Main Icon

باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 159

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبي مُسْلِم ٍ، وقِيْلَ:اَ بِي اِيَاسٍ سَلَمَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْاَ کْوَ عِ رَضِيَ الله عَنْهُ اَ نَّ رَجُلاً اَكَلَ عِنْدَ رَسُوْلِ الله ِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِشِمَالِهِ فَقَالَ: كُلْ بِيَمِينكَ قَالَ: لَا اَسْتَطِيعُ ، قَالَ: لَا اسْتَطَعْتَ، مَا مَنَعَهُ اِلَّا الكِبْرُ.فمَا رَفَعَهَا اِلٰی فِيهِ. ( )

عن ابي مسلم ، وقيل:ا بي اياس سلمة بن عمرو بن الا کو ع رضي الله عنه ا ن رجلا اكل عند رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم بشماله فقال: كل بيمينك قال: لا استطيع ، قال: لا استطعت، ما منعه الا الكبر.فما رفعها الی فيه. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُناابو مسلم یا ابو ایاس سلمہ بن عَمرو بن اَکْوعرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہ ایک شخص نے حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی موجودگی میں الٹے ہاتھ سےکھانا کھایا توآپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ سیدھے ہاتھ سے کھاؤ۔ ‘‘ اس نے کہا: ’’ میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’ تو کبھی طاقت نہ رکھے۔ ‘‘ (راوی فرماتے ہیں کہ ) اسے (حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکاحکم ماننے سے ) تکبر نے منع کیاتھا۔پھر وہ کبھی اپنا سیدھا ہاتھ منہ کی طرف نہ اٹھا سکا۔

شرح حدیث

وہ شخص کون تھا؟عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اس شخص کا نام بُسْر بن راعی العیر تھا ۔کئی علمائے کرام نے ان کو صحابی شمار کیا ہے۔قاضی عیاضرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا قول ہےکہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکی بات تکبر کی وجہ سے نہ ماننا اس بات پہ دلالت کرتا ہے کہ وہ منافق تھا۔لیکن یہ قول صحیح نہیں کیونکہ محض تکبر اورحضورصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکے حکم کی مخالفت کرنا نفاق یا کفر کا تقاضہ نہیں کرتا لیکن یہ گناہ ضرور ہے۔نیز اس حدیث میں اُس شخص کے ‏لیے بددعا کا جواز ہے جو بِلا عذرحکم شرعی کی مخالفت کرے اوراس بات کی بھی دلیل ہے کہ ہر حال میں نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا چاہیے یہاں تک کہ کھانے کے دوران بھی بوقت ضرورت نیکی کی دعوت دے ۔نیز کھانے والوں کو کھانے کے آداب سکھا نا مستحب ہے جبکہ وہ آداب کے خلاف کھا رہے ہوں ۔ ‘‘ ( )
¥
تَکَبُّر کا وبال :حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’ اب تُو اُسے اُٹھا نے کی طاقت نہ رکھے گا۔ ‘‘ اس میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قبولیت دعااورحکم نبی کی مخالفت کی دُنیوی سزا کا بیان ہے۔ اس شخص کو تکبر نےا طاعت ِنبوی سے روکا تھا یعنی حکم نبوی سن کرتابعداری اور خواہش نفسانی کی مخالفت کرنے میں اس نے عاجزی اورتواضع سے کام نہیں لیا (بلکہ تکبر کیا) اسی وجہ سے آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےاس کے ‏لیے دعائے ضَرَر فرمائی۔ ‘‘ ( )
¥
اُلٹے ہاتھ سے کھانا:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ معتمد قول کے مطابق آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکایہ حکم اِستحبابی تھا اور آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکا اُس کے ‏لیے دعائے ضررکرنا بِلا عذرسنت نبوی اورحکِم شرعی کی مخالفت کی وجہ سے تھا۔جیساکہ حدیث پاک کے آخر میں راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ اس نے تکبر کی وجہ سے ایسا کیا تھا۔نیز الٹے ہاتھ سے کھانے کی ممانعت اس صورت میں ہے کہ جب سیدھا ہاتھ صحیح وسالم ہواور اگر سیدھے ہاتھ میں کوئی تکلیف ہو تو الٹےہاتھ سے کھانے میں کوئی کراہت نہیں ۔ ‘‘ ( )¥رسول اللہنےدعا ئے ضَرَ ر کیوں کی ؟عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ اس شخص کے ‏لیےسرکارِ دوعالَم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنےاِس ‏لیے دعا ئے ضرر کی کہ اُس نے اپنا جھوٹاعذر بیان کیااور تکبر کی وجہ سے حق بات سے رُک گیا یعنی بغیر کسی مجبوری کے سیدھے ہاتھ سے کھانا نہیں کھایا ۔علامہ طیبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :”مَا مَنَعَهُ اِلاَّ الكِبْرُیعنی اُسے تکبر نے روک دیا تھا۔یہ راوی کا قول ہے اوریہ اس ‏لیے بیان کیاہےتاکہ رحمت عالم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دُعا ئے ضررکرنے کی وجہ معلوم ہوجائے کیونکہ ہو سکتاہے کہ کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتورحمۃٌ لِلْعَالَمِینہیں ، پھر آپ کسی کے ‏لیے دعائے ضرر کیسے کرسکتے ہیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہو گا کہ آپ نے یہ دعااس ‏لیے کی کہ اس نے تکبر کی بنا پر دائیں ہاتھ سےکھانا نہ کھایا اگر وہ کسی مجبوری کی وجہ سے اس حکم پر عمل نہ کرتا تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکبھی بھی اس کے دعائے ضرر نہ فرماتے۔ ‘‘ ( )مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ زمانۂ جاہلیت میں سردار لوگ الٹے ہاتھ سے کھاتے تھے، معمولی آدمی داہنے ہاتھ سے۔یہ شخص کوئی سردار تھا جو اس متکبرانہ عادت سے الٹے ہاتھ سے کھارہا تھا۔ اس نے شرمندگی مٹانے کے ‏لیے کہا کہ میرا داہنا ہاتھ بیمار ہے منہ تک نہیں پہنچتا۔اسی پر یہ جواب ارشاد ہوا یعنی اب تک تو منہ تک آتا تھا اب نہ آسکے گا۔معلوم ہوا کہ لوگوں کے اعضاء بھی حضورصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکے زیر فرمان ہیں ، وہ شخص علاج کرتے کرتے تھک گیا مگر اس کا ہاتھ منہ تک نہ اُٹھ سکا۔ ‘‘ ( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث مذکور میں تکبر کا ذکر ہے۔لہٰذا تکبر کی مذمت کے بارے میں کچھ مفید معلومات پیش خدمت ہیں :
¥
تکبُّر کی وجہ سے پیدا ہونے والی چند بُرائیاں :تکبر (غرور کرنا ) ایسا مُہْلِک مرض ہے کہ اپنے ساتھ دیگر کئی برائیاں لاتااور کئی اچھائیوں سے محروم کردیتاہے۔چُنانچِہحُجَّۃُ الْاِسلامامام محمدبن محمدغزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِیفرماتے ہیں : ’’ متکبرجوکچھ اپنے لیے پسند کرتا ہے اپنے مسلمان بھائی کے ‏لیے پسند نہیں کرسکتا۔ وہ عاجزی اختیار نہیں کرتا حالانکہ یہ تقویٰ و پرہیزگاری کی جڑ ہے، وہ کینہ سے نہیں بچ سکتا، اپنی عزت بچانے کے ‏لیے جھوٹ بولتا ہے، اس جھوٹی عزت کی وجہ سے غصہ نہیں چھوڑ سکتا، حسد سے نہیں بچ سکتا، کسی کی خیرخواہی نہیں کرسکتا، دوسروں کی نصیحت قبول کرنے سے محروم رہتا ہے، لوگوں کی غیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے، الغرض متکبِّر آدمی اپنا بھرم رکھنے کے ‏لیے ہربرائی کرنے پرمجبور اور ہر اچھے کام کو کرنے سے عاجز ہوجاتا ہے ۔ ‘‘ ( )اسرائیلی عبادت گزار اور گنہگار:بنی اِسرائیل کا ایک شخص آوارہ اور بد چلن مشہور تھا ۔ایک مرتبہ وہ ایک بہت بڑے عبادت گزار کے پاس سے گزرا جس کے سر پر بادل سایہ فگن تھا ۔ گنہگارنے سوچاکہ میں انتہائی گنہگار ہوں اور یہ بہت بڑا عبادت گزار ہے اگر میں اس کے پاس بیٹھ جاؤں تو امید ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّمجھ پر بھی رحم فرمائے گا۔ چنانچہ وہ اُس کے پاس بیٹھ گیا۔عابد کو اُس کا بیٹھنا بہت ناگوار گزرا اُس نے دل میں کہا: ’’ کہاں مجھ جیسا عبادت گزار اور کہاں یہ پرلے درجے کا گنہگار، یہ میرے پاس کیسے بیٹھ سکتا ہے۔ ‘‘ چنانچِہ اُس نے اسے اپنے پاس سے ہٹا دیا۔اس پراللہ عَزَّ وَجَلَّنے اُس زمانے کے نبیعَلَیْہِ السَّلَامکووحی بھیجی کہ ان دونوں سے فرمائیےکہ وہ اپنے عمل نئے سرے سے شروع کریں ، میں نے اس گنہگار کو (اس کے حسنِ ظن کے سبب) بخش دیا اور عبادت گزار کے ا عمال ( تکبر کے باعث) ضائع کر دیے۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
سَیِّدُنَا ’’ امام حسن ‘‘ کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1)
سیدھے ہاتھ سے کھانا کھانا سنت مبارکہ ہے۔
(2) اگر کوئی عذر نہ ہو تو بزرگانِ دین کا حکم ماننے ہی میں عافیت اور دین ودنیا کی بھلائی ہے۔
(3) جھوٹے حیلے بہانوں کی وجہ سے انسان خسارے میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔
(4) لوگوں کی عبرت کے ‏لیے عبرتناک واقعات بیان کرناجائز ہے لیکن بِلا وجہ شرعی کسی مسلمان کی تعیین نہ کی جائےبلکہ یوں کہا جائے کہ”ایک شخص نے یہ برائی کی تو اس کا یہ انجام ہو ا۔“ یا کوئی اور مناسب حکمت بھرا انداز اختیار کیا جائے ۔
(5) تکبر ایسی بُری خصلت ہے جو کئی گناہوں کی جامع اور کتنی ہی نیکیوں سے مانع ہے لہٰذا اس سے کوسوں دور بھاگنا چاہیےاور عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔
(6) جہاں جہاں موقع ملے حکمت عملی کے ساتھ اچھے انداز میں لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔
(7) بزرگوں کی بے ادبی اور ان کی بد دعا سے بچنا چاہیے کہ اس میں خسارہ ہی خسارہ ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے پیارے حبیب، حبیب لبیب، ہم گناہگاروں کے طبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اطاعت و فرمانبرداری اور بزرگانِ دین کا ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اَحکامِ شرعیَّہ کی بجاآوری میں سستی و کاہلی سےمحفوظ ومامون رکھے، ہماری حتمی مغفرت فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 159