- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 4
- رب کی بندے سے محبت
- حدیث نمبر 387
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِىِّ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم قَالَ : اِذَا اَحَبَّ اللَّهُ تَعَالٰی الْعَبْدَ نَادَى جِبْرِيلَ : اِنَّ اللَّهَ تَعَالٰی يُحِبُّ فُلاَنًا فَاَحْبِبْهُ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيْلُ فَيُنَادِى فِى أَهْلِ السَّمَاءِ : اِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلاَنًا فَاَحِبُّوهُ فَيُحِبُّهُ اَهْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِى الْاَرْضِ. ( ) وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم : اِنَّ اللَّهَ تَعَالٰی اِذَا اَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيْلَ فَقَالَ : اِنِّي اُحِبُّ فُلَانًا فَاَحْبِبْهُ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي السَّمَاءِ فَيَقُولُ : اِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَاَحِبُّوْهُ فَيُحِبُّهُ اَهْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْاَرْضِ وَاِذَا اَبْغَضَ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ فَيَقُولُ : اِنِّي اُبْغِضُ فُلَانًا فَاَبْغِضْهُ فَيُبْغِضُهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَاءِ اِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ فُلَانًا فَاَبْغِضُوهُ فَيُبْغِضُہُ اَھْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ تُوضَعُ لَهُ الْبَغْضَاءُ فِي الْاَرْضِ. ( )
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ عن النبى صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قال : اذا احب الله تعالی العبد نادى جبريل : ان الله تعالی يحب فلانا فاحببه فيحبه جبريل فينادى فى أهل السماء : ان الله يحب فلانا فاحبوه فيحبه اهل السماء ثم يوضع له القبول فى الارض. ( ) وفي رواية لمسلم : قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : ان الله تعالی اذا احب عبدا دعا جبريل فقال : اني احب فلانا فاحببه فيحبه جبريل ثم ينادي في السماء فيقول : ان الله يحب فلانا فاحبوه فيحبه اهل السماء ثم يوضع له القبول في الارض واذا ابغض عبدا دعا جبريل فيقول : اني ابغض فلانا فابغضه فيبغضه جبريل ثم ينادي في أهل السماء ان الله يبغض فلانا فابغضوه فيبغضہ اھل السماء ثم توضع له البغضاء في الارض. ( )
حدیث ترجمہ
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّجب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبریل کو ندا دیتا ہے کہ بے شکاللہ عَزَّ وَجَلَّفلاں بندے سے محبت فرماتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو چنانچہ جبریل بھی اس سے محبت کرتے ہیں پھر حضرت جبریلعَلَیْہِ السَّلَامآسمان والوں میں ندا کرتے ہیں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّفلاں شخص سے محبت فرماتا ہے لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو ، پس آسمان والے بھی اس سے محبت کرتے ہیں پھر زمین میں اسے مقبول بنادیا جاتا ہے ۔ ‘‘ مسلم شريف کی روايت میں ہے : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ دو عالم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ”اللہ عَزَّ وَجَلَّجب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامکو بلاکر فرماتا ہے کہ بے شک میں فلاں آدمی سے محبت کرتا ہوں لہٰذا تم بھی اس سے محبت کرو ۔ چنانچہ جبریل امین بھی اس سے محبت کرتے ہیں پھر حضرت جبریل
عَلَیْہِ السَّلَامآسمان والوں میں ندا کرتے ہیں کہ ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّفلاں شخص سے محبت فرماتا ہے لہذا تم بھی اس سے محبت کرو ۔ ‘‘ پس آسمان والے بھی اس سے محبت کرتے ہیں ، پھر زمین میں اسے مقبول بنادیا جاتا ہے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّجب کسی بندے کو ناپسند فرماتاہے تو جبریلعَلَیْہِ السَّلَامکو بلاکر فرماتا ہے کہ میں فلاں شخص کو ناپسند کرتا ہوں لہٰذا تم بھی اسے ناپسند کرو ۔ چنانچہ جبریلعَلَیْہِ السَّلَامبھی اسے ناپسند کرتے ہیں پھر وہ آسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّفلاں شخص کو ناپسند فرماتا ہے لہٰذا تم لوگ بھی اسے ناپسند کرو ۔ ‘‘ پھر آسمان والے بھی اس سے ناپسند کرتے ہیں پھر زمین میں بھی اس کے لیے ناپسندیدگی رکھ دی جاتی ہے ۔ ‘‘
