Main Icon

باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 167

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيْعَةَ قَالَ:رَاَ یْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ یُقَبِّلُ الْحَجَرَ یَعْنیِ الْاَسْوَدَ وَیَقُوْلُ: اِنِّي اَعْلَمُ اَنَّكَ حَجَرٌ مَا تَنْفَعُ وَلَا تَضُرُّ، وَلَوْلَا اَنِّي رَاَيْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ. ( )

عن عابس بن ربيعة قال:را یت عمر بن الخطاب، رضي الله عنه یقبل الحجر یعنی الاسود ویقول: اني اعلم انك حجر ما تنفع ولا تضر، ولولا اني رايت رسول اللہ صلى الله عليه وسلم يقبلك ما قبلتك. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُنا عابِس بن ربیعہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ میں نےحضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطابرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکو دیکھا کہ حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے : ’’ میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہےجو نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔اگر میں نےرسول اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔ ‘‘

شرح حدیث

سَیِّدُنَافاروق اعظم کے قول کی توجیہ:عمدۃُ القاری میں ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکےفرمان کی وضاحت کرتے ہوئےحضرت سَیِّدُنَا امام طبریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اہل عرب بتوں کی پوجا کرتے تھے ۔جب حضرت سَیِّدُنَا عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حجر اسود کو بوسہ دیا تو آپ کو اس بات کا اندیشہ ہوا کہ جاہل یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ جس طرح ہم بُتوں کو پوجتے ہیں ، اسی طرح مسلمان بھی بتوں کی تعظیم کرتے اور انہیں چومتے ہیں ، لہٰذاآپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان کا رَد کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ حجر اسود کو چومنا صرفاللہ عَزَّوَجَلَّکی تعظیم اورحضور نبی کریم ، رؤف و رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم کی تعمیل کی وجہ سے ہے کیونکہ یہ شعائر حج میں سے ہے جن کی تعظیم کااللہ عَزَّ وَجَلَّنے حکم دیا ہے۔پس اس کا چومنا بتوں کو چومنے کی طرح نہیں ہے ۔ ‘‘ ( )
¥
حجر اسود کے پاس رونا:حضرت سَیِّدُنَا ابن عمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضورنبی کریمرؤف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حجرِ اسود کو بوسہ دیا، پھر اپنے ہونٹ مبارک اس پررکھ کر بہت دیر تک روتے رہے، پھر حضرت عمربن خطابرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکو دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں ۔ تو فرمایا: ’’ اے عمر! یہی جگہ ہے جہاں آنسو بہائے جاتے ہیں ۔ ‘‘ ( )سَیِّدُنَا فاروق اعظم اورفتنے کا سَدباب:شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضرت سَیِّدُنَا عمرفاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حجر اسود سے فرمایا:میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے۔یعنی دنیامیں ظاہرًا ایک پتھر ہے کسی کو نفع نقصان نہیں پہنچاسکتا۔اگرمیں نے حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ اس ‏لیے فرمایاکہ لوگوں کے دلوں سے بتوں اور پتھروں کی محبت وعظمت نکل جائے کیونکہ وہ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اس ‏لیے اس بات کا اندیشہ تھاکہ اس پتھرکی عبادت کے فتنے میں مبتلانہ ہوجائیں ۔ ‘‘ ( )حجر اَسود کا نفع ونقصان دینا:فقیہ اعظم، حضرت علامہ ومولانا مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ یہ حدیث مختلف اَلفاظ اور کچھ زیادتی اور کمی کے ساتھ حضرت سَیِّدُنَا ابن عباس، حضرت سَیِّدُنَا ابن عمر، حضرت سَیِّدُنَا عُروہ، حضرت سَیِّدُنَا اَسلم، حضرت سَیِّدُنَاعبد اللہبن سرجس، حضرت سَیِّدُنَا سُوید بن غفلہ، حضرت سَیِّدُنَا عابس بن ربیعہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْسے مروی ہے۔ امام حاکمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنی مستدرک میں حضرت سَیِّدُنَا ابو سعید خدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کی، اس میں ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ جب امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حجر اسود سے تخاطب فرماکر بوسہ لیا تو اس پر حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خداکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے فرمایا: ’’ اے امیر المؤمنین! بلا شبہ یہ حجر اَسود ضرر بھی دیتا ہے اور نفع بھی پہنچاتا ہے۔ ‘‘ حضرت عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے پوچھا: ’’ کیسے؟ ‘‘ تو فرمایا: ’’ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نےرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن حجر اسود کو لایا جائے گا اور اس کی شستہ زبان ہوگی، جس نے اس کا توحید کے ساتھ بوسہ دیا ہے اس کے بارے میں گواہی دے گا۔ اس لیے امیر المؤمنین وہ ضرر بھی دیتا ہے اور نفع بھی۔ ‘‘ یہ سن کر حضرت عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا: ’’ میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی پناہ چاہتا ہوں ایسی قوم سے جس میں اے ابوالحسن تم نہ ہو۔ ‘‘
امیر المؤمنین سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خدا
کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی اس حدیث پاک کی تائید ایک اور حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں سرکارِ دوعالم نورِ مجسمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ حجر اسود جب جنت سے آیا تھا تو دودھ سے زیادہ سفید تھا، بنی آدم کے گناہوں نے اسے سیاہ کردیا۔ ‘‘ ایک روایت میں یوں ہے: ’’ فرمایا کہ ان دونوں رُکن (رُکن یمانی اور رُکن حجر اسود) کا چومنا گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ ‘‘
اِن احادیث سے یہ ثابت ہوا کہ حجر اسودنفع دیتا ہے، جس نے ایمان کے ساتھ اس کا بوسہ لیا ہے، اس کے حق میں قیامت کے دن گواہی دے گا، کیا یہ معمولی نفع ہے؟ بوسہ دینے والوں کے گناہوں کو مٹاتا ہے، کیا یہ نفع پہنچانا نہیں ؟ ابن ماجہ میں ہے: ’’ حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ انہوں نے حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سن کر فرمایا: ’’ جس نے اس حجر اسود کا بوسہ لیا وہ رحمٰن کے یدِقدرت کا بوسہ لیتا ہے۔ ‘‘ ایک اور حدیث پاک میں ہے ،رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ یہ رکن اسود یقیناً زمین میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکا یدِ رحمت ہے، اس کے ذریعےاللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے بندوں سے مصافحہ فرماتا ہے جیسے ایک شخص اپنے بھائی سے مصافحہ کرتا ہے۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی حدیث میں ہے، جس نےرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بیعت نہیں پائی اور حجر اسود کا بوسہ لے لیا تو اس نےاللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بیعت کی۔ ‘‘
کیا ایک بندے کے لیے اس سے بڑی سعادت اور کچھ ہوسکتی ہے اور کیا یہ نفع پہنچانا نہیں ؟ رہ گیا حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظم
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا وہ ارشاد کہ اے حجر اسود تو نفع نقصان نہیں دیتا۔ اس کی توجیہ یہ ہے کہ انہیں یہ تمام احادیث نہیں پہنچی تھیں اور ابھی لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے، بت پرستی سے
قریب العہد تھے، عہد جاہلیت میں بتوں کے بارے میں یہ اعتقاد تھا کہ یہ مستقل بالذات نافع اور ضار یعنی نفع ونقصان دینے والے ہیں ، اس کا اندیشہ تھا کہ کہیں یہ اعتقادِ بد حجراسود کے بارے میں مسلمانوں میں نہ پیدا ہوجائے، اس کے ازالے کے لیے وہ فرمایا۔ مگر جب حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضیٰ شیر خدا
کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے خود حضور اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشاد بتایا تو تسلیم فرمالیا۔ اس لیے اب ان کے اس ارشاد کو دلیل بنا کر یہ کہنا کہ حجر اسود نفع وضرر نہیں پہنچاتا درست نہیں ۔ ‘‘ ( )صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدحجراسود کی خصوصیات:(1) اس کامس کرنا (یعنی چھونا) گناہوں کومٹاتاہے۔ (2) اعلانِ نبوت سے پہلے بھی یہ پتھر مبارک شاہِ خیر الانامصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو سلام کہتا تھا ۔ (3) اس پتھر شریف کو پھر ایک مرتبہ اپنی اصل شکل پر کردیاجائےگا۔ (4) قیامت کے دن اس کا حَجْم (یعنی جسامت) جبلِ اَبی قُبَیْس جتنا ہوگا۔ ( )
تفسیرنعیمی میں ہے :یہ جنتی پتھر ہے، حدیث شریف میں ہےکہ رُکن اور مقام (ابراھیم) دو”جنتی یاقوت“ہیں ۔ پہلےبہت نورانی تھے۔
اللہ(عَزَّ وَجَلَّ) نے ان کا نورمحوکردیا (یعنی چھپادیا) اگر ایسانہ ہوتاتویہ مشرق ومغرب کو چمکاتے ۔ایک اور روایت میں ہے:جب سنگِ اسود دیوارِکعبہ میں قائم کیاگیاتواس کی روشنی چاروں طرف دُور تک جاتی تھی جہاں تک اس کی روشنی پہنچی وہاں تک حرم کی حدود مقررہوئیں جس میں شکارکرنامنع ہے اور سنگِ اَسود کا رنگ بالکل سفید تھا گناہ گاروں کے ہاتھوں سے سیاہ ہوگیا۔ ( )
حضرتِ سَیِّدُناابن عباس
رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسےمروی ہے کہرسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےحجرِ اسود کےبارے میں ارشاد فرمایا: ’’اللہعَزَّ وَجَلَّکی قسم!بروزِ قیامت اس پتھرکو اٹھایاجائےگا، اس کی دوآنکھیں ہوں گی جس سے دیکھے گا، زبان ہوگی جس سے بولے گااور جس نے حق کے ساتھ اس کا استلام کیا یہ اس کی گواہی دےگا۔ ‘‘ ( )کالک جَبیں کی سجدۂ دَر سے چُھڑاؤ گے
مجھ کو بھی لے چلو یہ تمنا حجر کی ہے
مدنی گلدستہ
’’ مکہ ‘‘ کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)
حَجر ِاَسودشعائر اسلام میں سے ہے ، اس کی تعظیم حکِم ربّانی کی وجہ سے کی جاتی ہے ۔
(2) شریعت کی اتباع میں ذاتی پسند یا نا پسند کا کچھ دخل نہیں ،
اللہ عَزَّ وَجَلَّاوراس کے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجو ارشادفرمادیں اس کی تابعداری ضروری ہے ۔
(3) حجرِ اسودقیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کی دو آنکھیں ، زبان اوردو ہونٹ ہوں گے، یہ اس شخص کے بارے میں گواہی دے گاجس نے اس کا بحالت ایمان استلام کیا ہوگا ۔
اے ہمارے پیارےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!ہمیں شرختم کرنے اور خیر عام کرنے کی توفیق عطافرما، ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرما، باربار حج کی سعادت عطافرما ، روضۂ رسول کی باادب حاضری نصیب فرما۔آپ کے میٹھے مدینے میں پئے غوث ورضا
حاضری ہو یا نبی ہر بیکس ومجبور کی
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 167