Main Icon

باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 164

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْہُ اَنَّ رَسُوْ لَ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَمَرَ بِلَعْقِ الْاَصَابِعِ وَالصَّحْفَةِ وَقَالَ: اِنَّكُمْ لَا تَدْرُوْنَ فِي اَيِّهَا الْبَرَكَةُ. وَ فِی رِوَایَةٍ لَہُ: اِذَا وَقَعَتْ لُقْمَةُ اَحَدِكُمْ فَلْيَاْخُذْهَا فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ اَذًى، وَلْيَاْكُلْهَا، وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، وَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَ اَصَابِعَهُ. فَاِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي اَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ.
وَ فِی رِوَایَةٍ لَہُ: اِنَّ الشَّيْطَانَ يَحْضُرُ اَحَدَكُمْ عِنْدَ كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَاْنِهِ حَتَّى يَحْضُرَهُ عِنْدَ طَعَامِهِ فَاِذَا سَقَطَتْ مِنْ اَحَدِكُمْ اللُّقْمَةُ فَلْيُمِطْ مَا كَانَ بِهَا مِنْ اَذًى فَلْيَاْ كُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ. ( )

عنہ ان رسو ل اللہ صلى الله عليه وسلم امر بلعق الاصابع والصحفة وقال: انكم لا تدرون في ايها البركة. و فی روایة لہ: اذا وقعت لقمة احدكم فلياخذها فليمط ما كان بها من اذى، ولياكلها، ولا يدعها للشيطان، ولا يمسح يده بالمنديل حتى يلعق اصابعه. فانه لا يدري في اي طعامه البركة.
و فی روایة لہ: ان الشيطان يحضر احدكم عند كل شيء من شانه حتى يحضره عند طعامه فاذا سقطت من احدكم اللقمة فليمط ما كان بها من اذى فليا كلها ولا يدعها للشيطان. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُناجابررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہرسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انگلیاں اورتھال چاٹنے کا حکم ارشاد فرمایااور فرمایا کہ ’’ تم نہیں جانتے کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔ ‘‘ ایک اورروایت میں ہے: ’’ جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے توچاہیے کہ اسے اٹھالے، اس پر جو مٹی وغیرہ لگ جائے، اسےصاف کرکے کھالےاور اسے شیطان کے ‏لیے نہ چھوڑےاور اپنے ہاتھ تولیے یا رومال سے اس وقت تک نہ پونچھے جب تک کہ انگلیوں کو چاٹ نہ لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔ ‘‘ ایک اور روایت میں ہے: ’’ بے شک شیطان تم میں سے ہر ایک کے پاس اُس کے ہر معاملے میں آتا ہے یہاں تک کہ کھانے کے وقت بھی آتا ہے، پس جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو چاہیے کہ اسے صاف کرکے کھالےاورشیطان کے ‏لیے نہ چھوڑے۔ ‘‘