شرح حدیث
رب تعالٰی کی بندے سے محبت کا معنٰی :رب تعالیٰ کی اپنے بندے سے محبت کے شارحین نے مختلف معنی بیان فرمائے ہیں ۔ چنانچہعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ”اللہ عَزَّ وَجَلَّبندے سے اس طور پر محبت فرماتا ہے کہ وہ اس سے بھلائی کرنے ، اسے ہدایت دینے اور اس پر انعام کرنے اور اس پر رحمت کا ارادہ فرماتا ہے ۔ “ ( )مُفَسِّر شہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ظاہر یہ ہے کہ بندہ سے مراد مؤمن انسان ہے ، محبت سے مراد یا تو اس کی بھلائی کا ارادہ فرمانا ہے تو یہ محبت ربّ کی ذاتی صفت ہے یا اس بندہ پر کرم و احسان فرمانا ہے تو یہ صفت فعل ہے لہذا حدیث ظاہر ہے اس پر علم کلام کا کوئی اعتراض نہیں ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’بندے سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی محبت کا معنی یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے بندے سے بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اور اسے اجروثواب عطا فرماتا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥جبریل امین کی بندے سے محبت کا معنٰی :جباللہ عَزَّ وَجَلَّبندے کو اپنا محبوب بنالیتا ہے تو جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامکو بلاکر اپنی محبت کا اظہار فرماتا ہے ۔ چونکہ حضرت سیدنا جبریلامینعَلَیْہِ السَّلَامتمام فرشتوں سے افضل ہیں ، نیز جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامہی
خالق و مخلوق کے درمیان سفیر ہیں اور حضرات انبیاءِکرامعَلَیْہِمُ السَّلَامپر وحی لانے والے ۔ اس لیے ان سے ہی یہ فرمایا جاتا ہے ، بلانے سے مراد انہیں مطلع فرمانے کے لیے ندا فرمانا ہے ۔ ( ) سیدنا جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَاماور فرشتوں کی بندے سے محبت کا معنی بیان کرتے ہوئےعَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ملائکہ کی بندے سے محبت کا معنی یہ ہے کہ وہ ملائکہ اس بندے کے لیے استغفار کرتے ہیں ، اور اس کے لیے دنیا وآخرت کی خیر کا ارادہ کرتے ہیں ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حضرت سیدنا جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامکی بندے سے محبت کے دو احتمالات ہیں : ایک یہ کہ وہ اس بندے کے لیے استغفار کریں ، اس کی تعریف بیان کریں اور اس کے لیے دعا کریں ۔ دوسرا یہ کہ محبت کے وہی ظاہری معنیٰ مراد لیے جائیں جو دیگر مخلوق کی محبت کے لیے جاتے ہیں یعنی دل کا محبوب کی جانب مائل ہونا اور اس سے ملنے کا اشتیاق ہونا ۔ سیدنا جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامکی اس بندے سے محبت کا سبب یہ ہوتا ہے کہ وہ بندہ اپنے ربّ تعالیٰ کا مطیع وفرمانبردار اور محبوب ہوتا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥محبت کی تین اَقسام کا بیان :عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’محبت کی تین قسمیں ہیں : ( 1 ) محبت الٰہی ( 2 ) محبت روحانی ( 3 ) اور محبت طبیعی ۔ مذکورہ حدیث پاک میں تینوں اَقسام کا بیان ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکی اپنے بندے سے محبت ، محبت الٰہی ہے ۔ سیدنا جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَاماور ملائکہ کی بندے سے محبت ، محبت روحانی ہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندوں کی اُس محبوب بندے سے محبت محبت طبیعی ہے ۔ ‘‘ ( )
¥زمین میں بندے کی مقبولیت :زمین میں بندے کی مقبولت کی وضاحت کرتے ہوئےعَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی
فرماتے ہیں : ’’ مراد یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندوں کے دل اُسے قبول کرلیتے ہیں ، اُس سے محبت کرتے ہیں ، اُس کی طرف مائل ہوجاتے ہیں اور اُس سے راضی ہوجاتے ہیں ۔ اِس سے یہ بھی سمجھ میں آیا کہ کسی بندے سے لوگوں کا محبت کرنا یہ اِس بات کی علامت ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّبھی اُس سے محبت فرماتا ہے کیونکہ جسے مسلمان اچھا سمجھیں وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں بھی اچھا ہی ہوتا ہے ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ مراد یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّاس بندے کی لوگوں کے دلوں میں محبت ، اس کے لیے بھلائی اور اس کی رضا ڈال دیتا ہے اور لوگ اس کی غیرموجودگی میں اس کے ذکر کو اچھا سمجھتے ہیں جیسا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی اپنے نیک بندوں اور بڑے بڑے ائمہ حضرات کے حق میں عادت جاری ہے کہ لوگ اُن کی غیر موجودگی میں اُن کے ذکرِ خیر کو اچھا سمجھتے ہیں ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’مطلب یہ ہے کہ بندگانِ خدا اُس کے لیے بھلائی کاعقیدہ رکھتے ہیں اور جہاں تک ممکن ہو اس سے شر کو دور کرنے کا ارادہ کرتے ہیں ۔ ‘‘ ( )زمین والوں سے کون مراد ہے ؟مُفَسِّرشہِیر،مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’زمین سے مراد زمینی باشندے انسان ہیں یا جن و اِنس دونوں مگر وہ جن و اِنس جو اہل محبت سے ہوں ۔ جو بہ شکل اِنسان جانور ہیں وہ محبت نہ کریں تو نہ کریں ۔ چنانچہ حضراتِ انبیاء اولیاء ، حضرات صحابہ و اہل بیت کے بہت لوگ دشمن ہیں ، یہ لوگ اہل محبت اور دل والے نہیں ، لباس آدمی میں شیر بھیڑیئے ہیں ۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے دِل اُس بندے کی طرف کھنچنے لگتے ہیں وہ دِلوں کا مقناطیس بن جاتا ہے ، رب تعالیٰ فرماتاہے : (αاِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا(۹۶))(پ۱۶ ،مریم:۹۶ ) (ترجمۂ کنزالایمان: ’’بے شک وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے ، عنقریب ان کے لیے رحمن محبت کر دے گا ۔ ‘‘ ) یہ حدیث اِس آیت کی شرح ہے ۔ ( )
¥ربّ تعالٰی کی بندے سے ناپسندیدگی کامعنی :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیعلامہ نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے حوالے سے بیان فرماتے ہیں کہ’’ربّ تعالیٰ کی اپنے بندے سے ناپسندیدگی کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ اسے عذاب دینے اور اس کی بدبختی کا اِرادہ فرماتا ہے ۔ ‘‘ ( )قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں : ’’ معنی یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّاسے عذاب دینے اور دنیا وآخرت میں اس کی تباہی بربادی کا ارادہ فرماتا ہے ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّاُس کے لیے حددرجہ ذلت ورُسوائی کا اِرادہ فرماتا ہے ، اُس سے نظر رحمت کو پھیرنے اور اُسے اپنی رحمت سے دُور کرنے کا اِرادہ فرماتا ہے ۔ ‘‘ ( )
¥جبریل امین کی بندے سے ناپسندیدگی :سیدنا جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامیا ملائکہ کی بندے سے ناپسندیدگی کی وضاحت کرتے ہوئےعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ناپسندیدگی کی سیدنا جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامیا دیگر فرشتوں کی طرف نسبت کے دو معنی ہوسکتے ہیں : ( 1 ) حقیقی معنیٰ یعنی قلبی ناپسندیدگی اور اندرونی نفرت ( کہ جس طرح بندے ایک دوسرے سے قلبی اور اندرونی طور پرنفرت کرتے ہیں ویسے ہی فرشتے بھی اس شخص سے نفرت کرتے ہیں ۔ ) ( 2 ) مجازی معنیٰ یعنی اس بندے کے خلاف دھتکارے جانے کی بددعا کرنا اور ناپسندیدگی کی دیگر اقسام ۔ ‘‘ ( )
¥دنیا میں بندے کے لیے ناپسندیدگی :علامہ عبد الرؤف مناویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’دنیا میں بندے کے لیے ناپسندیدگی رکھنے سے مراد یہ ہے کہ ساری دنیا والے اُس سے نفرت کرتے ہیں ، اُس کی طرف نفرت بھری نگاہوں سے دیکھتے ہیں ، لوگوں کے دلوں سے اس کی ہیبت ختم ہوجاتی ہے اور لوگوں کو کوئی تکلیف پہنچائے بغیر اس کی تعظیم وتکریم
