رب کی بندے سے محبت

فیضان ریاض الصالحین جلد 4

ترجمہ : حضرت ِسَیِّدُناابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور نبی رحمتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے : ’’جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی تو میرا اس کے خلاف اِعلانِ جنگ ہے ۔ میرا بندہ جن چیزوں کے ذریعے میرا قُرب حاصل کرتا ہے ان میں فرائض مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قُرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں اور میں اس کا کان ہوجاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اوراس کا پاؤں ہوجاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرورعطا کروں گااور اگر وہ مجھ سے پناہ چاہے تو میں اسے ضرور پناہ دوں گا ۔ ‘‘ ( )

عَنْ اَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : اِنَّ اللَّهَ قَالَ مَنْ عَادَى لِيْ وَلِيًّا فَقَدْآذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ وَمَا تَقَرَّبَ اِلَىَّ عَبْدِى بِشَىْءٍ اَحَبَّ اِلَىَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ وَمَا يَزَالُ عَبْدِىْ يَتَقَرَّبُ اِلَىَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰى أُحِبَّهُ فَاِذَا اَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِى يَسْمَعُ بِهِ وَبَصَرَهُ الَّذِى يُبْصِرُ بِهِ وَيَدَهُ الَّتِى يَبْطِشُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِى يَمْشِىْ بِهَا وَ اِنْ سَاَلَنِى لَاُعْطِيَنَّهُ وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِىْ لَاُعِيْذَنَّهُ . ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 386 ، رب کی بندے سے محبت

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّجب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبریل کو ندا دیتا ہے کہ بے شکاللہ عَزَّ وَجَلَّفلاں بندے سے محبت فرماتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو چنانچہ جبریل بھی اس سے محبت کرتے ہیں پھر حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَامآسمان والوں میں ندا کرتے ہیں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّفلاں شخص سے محبت فرماتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو ، پس آسمان والے بھی اس سے محبت کرتے ہیں پھر زمین میں اسے مقبول بنادیا جاتا ہے ۔ ‘‘ مسلم شريف کی روايت میں ہے : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ دو عالم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ”اللہ عَزَّ وَجَلَّجب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامکو بلاکر فرماتا ہے کہ بے شک میں فلاں آدمی سے محبت کرتا ہوں لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو ۔ چنانچہ جبریل امین بھی اس سے محبت کرتے ہیں پھر حضرت جبریل
عَلَیْہِ السَّلَامآسمان والوں میں ندا کرتے ہیں کہ ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّفلاں شخص سے محبت فرماتا ہے لہذا تم بھی اس سے محبت کرو ۔ ‘‘ پس آسمان والے بھی اس سے محبت کرتے ہیں ، پھر زمین میں اسے مقبول بنادیا جاتا ہے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّجب کسی بندے کو ناپسند فرماتاہے تو جبریلعَلَیْہِ السَّلَامکو بلاکر فرماتا ہے کہ میں فلاں شخص کو ناپسند کرتا ہوں لہٰذا تم بھی اسے ناپسند کرو ۔ چنانچہ جبریلعَلَیْہِ السَّلَامبھی اسے ناپسند کرتے ہیں پھر وہ آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّفلاں شخص کو ناپسند فرماتا ہے لہٰذا تم لوگ بھی اسے ناپسند کرو ۔ ‘‘ پھر آسمان والے بھی اس سے ناپسند کرتے ہیں پھر زمین میں بھی اس کے لیے ناپسندیدگی رکھ دی جاتی ہے ۔ ‘‘

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِىِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ : اِذَا اَحَبَّ اللَّهُ تَعَالٰی الْعَبْدَ نَادَى جِبْرِيلَ : اِنَّ اللَّهَ تَعَالٰی يُحِبُّ فُلاَنًا فَاَحْبِبْهُ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيْلُ فَيُنَادِى فِى أَهْلِ السَّمَاءِ : اِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَاَحِبُّوهُ فَيُحِبُّهُ اَهْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِى الْاَرْضِ. ( ) وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم : اِنَّ اللَّهَ تَعَالٰی اِذَا اَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيْلَ فَقَالَ : اِنِّي اُحِبُّ فُلَانًا فَاَحْبِبْهُ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي السَّمَاءِ فَيَقُولُ : اِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَاَحِبُّوْهُ فَيُحِبُّهُ اَهْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْاَرْضِ وَاِذَا اَبْغَضَ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَيَقُولُ : اِنِّي اُبْغِضُ فُلَانًا فَاَبْغِضْهُ فَيُبْغِضُهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَاءِ اِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ فُلَانًا فَاَبْغِضُوهُ فَيُبْغِضُہُ اَھْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ تُوضَعُ لَهُ الْبَغْضَاءُ فِي الْاَرْضِ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 387 ، رب کی بندے سے محبت

ترجمہ : اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ حضور نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک شخص کوکسی لشکر کا امیر بناکر بھیجا ۔ وہ امیر اپنے اصحاب کو نماز پڑھاتا تو اپنی قراءت کا اختتام (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ)پر کرتا ۔ جب وہ لشکر واپس لوٹا تو اس کے ساتھیوں نے حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اِس بات کا ذکر کیا ۔ رسولِ اَکرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’اس سے پوچھو ! وہ ایسا کیوں کرتاتھا؟ ‘‘ انہوں نے اس سے پوچھا تو اس نے جواب دیا : ’’اس میں رحمٰنعَزَّ وَجَلَّکی صفت کا بیان ہے اس لیے میں اس کی تلاوت پسند کرتا ہوں ۔ ‘‘ حضور نبی پاک ، صاحب لولاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ اسے خبر دے دو کہاللہ عَزَّ وَجَلَّبھی اس سے محبت فرماتاہے ۔ ‘‘

عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا أَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم بَعَثَ رَجُلاً عَلَى سَرِيَّةٍ فَكَانَ يَقْرَاُ لِاَصْحَابِهِ فِىْ صَلاَتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِـ(قُلْ هُوَ اللَّهُ اَحَدٌ) فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوْا ذَلِكَ لِرَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم فَقَالَ : سَلُوْهُ لِاَىِّ شَىْءٍ يَصْنَعُ ذٰلِكَ؟ فَسَاَلُوْهُ فَقَالَ : لِاَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمٰنِِ فَاَنَا اُحِبُّ اَنْ اَقْرَاَ بِهَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم : اَخْبِرُوْهُ اَنَّ اللَّهَ تَعَالٰی يُحِبُّهُ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 388 ، رب کی بندے سے محبت