- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 7
حضرت سیدنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”اﷲ عَزَّ وَجَلَّفرماتاہے:ابن آدم کا ہر عمل اس کےلئےہے سوائے روزہ کے کیونکہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ روزہ ڈھال ہے،تو جب تم میں سے کوئی روزہ رکھے تو وہ نہ بے حیائی کی بات کرے نہ جھگڑا کرے،اگر اسے کوئی گالی دے یا لڑے تو کہہ دے کہ میں روزےسےہوں۔‘‘پھر نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمدصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جان ہے! روزہ دارکے منہ کی بواﷲ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ عمدہ ہے ، روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں،ایک خوشی افطار کے وقت کی او رایک خوشی ربّ سے ملاقات کے وقت کی۔“ایک اور روایت میں ہے کہ ”ر وزہ دار اپنے کھانے،پینے اور خواہش کو میری رضا کےلئے چھوڑتا ہے، روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا ا ورہر نیکی کا بدلہ دس گنا ہے۔“ اور مسلم کی روایت میں ہے کہ” ابن آدم کے ہر بھلے کام کاثواب دس گنا سےلے کر سات سوگنا تک بڑھا دیا جاتاہے،اﷲ عَزَّ وَجَلَّفرماتاہے:”سوائے روزہ کے کیونکہ وہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا، وہ اپنے کھانے اور شہوت کومیری وجہ سے ترک کرتا ہے۔“ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں، ایک افطار کے وقت کی خوشی اور ایک اپنے ربّ سے ملاقات کی خوشی اور اس کے منہ کی بواﷲ عَزَّ وَجَلَّکےنزدیک مشک کی خوشبو سے عمدہ ہے۔“
عَنْ اَبِیْ هُرَيْرَةَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ، قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ اٰدَمَ لَهُ اِلَّا الصِّيَامَ، فَاِنَّهُ لِي وَ اَنَا اَجْزِيْ بِهِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، فَاِذَا كَانَ يَومُ صَوْمِ اَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفَثْ وَلَا يَصْخَبْ فَاِنْ سَابَّهُ اَحَدٌاَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ:اِنِّي صَائِمٌ،وَالَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوْفُ فَمِ الصَّائِم ِاَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ،لِلصَّائِم ِفَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا،اِذَ اَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِهِ وَ اِذَالَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بِصَوْمِهِ.
وَفِی رِوَايَةٍ لَهُ:يَتْرُكُ طَعَامَهُ، وَشَرَابَهُ، وَشَهْوَتَهُ مِنْ اَجْلِي، الصِّيَامُ لِی وَاَنَا اَجْزِي بِهِ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ اَمْثَالِهَا. وَ فِی رِوَايَةٍ لِمُسْلِم: کُلُّ عَمَلِ ابْنِ اٰدَمَ يُضَاعَفُ،الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ اَمْثَالِهَا اِلٰی سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ ،قَالَ اللهُ تَعَالٰی: اِلَّا الصَّوْمَ فَاِنَّهُ لِي وَاَنَااَجْزِي بِهِ ، يَدَعُ شَهْوَتَهُ وَطَعَامَهُ مِنْ اَجْلِي، لِلصَّائِم ِفَرْحَتَانِ: فَرْحَةٌ عِنْدَ فِطْرِهِ وَ فَرْحَةٌ عِنْدَ لِقَاءِ رَبِّهِ، وَلَخُلُوْفُ فِيهِ اَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِّيْحِ الْمِسْكِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1215 ، باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”جس نے راہ ِ خدا میں کسی چیز کا جوڑا خرچ کیا، اسے جنت کے دروازوں سے یوں ندا دی جائےگی:”اےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے بندے!یہ دروازہ اچھاہے۔“پس نماز ی کوبابُ الصّلاۃ سے بلایا جائے گا اورجہاد کرنے والے کوبابُ الجِہادسے بلایا جائے گا ۔ روزہ دارکوبابُ الرَّیان سے بلایا جائے گا اور صدقہ دینے والے کوبابُ الصَّدَقہ سے بلایا جائےگا۔‘‘ حضرت سیدنا صدیق اکبررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی :”یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرے ماں باپ آ پ پر قربان! ویسے تواس کی کچھ ضرورت نہیں کہ کسی کو تمام دروازوں سے بلایا جائے ( مقصود دخولِ جنت ہے،وہ ایک دروازہ سے بھی حاصل ہوجائےگا ) لیکن پھر بھی کیا کوئی ایسابھی ہے جسے ان سب دروازوں سے پکاراجائے گا؟“سرکارصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”ہاں ! اور مجھے امیدہے کہ تم انہی میں سے ہو۔ “
