Main Icon

باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 161

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي مُوسَى رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: احْتَرَقَ بَيْتٌ بِالْمَدِينَةِ عَلٰی اَھْلِہِ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا حُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاْنِهِمْ قَالَ: اِنَّ هٰذِهِ النَّارَ عَدُوٌّ لَّكُمْ ، فَاِذَا نِمْتُمْ فَاَطْفِئُوْهَا عَنْكُمْ. ( )

عن ابي موسى رضی اللہ عنہ قال: احترق بيت بالمدينة علی اھلہ من الليل، فلما حدث رسول الله صلى الله عليه وسلم بشانهم قال: ان هذه النار عدو لكم ، فاذا نمتم فاطفئوها عنكم. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسیٰرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں ایک گھر رات کے وقت گھر والوں سمیت جل گیا۔ جب یہ واقعہرسول اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی خدمت میں ذکر کیا گیا توارشادفرمایا: ’’ یہ آگ تمہاری دشمن ہے لہٰذا جب تم سونے لگو تو اسے بجھادیا کرو۔ ‘‘

شرح حدیث

سنت پر عمل نہ کرنےکا نقصان :عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّالعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں : ’’عَلَّامَہ طَبَریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا:جو شخص گھر میں اکیلا ہو اور سونے کا ارادہ کرے اور گھر میں آگ یا چراغ جل رہا ہو تو اس پر لازم ہے کہ اس آگ یا چراغ کو بجھائے بغیر نہ سوئےیا پھر ایسی جگہ رکھ دے جہاں اس کے ضرر سے محفوظ رہے۔ اسی طرح جس گھر میں بہت سارے لوگ ہوں ، ان میں جو سب سے آخر میں سوئے وہ ان احتیاطی تدابیر پر عمل کرے ۔اگر اس نے اس معاملے میں کوتاہی کی اور اس کی جان یا مال کو کوئی نقصان پہنچا تویہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی وصیت کی مخالفت کرنے کا نتیجہ ہوگا اور وہ ادب کو ترک کرنے والا ہوگا۔ ‘‘ ( )
¥
آگ کی دشمنی سےکیا مراد ہے؟عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا ابنِ عربیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :آگ ہماری دشمن ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہمارے بدن اور مال کو اسی طرح ختم کردیتی ہے جس طرح کوئی دشمن کرتا ہے، اگرچہ اس میں ہمارے ‏لیے منفعت بھی ہے لیکن وہ منفعت ہمیں کسی ذریعے سے حاصل ہوتی ہے۔پس حدیث میں جو اسے دشمن کہا گیا ہے وہ اس ‏لیے کہ اس میں دشمنی کے معنیٰ (یعنی نقصان دینا) پائے جاتے ہیں ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ آگ ہماری دشمن اس لحاظ سے ہے کہ اس سے بھی نقصان کا خدشہ رہتا ہے جیسے دشمن سے ہوتا ہے۔ ہم کسی بھی وقت اورکسی بھی جگہ اس سے قریب ہوں گے تو یہ ہمیں جلائے گی اور ہم سے اعراض نہ کرے گی۔ ‘‘ ( )
¥
