Main Icon

باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1216

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی هُرَ يْرَةَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ اَنْفَقَ زَوْجَيْنِ في سَبِيلِ اللهِ نُودِيَ مِنْ اَبْوَابِ الْجَنَّةِ: يَا عَبْدَاللهِ! هَذَا خَيرٌ ،فَمَنْ كَانَ مِنْ اَهْلِ الصَّلٰوةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَ مَنْ كَانَ مِنْ اَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَ مَنْ كَانَ مِنْ اَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ، وَ مَنْ كَانَ مِنْ اَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، قَالَ اَبُو بَكْرٍ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ: بِاَبي اَنْتَ وَ اُمِّي يَا رَسُوْلَ اللهِ! مَا عَلَی مَنْ دُعِيَ مِنْ تِلْكَ الْاَبْوَابِ مِنْ ضَرورةٍ فَهَلْ يُدْعَی اَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْاَبْوَابِ كُلِّهَا؟ فَقَالَ :نَعَمْ، وَ اَرْجُوْ اَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ.

عن ابی هر يرة رضی اﷲ عنہ ان رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم قال: من انفق زوجين في سبيل الله نودي من ابواب الجنة: يا عبدالله! هذا خير ،فمن كان من اهل الصلوة دعي من باب الصلاة، و من كان من اهل الجهاد دعي من باب الجهاد، و من كان من اهل الصيام دعي من باب الريان، و من كان من اهل الصدقة دعي من باب الصدقة، قال ابو بكر رضی اﷲ عنہ: بابي انت و امي يا رسول الله! ما علی من دعي من تلك الابواب من ضرورة فهل يدعی احد من تلك الابواب كلها؟ فقال :نعم، و ارجو ان تكون منهم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”جس نے راہ ِ خدا میں کسی چیز کا جوڑا خرچ کیا، اسے جنت کے دروازوں سے یوں ندا دی جائےگی:”اےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے بندے!یہ دروازہ اچھاہے۔“پس نماز ی کوبابُ الصّلاۃ سے بلایا جائے گا اورجہاد کرنے والے کوبابُ الجِہادسے بلایا جائے گا ۔ روزہ دارکوبابُ الرَّیان سے بلایا جائے گا اور صدقہ دینے والے کوبابُ الصَّدَقہ سے بلایا جائےگا۔‘‘ حضرت سیدنا صدیق اکبررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی :”یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرے ماں باپ آ پ پر قربان! ویسے تواس کی کچھ ضرورت نہیں کہ کسی کو تمام دروازوں سے بلایا جائے ( مقصود دخولِ جنت ہے،وہ ایک دروازہ سے بھی حاصل ہوجائےگا ) لیکن پھر بھی کیا کوئی ایسابھی ہے جسے ان سب دروازوں سے پکاراجائے گا؟“سرکارصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”ہاں ! اور مجھے امیدہے کہ تم انہی میں سے ہو۔ “

