حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِي مُوْسَى الْاَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّهُ تَوضَّاَفِيْ بَيْتِهِ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ:لَاَلْزَمَنَّ رَسُوْلَ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَاَ كُوْنَنَّ مَعَهُ يَوْمِي هٰذَا فَجَاءَ الْمَسْجِدَ فَسَاَلَ عَنِ النَّبِيِِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فقَالُوْا:وَجَّهَ هَهُنَا قَالَ:فَخَرَجْتُ عَلٰى اَثَرِهِ اَسْئَلُ عنْهُ حَتّٰى دَخَلَ بِئْرَ اَرِيْسٍ فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبابِ حَتّٰى قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم حَاجَتَهُ وَتَوضَّاَ فَقُمْتُ اِلَيْهِ فَاِذَا هُوَ قَدْجَلَسَ عَلَى بِئْرِ اَرِيْسٍ وَتَوَسَّطَ قُفَّهَا وَكَشَفَ عنْ سَاقَيْهِ وَدَلَّاهُمَا فِي الْبِئْرِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ثُمَّ انْصَرَفْتُ فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ فَقُلتُ:لَاَكُوْنَنَّ بَوَّابَ رَسُوْلِ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ فَجَاءَ اَبُوْ بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَدَفَعَ الْبَابَ فَقُلْتُ:مَنْ هٰذَا؟ فَقَالَ: اَبُوْ بَكْرٍ فَقُلْتُ:عَلَى رِسْلِكَ ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُلتُ:يَا رَسُولَ اللَّهِ هٰذَا اَبُوْ بَكْرٍ يسْتَاْذِنَ؟ فَقَالَ:ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَاَقْبَلْتُ حَتّٰى قُلْتُ لِاَبيْ بَكْرٍ:اُدْخُلْ وَرَسُولُ اللَّهِ يُبشِّرُكَ بِالْجَنَّةِ فَدَخَلَ اَبُوْ بَكْرٍ حَتّٰى جَلَسَ عَنْ يَمِيْنِ النَّبِيِِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم مَعَهُ فِي الْقُفِّ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم وَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ ثُمَّ رَجَعْتُ وَجَلَسْتُ وَقَدْ تَرَكْتُ اَخِيْ يَتَوَضَّاُ وَيَلْحَقُنِيْ فَقُلْتُ:اِنْ يُرِدِ اللَّهُ بِفُلَانٍ يُرِيْدُ اَخَاهُ خَيْرًا يَاْتِ بِهِ فَاِذَا اِنْسَانٌ يُحَرِّكُ الْبَابَ فَقُلْتُ:مَنْ هٰذَا؟فَقَالَ:عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ فَقُلْتُ:عَلَى رِسْلِكَ ثُمَّ جِئْتُ اِلٰی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَقُلْتُ:هَذَا عُمَرُ يَسْتَاْذِنُ؟فَقَالَ:ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ فَجِئْتُ عُمَرَ فَقُلْتُ:اَذِنَ وَيبُشِّرُكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم بِالْجَنَّةِ فَدَخَلَ فجَلَسَ مَعَ رسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقُفِّ عَنْ يَسَارِهِ وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ ثُمَّ رَجَعْتُ فَجلَسْتُ فَقُلْتُ:اِن يُرِدِ اللَّهُ بِفُلَانٍ خَيْراً يَعْنِي اَخَاهُ يَاْتِ بِهِ فَجَاءَ اِنْسَانٌ فَحَرَّكَ الْبَابَ فَقُلْتُ:مَنْ هٰذَا؟فَقَالَ:عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقُلْتُ:عَلَى رِسْلِكَ وَجِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَاَخْبَرْتُهُ فَقَالَ ائْذَنْ لَهُ وبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ مَعَ بَلْوَى تُصِيْبُهُ فَجِئْتُ فَقُلتُ:اُدْخُلْ وَيُبشِّرُكَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم بِالْجَنَّةِ مَعَ بَلْوَى تُصِيْبُكَ فَدَخَلَ فَوَجَدَ القُفَّ قَدْ مُلِئَ فَجَلَسَ وِجَاهَهُمْ مِنَ الشِّقِّ الآخَرِ قَالَ سَعِيْدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ:فَاَوَّلْتُهَا قُبُوْرَهُمْ.وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَاَمَرَنِيْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ بحِفْظِ الْبَابِ وَفِيْهَا:اَنَّ عُثْمانَ حِيْنَ بَشَّرَهُ حَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى ثُمَّ قَالَ: اَللَّهُ الْمُسْتعَانُ.
