باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے

فیضان ریاض الصالحین جلد 5

حضرت سالِم بن عبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُاپنے والد حضرت عبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کرتے ہیں کہ حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا کہ رسولُاللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب مجھے کچھ عطا فرماتے تو میں عرض کردیا کرتا کہ آپ یہ مال اسے عطا فرمادیں جو آپ کے نزدیک مجھ سے زیادہ حاجت مندہو۔ توآپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے:’’جب تمہارے پاس کوئی مال بغیر طمع اور بغیر مانگے آئے تو اسے قبول کرلواوراپنی مِلک و مال میں داخل کرلو۔ چاہے تو خود کھالو اور چاہے تو صدقہ کردو اور اگر اس طرح (یعنی بغیر طمع اور بغیر مانگے) مال نہ آئے تو اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ لگاؤ۔‘‘(راوی حدیث) حضرت سَیِّدُنَا سالِم بن عبداللہرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ ’’(ان کے والد ماجد) حضرت سَیِّدُنا عبداللہبن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَاکسی سے کچھ مانگا نہ کرتےتھے لیکن جو شے بغیر مانگےآجاتی اسے رد (یعنی لوٹایا) بھی نہ کرتے تھے۔‘‘

عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللہ بْنِ عُمَرَ عَنْ اَبِیْہِ عَبْدِ اللہ بْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِيْنِي الْعَطَاءَ فَاَقُوْلُ:اَعْطِهِ مَنْ ھُوَ اَفْقَرُ اِلَيْهِ مِنِّي فَقَالَ:خُذْهُ اِذَاجَاءَكَ مِنْ هٰذَا الْمَالِ شَیْ ءٌ وَاَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ. فَتَمَوَّلْہُ فَاِنْ شِئْتَ کُلْہُ وَاِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْ بِہِ وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ. قَالَ سَالِمٌ: فَکَانَ عَبْدُ اللہ لَایَسْاَلُ اَحَدًا شَیْئًا وَلَایَرُدُّ شَیْئًا اُعْطِیَہُ.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 538 ، باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے