- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- حدیث نمبر 160
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِی عَبْدِ اللہِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْھُمَا قَالَ:سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ اَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ. ( ) وَ فِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلِمٍ: کَانَ رَسُوْلُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّيْ صُفُوفَنَا حَتَّى كَاَ نَّمَا يُسَوِّيْ بِهَا الْقِدَاحَ حَتَّى اِذَارَاَى اَنَّا قَدْ عَقَلْنَا عَنْهُ ثُمَّ خَرَجَ يَوْمًا فَقَامَ حَتَّى كَادَ اَنْ يُكَبِّرَ فَرَاَى رَجُلًا بَادِيًا صَدْرُهُ فَقَالَ عِبَادَ اللَّهِ لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ اَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ. ( )
عن ابی عبد اللہ النعمان بن بشير رضی اللہ عنھما قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم یقول: لتسون صفوفكم او ليخالفن الله بين وجوهكم. ( ) و فی روایۃ لمسلم: کان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسوي صفوفنا حتى كا نما يسوي بها القداح حتى اذاراى انا قد عقلنا عنه ثم خرج يوما فقام حتى كاد ان يكبر فراى رجلا باديا صدره فقال عباد الله لتسون صفوفكم او ليخالفن الله بين وجوهكم. ( )
حدیث ترجمہ
: حضرت سَیِّدُنَاابوعبداللہنعمان بن بشیررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ میں نےرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا: ’’ تم اپنی صفوں کو سیدھارکھو یا پھراللہ عَزَّ وَجَلَّتمہارے درمیان اختلاف ڈال دے گا ۔ ‘‘ مسلم شریف کی ایک اور روایت میں ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہماری صفوں کو اس طرح سیدھا فرماتےگویا ان سے تیر سیدھے کر رہے ہیں ، یہاں تک کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یقین ہوجاتا کہ ہم آپ کی بات سمجھ چکے ہیں ۔پھرایک دن آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لائےاور جماعت کے لیے کھڑے ہوئے، آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتکبیر کہنے ہی والے تھے کہ ایک آدمی کا سینہ صف سے باہر نکلاہوا دیکھا توفرمایا : ’’ اےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندو!تم اپنی صفیں سیدھی رکھوورنہاللہ عَزَّ وَجَلَّتمہارے درمیان اختلاف پیدا فرما دےگا۔ ‘‘
شرح حدیث
صفوں کی درستگی میں صحابۂ کرام کا عمل:عَلَّامَہ اَبُو الحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں : ’’ امام کو چاہیے کہ صفوں کی درستگی کے لیے لوگوں کو دیکھے اور لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کودیکھ کر صفیں درست کریں ۔ امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق اعظم اور امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَا عثمان غنیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاصف سیدھی کرنے کے لیے چند لوگوں کی ڈیوٹی لگاتے تھےپس جب صف سیدھی ہوجاتی تو تکبیر کہتے۔ مگر یہ ذہن میں رہے کہ اگر لوگ اپنی صفیں درست نہ کریں تواِس سے اُن کی نماز باطل نہیں ہوگی۔ حدیثِ مذکور میں صفوں کو سیدھا نہ کرنے پر وعید ارشاد فرمائی گئی ہے۔ ‘‘ ( )
