Main Icon

باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1220

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَرَضِیَ اﷲ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَاجَآءَ رَمَضَانُ فُتِحَتْ اَبْوَابُ الْجَنَّةِوَغُلِّقَتْ اَبْوَابُ النَّارِوَصُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ.

عن ابی هريرةرضی اﷲ عنہ ان رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم قال: اذاجاء رمضان فتحت ابواب الجنةوغلقت ابواب الناروصفدت الشياطين.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدِنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ نبی کریم،رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”رمضان شریف میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دئیے جاتےہیں۔“

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلا می بھائیو!حدیثِ مذکور سے رمضان شریف کی قدر ومنزلت معلوم ہوئی ہے کہ اس مبارک مہینے کی آمد پر جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں۔عام مُشاہَدہ ہے کہ رمضان میں لوگوں کا ذوقِ عبادت بڑھ جاتاہے،مسجد یں دن رات آباد رہتی ہیں ، گناہوں میں کمی آجاتی ہےاورمعاشرے میں امن وسکون کی فضا قائم ہوجاتی ہے۔الغرض یہ سارا مہینہ رحمت بھرا ہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں صحت وعافیت کےساتھ باربار رمضان شریف کی بہاریں حَرَمین طَیِّبَیْن میں بھی دیکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمینجنت کے دروازے کُھلنے سے کیا مراد ہے ؟اشعۃ اللمعات میں ہے:حدیثِ مذکور میں یہ جوفرمایا گیا کہ”ماہ ِ رمضان میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔“اس سے مراد یہ ہے کہ اس مبارک مہینے میں رحمتِ الٰہی کامسلسل نزول ہوتا ہے، اعمال بِلا رکاوٹ آسمانوں کی طرف بلند ہوتے ہیں اور دعائیں قبول ہوتی ہیں اس طرح بندوں کو مال خرچ کرنے کی توفیق ملتی ہے اور ان کے اعمال قبول کئے جاتے ہیں اورجہنم کے دروازے بند ہونےسےمراد یہ ہےکہ اس مہینےمیں روزہ دار بُری باتوں سے بچے رہتےہیں،گناہ پراُبھارنے والے اسباب سے چھٹکارا ملتا ہے، نفسانی خواہشات میں کمی آجاتی ہے۔ شیاطین کو زنجیروں میں جکڑنے سے مراد یہ ہےکہ شیاطین لوگوں کو گناہوں میں مبتلا کرنے اور وسوسہ ڈالنے سے روک دئیے جاتے ہیں ۔“
تفہیم البخاری میں ہے:”جنت کے دروازے کھلنا اور بند ہوناحقیقتاً ہوسکتا ہے کیونکہ دروازوں کا کھلنا اوربند ہونا رمضان کے مہینہ کے داخل ہونے کی علامت ہے اور اس کی حُرمت کی تعظیم ہے۔شیطانوں کوزنجیروں میں اس لئے جکڑا جاتاہے کہ وہ مومنوں کواذیت پہنچانے اوران کوپریشان کرنے سے رک جائیں۔نیز مجازی معنی بھی مراد ہوسکتاہے اور اس میں کثرتِ ثواب کی طرف اشارہ ہے اورشیطانوں کے لوگوں کوگمراہ کرنے میں کمی آجاتی ہے اوروہ مسلمانوں کی مثل ہوجاتے ہیں۔ یہ بھی احتمال ہےکہ
اﷲتعالیٰ اپنے بندوں کے لئے خیر کی راہیں کھول دیتاہے وہ اس مہینہ میں نیک اعمال کرتے ہیں جوعموماً دوسرے مہینوں میں نہیں کرتے ،جیسے روزے رکھنا، صدقات وخیرات کرنا وغیرہ وغیرہ۔ اوریہ تمام(افعال) جنت میں داخل ہونے کے اسباب اور دروازے ہیں۔ اگر یہ سوال ہوکہ دیکھا جاتاہے کہ کبھی رمضان شریف میں گناہ زیادہ واقع ہوتے ہیں اگر شیطان زنجیروں میں جکڑے جاتے ہیں تو گناہ سرزد کیوں ہوتے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ان روزہ داروں کے لئے ہے جوروزہ کی شرائط کی پابندی کرتےہیں اور اس کے آداب کی رعایت کرتے ہیں ۔بعض علما نے کہا کہ صرف سرکش شیطان جکڑے جاتے ہیں تمام شیطان نہیں جکڑے جاتے۔مشاہَدہ ہےکہ رمضان مبارک کے مہینہ میں شُرور میں کمی آجاتی ہے اورشیطانوں کے جکڑےجانے کو یہ لازم نہیں کہ گناہ واقع ہی نہ ہوں کیونکہ گناہوں کے اسباب شیطانوں کے علاوہ بھی ہیں جیسے خبیث نفس،بُری عادات اورانسانی شیطان یہ بھی تو انسان کوگناہ پر آمادہ کرتے ہیں ۔“
مرآۃ المناجیح میں ہے: ”روزہ گنہگاروں کے گناہ معاف کراتا ہے،نیک کار کے درجے بڑھاتا ہے اور ابرار کا قربِ الٰہی زیادہ کرتا ہے۔نیز یہ( رمضان کامہینا)ﷲ کی رحمت،محبت،ضمان،امان اور نورلے کر آتا ہے اس لئے رمضان کہلاتا ہے۔حق یہ ہے کہ ماہ ِرمضان میں آسمانوں کے دروازے بھی کھلتے ہیں جن سےﷲ کی خاص رحمتیں زمین پر اترتی ہیں اور جنّتوں کے دروازے بھی جس کی وجہ سے جنت والے حور و غِلمان کو خبر ہوجاتی ہے کہ دنیا میں رمضان آ گیا اوروہ روزہ داروں کے لیے دعاؤں میں مشغول ہوجاتے ہیں۔حدیث اپنے ظاہر پر ہےکسی تاویل کی ضرورت نہیں۔ماہِ رمضان میں واقعی دوزخ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے اس مہینہ میں گنہگاروں بلکہ کافروں کی قبروں پر بھی دوزخ کی گرمی نہیں پہنچتی۔وہ جومسلمانوں میں مشہور ہے کہ رمضان میں عذابِ قبر نہیں ہوتا اس کا یہی مطلب ہے اورحقیقت میں ابلیس مع اپنی ذُرّیتوں کے قیدکردیا جاتا ہے۔اس مہینہ میں جو کوئی بھی گناہ کرتا ہے وہ اپنے نفسِ امارہ کی شرارت سے کرتا ہے نہ کہ شیطان کے بہکانے سے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1220