Main Icon

باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1217

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍرَضِیَ اﷲ عَنْہُ عَنِ النَّبيِّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:اِنَّ في الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ، يَدْخُلُ مِنْهُ الصَّائِمُونَ يَومَ الْقِيَامَةِ لَايَدْخُلُ مِنْهُ اَحَدٌ غَيْرُهُمْ،يُقَالُ:اَ يْنَ الصَّائِمُونَ؟فَيَقُومُوْنَ لَا يَدْخُلُ مِنْهُ اَحَدٌ غَيْرُهُمْ فَاِذَادَخَلُوْااُغْلِقَ فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ اَحَدٌ.

عن سهل بن سعدرضی اﷲ عنہ عن النبي صلی اﷲ علیہ وسلم قال:ان في الجنة بابا يقال له الريان، يدخل منه الصائمون يوم القيامة لايدخل منه احد غيرهم،يقال:ا ين الصائمون؟فيقومون لا يدخل منه احد غيرهم فاذادخلوااغلق فلم يدخل منه احد.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا سہل بن سعدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”جنت میں ایک دوازہ ہےجس کانامرَیّانہے، اس سے قیامت کے دن روزہ دارہی داخل ہوں گے،کوئی اور داخل نہ ہو سکےگا۔بروزِ قیامت کہا جائے گا:” کہاں ہیں روزہ دار؟“ پس روزہ دار کھڑے ہوں گے اور ان کے سوا کوئی اوراس دروازے سے داخل نہ ہوگا، جب وہ داخل ہو جائیں گے تودروازہ بند کر دیا جائے گا، پھر اس سے کوئی داخل نہ ہوگا۔“

