- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- حدیث نمبر 1216
باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1216
جلد 7
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِی هُرَ يْرَةَ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ اَنْفَقَ زَوْجَيْنِ في سَبِيلِ اللهِ نُودِيَ مِنْ اَبْوَابِ الْجَنَّةِ: يَا عَبْدَاللهِ! هَذَا خَيرٌ ،فَمَنْ كَانَ مِنْ اَهْلِ الصَّلٰوةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَ مَنْ كَانَ مِنْ اَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَ مَنْ كَانَ مِنْ اَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ، وَ مَنْ كَانَ مِنْ اَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، قَالَ اَبُو بَكْرٍ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ: بِاَبي اَنْتَ وَ اُمِّي يَا رَسُوْلَ اللهِ! مَا عَلَی مَنْ دُعِيَ مِنْ تِلْكَ الْاَبْوَابِ مِنْ ضَرورةٍ فَهَلْ يُدْعَی اَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْاَبْوَابِ كُلِّهَا؟ فَقَالَ :نَعَمْ، وَ اَرْجُوْ اَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ.
عن ابی هر يرة رضی اﷲ عنہ ان رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم قال: من انفق زوجين في سبيل الله نودي من ابواب الجنة: يا عبدالله! هذا خير ،فمن كان من اهل الصلوة دعي من باب الصلاة، و من كان من اهل الجهاد دعي من باب الجهاد، و من كان من اهل الصيام دعي من باب الريان، و من كان من اهل الصدقة دعي من باب الصدقة، قال ابو بكر رضی اﷲ عنہ: بابي انت و امي يا رسول الله! ما علی من دعي من تلك الابواب من ضرورة فهل يدعی احد من تلك الابواب كلها؟ فقال :نعم، و ارجو ان تكون منهم.
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”جس نے راہ ِ خدا میں کسی چیز کا جوڑا خرچ کیا، اسے جنت کے دروازوں سے یوں ندا دی جائےگی:”اےاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے بندے!یہ دروازہ اچھاہے۔“پس نماز ی کوبابُ الصّلاۃ سے بلایا جائے گا اورجہاد کرنے والے کوبابُ الجِہادسے بلایا جائے گا ۔ روزہ دارکوبابُ الرَّیان سے بلایا جائے گا اور صدقہ دینے والے کوبابُ الصَّدَقہ سے بلایا جائےگا۔‘‘ حضرت سیدنا صدیق اکبررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی :”یارسولَاﷲ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرے ماں باپ آ پ پر قربان! ویسے تواس کی کچھ ضرورت نہیں کہ کسی کو تمام دروازوں سے بلایا جائے ( مقصود دخولِ جنت ہے،وہ ایک دروازہ سے بھی حاصل ہوجائےگا ) لیکن پھر بھی کیا کوئی ایسابھی ہے جسے ان سب دروازوں سے پکاراجائے گا؟“سرکارصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:”ہاں ! اور مجھے امیدہے کہ تم انہی میں سے ہو۔ “
شرح حدیث
