Main Icon

باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1219

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَرَضِیَ اﷲ عَنْہُ عَنِ النَّبيِّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَاتَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ.

عن ابی هريرةرضی اﷲ عنہ عن النبي صلی اﷲ علیہ وسلم قال:من صام رمضان ايمانا واحتسابا غفر له ماتقدم من ذنبه.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ رسولُاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”جس نے ایمان اور ثواب کی اُمِّید پرماہِ رمضان کے روزے رکھے اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں ۔“

شرح حدیث

معلوم ہواکہ جوشخص ایک دن کاروزہ رکھےاﷲعَزَّوَجَلَّاس کےتمام صغیرہ گناہ معاف فرما دیتا ہے مگر اس فضیلت کا حق دار وہی ہو گا جو ایمان والا ہو اورحصولِ ثواب کے لئے روزہ رکھے،کیونکہ عمل کی قبولیت کے لئے ایمان واخلاص شرط ہے۔اشعۃ اللمعات میں ہے: ”جوشخصاﷲ عَزَّ وَجَلَّپرایمان رکھتے ہوئے، اس کے احکام وفرامین کی بجا آوری کے لئے ،اس کے وعدہ کی تصدیق کرتے ہوئے اجر وثواب کی امید پرایک دن کاروزہ رکھےاﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کے پچھلے گناہ معاف فرما دے گا۔“مرآۃ المناجیح میں ہے:”جس روزہ کے ساتھ اِیمان اور اِخلاص جمع ہوجائیں اس کا نفع تو بے شمار ہے،دفعِ ضرریہ ہے کہ اس کے سارے صغیرہ گناہ اورحقوقُ اﷲمعاف ہوجاتے ہیں۔جوشخص بیماری کے علاج کے لیے روزہ رکھے نہ کہ طلبِ ثواب کے لیے تو کوئی ثواب نہیں۔“گناہوں کی معافی:احادیثِ مبارکہ میں جہاں مختلف اعمال کی بجا آوری پر گناہوں کی مغفرت کی بشارت ہوتی ہے وہاں صغیرہ گناہوں کی معافی مراد ہوتی ہے،چنانچہ دلیل الفالحین میں ہے :”اعمالِ صالحہ کی برکت سے وہ صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں جوحقوقُ اﷲسے متعلق ہوں۔“مرآۃ المناجیح میں ہے:”اس طرح کے نیک اعمال سے صغیرہ گناہ معاف ہو تے ہیں اور کبیرہ گناہ صغیرہ بن جاتے ہیں ۔ اور جن بندوں کے گناہ ہی نہ ہوں ان کے درجات بلند کردئیے جاتےہیں۔رمضان میں روزوں کی برکت سے صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں، تراویح کی برکت سے کبیرہ گناہ خفیف ہوجاتے ہیں اور شبِ قدر کی برکت سے درجات بلند کر دئیے جاتے ہیں ۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1219