُ يَدِي فَقَالَ:مَالَكَ يَا عَمْرُو؟قُلْتُ:اَرَدْتُ اَنْ اَشْتَرِطَ قَالَ: تَشْتَرِطُ مَاذَا؟ قُلْتُ اَنْ يُغْفَرَ لِيْ قَالَ:اَمَا عَلِمْتَ اَنَّ الْاِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ وَاَنَّ الْهِجْرَةَ تَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهَا وَاَنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ؟وَمَا كَانَ اَحَدٌ اَحَبَّ اِلَيَّ مِنْ رَسُوْلِ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا اَجَلَّ فِيْ عَيْنِيْ مِنْهُ وَمَا كُنْتُ اُطِيْقُ اَنْ اَمْلَاَ عَيْنِيْ مِنْهُ اِجْلَالًا لَهُ وَلَوْ سُئِلْتُ اَن اَصِفَهُ مَا اَطَقْتُ لِاَنِّي لَمْ اَكُنْ اَمْلَاُ عَيْنِيْ مِنْهُ وَلَوْ مُتُّ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ لَرَجَوْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنْ اَهْلِ الْجَنَّةِ ثُمَّ وُلِّيْنَا اَشْيَاءَ مَا اَدْرِيْ مَا حَالِيْ فِيْهَا؟فَاِذَا اَنَا مُتُّ فَلَا تَصْحَبَنِّي نَائِحَةٌ وَلَا نَارٌفَاِذَا دَفَنْتُمُوْنِیْ فَشُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ شَنًّا ثُمَّ اَقِيْمُوْا حَوْلَ قَبْرِيْ قَدْرَمَا تُنْحَرُ جَزُوْرٌوَيُقْسَمُ لَحْمُهَا حَتّٰى اَسْتَاْنِسَ بِكُمْ وَاَنْظُرَ مَا اُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ رَبِّي.

عن ابن شماسة قال:حضرنا عمرو بن العاص رضي الله عنه وهو في سياقة الموت فبكى طويلا وحول وجهه الى الجدار فجعل ابنه يقول:يا ابتاه! اما بشرك رسول الله صلى الله عليه وسلم بكذا؟ اما بشرك رسول الله صلى الله عليه وسلم بكذا؟فاقبل بوجهه فقال:ان افضل ما نعد شهادة ان لا اله الاالله وان محمدا رسول الله اني قد كنت على اطباق ثلاث:لقد رايتني وما احد اشد بغضا لرسول الله صلى الله عليه وسلم مني ولا احب الي من ان اكون قد استمكنت منه فقتلته فلو مت على تلك الحال لكنت من اهل النار فلما جعل الله الاسلام في قلبي اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقلت:ابسط يمينك فلابايعك فبسط يمينه فقبضت يدي فقال:مالك يا عمرو؟قلت:اردت ان اشترط قال: تشترط ماذا؟ قلت ان يغفر لي قال:اما علمت ان الاسلام يهدم ما كان قبله وان الهجرة تهدم ما كان قبلها وان الحج يهدم ما كان قبله؟وما كان احد احب الي من رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا اجل في عيني منه وما كنت اطيق ان املا عيني منه اجلالا له ولو سئلت ان اصفه ما اطقت لاني لم اكن املا عيني منه ولو مت على تلك الحال لرجوت ان اكون من اهل الجنة ثم ولينا اشياء ما ادري ما حالي فيها؟فاذا انا مت فلا تصحبني نائحة ولا نارفاذا دفنتمونی فشنوا علي التراب شنا ثم اقيموا حول قبري قدرما تنحر جزورويقسم لحمها حتى استانس بكم وانظر ما اراجع به رسل ربي.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابنِ شُماسہرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ ہم حضرت سَیِّدُناعَمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی خدمت میں حاضر ہوئے وہ حالت نزع میں تھے،وہ بہت روئے اور اپنا چہرہ دیوار کی طرف پھیر لیا۔ان کے صاحبزادے ان سے کہنے لگے: ابا جان! کیا نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ کو فلاں بات کی خوشخبری نہیں دی؟کیا حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ کو فلاں چیز کی خوشخبری نہیں دی؟ حضرت عمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاپنے صاحبزادے کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا:ہمارے نزدیک سب سے افضلاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی وحدانیت اور حضرت محمدصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رسالت کی گواہی دینا ہے۔مجھ پر تین دور گزرے ہیں۔ایک وہ وقت تھا جب مجھ سے بڑھ کر حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے دشمنی رکھنے والا کوئی نہ تھا اور مجھے اس سے بڑھ کر کوئی بات محبوب نہ تھی کہ میں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر قابو پا کر آپ کو شہید کر ڈالوں اور اگر میں اسی حالت پر مر جاتا تو میں جہنمی ہوتا۔