Main Icon

باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 158

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَ بِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ الله عَنْهُ اَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:كُلُّ اُمَّتِيْ يَدْخُلُونَ الجَنَّةَ اِلَّا مَنْ اَبیٰ.قِيلَ:وَمَنْ يَاْبٰى يَارَسُولَ اللهِ ( صَلىَ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) ؟ قَالَ:مَنْ اَطَاعَنِي دَخَلَ الجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ اَبیٰ. ( )

عن ا بي هريرة رضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:كل امتي يدخلون الجنة الا من ابی.قيل:ومن يابى يارسول الله ( صلى الله عليه وسلم) ؟ قال:من اطاعني دخل الجنة، ومن عصاني فقد ابی. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُروایت ہےکہرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ میری ساری اُمَّت جنت میں داخل ہو گی سوائے منکر کے ۔ ‘‘ عرض کی گئی: ’’یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم!منکر کون ہے؟ ‘‘ فرمایا: ’’ جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو ااور جس نے میری نافرمانی کی وہ منکر ہوا۔ ‘‘

شرح حدیث

مُنکر سےکیامرادہے؟عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین احمد بِن مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں :’’ حضورنبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:میری ساری اُمَّت جنت میں داخل ہو گی سوائے منکر کے۔یہاں جنت میں جانے کی بشارت اُمَّت اِجابت کے لیے ہےاور جنت سے ممانعت اُمَّت دَعوت کے لیے ہے، یعنی جنہوں نے اسلام قبول کیا وہ جنت میں جائیں گے اور جنہوں نے اسلام کا انکار کیا اور کفروشرک کی تاریک وادیوں میں بھٹکتے رہے وہ ہرگز جنت میں داخل نہ ہوں گے۔ ‘‘ ( )¥کیاگنہگار مسلمان جنت میں نہیں جائیں گے؟عُمْدَۃُ الْقَارِیمیں ہے: ’’ گناہ گارمسلمان بھی جنت میں داخل ہوگا ہمیشہ جہنم میں نہ رہےگا۔ (جبکہ حدیث پاک کے ظاہر سے تو یہ سمجھ آتا ہے کہ گنہگار جنت میں داخل ہی نہ ہوگا۔اس کا جواب یہ ہے کہ) حدیث مذکور سےمرادیا تو یہ ہے کہ گنہگاراَوّلاً جنت میں داخل نہ ہوگا۔ (یعنی اپنے گناہوں کی سزا پانے کے بعد بالآخر جنت میں داخل ہوگا۔) یاپھریہاں انکار سے مراد اسلام سےانکار ہے۔ ‘‘ ( ) (یعنی جس نے اسلام کا انکار کیا اور کفر ہی پر مرا تو وہ جنت میں داخل نہ ہوگاکیونکہ کفار پر جنت حرام ہے، وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔)عاملین قرآن و سنت کا جنت میں داخلہ:حضرت سَیِّدُنَاشیخ عبدالحق مُحَدِّث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمسے دریافت کیاگیا منکر سے کیا مراد ہے؟ توفرمایا کہ جس نے میری فرمانبرداری کی یعنی قرآنُ و سنت کو مضبوطی سے تھاما وہ جنت میں داخل ہوگااورجس نے میری نافرمانی کی اوربدعت ( سیّئہ) کا راستہ اختیار کیا اور نفسانی خواہشات کی پیروی کی تو اس نے نافرمانی کی اور وہ جنت میں داخل نہ ہو گا۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدجنت کا مستحق مسلمان ہے کافر نہیں :مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ یہاں اُمَّت سے مراد اُمَّت اِجابت ہے ( یعنی ) جنہوں نے حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی تبلیغ کو قبول کرکے کلمہ پڑھ لیا ورنہ حضور کی اُمَّت دعوت تو ساری خلقت ہے، اِنکار سے مراد عملی اِنکار ہے اور اِس میں گنہگار مسلمان داخل ہیں اور جنت میں داخلے سے مراد اوّ لی (یعنی پہلا) داخلہ ہے یعنی متقی مؤمن اوّ لی داخلے کےمستحق ہیں ، فاسق اس کےمستحق نہیں ، لہٰذاحدیث بالکل واضح ہے اور اگر اِنکار سے اِعتقادی اِنکار مراد ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ مسلمان جنت کا مستحق ہے کافر نہیں مگر پہلے معنیٰ زیادہ صحیح ہیں ۔ ‘‘ ( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب حضور نبی کریم رؤف ورحیم
صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تو خوش نصیب حضرات نے یہ دعوت قبول کی اور دائرۂ اسلام میں داخل ہوکر صحابیت کےعظیم مرتبے پر فائز ہوئے جبکہ بعض بد بختوں نے اسلام کی دعوت قبول کرنے کے بجائےمذاق اڑایا اور جہنم کے حق دار ہوئے اس ضمن میں ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے!
¥
دعوتِ اسلام ٹھکرانے کا انجام:حضورنبی کریم رؤف ورحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے اسلام کی دعوت پر مشتمل كچھ خطوط مختلف بادشاہوں کے پاس بھیجے۔جب شاہ ِایران خُسروپرویز کے پاس سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا مبارک خط پہنچا تو اس نے یہ کہتے ہوئے نہایت بے ادبی سےمَعَاذَ اللہمبارک خط پرزے پرزے کرکے زمین پر پھینک دیا کہ اس میں میرے نام سے پہلے ’’ محمد ‘‘ کا نام کیوں لکھاگیا ہے۔ جب حضورصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکو یہ خبر ملی تو فرمایا: ’’مَزَّقَ کِتَابِیْ مَزَّقَ اللہُ مُلْکَہیعنی اس نے میرے خط کو ٹکڑے ٹکڑے کیااللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی سلطنت کو ٹکڑے ٹکڑے کرے گا۔ ‘‘ چنانچہ کچھ ہی عرصے کے بعد اس بدبخت کو اس کے اپنے ہی بیٹے نے قتل کر دیااور اس کا ملک ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔یہاں تک کہ حضرتِ سَیِّدُناامیرالمومنین عمرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے دورِخلافت میں یہ حکومت صفحۂ ہستی سےہی مٹ گئی۔ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
’’ جنت ‘‘ کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)
حضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اِطاعت قرآن وسنت پر عمل پیراہونے میں ہے۔
(2) ہر مسلمان جنت میں جائے گا، صالحین ابتداءًاوربعض گناہ گارجہنم میں سزا پانے کے بعد لیکن عذابِ جہنم اس قدر تکلیف دہ ہے کہ برداشت نہیں ہوسکتا لہٰذااعمالِ صالحہ میں خوب کوشش کرنی چاہیے تاکہ رحمت الٰہی سے صالحین کے صدقے اولاً ہی جنت میں داخلہ نصیب ہو۔
(3) اُمَّت محمدیہ کی دو قسمیں ہیں : (۱) اُمَّت دَعوت ، زمانہ ٔاقدس سے تا قیامت جتنے لوگ آئیں گے وہ سب اُمَّت دعوت ہیں ۔ (۲) اُمَّت اِجابت: وہ خوش نصیب لوگ جنہوں نے اسلام قبول کیا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن وسنت پرعمل پیرا ہوکر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے ۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 158