- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- حدیث نمبر 1220
باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1220
جلد 7
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَرَضِیَ اﷲ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَاجَآءَ رَمَضَانُ فُتِحَتْ اَبْوَابُ الْجَنَّةِوَغُلِّقَتْ اَبْوَابُ النَّارِوَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ.
عن ابی هريرةرضی اﷲ عنہ ان رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم قال: اذاجاء رمضان فتحت ابواب الجنةوغلقت ابواب الناروصفدت الشياطين.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدِنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ نبی کریم،رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”رمضان شریف میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دئیے جاتےہیں۔“
شرح حدیث
میٹھے میٹھے اسلا می بھائیو!حدیثِ مذکور سے رمضان شریف کی قدر ومنزلت معلوم ہوئی ہے کہ اس مبارک مہینے کی آمد پر جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں۔عام مُشاہَدہ ہے کہ رمضان میں لوگوں کا ذوقِ عبادت بڑھ جاتاہے،مسجد یں دن رات آباد رہتی ہیں ، گناہوں میں کمی آجاتی ہےاورمعاشرے میں امن وسکون کی فضا قائم ہوجاتی ہے۔الغرض یہ سارا مہینہ رحمت بھرا ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں صحت وعافیت کےساتھ باربار رمضان شریف کی بہاریں حَرَمین طَیِّبَیْن میں بھی دیکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمینجنت کے دروازے کُھلنے سے کیا مراد ہے ؟اشعۃ اللمعات میں ہے:حدیثِ مذکور میں یہ جوفرمایا گیا کہ”ماہ ِ رمضان میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔“اس سے مراد یہ ہے کہ اس مبارک مہینے میں رحمتِ الٰہی کامسلسل نزول ہوتا ہے، اعمال بِلا رکاوٹ آسمانوں کی طرف بلند ہوتے ہیں اور دعائیں قبول ہوتی ہیں اس طرح بندوں کو مال خرچ کرنے کی توفیق ملتی ہے اور ان کے اعمال قبول کئے جاتے ہیں اورجہنم کے دروازے بند ہونےسےمراد یہ ہےکہ اس مہینےمیں روزہ دار بُری باتوں سے بچے رہتےہیں،گناہ پراُبھارنے والے اسباب سے چھٹکارا ملتا ہے، نفسانی خواہشات میں کمی آجاتی ہے۔ شیاطین کو زنجیروں میں جکڑنے سے مراد یہ ہےکہ شیاطین لوگوں کو گناہوں میں مبتلا کرنے اور وسوسہ ڈالنے سے روک دئیے جاتے ہیں ۔“
تفہیم البخاری میں ہے:”جنت کے دروازے کھلنا اور بند ہوناحقیقتاً ہوسکتا ہے کیونکہ دروازوں کا کھلنا اوربند ہونا رمضان کے مہینہ کے داخل ہونے کی علامت ہے اور اس کی حُرمت کی تعظیم ہے۔شیطانوں کوزنجیروں میں اس لئے جکڑا جاتاہے کہ وہ مومنوں کواذیت پہنچانے اوران کوپریشان کرنے سے رک جائیں۔نیز مجازی معنی بھی مراد ہوسکتاہے اور اس میں کثرتِ ثواب کی طرف اشارہ ہے اورشیطانوں کے لوگوں کوگمراہ کرنے میں کمی آجاتی ہے اوروہ مسلمانوں کی مثل ہوجاتے ہیں۔ یہ بھی احتمال ہےکہاﷲتعالیٰ اپنے بندوں کے لئے خیر کی راہیں کھول دیتاہے وہ اس مہینہ میں نیک اعمال کرتے ہیں جوعموماً دوسرے مہینوں میں نہیں کرتے ،جیسے روزے رکھنا، صدقات وخیرات کرنا وغیرہ وغیرہ۔ اوریہ تمام(افعال) جنت میں داخل ہونے کے اسباب اور دروازے ہیں۔ اگر یہ سوال ہوکہ دیکھا جاتاہے کہ کبھی رمضان شریف میں گناہ زیادہ واقع ہوتے ہیں اگر شیطان زنجیروں میں جکڑے جاتے ہیں تو گناہ سرزد کیوں ہوتے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ان روزہ داروں کے لئے ہے جوروزہ کی شرائط کی پابندی کرتےہیں اور اس کے آداب کی رعایت کرتے ہیں ۔بعض علما نے کہا کہ صرف سرکش شیطان جکڑے جاتے ہیں تمام شیطان نہیں جکڑے جاتے۔مشاہَدہ ہےکہ رمضان مبارک کے مہینہ میں شُرور میں کمی آجاتی ہے اورشیطانوں کے جکڑےجانے کو یہ لازم نہیں کہ گناہ واقع ہی نہ ہوں کیونکہ گناہوں کے اسباب شیطانوں کے علاوہ بھی ہیں جیسے خبیث نفس،بُری عادات اورانسانی شیطان یہ بھی تو انسان کوگناہ پر آمادہ کرتے ہیں ۔“
مرآۃ المناجیح میں ہے: ”روزہ گنہگاروں کے گناہ معاف کراتا ہے،نیک کار کے درجے بڑھاتا ہے اور ابرار کا قربِ الٰہی زیادہ کرتا ہے۔نیز یہ( رمضان کامہینا)ﷲ کی رحمت،محبت،ضمان،امان اور نورلے کر آتا ہے اس لئے رمضان کہلاتا ہے۔حق یہ ہے کہ ماہ ِرمضان میں آسمانوں کے دروازے بھی کھلتے ہیں جن سےﷲ کی خاص رحمتیں زمین پر اترتی ہیں اور جنّتوں کے دروازے بھی جس کی وجہ سے جنت والے حور و غِلمان کو خبر ہوجاتی ہے کہ دنیا میں رمضان آ گیا اوروہ روزہ داروں کے لیے دعاؤں میں مشغول ہوجاتے ہیں۔حدیث اپنے ظاہر پر ہےکسی تاویل کی ضرورت نہیں۔ماہِ رمضان میں واقعی دوزخ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے اس مہینہ میں گنہگاروں بلکہ کافروں کی قبروں پر بھی دوزخ کی گرمی نہیں پہنچتی۔وہ جومسلمانوں میں مشہور ہے کہ رمضان میں عذابِ قبر نہیں ہوتا اس کا یہی مطلب ہے اورحقیقت میں ابلیس مع اپنی ذُرّیتوں کے قیدکردیا جاتا ہے۔اس مہینہ میں جو کوئی بھی گناہ کرتا ہے وہ اپنے نفسِ امارہ کی شرارت سے کرتا ہے نہ کہ شیطان کے بہکانے سے۔“
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1220