عن ابي موسى الاشعري رضي الله عنه انه توضافي بيته ثم خرج فقال:لالزمن رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا كونن معه يومي هذا فجاء المسجد فسال عن النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا:وجه ههنا قال:فخرجت على اثره اسئل عنه حتى دخل بئر اريس فجلست عند الباب حتى قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم حاجته وتوضا فقمت اليه فاذا هو قدجلس على بئر اريس وتوسط قفها وكشف عن ساقيه ودلاهما في البئر فسلمت عليه ثم انصرفت فجلست عند الباب فقلت:لاكونن بواب رسول الله صلى الله عليه وسلم اليوم فجاء ابو بكر رضي الله عنه فدفع الباب فقلت:من هذا؟ فقال: ابو بكر فقلت:على رسلك ثم ذهبت فقلت:يا رسول الله هذا ابو بكر يستاذن؟ فقال:ائذن له وبشره بالجنة فاقبلت حتى قلت لابي بكر:ادخل ورسول الله يبشرك بالجنة فدخل ابو بكر حتى جلس عن يمين النبي صلى الله عليه وسلم معه في القف ودلى رجليه في البئر كما صنع رسول اللہ صلى الله عليه وسلم وكشف عن ساقيه ثم رجعت وجلست وقد تركت اخي يتوضا ويلحقني فقلت:ان يرد الله بفلان يريد اخاه خيرا يات به فاذا انسان يحرك الباب فقلت:من هذا؟فقال:عمر بن الخطاب فقلت:على رسلك ثم جئت الی رسول الله صلى الله عليه وسلم فسلمت عليه وقلت:هذا عمر يستاذن؟فقال:ائذن له وبشره بالجنة فجئت عمر فقلت:اذن ويبشرك رسول الله صلى الله عليه وسلم بالجنة فدخل فجلس مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في القف عن يساره ودلى رجليه في البئر ثم رجعت فجلست فقلت:ان يرد الله بفلان خيرا يعني اخاه يات به فجاء انسان فحرك الباب فقلت:من هذا؟فقال:عثمان بن عفان فقلت:على رسلك وجئت النبي صلى الله عليه وسلم فاخبرته فقال ائذن له وبشره بالجنة مع بلوى تصيبه فجئت فقلت:ادخل ويبشرك رسول الله صلى الله عليه وسلم بالجنة مع بلوى تصيبك فدخل فوجد القف قد ملئ فجلس وجاههم من الشق الآخر قال سعيد بن المسيب:فاولتها قبورهم.وزاد في رواية: وامرني رسول الله صلى الله عليه وسلم بحفظ الباب وفيها:ان عثمان حين بشره حمد الله تعالى ثم قال: الله المستعان.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَا ابو موسیٰ اشعریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ انہوں نے وضو کیا پھر گھر سے نکلے اور یہ کہنے لگے کہ میں آج کا دن حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں رہوں گا، مسجد میں حاضر ہوئے اور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بارے میں دریافت کیا صحابہ کرام نے بتایا کہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس طرف تشریف لے گئے ہیں۔فرماتے ہیں:میں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے قدموں کے نشانات پرچل پڑا اور پوچھتا گیا یہاں تک کہ بیراریس میں داخل ہو گیااور دروازے کے پاس بیٹھ گیا ۔نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقضائے حاجت سے فارغ ہوئے اور وضو فرمایاتو میں اٹھ کر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہو گیا ،دیکھا کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبیراریس کے منڈیر پردرمیان میں اس طرح تشریف فرما تھے کہ پنڈلیوں سے کپڑا ہٹا یاہوا اور پاؤں مبارک کوئیں میں لٹکائے ہوئے ہیں۔میں نے سلام عرض کیا اور واپس لوٹ کر دروازے میں بیٹھ گیا اور(دل میں ) کہنے لگا: آج میں ضرور حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا دربان رہوں گا،اتنے میں حضرت سَیِّدُنَاابو بکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُآئے اور دروازہ کھٹکھٹایا ،میں نے پوچھا :کون ؟فرمایا:ابو بکر ہوں۔میں نے کہا:ٹھہر جائیے،پھر میں خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! حضرت ابوبکر اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ارشاد فرمایا:انہیں اجازت دو اور جنت کی خوشخبری بھی دو ۔میں واپس لوٹا اور حضرت ابو بکررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے عرض کی :داخل ہو جا یئے اوررسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ کو جنت کی خوشخبری دیتے ہیں۔حضرت ابو بکرصدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاندر آئے اور منڈیر پر حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دائیں جانب بیٹھ گئے،پاؤں نیچے لٹکا لئے جیسا کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کیا ہوا تھا اور پنڈلیوں سے کپڑا ہٹا دیا،پھر میں واپس لوٹا اور بیٹھ گیا ۔میں اپنے بھائی کو وضو کرتے ہوئے چھوڑ آیا تھاکہ وہ آکر مجھ سے ملے گا۔