Main Icon

باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 166

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی سَعِیْدٍ عَبْدِاللہِ بْنِ مُغَفَّلٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، قَالَ: نَهَى رَسُوْلُ اللہ ِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْخَذْفِ وَقَالَ: اِنَّهُ لَا يَقْتُلُ الصَّيْدَ، وَلَا يَنْكَاُ الْعَدُوَّ، وَاِنَّهُ يَفْقَاُ الْعَيْنَ، وَيَكْسِرُ السِّنَّ. ( )
وَفیِ رِوَایَۃٍ: اَنَّ قَرِیْبًا لِاِبْنِ مُغَفَّلٍ خَذَفَ فَنَهَاهُ وَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَي عَنِ الْخَذْفِ وَقَالَ: اِنَّهَا لَاتَصِيْدُ صَيْدًا، ثُمَّ عَادَ فَقَالَ: اُحَدِّثُكَ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَي عَنْهُ، ثُمَّ عُدْتَ تَخْذِفُ؟ لَا اُ کَلِّمُکَ اَبَدًا. ( )

عن ابی سعید عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ، قال: نهى رسول اللہ صلى الله عليه وسلم، عن الخذف وقال: انه لا يقتل الصيد، ولا ينكا العدو، وانه يفقا العين، ويكسر السن. ( )
وفی روایۃ: ان قریبا لابن مغفل خذف فنهاه وقال: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهي عن الخذف وقال: انها لاتصيد صيدا، ثم عاد فقال: احدثك ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهي عنه، ثم عدت تخذف؟ لا ا کلمک ابدا. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعیدعبداللہبن مُغَفَّلرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ سرکارِمدینہ،راحت قلب وسینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےکنکر مارنے سے منع کیااورفرمایا: ’’ نہ تو یہ شکار کو قتل کر سکتے ہیں اور نہ ہی دشمن کومارسکتے ہیں ، بلکہ یہ آنکھیں پھوڑدیتے ہیں اور دانت توڑدیتے ہیں ۔ ‘‘
ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت سَیِّدُنَاابن مُغَفَّل
رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکےایک رشتہ دار نے کنکر مارے توآپرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنےاسے منع کرتے ہوئےفرمایا: ’’ بیشک سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کنکرمارنے سے منع کیااورفرمایا: ’’ اس سے شکار نہیں ہوسکتا۔ ‘‘ پھر اس نے دوبارہ کنکر مارے تو آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : میں نے تجھے بتایاکہرسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے منع فرمایا ہے تُو پھر بھی کنکر مارتاہے! اب میں تجھ سے کبھی کلام نہ کروں گا۔ ‘‘

شرح حدیث

کنکر مارنے سے متعلق وضاحت :عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ سرکارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کنکر مارنے سے منع فرمایاکیونکہ اس سے نہ تو دشمن مرتاہےاور نہ ہی شکار مارا جاتاہےبلکہ اس سے کسی کی آنکھ پھوٹ سکتی ہے یا دانت ٹوٹ سکتا ہے۔لہٰذاکنکرپھینکنے میں کوئی مَصْلِحَت نہیں ہے، بلکہ فساد کاخوف ہےاور ہر وہ کام جو اس کے مشابہ ہو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ اس میں تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ ضرورتاً کنکر پھینکنا جائز ہے مثلاًدشمن سےلڑتے وقت یا شکار کرتے وقت اگر حاجت ہو تو جائز ہے۔پرندوں کو غُلیل سے مارنا بھی اسی حکم میں داخل ہےکیونکہ اگر کسی بڑے پرندے کو غُلیل سے مارا جائے تو غالب یہی ہے کہ وہ اس سے نہیں مرتا۔ ہاں اس پرندے کو زندہ پکڑ لیا جائے تو یہ جائز ہے۔ ‘‘ ( )
حضرت سَیِّدُنَاابن ملک
رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ کنکر پھینکنے سے منع کرنااس وجہ سے تھا کہ ا س میں کوئی فائدہ نہیں ہے اور اس سے فساد کا خوف ہے۔لہٰذا ہر وہ چیز جو کنکر کی مثل ہے اس سے کھیلنا منع ہےاور وہ اس حدیث کےتحت داخل ہے۔ ‘‘ ( )قطع تعلق کر نے کے بارے میں وضاحت:حضرتِ سَیِّدُنا ابن مغفلرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے کنکر پھینکنے والے کو حدیث نبوی سنا کر اس کام سے منع فرمایا لیکن وہ باز نہ آیا تو آپ نے فرمایا : ’’ اب میں تجھ سے کبھی بات نہ کروں گا۔“ حدیث مذکور کے اس حصے کے تحتعَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اس میں اہل بدعت، اہل فسق اور علم کے باجود سنت سے لاپرواہی کرنے والے سےقطع تعلقی کرنے پر دلیل ہےاوران سےدائمی طورپرقطع تعلق کرنا بھی جائز ہےاور تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرنے سے جو منع کیاگیاہے وہ ان لوگوںکے ‏لیےہےجو اپنے نفس اور دنیا کی وجہ سے قطع تعلقی کرتےہیں بہرحال بدعتی اور اس قسم کےلوگوں سےہمیشہ کے ‏لیے قطع تعلق کرناچاہیے۔ ‘‘ ( )
¥
مدنی گلدستہ
’’ نماز ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
اسلام لایعنی و فضول کاموں سے منع کرتاہے اورایسے اچھے کاموں کی تعلیم دیتاہے جن سے انفرادی یا اجتماعی فائدہ ہو۔
(2) بِلاضرورت کنکرہوا میں اچھالنا، دوسروں کی جانب پھینکنا، درختوں کی شاخوں پر بیٹھے پرندوں کی طرف پھینکنادرست نہیں کہ اس میں نقصان کا اندیشہ ہے، فائدہ کچھ نہیں ۔
(3) اہلِ بدعت، اہل فسق اور علم کے باجود سنت سے لاپرواہی کرنے والوں سے دائمی قطع تعلق جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں ۔
(4) بلا وجہ شرعی کسی ذاتی رنجش، نفسانی خواہش یا دنیا کے ‏لیے کسی مسلمان سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق ممنوع ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسےدعاہےکہ وہ ہمیں فضول اور بےکار کاموں سےبچنےاوراپنی رضاوالےکام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 166