پھر جباللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے میرے دل میں ایمان پیدا کیا تو میں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں حاضر ہوا اورعرض کی: اپنا دایاں ہاتھ بڑھا یئے تا کہ میں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے شر فِ بیعت حاصل کر سکوں۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنا دست مبارک آگے بڑھایا لیکن میں نے اپنا ہاتھ روک لیا ۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :اے عمر و!تمہیں کیا ہوا؟میں نے عرض کی:میری ایک شرط ہے۔ فرمایا:کیا شرط ہے؟میں نے عرض کی:میرے گناہ معاف ہوجائیں۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے اسلام پہلے کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے ،ہجرت سابقہ گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے اور حج سابقہ گناہوں کی بخشش کا باعث ہے۔ اس وقت حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بڑھ کر مجھے کوئی محبوب نہ تھااور میری نگاہوں میں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بڑھ کر عظمت والا کوئی نہ تھااور آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جلال کی وجہ سے مجھ میں اتنی طاقت نہ تھی کہ میں آپ کو آنکھ بھر کر دیکھ سکتااور اگر مجھ سے کوئی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا حلیہ بیان کرنے کا کہے تو میں آپ کا حلیہ بیان نہیں کرسکتا کیونکہ میں آپ کو آنکھ بھر کردیکھ نہ سکا۔ اگر میں اس حال میں مر جاتا تومجھے امید ہے کہ میں جنتی ہوتا ۔پھر بعض چیزوں پر ہمیں ذمہ دار بنایا گیا ،میں نہیں جانتا کہ اس ذمہ داری میں میرا کیا حال ہے،جب میں فوت ہو جاؤں تو میرے جنازے کے ساتھ نہ تو رونے پیٹنے والی عورت ہواور نہ ہی آگ ۔جب مجھے دفن کر چکو تو میری قبر پر مٹی ڈال کر میری قبر کےگرد اتنی دیر کھڑے رہنا جتنی دیر میں اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے تا کہ میں تم لوگوں سے مانوس ہو سکوں اور دیکھوں کہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے فرشتوں کو میں کیا جواب دیتا ہوں۔

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ حضرت سَیِّدُنَاعمر و بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُحالت نزع میں اپنی سابقہ زندگی کے ایام جو کہ کچھ زمانہ جاہلیت میں گزرے اور کچھ زمانہ اسلام میں ان کو یاد کر کے رو رہے تھے اور آخرت کے بارے میں فکر مند تھےجبکہ ان کے صاجزادے انہیں تسلی دیتے ہوئے عرض کررہے تھے : ابا جان! آپ فکر مند کیوں ہوتے ہیں کیا آپ کو حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فلاں بات کی خوشخبری نہیں دی۔معلوم ہوا کہ مرتے ہوئے آدمی کو رحمت الٰہی کی امید دلاتے ہوئے اسے خوشخبری سنانی چاہیےاور اسی طرح جو غیر مسلم اسلام قبول کرے اسے بھی سابقہ گناہوں کے معافی کی نوید سنانی چاہیے۔سابقہ گناہوں کو مٹانے والے اَعمال:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس حدیث میں اسلام، ہجرت اور حج کے عظیم مرتبہ ہونے کا بیان ہے کیونکہ ان میں سے ہر ایک سے انسان کے سابقہ تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔اِس حدیث میں یہ بھی بیان ہے کہ جو شخص حالت نزع میں ہو اسےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے حُسنِ ظن رکھنے پر تنبیہ کرنا مستحب ہے اور اس کے سامنےقرآنِ پاک کی وہ آیات اور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وہ احادیث بیان کی جائیں جن میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے عفوو درگزر کا بیان ہےاوراللّٰہتعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے جو نعمتیں تیار کی ہیں اُن کی خوشخبری دی جائےاور اس کے اچھے اَعمال اسے یاد دلائے جائیں تا کہ وہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے اچھا گمان رکھےاور اسی پراس کی موت واقع ہو۔نزع کے وقت ایسا کرنا بالاتفاق مستحب ہے اور اسی پر مذکورہ روایت بھی دلالت کرتی ہے۔آنکھ بھر کر نہ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بہت زیادہ تعظیم اور توقیر کیا کرتے تھے۔حضرت عَمرو بن عاصرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے جنازے کے ساتھو رونے پیٹنے والی عورت اور آگ سے اس لئے منع فرمایا کیونکہ حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مرنے والے پر نوحہ کرنے اور جنازے کے ساتھ آگ لے جانے سے منع فرمایا ہے۔نوحہ کرنا تو حرام ہے جبکہ میت کے ساتھ آگ لے جانا زمانہ جاہلیت کا شعار یابُرا شگون ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے۔اس روایت میں فتنہ قبر کا ثبوت ہے اور فرشتوں کے سوال جواب کا ذکر ہے اور یہی اہل حق کا مذہب ہے اور میت کو دفن کرنے کے بعد کچھ دیر قبر کے پاس بیٹھنا مستحب ہے اور قبر کے پاس جو گفتگو کی جاتی ہے قبر والا اسے سنتا ہے۔سابقہ گناہوں کی معافی:اعلیٰ حضرت، اِمامِ اہلسنت، مولانا شاہ امام احمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں: (وہ حاجی جو)پاک کمائی، پاک نیت سے حج کرے اور اُس میں لڑائی جھگڑے اور عورتوں کے سامنے تذکرۂ جماع (صحبت کی باتیں ) اور ہرقسم کے گناہ ونافرمانی سے بچے، اس وقت تک جتنے گناہ کئے تھے بشرطِ قبول (اگر حج قبول ہوگیا) سب معاف ہو جاتے ہیں ، پھر اگر حج کے بعد فوراً مر گیا اتنی مہلت نہ ملی کہحقوق اللّٰہعَزَّ وَجَلَّیا بندوں کے اس کے ذمہ تھے انہیں ادا یا ادا کی فکر کرتا تو اُمید واثق (قوی امید) ہے کہ مولیٰ تعالیٰ اپنے تمام حقوق سے مطلقاً در گزر فرمائے یعنی نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہا فرائض کہ بجا نہ لایا تھا ان کے مطالبہ پر بھی قلمِ عفو ِاِلٰہی پھر جائے (یعنیاللّٰہتعالیٰ انہیں معاف فرما دے) اور حقوق العباد ودُیون ومظالم مثلاً کسی کا قرض آتا ہو، مال چھینا ہو، بُرا کہا ہو ان سب کو مولیٰ تعالیٰ اپنے ذمہ ٔ کرم پر لے لے، اَصحابِ حُقُوق (حق والوں )کو روزِ قیامت راضی فرما کر مطالبہ وخُصُومَت (حق کی ادائیگی کے تقاضے اور جھگڑے) سے نجات بخشے، یوہیں اگر بعد کو زندہ رہا اور بقدرِ قدرت تَدَارُکِ حقوق ادا کر لیا (اپنی طاقت کے مطابق حقوق ادا کر دیئے) یعنی زکوٰۃ دے دی، نماز، روزہ کی قضا ادا کی جس کا جو مطالبہ آتاتھا دے دیا جسے آزار (دُکھ) پہنچا تھا معاف کرا لیا جس مطالبہ کا لینے والا نہ رہا یا معلوم نہیں اُس کی طرف سے تصدُّق (صدقہ) کر دیا، بوجہ ِقلت مُہلت (زندگی کے وفا نہ کرنے کی وجہ سے) جو حق،اللّٰہ عَزَّوَجَلَّیا بندہ کا ادا کرتے کرتے رہ گیا اُس کی نسبت اپنے مال میں وصیت کر دی، غرض جہاں تک طُرُقِ براء ت (حقوق کی ادئیگی کے طریقوں ) پر قدرت ملی، تقصیر (کوتاہی) نہ کی تو اس کیلئے اُمید اور زیادہ قوی کہ اصل حقوق کی یہ تدبیر ہو گئی اور اثمِ مخالفت(نافرمانی کا گناہ) حج سے دُھل چکا تھا۔ ہاں ! اگر بعدِ حج با وصفِ قدرت ان اُمُور میں قاصر رہا تو یہ سب گناہ اَزسرِ نو (دوبارہ) اُس کے سَر ہوں گے کہ حقوق تو خود باقی ہی تھے ان کی ادا میں پھر تاخیر وتقصیر، گناہ تازہ ہوئے اور وہ حج ان کے اِزالہ کو کافی نہ ہوگاکہ حج گزرےگناہوں کو دھوتا ہے آئندہ کیلئے پروانہ ٔبیقیدی نہیں ہوتا (یعنی حج آئندہ کے گناہوں سے آزادی کااجازت نامہ نہیں ہوتا) بلکہ حجِ مبرور (مقبول حج) کی نشانی ہی یہ ہے کہ پہلے سے اچھا ہو کر پلٹے۔“مدنی گلدستہ’’ بشارت‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) اسلام ،ہجرت اور حج ایسےعظیم اعمال ہیں کہ ان میں سے ہر ایک سے انسان کے سابقہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔
(2) جو شخص حالت نزع میں ہو اسے
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے حُسنِ ظن رکھنے کا کہا جائے اور اس کے نیک اعمال اسے یاد دلائے جائیں تا کہ وہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ساتھ اچھا گمان رکھے اور اسی پر اس کی موت واقع ہو۔
(3) مرنے والے پر نوحہ کرنا اور جنازے کے ساتھ آگ لے جانایہ زمانہ جاہلیت کے شعار ہیں، حدیث پاک میں ان دونوں کی ممانعت ہے ۔
(4) دفن کے وقت قبر پرمٹی آہستگی سے ڈالی جائے اوربعدِ دفن قبر کے آس پاس حلقہ باندھ کر کھڑے ہونا سنت ہے۔
(5) میت کو دفن کرنے کے بعد کچھ دیر قبر کے پاس بیٹھنا مستحب ہے اور قبر کے پاس جو گفتگو کی جاتی ہے قبر والا اسے سنتا ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے اور ہمیں بلا حساب وکتاب جنت میں داخلہ نصیب فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 711