Main Icon

باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1221

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی هُرَ يْرَةَرَضِیَ اﷲ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ الله صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:صُوْمُوْا لِرُؤْيَتِهِ وَاَفْطِرُوا لِرُؤيَتِهِ فَاِنْ غَبِيَ عَلَيْكُمْ فَاَكْمِلُوْا عِدَّةَ شَعْبَانَ ثَلَا ثِينَ. وَفِی رِوَايَةٍ لِمُسْلِم:فَاِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَصُوْمُوْا ثَلَا ثِينَ يَوْمًا.

عن ابی هر يرةرضی اﷲ عنہ ان رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم قال:صوموا لرؤيته وافطروا لرؤيته فان غبي عليكم فاكملوا عدة شعبان ثلا ثين. وفی رواية لمسلم:فان غم عليكم فصوموا ثلا ثين يوما.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”چانددیکھ کر روزہ رکھو اورچانددیکھ کر ہی عید کرو،اگر چاندتم پرمخفی رہےتو شعبان کی گنتی پوری تیس کرلو۔ “مسلم کی ایک روایت میں ہےکہ” اگر تم پر بادل چھا جائیں توتیس دن روزے رکھو۔“

شرح حدیث

اِسلام میں چاند کی اہمیت:فیوض الباری میں ہے:”اکثر عباداتِ اسلامی کامدار چاند پر ہے ، اس لئے ہرمہینے کاچاند دیکھنے کا اہتمام ہونا چاہیےخصوصاً شبِ براءت،رمضان،شوال،عیدالاضحیٰ کے چاندکےلئےتوخاص اہتمام ہونا چاہیے۔ مطلبِ حدیث یہ ہےکہ جب رمضان یا شوال کاچاند ثابت ہوجائے تب روزہ رکھو اورعید مناؤ،شک وشبہ کی بنیاد پر نہ روزہ رکھو نہ عیدمناؤ اور اگر اَبر وغبار کی وجہ سے چاند دکھائی نہ دے تومہینے کا اندازہ کر لو یعنی تیس دن پورے کرلوکیونکہ قمری مہینہ 29 دن سے کم اور30دن سے زیادہ نہیں ہوتا۔ واضح ہو کہ شعبا ن کی29 تاریخ کو چاند کی تلاشوَاجِبْ عَلَی الْکِفَایَہہے، اگر چاند نظر آجائے روزہ رکھ لیں ورنہ شعبان کے تیس دن پورے کرکے روزہ رکھیں۔اسی طرح اگر29رمضان کوچاند نظر نہ آئے تو30 روزے پورے کرکے عید کریں۔بہارِشریعت میں ہے: پانچ مہینوں کا چاند دیکھنا، واجب ِکفایہ ہے:”(1) شعبان(2) رمضان(3) شوال(4) ذیقعدہ(5) ذی الحجہ۔شعبان کا اس لئے کہ اگر رمضان کا چاند دیکھتے وقت اَبر یا غبار ہو تو یہ تیس پورے کر کے رمضان شروع کریں اور رمضان کاروزہ رکھنے کے لیے اور شوال کا روزہ ختم کرنے کے لیے اورذیقعدہ کا ذی الحجہ کےلئے اور ذی الحجہ کا بقرعید کے لیے۔“مدنی گلدستہ’’بارہویں‘‘شریف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے12مدنی پھول
(1) روزہ بہت قدیم عبادت ہے،حضرت سیدناآدم
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسے لے کر ہماری شریعت تک تمام شریعتوں میں روزے فرض تھے،اگرچہ احکام میں فرق تھا۔
(2) بروزِ قیامت روزہ دار جب اپنی قبروں سے اٹھیں گے توان کے منہ سے ایسی خوشبو آئےگی جومشک سے بھی بہتر ہوگی ۔
(3) تمام عبادات و اَعمالِ صالحہ کی جزا فرشتوں کے ذریعے دِلوائی جائے گی مگر روزہ وہ عظیم عبادت ہےجس کاثواب
اﷲ عَزَّ وَجَلَّخود ہی عطا فرمائے گا۔
(4) امامُ الاَتقیاحضرت سیدنا صِدّیقِ اکبر
رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُتمام حَسَنات وخیرات کےجامِع ہیں اورتقوے کے انتہائی مرتبے پر فائز ہیں آپ کی ایک خصوصیت یہ ہےکہ آپ کوجنت کے ہر دروازے سے بلایا جائے گا۔
(5) جنت کے بَابُ الضُّحٰی نامی دروازےسےوہی لوگ داخل ہوں گے جونمازِچاشت کےپابند تھے ۔
(6) جو مسلمان ایک دن کا نفلی روزہ رکھے وہ جہنم سے ستر سال کی مسافت تک دور کردیا جاتا ہے ۔
(7) بروزِقیامت روزہ دارکو ایسا جنتی پھل کھلایا جائے گا جس کی مٹھاس اور ذائقہ شہد جیسا ہوگا۔
(8) اَعمالِ صالحہ کی برکت سے وہ صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں جو
حُقُوقُ اﷲسے متعلق ہوں۔
(9) رمضان شریف میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اورجہنم کے دروازے بندکر دئیے جاتے ہیں۔
(10) رمضا ن میں سرکش شیاطین قید کردئیے جاتے ہیں ،اس مہینے میں جو بھی گناہ ہوتے ہیں وہ نفسِ اَمّارہ کی شرارت سے ہوتے ہیں نہ کےشیطان کے بہکانے سے۔
(11) روزے سے گنہگاروں کے گناہ معاف ہوتے ہیں جبکہ نیکوں کے درجات بڑھتے ہیں۔
(12) شعبان،رمضان ، شوال،ذوالقعدہ، ذوالحجہ،ان پانچ مہینوں کا چاند دیکھنا
واجِبْ عَلَی الْکِفَایَہہے۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں رمضان المبارک کے روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1221