دِلوں سے ختم ہوجاتی ہے ۔ ‘‘ ( ) حضرت سیدنا جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَامآسمان والوں میں اعلان کرتے ہیں کہ ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّفلاں شخص کو ناپسند فرماتا ہے سو تم لوگ بھی اسے ناپسند کرو ۔ ‘‘مُفَسِّرشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یعنی اے آسمان والو فلاں بدنصیب انسان سےاللہتعالیٰ ناراض ہے اس پر غضب کرنا چاہتا ہے تم اس سے نفرت کرو اس کے لیے بددعائیں کرو ۔ ایسے شخص سے فرشتے نفرت کرتے ہیں اسے بددعائیں دیتے ہیں اور دل والے محبت والے انسانوں کے دلوں میں قدرتی طور پر اس سے نفرت ہوجاتی ہے اگر کچھ برے لوگ اس کی طرف مائل ہوں تو اس کا اعتبار نہیں ۔ ‘‘ ( )
¥اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا والے کام :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک میں ہمارے لیے بے شمار عبرت کے مدنی پھول ہیں ، بہت خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا اور محبوبیت نصیب ہوجاتی ہے ، رب تعالیٰ ان سے راضی ہوجاتا ہے ، رب تعالیٰ ان سے محبت فرماتا ہے ، آسمان والے یعنی ملائکہ ان سے محبت کرتے ہیں ، زمین والے بھی ان سے محبت کرتے ہیں ، یقیناً ایسے لوگ دُنیا وآخرت دونوں میں کامیاب ہوگئے ، دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کی بھی اُنہیں سُرخُروئی نصیب ہوگئی اور بہت بدنصیب ہیں وہ لوگ جن سے ان کا ربّ تعالیٰ ناراض ہوجاتا ہے ، اُن کا خالق ومالکعَزَّ وَجَلَّانہیں ناپسند فرماتا ہے ، اُس کے فرشتے ناپسند کرتے ہیں ، دنیا میں اس کے لیے ناپسندیدگی رکھ دی جاتی ہے ۔ یقیناً ایسے لوگوں کی دنیا بھی تباہ ہوگئی اور آخرت بھی برباد ہوگئی ، ہمیشہ ہمیشہ کی ذِلَّت ورُسوائی اُن کا مقدر بن گئی ۔ مگرآہ ! ہمیں نہیں معلوم کہ ہماللہ عَزَّ وَجَلَّکے پسندیدہ بندے ہیں یا نہیں؟ ، ہم سے ہمارا ربّعَزَّ وَجَلَّراضی ہے یا نہیں؟ ہم سے آسمان والے یعنی فرشتے محبت کرتے ہیں یا نہیں؟ ہم سے دنیا والے حقیقی محبت کرتے ہیں یا نہیں؟ ہمارے لیے دنیا میں پسندیدگی رکھ دی گئی ہے یا نفرت؟ یقیناً اپنی زندگی کو شریعت کے مطابق گزارنے میں ہیاللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رضا ہے ۔ کاش ! ہم بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رضا میں اپنی زندگی کوبسر کرنے والے بن جائیں ، اپنے ہر ہر کام کو سنتوں کے مطابق گزارنے والے بن جائیں ۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہعَزَّ وَجَلَّتبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اِسلامی کے مہکے مہکے مدنی ماحول میں بکثرت سنتیں سیکھی اور سکھائی جاتی ہیں ،اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کا عملی طریقہ سکھایا جاتاہے ۔ آپ بھی دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہو جائیے ۔ امیر اہلسنتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکے عطا کردہ اس مدنی مقصد کے تحت زندگی گزارئیے کہ ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ‘‘ مدنی قافلوں میں سفر کو اپنا معمول بنالیجئے ، مدنی انعامات کو اپنی زندگی میں نافذ کیجئے ،اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی برکت سے پابند سنت بننے ، گناہوں سے نفرت کرنے ،اللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رضا کے مطابق زندگی گزارنے اور ایمان کی حفاظت کے لیے کڑھنے کا مدنی ذہن بنے گا ۔اِنْ شَآءَ اللہعَزَّ وَجَلَّمدنی گلدستہ
’’مسلمین ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1)خوش بخت ہیں وہ لوگ جن سے ان کا ربّ تعالیٰ محبت فرماتا ہے ۔
(2) جس سےاللہ عَزَّ وَجَلَّمحبت فرماتا ہے ، اس سے جبریل امینعَلَیْہِ السَّلَام، سارے فرشتے اوردنیا والے بھی محبت کرتے ہیں ، اُس کی عزت واحترام کرتے ہیں ، اُس کے ذکر کو اچھا جانتے ہیں ۔
(3) جس بندے سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے فرشتے محبت کرتے ہیں تو وہ فرشتے اس کے لیے استغفار کرتے ہیں ۔
(4) بدبخت ہیں وہ لوگ جنہیں ربعَزَّ وَجَلَّناپسند کرتا ہے ، یقیناًدنیا وآخرت کی تباہی وبربادی ان کا مقدر ہے ۔
(5) رب تعالیٰ کا ناپسندیدہ تمام فرشتوں اورساری دنیا والوں کابھی ناپسندیدہ ہے ۔
(6) ہمیشہاللہورسول کی رضا والے کاموں کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں اپنی رضا والے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، اپنا پسندیدہ بندہ بنائے ۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 4 , حدیث نمبر: 387