روزہ دار کی عزت افزائی:فیوض الباری میں ہے:”اس حدیث میں روزہ دارکے فضل وشرف کا بیان ہے کہ اس کا اعزاز یہ ہوگا کہ جنت میں ایک خاص دروازے سے داخل ہوگا اور اِس کے ساتھ ساتھ امیرُا لمومنین اَصْدَقُ الصّادِقِین ، امام الاتْقِیا سیدنا صدیق اکبررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُکی عظمت و بزرگی کابیان بھی ہے کہ آپ تمام حسنات و خیرات کےجامع ہیں اورتقوٰی کے نہایت بلندمرتبہ پر فائز ہیں اور آپ کی خصوصیت یہ ہےکہ آپ کوجنّت کے ہر دروازے سے بلایا جائے گا۔ “راہِ خدا میں کسی چیز کا کوئی جوڑاخرچ کرنا:”جس نے راہ ِ خدا میں کسی چیز کا جوڑا خرچ کیا اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا۔“مرآۃ المناجیح میں ہے:”یعنی ایک جنس کی دو چیزیں جیسے دو پیسے دو روپے دو کپڑے دو روٹیاں وغیرہ اور ممکن ہے کہ (یہاں)زَوْجینسے مراد بار بار صدقہ یا دن رات میں صدقہ یا عَلانیہ اور خفیہ صدقہ مراد ہو، ہو سکتا ہے کہ صدقہ سے ساری نیکیاں مراد ہوں(جیسے) دوروزے دو رکعت نماز وغیرہ کیونکہ فقیر کےلئے نفلی نماز وروزہ ایسا ہے جیسے امیر کے لئے خیرات،یعنی جس پر جو عبادت غالب ہوگی وہ جنت کے اسی دروازے سے جائے گا۔عبادت کے غالب ہونے سے مراد نوافل کی زیادتی ہے مثلًا جو شخص نماز فقط فرض و واجب ہی ادا کرتا ہے مگر جہاد کا بہت شوقین ہے ہمیشہ جہاد یا اس کی تیاری میں مشغول رہتا ہے تو وہ جہاد کے راستے سے جنت میں جائے گا۔رَیّان رَیٌّسے بنا جس کے معنی ہیں سرسبزی،سیرانی اور شادابی،چونکہ روزہ دار دنیا میں بحالتِ روزہ خشک لب،تِشنہ دہن رہا اس لئے اس کے واسطے ایسا دروازہ تجویز ہوا جو تشنہ لَبی کا عوض ہوجائے۔ جو شخص ساری عبادات میں اوّل نمبر ہوگا وہ ان سارے دروازوں سے بلایا جائے گا کہ ہر طرف اس کے نام کی دھوم مچ جائے گی اور چونکہ اے صدیق! تم ساری ہی نیکیوں میں طاق ہو لہٰذا تم بھی ان ہی میں سے ہوگے۔
اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ ابوبکر صدیقرَضِیَ اﷲ عَنْہُعلم وعمل میں بعدِ انبیا ساری خَلْق سے افضل ہیں کہ رَبّ تعالیٰ نے انہیں”اَ تْقٰی“فرمایا یعنی بڑا ہی پرہیز گاراور نبی کریمصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے اپنے مرضِ وفات میں صدیق اکبر کو امام بنایا،امام بڑے عالِم ہی کو بنایا جاتا ہے۔خیال رہے کہ صدیق اکبررَضِیَ اﷲ عَنْہُعام نیکیوں میں سب سے بڑھ کر ہیں اور ربّ تعالیٰ نے بعض خاص نیکیاں آپ کو ایسی عطا فرمائیں جن میں آپ کا کوئی شریک نہیں جیسے حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو اپنے کندھے پر غار ِثور تک لے جانا،اپنے زانو پر سُلانا،اپنے کو سانپ سے کٹوانا وغیرہ۔ جب قرآنِ کریم کی رحل باقی لکڑیوں سے افضل ہے تو جس کا زانو قرآنِ کریم والے کی رِحل بنے وہ تمام خَلق سے افضل ہوگا۔دوسرے یہ کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمہر شخص کے ہر دُنیوی اُخروی حال سے واقف ہیں حتی کہ جانتے ہیں کون جنت میں کہاں جائے گا اور کس دروازہ سے جائے گا؟صحابہ کا یہی عقیدہ تھا ورنہ صدیق اکبررَضِیَ اﷲ عَنْہُحضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے یہ کیوں پوچھتے۔خیال رہے کہ کریموں کا امید دِلانا یقین کے لئے ہوتا ہے۔الفاظِ حدیث سے معلوم ہورہا ہے کہ حضورِ انورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی اُمَّت میں ایسے خوش نصیب لوگ بہت ہوں گے جن کے ناموں کی پکار جنت کے تمام دروازں پرپڑےگی،اس جماعت کے امیرصدیق اکبرہوں گےرَضِیَ اﷲ عَنْہُ۔“
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1216