عَنْ اَبِی هُرَ يْرَةَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ اَنْفَقَ زَوْجَيْنِ في سَبِيلِ اللهِ نُودِيَ مِنْ اَبْوَابِ الْجَنَّةِ: يَا عَبْدَاللهِ! هَذَا خَيرٌ ،فَمَنْ كَانَ مِنْ اَهْلِ الصَّلٰوةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَ مَنْ كَانَ مِنْ اَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَ مَنْ كَانَ مِنْ اَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ، وَ مَنْ كَانَ مِنْ اَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، قَالَ اَبُو بَكْرٍ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ: بِاَبي اَنْتَ وَ اُمِّي يَا رَسُوْلَ اللهِ! مَا عَلَی مَنْ دُعِيَ مِنْ تِلْكَ الْاَبْوَابِ مِنْ ضَرورةٍ فَهَلْ يُدْعَی اَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْاَبْوَابِ كُلِّهَا؟ فَقَالَ :نَعَمْ، وَ اَرْجُوْ اَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1216 ، باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
حضرت سیدنا سہل بن سعدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”جنت میں ایک دوازہ ہےجس کانامرَیّانہے، اس سے قیامت کے دن روزہ دارہی داخل ہوں گے،کوئی اور داخل نہ ہو سکےگا۔بروزِ قیامت کہا جائے گا:” کہاں ہیں روزہ دار؟“ پس روزہ دار کھڑے ہوں گے اور ان کے سوا کوئی اوراس دروازے سے داخل نہ ہوگا، جب وہ داخل ہو جائیں گے تودروازہ بند کر دیا جائے گا، پھر اس سے کوئی داخل نہ ہوگا۔“
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍرَضِیَ اﷲ عَنْہُ عَنِ النَّبيِّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِنَّ في الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ، يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَومَ الْقِيَامَةِ لَايَدْخُلُ مِنْهُ اَحَدٌ غَيْرُهُمْ،يُقَالُ:اَ يْنَ الصَّائِمُونَ؟فَيَقُومُوْنَ لَا يَدْخُلُ مِنْهُ اَحَدٌ غَيْرُهُمْ فَاِذَادَخَلُوْااُغْلِقَ فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ اَحَدٌ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1217 ، باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
حضرت سیدنا ابوسعید خُدریرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”جو راہ ِخدامیں ایک دن کا روزہ رکھےاﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کے بدلے اس کے چہرے کو جہنم کی آگ سے ستر برس کی مسافت دور کر دیتاہے۔“
عَنْ اَبِی سَعِيْدٍالْخُدْرِي رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:مَامِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِی سَبِيلِ اللهِ اِلَّابَاعَدَ اللهُ بِذٰلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِسَبْعِينَ خَرِيْفًا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1218 ، باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”جس نے ایمان اور ثواب کی اُمِّید پرماہِ رمضان کے روزے رکھے اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں ۔“
عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَرَضِیَ اﷲ عَنْہُ عَنِ النَّبيِّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1219 ، باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
حضرت سَیِّدِنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ نبی کریم،رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”رمضان شریف میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دئیے جاتےہیں۔“
عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَرَضِیَ اﷲ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَاجَآءَ رَمَضَانُ فُتِحَتْ اَبْوَابُ الْجَنَّةِوَغُلِّقَتْ اَبْوَابُ النَّارِوَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1220 ، باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”چانددیکھ کر روزہ رکھو اورچانددیکھ کر ہی عید کرو،اگر چاندتم پرمخفی رہےتو شعبان کی گنتی پوری تیس کرلو۔ “مسلم کی ایک روایت میں ہےکہ” اگر تم پر بادل چھا جائیں توتیس دن روزے رکھو۔“
عَنْ اَبِی هُرَ يْرَةَرَضِیَ اﷲ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:صُوْمُوْا لِرُؤْيَتِهِ وَاَفْطِرُوا لِرُؤيَتِهِ فَاِنْ غَبِيَ عَلَيْكُمْ فَاَكْمِلُوْا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَا ثِينَ. وَفِی رِوَايَةٍ لِمُسْلِم:فَاِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَصُوْمُوْا ثَلَا ثِينَ يَوْمًا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1221 ، باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان