Main Icon

باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 710

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:كُنَّا قُعُوْدًا حَوْلَ رَسُوْلِ اللَّہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم وَمعَنَا اَبُوْ بَكْرٍ وعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا في نَفَرٍ فَقامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بينِ اَظْهُرِنَا فَاَبْطَاَ علَيْنَا وخَشِيْنَا اَنْ يُقْتَطَعَ دُونَنَا وَفَزِعْنَا فَقُمْنَا فَكُنْتُ اَوَّلَ مَن فَزِعَ فَخَرَجْتُ اَبْتَغِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى اَتَيْتُ حَائِطاً لِلْاَنْصَارِ لِبَنِي النَّجَّارِ فَدُرْتُ بِهِ هَلْ اَجِدُ لَهُ بَابًا فَلَمْ اَجِدْ فَاِذَا رَبِيْعٌ يَدْخُلُ فِي جَوْفِ حَائِط مِنْ بِئْرٍ خَارِجَہُ وَالرَّبِيْعُ:الْجَدْوَلُ الصَّغيْرُ فَاحْتَفَزْتُ فَدَخَلْتُ عَلى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:اَبُوْ هُرَيْرَةَ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ يَا رسُولَ اللَّهِ قَالَ:مَا شَاْنُكَ؟ قُلْتُ:كُنْتَ بَيْنَ ظَهْرَيْنَا فقُمْتَ فَاَبْطَاَتَ علَيْنَا فَخَشِيْنَا اَنْ تُقَتَطَعَ دُوْنَنَا ففَزِعْنَا فَكُنْتُ اَوَّلَ مَنْ فَزِعَ فاَتَيْتُ هٰذَا الْحَائِطَ فَاحْتَفَزْتُ كَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ وَهٰؤُلَاءِ النَّاسُ وَرَائيِْ فَقَالَ: يَا اَبَا هُرَيْرَةَ وَاَعْطَانِيْ نَعْلَيْهِ فَقَال:اِذْهَبْ بِنَعْلَي هاتَيْنِ فَمَنْ لَقِيْتَ مِنْ وَرَاءِ هٰذَا الْحَائِطِ يَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللَّهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ وذَكَرَ الْحدِيْثَ بطُوْلِهِ.

عن ابي هريرة رضي الله عنه قال:كنا قعودا حول رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ومعنا ابو بكر وعمر رضي الله عنهما في نفر فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم من بين اظهرنا فابطا علينا وخشينا ان يقتطع دوننا وفزعنا فقمنا فكنت اول من فزع فخرجت ابتغي رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اتيت حائطا للانصار لبني النجار فدرت به هل اجد له بابا فلم اجد فاذا ربيع يدخل في جوف حائط من بئر خارجہ والربيع:الجدول الصغير فاحتفزت فدخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال:ابو هريرة ؟ فقلت : نعم يا رسول الله قال:ما شانك؟ قلت:كنت بين ظهرينا فقمت فابطات علينا فخشينا ان تقتطع دوننا ففزعنا فكنت اول من فزع فاتيت هذا الحائط فاحتفزت كما يحتفز الثعلب وهؤلاء الناس ورائي فقال: يا ابا هريرة واعطاني نعليه فقال:اذهب بنعلي هاتين فمن لقيت من وراء هذا الحائط يشهد ان لا اله الا الله مستيقنا بها قلبه فبشره بالجنة وذكر الحديث بطوله.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں: ہم لوگ حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےاِرد گرد بیٹھے تھے۔ہمارے ساتھ حضرت ابوبکروحضرت عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَابھی تھے اچانک نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے درمیان سے اُٹھے اور تشریف لے گئے۔واپس آنے میں تاخیر ہوئی تو ہم ڈر گئے کہ کہیں ہماری غیر موجودگی میں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو کوئی ایذا نہ پہنچ جائے، ہم گھبراکر اٹھ کھڑے ہوئےاور میں گھبرانے والا پہلا شخص تھا۔چنانچہ میں حضوراکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو تلاش کرتے ہوئے قبیلہ بنو نجار کے باغ میں پہنچااور دروازہ ڈھونڈھنے کے لئے باغ کے ارد گرد گھومالیکن دروازہ نہ ملا۔اچانک ایک چھوٹی سی نالی پر نگاہ پڑی جو بیرونی باغ سے اندر کو جا رہی تھی۔میں سمٹ کر اندر داخل ہوا اور حضور پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہو گیا۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”ابو ہریرہ تم ہو؟“میں نے عرض کی:’’جییارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!“آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”تمہیں کیا ہوا؟“میں نے عرض کی:آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمارے درمیان تشریف فرما تھے پھر آپ تشریف لے گئے اور واپس آنے میں کافی تاخیر ہو گئی تو ہمیں ڈر پیدا ہوا کہ کہیں ہماری غیر موجودگی میں آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو کوئی ایذا نہ پہنچ جائےتو ہم گھبرا گئے اور گھبرانے والوں میں پہلا میں تھااور اس باغ تک پہنچ گیا ،میں لومڑی کی طرح سمٹ کر اندر داخل ہوا باقی لوگ میرے پیچھے ہیں۔یہ سن کر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے نعلین شریف مجھے دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:”اے ابو ہریرہ! جاؤاور اس باغ کے باہر جو بھی شخص دل کے یقین کے ساتھلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہکی گواہی دیتا ہوا ملے اسے جنت کی خوشخبری دو۔“اور امام مسلم نے اس حدیث پاک کو طوالت کے ساتھ ذکرکیا ہے۔

شرح حدیث

صحابہ کرام کی بے تابی:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکچھ دیر کے لئے صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی نظروں سے اوجھل ہوجاتے تو صحابہ بے تاب و فکرمند ہوجاتے،ان کی نگاہوں کو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا رخ زیبا دیکھے بغیر چین نہ آتا اور وہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تلاش وجستجو شروع کردیتے۔اسی تلاش وجستجو کو حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے مذکورہ روایت میں بیان فرمایا لیکن آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکویہ کیسے معلوم ہوا کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقبیلہ بنونجار کے باغ میں تشریف فرما ہیں تو اس کی وضاحت کرتے ہوئےشیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”گویا کہ حضرت ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو قیاس اور کسی قرینہ و علامت سے معلوم ہو گیا کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس باغ میں تشریف فرما ہیں بلکہ حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جمال کی خوشبوئے نسیم آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکے مشام محبت کو پہنچی جس سے ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو معلوم ہو گیا کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس باغ میں تشریف فرما ہیں۔“وارفتگیٔ عشق محبوب:حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُباغ کے اندر داخل ہونے کے لئے اس کا دروازہ ڈھونڈھنے لگے لیکن دروازہ نہ ملا،اسی کشمکش میں آپرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکی نظر ایک چھوٹی سی نالی پر پڑی آپ اس نالی کے ذریعے سمٹ کر باغ کے اندر داخل ہوگئے۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”یعنی دروازہ موجود تھا مگر نظر نہ آیا وارفتگیٔ عشق محبوب کی وجہ سے وہ (نالی) نظر آگئی پیاروں کے حال نیارے ہوتے ہیں،ان کی کیفیات عقل سے وراء ہیں،دیکھو رب کی شان کہ دروازہ نظر نہ آیا اور نالی سوجھ گئی،یہ واردات ان لوگوں پرگزرتی ہیں جنہیں عشق سے حصّہ ملا ہو۔‘‘نعلین عطا کرنے کی وجہ:حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنالی کے ذریعے باغ میں داخل ہو کر حضور ِاَقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو دیکھ کر تعجب سے پوچھا :ابو ہریرہ تم ہو؟ تعجب کرنے کی وجہ یہ تھی کہ باغ کا دروازہ بند ہونے کے باوجود حضرت ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُاندر داخل ہو گئے یا اس وجہ سے کہ اس وقت آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر وحی نازل ہو رہی تھی اور آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحالتِ استغراق میں تھے اس لئے ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو نہ پہچانا۔حضرت ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے بارگاہ ِ رسالت میں حاضر ہوکر پورا واقعہ بیان کیا ۔ یہ پورا واقعہ سنانے میں جدائی کے صدمہ کی شکایت اور کسی تکلیف دہ چیز سےڈرنے میں دراصل کمال محبت کا اظہار تھا اور اس طرح بغیر اجازت بارگاہِ اَقدسصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں آنے کی معذرت بھی تھی۔آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے نعلین مبارک ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکو دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:یہ لے جاؤاور اس باغ کے باہر جو شخص بھی دل کے یقین کے ساتھلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہکی گواہی دیتا ملے اسے جنت کی بشارت دو۔نعلین مبارک اس وجہ سے عطا فرمائے کہ یہ اس بات کی علامت ہو کہ حضرت ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُحضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس سے ہو کر آ رہے ہیں اور اس وقت آ پصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس نشانی کے طور پر دینے کے لئے کوئی اور چیز نہ تھی۔بعض لوگوں نے یہ وجہ بیان کی کہ نعلین شریف دینے میں اس طرف اشارہ ہے کہ جس طرح نعلین پہن کر چلنے میں سہولت و آسانی ہوتی ہے اسی طرح آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بعثت آسانی فراہم کرنے اور سہولت دینے کے لئے ہے اور آپ کا کام آسانی فراہم کرنا ہے نیز اس کلمہ طیبہ کی شہادت کے بعد ثابت قدمی اور استقامت کی بشارت ہے ۔حدیث مبارکہ کے فوائد:7جنت میں داخلہ ایمان کے سبب ہوگا خواہ ابتدا میں ہو یا جہنم سے نکلنے کے بعدہو۔7جہنم سے نجات اورجنت میں داخلے کے لئے اصلاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی وحدانیت پر ایمان اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا ہے۔7کسی کو بھلائی کی بشارت دینا مستحب ہے۔7صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بہت محبت کیا کرتےاورآپ کی زندگی کی حرص رکھتے۔مدنی گلدستہ
اِسم جَلالت’’اللّٰہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) دل کے یقین کے ساتھ
لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہکی گواہی دینے والے کے لئے جنت کی بشارت ہے ۔
(2) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے والہانہ عشق کیا کرتے تھے، آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو ذرا دیر ہو جاتی تو صحابہ کرام آپ کے لئے متفکر ہو جاتے ۔
(3) بغیر اجازت کسی کے گھر یا باغ میں چلے جانا منع ہے۔
(4) کسی کو بھلائی کی خوشخبری اور بشارت دینا مستحب ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں ایمان پر زندگی اور موت عطا فرمائےاور گناہوں سے کنارہ کشی عطا کرے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 710