شرح حدیث

بابُ الرّیان سے جنت میں داخلہ :حدیثِ مذکور سے معلوم ہواکہ روزہ داروں کی بروز قیامت خاص عزت افزائی ہوگی اور وہ باب الریان نامی دروازے سے جنت میں داخل ہوں گے ،روزہ داروں کے علاوہ اس دروزاے سے کوئی اور داخل نہ ہوسکے گا یہ روزہ داروں کے لئے بہت بڑا اعزاز ہے۔جس دروازے سے روزہ دار دا خل جنت ہوں گے اس سے متعلق کچھ مفید معلومات ملاحظہ فرمائیے۔رَیَّان رَیٌّسے بنا ہے،بمعنی تروتازگی،سیرابی و سبزی۔ چونکہ روزہ دار بھوکے پیاسے رہتے تھے اور بمقابلہ بھوک کے پیاس کی زیادہ تکلیف اٹھاتے تھے اس لئے ان کے داخلے کے لیے وہ دروازہ منتخب ہوا جہاں پانی کی نہریں بے حساب،سبزہ،پھل فروٹ اور سیرابی ہے،اس کا حسن آج نہ ہمارے وہم و گمان میں آسکتا ہے نہ بیان میں،اِنْ شَآءَاﷲُدیکھ کر ہی پتہ لگے گا۔اس سے معلوم ہوا کہ روزہ چور اور روزہ توڑ مسلمان اگرچہ رحمتِ خداوندی اور شفاعتِ مصطفوی کی برکت سے بخش بھی دیئے جائیں اور جنت میں داخل بھی ہو جائیں مگر اس دروازے سے نہیں جا سکتے کہ یہ دروازہ تو روزہ داروں کےلیےمخصوص ہے۔“جنت کے دروازے:جنت کےمشہوردروازے آٹھ ہیں لیکن ان کے علاوہ بھی کئی اوردروازے ہیں جیسا کہ عمدۃ القاری میں ہے :”*جنت میں آٹھ دروازوں کے علاوہ کچھ اور دروازے بھی ہیں، جیسے،بابُ الصَّلٰوۃ، بابُ الصَّدَقۃ، بابُ الجِہادوغیرہ۔*حکیم ترمذیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِینےنَوادِرُالْاُصُولمیں فرمایا کہ”جنت کے دروازوں میں سےایک دروازہ بابِ محمدہےاوریہبَابُ الرَّحمۃہےاوریہیبابُ التَّوبۃہے اور جب سےاﷲ عَزَّ وَجَلَّنےمخلوق کوپیدا فرمایا ہےیہ دروازہ کھلاہوا ہے بندنہیں ہوا جب سورج مغرب سے طلوعہوگا تو یہ دروازہ بند کردیا جائے گا پھر قیامت تک نہیں کھولاجائے گا۔*اورجنت کے باقی دروازے بھی دیگرنیک اعمال پر تقسیم ہیں جیسے،بابُ الزّکوٰۃ، بابُ الحج، بابُ الْعمرہوغیرہ۔*قاضی عیاضعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْوَہَّابنےفرمایا:”جنت میں ایک دروازے کا نامبابُ الْکاظِمِینَ الْغیظْہے یعنی غصہ پینے والوں کا دروازہ ۔* ایکبابُ الرَّاضیہے یعنیاﷲ عَزَّ وَجَلَّکو راضی کرنے والوں کا دروازہ۔ ایکبَابُ الْاَیمنہے،اس دروازے سے وہ لوگ داخل ہوں گے جن سے حساب نہیں ہوگا۔“*حضرت سیدنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ سرکارِ دوجہان رحمت عالمیانصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”جنت میں ایک دروازہ ہے جس کوبابُ الضَّحٰیکہا جاتاہے پس جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک منادی اعلان کرے گا:وہ لوگ کہاں ہیں جو ہمیشہصلٰوۃُ الضُّحییعنی چاشت کی نماز ادا کیا کرتے تھے؟ ان سے کہا جائے گا کہ یہ تمہارا دروازہ ہے اس سے جنت میں داخل ہوجاؤ۔“*حضرت سیدنا ابن عباسرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ نبی کریم ، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”جنت میں ایک دروازہ ہے جسےبابالفَرحکہا جاتاہے، اس سے وہی داخل ہوں گے جو بچوں کو خوش کرتے تھے۔ *بعض ائمہ کے نزدیکبَابُ الذِّکراوربَابُ الصَّابِرِیْننامی دروازے بھی ہیں ۔*حضرت سیدنا حَسَن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”جنت میں ایک درواز ہ ہے جس سے صرف وہی لوگ داخل ہوں گےجنہوں نے کسی کی زیادتی کومعاف کیا ہوگا۔علّامہ بدرالدین عینیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”جنت کے یہ تمام دروازے ان آٹھ بڑے دروازوں میں داخل ہیں جن کی دو چوکھٹوں کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے۔“مدنی گلدستہ’’بابِ ریّان‘‘کے7حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) نبی کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہرشخص کے دُنیوی واُخروی حال سے واقف ہیں حتی کہ جانتے ہیں کون جنت میں کہاں جائے گا اور کس دروازہ سے جائے گا،صحابہعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا یہی عقیدہ تھا۔
(2) دنیا میں جس پر جو عبادت غالب ہوگی وہ جنت کے اسی دروازے سے جائے گا۔
(3) روزہ دار کا ہر بال اس کے لئے تسبیح کرتا ہے۔بروزِ قیامت جب لوگ حساب وکتاب کی سختی میں گرفتار ہوں گے توروزہ دارجنّتی نعمتوں سے محظوظ ہورہے ہونگے۔
(4) جنتی دوازے رَیّان سے قیامت کے دن فقط روزہ دارہی داخل ہوسکیں گے۔
(5) جنتی دروازے بَابُ الایمن سے وہ لوگ داخل جنت ہوں گے جن سے حساب نہیں ہو گا۔
(6) جنتی دروازے باب الفَرح سے وہی داخل ہوں گے جودنیا میں بچوں کو خوش کرتے تھے۔
(7) ایک جنتی درواز ے سے صرف وہی لوگ داخل ہوں گےجنہوں نے کسی کی زیادتی کو معاف کیا ہو گا۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی ان دروازوں میں سے داخل جنت فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1217