میں نے(دل میں)کہا: اگراللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے فلاں کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمایا (راوی کہتے ہیں :ان کی مراد اپنا بھائی تھا)تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّاسے بھی لے آئےگا۔اتنے میں دیکھا کہ کوئی شخص دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے۔میں نے پوچھا کون ؟فرمایا: عمر بن خطاب۔میں نے کہا: ٹھہر جائیے،پھر میں خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور سلام کے بعد عرض کیا:یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!عمر بن خطاب اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔فرمایا:انہیں اجازت دو اور جنت کی خوشخبری بھی دو ۔میں حضرت عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے پاس آیا اور کہا:رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آ پ کو اجازت مرحمت فرمائی ہے اور جنت کی خوشخبری بھی دی ہے۔ وہ اندر داخل ہوئے اوررسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بائیں جانب منڈیر پر کوئیں میں پاؤں لٹکا کر بیٹھ گئے ۔میں واپس لوٹ گیا اور دل میں کہنے لگا: اگراللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے میرے فلاں بھائی کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمایا ہے تو اسے بھی لے آئے گا۔اتنے میں ایک اور شخص نے دروازہ کھٹکھٹایا۔میں نے پوچھا کون ؟فرمایا: عثمان بن عفان۔میں نے کہا: ٹھہر جائیے۔(یہ کہہ کر)میں بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا اور عثمان بن عفانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی خبر دی ۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:انہیں اجازت دو اور جنت کی خوشخبری کے ساتھ ایک مصیبت میں مبتلا ہونے کی خبر بھی دو۔میں واپس آیا اورکہا:داخل ہو جایئےاوررسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ کو جنت کی خوشخبری کے ساتھ ایک مصیبت میں مبتلا ہونے کی خبر دے رہے ہیں۔وہ داخل ہوئے تو دیکھا کہ منڈیر کا کنارہ بھر چکا ہے تووہ دوسری جانب ان کے مقابل بیٹھ گئے۔حضرت سَیِّدُنَا سعید بن مسیبرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں ان کے اس طرح تر تیب سے بیٹھنے کو ان کی قبور مراد لیتا ہوں۔ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے دروازے پر نگرانی کا حکم ارشاد فرمایااورایک روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا عثمانِ غنیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے خوشخبری سن کراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا شکر ادا کیا پھر فرمایا:اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہی مددگار ہے۔
شرح حدیث
بیراریس:یہ کنواں مسجد قبا ءسے متصل پچھّم (مغرب)کی جانب ہے اس کو’’بیر خاتم‘‘بھی کہا جاتا ہے اس لئے کہ حضرت عثمانرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے ہاتھ سے مہر ِنبوت کی انگوٹھی اس کنوئیں میں گر گئی اور بڑی تلاش و جستجو کے باوجود نہیں ملی۔حضور اقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کنوئیں کا پانی پیا اور اس سے وضو فرمایا اور اس میں اپنا لعاب دہن بھی ڈالا تھا۔بارگاہِ رسالت کی دربانی:عمدۃ القاری میں ہے: علامہ ابن تینرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ اِس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی کا امام کے لیے دربان بننا جائز ہے اگرچہ امام نے دربان بننےکا حکم نہ دیا ہو۔اگر یہ سوال پوچھاجائے کہ ترمذی میں حضرت سَیِّدُنا ابو موسٰی اشعریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی روایت میں ہے کہ”آپ نے مجھ سے فرمایا: اس دروازے پر پہرہ دو اور کوئی شخص میری اجازت کے بغیر میرے پاس نہ آئے۔“اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت ابو موسٰی اشعریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاز خود دربان نہیں بنے تھے اور بخاری کی روایت سے معلوم ہواکہ وہ از خود دربان بنے تھے؟اس کا جواب یہ ہے کہ ابتدا میں حضرت سَیِّدُنا ابو موسٰی اشعریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے دل میں خود دربان بننے کا خیال آیا تھا اور بعد میں نبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں دربان بننے کا حکم دیا۔اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اس سے معارض یہ حدیث ہے حضرت سَیِّدُنا انس بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا کوئی دربان نہیں تھا۔