شرح حدیث

کھانے کی سنتیں :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اُن احادیث میں کھانے کی سنتوں میں سے چند کا ذکر ہے: (1) انگلیاں چاٹنا تاکہ کھانے کی برکت کی حفاظت رہے اور ہاتھ بھی صاف ہوں ۔ (2) تین انگلیوں سے کھانا، ان کے ساتھ چوتھی اور پانچویں انگلی نہ ملائی جائے ہاں اگر کوئی عذر ہے مثلاً شوربا یا ایسا سالن ہے جسے تین انگلیوں سے کھانا ممکن نہیں (تو تین سے زیادہ انگلیوں سےبھی کھا سکتے ہیں ) ۔ (3) کھانے کے برتن کو (انگلی سے) چاٹ (کر صاف کر) لینا۔ (4) لقمہ گر جائے تو اسے صاف کر کے کھا لینا، یہ اس وقت ہے جب لقمہ ناپاک جگہ پر نہ گرا ہو، اگر ناپاک جگہ پر گر جائے تو وہ ناپاک ہوجائے گااور اس کو دھونا ضروری ہے پھر اگر اس کو کھایا نہ جاسکتا ہو تو کسی جانور کو کھلا دیں ، اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑیں ۔ (5) ہاتھ کو رومال سے پونچھنا جائز ہے لیکن سنت یہ ہے کہ پہلے اسے اچھی طرح چاٹ لیا جائے۔ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ شیطان تم میں سے ہر کسی کے ساتھ ہوتا ہے۔ ‘‘ اس میں لوگوں کو اس بات سے ڈرانا اور تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ شیطان اِنسان کے ہر کام میں دخل اندازی کرتا ہے پس انسان کو چاہیےکہ وہ ہوشیار رہےاورشیطان (کے شر) سے بچے۔ ‘‘ ( )
¥
برکت کا معنی:حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَھَّابفرماتے ہیں : ’’ تم نہیں جانتے کہ کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔ اس کا حقیقی معنی تواللہ عَزَّ وَجَلَّہی بہتر جانتا ہے۔لیکن یہاں برکت سےمرادکم کھانے کا زیادہ لوگوں کوکفایت کرجانااور اس کھانے کے ذریعے تقویٰ حاصل ہونا ہے۔جبکہ برکت کی اصل تو کسی چیز کا زیادہ ہو جانا اور اس میں وُسعت (یعنی کشادگی ) کا پیدا ہو جاناہے۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمتکبرین کا طریقہ:اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ لقمہ گر جائے تو اسے اٹھا کر کھا لے، شیطان کے ‏لیے نہ چھوڑے۔جو لقمہ چھوڑا جائے وہ شیطان کے ‏لیے ہوجاتا ہے اس لیےکہ اس میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمت کا ضِیاع اوربغیر کسی وجہ کے اس کی تحقیر ہےاور پھر یہ متکبرین کا طریقہ ہے کیونکہ غالب طور پر اگر کسی گرے ہوئے لقمے کو چھوڑا جاتا ہے تو اس کی وجہ تکبر ہی ہوتی ہے اور تکبر شیطان کی صفت ہے۔ ‘‘ ( )¥کھانے کا ضِیاع:مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ کھاتے پیتے وقت، پیشاب پاخانہ نماز و دعاحتی کہ اپنی بیوی سے صحبت کرتے وقت بھی قرینی شیطان انسان کے ساتھ رہتا ہے۔ساتھ ہی کھاتا پیتا حتی کہ ساتھ ہی صحبت کرتا ہے۔جس سے کھانے میں بہت بے برکتی ہوتی ہے اور اولاد بے ادب سرکش ہوتی ہے۔ اگر ان اوقات میںبِسْمِ اللہپڑھ لی جائے تو کھانوں میں برکت ہوتی ہے، اولاد نیک و صالح اور باادب پیدا ہوتی ہے۔اگر پاخانہ جاتے وقتبِسْمِ اللہپڑھ لی جائے تو شیطان اس کا سِتر نہیں دیکھ سکتا۔اگر گرے ہوئے لقمہ میں مٹی وغیرہ پاک چیز لگ گئی ہے تو اسے صاف کر کے لقمہ کھائے اور اگر نجاست لگ گئی ہے تو دھوکر کھالے۔ اگر دھل نہ سکے تو کتے بلی کو کھلادے، یوں ہی نہ چھوڑ دے کہ اس میں مال ضائع کرنا ہے اور ربّتعالٰیکی نعمت کی ناقدری ہےکہ اس چھوڑے ہوئے لقمے کو یا شیطان کھا ہی لےگا یا اس کے ضائع ہونے پر خوش ہوگا۔ شیطان (کے لیے نہ چھوڑے ) کے یہ دونوں معنیٰ ہو سکتے ہیں ۔لہذا کچھ بھی نہ چھوڑے، سب ہی چاٹ لے، اگر فی آدمی ایک ماشہ کھانا بھی برتن میں لگا رہا جو برتن دھوتے ہوئے نالیوں میں گیا تو حساب لگالو کہ جس شہر میں آٹھ دس لاکھ آدمی رہتے ہوں تو دو 2دفعہ کتنا کھانا نالیوں میں جاتا ہے۔یہ فضول خرچی بھی ہے، مال ضائع کرنا بھی، کھانے کی بےادبی بھی۔ اس ‏لیے کچھ بھی نہ چھوڑو، برتن کواچھی طرح صاف کرو، کھانے کا احترام و ادب یہ ہی ہے یا اتنا چھوڑو کہ دوسرا آدمی کھا سکے۔ ‘‘ ( )تنگی رزق کی ایک وجہ :شیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارقادری رضوی ضیائیدامَتْ بَرَکا تُھُمُ الْعَالِیَۃفرماتے ہیں : ’’ آج کل رِزْق کی بے قدری اور بے حُرمتی سے کون سا گھر خالی ہے، بنگلے میں رہنے والے اَرَبْ پَتِی سے لے کر جھونپڑی میں رہنے والے مزدورتک اس بے احتیاطی کا شکار نظر آتے ہیں ، شادی میں قِسْم قِسْم کے کھانوں کے ضائع ہونے سے لے کر گھروں میں برتن دھوتے وقت جس طرح سالن کاشوربا، چاول اوران کے اَجْزاء بہاکرمَعَاذ اللہنالی کی نذر کردیے جاتے ہیں ، ان سے ہم سب واقف ہیں ، کاش رِزْق میں تنگی کے اس عظیم سبب پر ہماری نظرہوتی۔اُمُّ المؤمنین عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں ، تاجدارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے مکانِ عالیشان میں تشریف لائے، روٹی کا ٹکڑا پڑا ہوا دیکھا، اس کولے کر پونچھا پھر کھالیا اور فرمایا: ’’ عائشہ (رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا) اچھی چیز کا احترام کرو کہ یہ چیز (یعنی روٹی) جب کسی قوم سے بھاگی ہے، لوٹ کر نہیں آئی۔ ‘‘ ( )
¥
آدابِ طعام کا مطالعہ کیجئے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دین اسلام ایک ایسا مذہب مُہَذَّب ہے جو ہمیں بڑے بڑے اہم کاموں سے لے کرچھوٹے چھوٹے معمولی کاموں حتی کہ کھانا کھانے کے بھی آداب سکھاتا ہے، یقیناًبہت خوش نصیب ہے وہ مسلمان جو اپنے ہر کام کو سنت کے مطابق سرانجام دینے کی بھرپور کوشش کرتا ہے، کھانا کھاتے ہوئے کھانے کی سنتوں اور آداب کا لحاظ رکھتا ہے۔کھانا کھانے کی سنتیں اور آداب جاننے کے لیے کم وبیش 466صفحات پر مشتمل، شیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی مایہ ناز تصنیف ’’ آدابِ طعام ‘‘ کا مطالعہ بہت مفید ہے۔
¥
مدنی گلدستہ
’’ آداب طعام ‘‘ کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1)
دینِ اسلام زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی فرماتا ہےحتی کہ کھانا کھانے کے متعلق بھی ہمیں ایسا پاکیزہ طریقہ بتاتا ہے جو روحانی و جسمانی طور پر بے حد فائدہ مند ہے ۔
(2) کسی بھی مسلمان کی یہ بہت بڑی خوش نصیبی ہے کہ وہ اپنے تمام کام سنت کے مطابق حتی کہ کھانا بھی سنت کے مطابق کھانے کی کوشش کرتا ہے۔
(3) رزق کی قدر کرنی چاہیے کہ یہ بابرکت ہے ، اس کی ناقدری کی وجہ سے بے برکتی و تنگدستی آ تی ہے ۔
(4) جس برتن میں کھاناکھائیں اسے اچھی طرح صاف کرلیں نیزچاول اورروٹی کےجو ذرات دستر خوان پر گر جائیں اُنہیں اُٹھاکر کھا لیں ہو سکتا ہے اُنہیں میں برکت ہو ۔
(5) کھانے کے جو ذرات نیچے گرجائیں اگر اس پر کوئی پاک چیز جیسے مٹی وغیرہ لگ جائے تو صاف کرکے کھالیں ، اگر ناپاک چیز لگ جائے تو اسے اچھی طرح دھو کر پاک کرکے کھالیں ، اگر نہ کھانا چاہیں تو کسی جانور وغیرہ کو کھلادیں ، شیطان کے لیے ہرگز نہ چھوڑیں ۔
(6) کھاتے پیتے وقت، سوتے وقت، دعا نماز وغیرہ ہمارے تمام کاموں میں شیطان شریک ہوتا ہےجس سے کھانے میں بہت بے برکتی ہوتی ہے، اولاد بے ادب وسرکش ہوتی ہے۔ اگر ان اوقات میں
بِسْمِ اللہپڑھ لی جائے تو کھانوں میں برکت ہوتی ہے، اولاد نیک و صالح اور باادب پیدا ہوتی ہے۔
(7) دستر خوان سے ٹکڑے اُٹھا کر کھالینا عاجزی وانکساری کی علامت ہے ۔
(8) کھانے میں برکت ہونے کا ایک معنی یہ ہے کہ کم کھانا زیادہ لوگوں کو پورا ہو جاتا ہےاورایک معنی یہ ہے کہ اس سے تقویٰ وپرہیز گاری نصیب ہوتی ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں سنت کے مطابق زندگی گزارنےکی توفیق عطا فرمائے ۔
یا خدا ہے التجاء عطار کی
سنتیں اپنائیں سب سرکار کی
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 164