رسول اللہکا مشورہ:دلیلُ الفالحین میں ہے:حضرت سَیِّدُنَاامام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ سونے سے پہلے چراغ وغیرہ بجھانے کا حکم بطورِ مشورہ ہے کیونکہ اس میں بہت سی دُنیوی مصلحتیں ہیں جو دینی مصلحتوں کی طرف لے جاتی ہیں جیسے جان ومال کو نقصان دہ چیزوں سے بچانا ضروری ہے۔ ‘‘ ( ) ( چونکہ آگ سے بھی جان و مال کو خطرہ ہے اس ‏لیے اس سے احتیاط کا مشورہ دیاگیا۔)کیا ہر قسم کی آگ بجھا دینی چاہیے؟حضرت سَیِّدُنَا شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ آگ بصورتِ چراغ ہو یااس کے علاوہ (موم بتی ) وغیرہ ، ہرقسم کی آگ بجھاکر سوؤ، تاہم لٹکانے والی لالٹین روشن رہنے میں حرج نہیں جیساکہ بہت سے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کیونکہ اس سے آگ لگنے کا اندیشہ نہیں ہوتا۔لہٰذا یہ حکم ممانعت میں داخل نہیں کیونکہ اس سے نقصان کا اندیشہ نہیں ۔ اسی طرح اگر ضرورتاً گھر میں آ گ کو کسی ایسے طریقے سے محفوظ کردیا جائے کہ نقصان کا اندیشہ نہ رہے تو یہ ممنوع نہیں ۔ ‘‘ ( )
عمدۃُالقاری میں ہے: ’’ حضورنبی کریم رؤف رحیم
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آگ بجھانے کو نیند کے ساتھ اس ‏لیے مقید کیا کہ سوتے ہوئے انسان غفلت میں ہو تا ہے اور اس صورت میں بے احتیاطی ہونے کا اِمکان زیادہ ہے۔ ‘‘ ( )
¥
سونےسےپہلےکی احتیاطی تدابیر:مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ (آگ تمہاری دشمن ہے) کیونکہ آگ ہمارے بدن ہمارے مال کی ہلاکت کا ذریعہ ہے، اگر احتیاط سے برتی جائے تو مفید ہے ورنہ ہلاکت۔اسے دشمن فرمانا اس معنیٰ سے ہے یعنی بے احتیاطی سے برتی جائے تو دشمن ہے۔لہٰذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ آگ تو بڑی مفید چیز ہے، حد میں رہ کر ہر چیز مفید ہے، حد سے بڑھ کر مُضِر۔ہم بھی حد میں رہیں تو اچھے ورنہ حد سے بڑھ جائیں تو خود اپنے دشمن ہیں ،اللہ تعالٰیحد میں رکھے۔ (اور سونے سے پہلے آگ بجھانے کا حکم) یہ حکم بطورِ مشورہ ہے لہذا استحبابی ہے۔ ‘‘ ( ) مزید فرماتے ہیں : ’’ جلتا ہوا چراغ گُل کردو، چولہے میں آگ ہو تو بجھادو، کبھی آگ جلتی چھوڑ کر نہ سوؤ، نہ کہیں جاؤ، اس میں صدہا حکمتیں ہیں ۔آگ خطرناک چیز ہے، ذرا سی بے احتیاطی میں گھر اور سامان جلا ڈالتی ہے، بے خبر سوتے ہوئے جل جاتے ہیں ۔ خدا کی پناہ!یہاں آگ سے مراد وہ ہی آگ ہے جس سے آگ لگ جانے کا اندیشہ ہو بجلی کی آگ میں یہ اندیشہ نہیں ۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
سَیِّدُنَا ’’ طَلْحَہ ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
رات کو سونے سے پہلے گیس کے چولہے، ہیٹر اورسوئی گیس کےذریعے روشن ہونے والی لالٹین وغیرہ بند کر کے سوئیں کہ بے احتیاطی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
(2) سونے سے پہلے گرد و نواح میں دیکھ لینا چاہیے کہ کوئی نقصان دہ چیز تو نہیں کہ جوسوجانے کے بعد نقصان و ہلاکت کاباعث بنے ۔نیزہرمعاملے میں احتیاطی پہلوؤں کو پیش نظر رکھنا چاہیے کہ احتیاط بہتر ہے ۔
(3) موم بتی اور دیا وغیرہ ہمیشہ ایسی چیزوں پر رکھیں جنہیں آگ نہیں پکڑتی جیسے فرش ، دیوار یامٹی سے بنی ہوئی دیگر اشیاء۔موم بتی کبھی بھی لکڑی ، کپڑے یا پلاسٹک سے بنی ہوئی چیزوں کے اوپر یاپاس نہ رکھیں کہ ضررکا اندیشہ ہے۔
(4) حد میں رہ کر ہر چیز مفید ہے اور حد سے نکل کر نقصان دہ ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فر امین پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں بے احتیاطی اور ناگہانی آفتوں سے محفوظ رکھے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 161