اس کا جواب یہ ہے حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی مراد یہ ہے کہ آپ کے دائمی دربان نہیں تھے۔مستقبل کی غیبی خبر:جب حضرت سَیِّدُنا عثمانِ غنیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”انہیں اجازت دو اور جنت کی خوشخبری کے ساتھ ایک مصیبت میں مبتلا ہونے کی خبر بھی دو۔“اس کی وضاحت کرتے ہوئےمُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”یعنی انہیں جنت کی بشارت دو مگر ایک مصیبت عظمیٰ کے ساتھ۔خیال رہے کہ مؤمن کی تکالیف اور مصیبتیں بھیاللّٰہکی رحمتیں ہوتی ہیں اس لیے اس مصیبت کی بشارت دی گئی۔ حضرت عثمان غنی (رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ) نے دونوں چیزوں پر خدا کا شکر کیا مگر بلا وقفہ پھراللّٰہسے مدد مانگی کہ مجھے صبر کی توفیق ملے۔خیال رہے کہ ایسے موقعہ پر دفعیہ کی دعا کرنا ممنوع ہے کہ اس میں ایک طرح کی بے صبری سی ہے۔ عبدیت کے اظہار کے لیے ہر وقت دعائیں مانگو مگر امتحان کے موقعہ پر دفعیہ کی دعا نہ کرو بلکہ صبرکر کے پاس ہونے کی کوشش کرو۔حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے حضرت حسین کی شہادت کی تفصیلی خبر دی تو فرمایا:اَللّٰھُمَّ اعْطِ حُسَیْنِیْ صَبْرًا جَمِیْلًا وَ اَجْرًا جَزِیْلًاخدایا میرے حسین کو صبر جمیل دے اور اجر جزیل یعنی بڑا ثواب دے۔دفعیہ کی دعا نہ کی۔ بچہ کو امتحان سے بچاتے نہیں بلکہ محنت کراکے کامیاب کراتے ہیں۔“عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:حدیث میں حضرت سَیِّدُنَا عثمان غنیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے متعلق جس مصیبت کے پہنچنے کی پیشن گوئی کی گئی ہے اس سے مراد وہ واقعات ہیں جن میں حضرت عثمان غنیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو ان کے گھر میں شہید کیا گیا۔ترتیب سے بیٹھنے کی تاویل:حضرت سَیِّدُنا سعید بن مسیّبرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں ان کے اس طرح ترتیب سے بیٹھنے کو ان کی قبور مراد لیتا ہوں۔ان کی اس تاویل کی وجہ یہ تھی کہ جس طرح شیخین کریمین ابو بکر صدیق و عمر فاروقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکوئیں کی منڈیر پر نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ بیٹھے تھے اسی طرح ان دونوں کی قبریں بھی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قبر ِمبارک کے ساتھ ہیں اگرچہ دائیں بائیں کے اعتبار سے نہیں جبکہ حضرت سَیِّدُنا عثمانِ غنیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ منڈیر پر نہیں بیٹھے بلکہ سامنے بیٹھے اس طرح آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی قبر بھی نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قبر ِ مبارک کے ساتھ نہیں بلکہ سامنے کی طرف جنت البقیع میں ہے۔جنت کی خوشخبری پانے میں اَوَّلِیَّت:علامہ غلام رسول رضویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس حدیث پاک میں خلفاء ثلاثہ کی فضیلت کا واضح بیان ہے اور ابو بکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاُن سے افضل ہیں کیونکہ ان کو جنت کی خوشخبری پہلے دی گئی جبکہ ان کی نشت جناب رسالت مآبصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دائیں جانب تھی۔یہ ان کے لئے بہت بڑی فضیلت ہے۔“مدنی گلدستہ
∞سیدنا ’’عثمان‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) بیر اریس وہ مبارک کنواں ہے جس کا پانی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پیا اور اس سے وضو فرمایا اور اس میں اپنا لعاب دہن بھی ڈالا ۔
(2) نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبعطائے الٰہی مستقبل کے اَحوال سے با خبر ہیں اسی لئے آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے سَیِّدُناعثمانِ غنیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو مستقبل میں پہنچنے والے مصائب کی خبرپہلےدی۔
(3) اچھی خبر سن کراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا شکر ادا کرنا چاہیے اور آزمائش والی خبر سن کر بجائے بے صبری و ناشکری کرنے کےاللّٰہتعالیٰ سے مدد طلب کرنی چاہیے۔
(4) مؤمن کو پہنچنے والی تکالیف اورمصیبتیںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت ہوتی ہیں ۔
(5) حضرت سَیِّدُنا ابو بکر صدیقرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُتمام صحابہ سے افضل ہیں۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی عطا فرمائے اور جنت میں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا پڑوس نصیب فرمائے ۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 709