شرح حدیث

روزہ دار کی عزت افزائی:فیوض الباری میں ہے:”اس حدیث میں روزہ دارکے فضل وشرف کا بیان ہے کہ اس کا اعزاز یہ ہوگا کہ جنت میں ایک خاص دروازے سے داخل ہوگا اور اِس کے ساتھ ساتھ امیرُا لمومنین اَصْدَقُ الصّادِقِین ، امام الاتْقِیا سیدنا صدیق اکبررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکی عظمت و بزرگی کابیان بھی ہے کہ آپ تمام حسنات و خیرات کےجامع ہیں اورتقوٰی کے نہایت بلندمرتبہ پر فائز ہیں اور آپ کی خصوصیت یہ ہےکہ آپ کوجنّت کے ہر دروازے سے بلایا جائے گا۔ “راہِ خدا میں کسی چیز کا کوئی جوڑاخرچ کرنا:”جس نے راہ ِ خدا میں کسی چیز کا جوڑا خرچ کیا اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا۔“مرآۃ المناجیح میں ہے:”یعنی ایک جنس کی دو چیزیں جیسے دو پیسے دو روپے دو کپڑے دو روٹیاں وغیرہ اور ممکن ہے کہ (یہاں)زَوْجینسے مراد بار بار صدقہ یا دن رات میں صدقہ یا عَلانیہ اور خفیہ صدقہ مراد ہو، ہو سکتا ہے کہ صدقہ سے ساری نیکیاں مراد ہوں(جیسے) دوروزے دو رکعت نماز وغیرہ کیونکہ فقیر کےلئے نفلی نماز وروزہ ایسا ہے جیسے امیر کے لئے خیرات،یعنی جس پر جو عبادت غالب ہوگی وہ جنت کے اسی دروازے سے جائے گا۔عبادت کے غالب ہونے سے مراد نوافل کی زیادتی ہے مثلًا جو شخص نماز فقط فرض و واجب ہی ادا کرتا ہے مگر جہاد کا بہت شوقین ہے ہمیشہ جہاد یا اس کی تیاری میں مشغول رہتا ہے تو وہ جہاد کے راستے سے جنت میں جائے گا۔رَیّان رَیٌّسے بنا جس کے معنی ہیں سرسبزی،سیرانی اور شادابی،چونکہ روزہ دار دنیا میں بحالتِ روزہ خشک لب،تِشنہ دہن رہا اس لئے اس کے واسطے ایسا دروازہ تجویز ہوا جو تشنہ لَبی کا عوض ہوجائے۔ جو شخص ساری عبادات میں اوّل نمبر ہوگا وہ ان سارے دروازوں سے بلایا جائے گا کہ ہر طرف اس کے نام کی دھوم مچ جائے گی اور چونکہ اے صدیق! تم ساری ہی نیکیوں میں طاق ہو لہٰذا تم بھی ان ہی میں سے ہوگے۔
اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ ابوبکر صدیق
رَضِیَ اﷲ عَنْہُعلم وعمل میں بعدِ انبیا ساری خَلْق سے افضل ہیں کہ رَبّ تعالیٰ نے انہیں”اَ تْقٰی“فرمایا یعنی بڑا ہی پرہیز گاراور نبی کریمصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے اپنے مرضِ وفات میں صدیق اکبر کو امام بنایا،امام بڑے عالِم ہی کو بنایا جاتا ہے۔خیال رہے کہ صدیق اکبررَضِیَ اﷲ عَنْہُعام نیکیوں میں سب سے بڑھ کر ہیں اور ربّ تعالیٰ نے بعض خاص نیکیاں آپ کو ایسی عطا فرمائیں جن میں آپ کا کوئی شریک نہیں جیسے حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو اپنے کندھے پر غار ِثور تک لے جانا،اپنے زانو پر سُلانا،اپنے کو سانپ سے کٹوانا وغیرہ۔ جب قرآنِ کریم کی رحل باقی لکڑیوں سے افضل ہے تو جس کا زانو قرآنِ کریم والے کی رِحل بنے وہ تمام خَلق سے افضل ہوگا۔دوسرے یہ کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمہر شخص کے ہر دُنیوی اُخروی حال سے واقف ہیں حتی کہ جانتے ہیں کون جنت میں کہاں جائے گا اور کس دروازہ سے جائے گا؟صحابہ کا یہی عقیدہ تھا ورنہ صدیق اکبررَضِیَ اﷲ عَنْہُحضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے یہ کیوں پوچھتے۔خیال رہے کہ کریموں کا امید دِلانا یقین کے لئے ہوتا ہے۔الفاظِ حدیث سے معلوم ہورہا ہے کہ حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی اُمَّت میں ایسے خوش نصیب لوگ بہت ہوں گے جن کے ناموں کی پکار جنت کے تمام دروازں پرپڑےگی،اس جماعت کے امیرصدیق اکبرہوں گےرَضِیَ اﷲ عَنْہُ۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1216