¥اختلاف پیدا ہونے سے کیامراد ہے؟عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمہارے چہروں کو مسخ کردے گا اور اصل شکل بدل دے گا جیسا کہ حدیث پاک میں ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّان کی شکل کو گدھے کی شکل کی طرح بنادے گا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ان کی صفات بدل دے گا۔ یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہاللہ عَزَّ وَجَلَّتمہارے درمیان بغض و عداوت پیدا کردے گا اور دلوں میں اختلاف ڈال دےگا جیسا کہ ایک مقولہ ہے کہ اس نے مجھ سے منہ پھیر لیا یعنی اس کے چہرے سے میرے لیے نفرت ظاہر ہورہی تھی اور اس کا دل مجھ سے پھر گیا۔ کیونکہ صفوں میں مخالفت دراصل ظاہرًا مخالفت ہے اور ظاہری مخالفت باطنی مخالفت کا سبب ہے۔ ‘‘ ( )حضر ت سَیِّدُنَامُھَلَّب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’ صفوں میں اختلاف کے سبب دلوں میں اختلاف کی وعید ہے یعنی جرم کی جنس سے سزا دی جائے گی جیسا کہ جو کسی ہتھیار سے خود کشی کرے تو اسے اسی ہتھیار سے عذاب دیا جائے گا۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ دلوں کی مخالفت کنایہ ہے دشمنی سےیعنی تمہارے دلوں میں اختلاف ہوگا اور دلوں کا اختلاف چہروں کے اختلاف کی طرف لے جاتا ہے یعنی لوگ ایک دوسرے سے منہ پھیر لیتے ہیں ۔بعض علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے فرمایا:ظاہری ادب باطنی ادب کی علامت ہے، پس اگر تماللہ عَزَّ وَجَلَّاوررسولُ اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکا ظاہری حکم نہ مانو گے تو تمہارے درمیان قولی اختلاف ہوں گےاور اس سےتمہارے درمیان کَدُوْرَتیں پیدا ہوں گی جو دشمنی کا باعث بنیں گی اوراس طرح تم ایک دوسرے سے منہ پھیر لو گے۔ ‘‘ ( )
علامہ ابن جوزیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیلکھتے ہیں : ’’ حدیث کامعنی یہ ہے کہ جب تم ظاہر میں مختلف ہوگے تو بطورِ سزا تمہارے دلوں میں اختلاف ڈال دیا جائے گا۔یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ تم اپنے ظاہر کو مختلف نہ کرو کیونکہ ظاہری اختلاف تمہارے دلوں میں اختلاف کی دلیل ہے۔ ‘‘ ( )¥صفوں کےدرمیان خالی جگہ پُرکرنا:عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیحدیث پاک کے الفاظلَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْکے تحت فرماتے ہیں : ’’ صفوں کے سیدھا کرنے کا معنیٰ یہ ہے کہ نمازی صف میں ایک ہی سمت پراس طرح کھڑے ہوں کہ کوئی ایک بھی صف سے آگے پیچھےکھڑا نہ ہو جبکہ ایک قول کے مطابق صفوں کو سیدھا کرنے سے یہ بھی مراد لی گئی ہے کہ صف میں موجود خلل اور خالی جگہ کو پُر کیا جائے۔ ‘‘ ( )
حضرت سَیِّدُنَاعثمان اورحضرت سَیِّدُنَا علیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے متعلق منقول ہے کہ یہ حضرات صفوں کی درستی کا خاص اہتمام کرتےاورفرماتے”اسْتَوُوْا“یعنی برابرہوجاؤاورحضرت علیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُفرمایا کرتے: ’’تَقَدَّمْ یَا فلَانُ وَتَأَخَّرْ یَا فلَانُیعنی اے فلاں !تم آگے ہوجاؤاوراے فلاں !تم پیچھے ہوجاؤ۔ ‘‘ ( )
¥رسول کریم کا اندازِ تعلیم :مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : (حضرت سَیِّدُنَا نعمان بن بشیررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ) آپ انصاری ہیں اور نو عمر صحابی کہ حضورصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی ہجرت کے چودہ مہینے بعد پیدا ہوئے، بعد ہجرت انصار میں سب سے پہلے آپ پیدا ہوئے اور مہاجرین میںعبدﷲابن زبیر (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) ، حضورصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی وفات کے وقت ان کی عمر آٹھ سال سات مہینے تھی (حدیث پاک میں ہے:رسول اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمہماری صفوں کو اس طرح سیدھا فرماتے گویا ان سے تیر سیدھے کر رہے ہوں ۔) یعنی نمازیوں کے کندھے پکڑ پکڑ کر آگے پیچھے کرتے تھے تاکہ صف بالکل سیدھی ہوجائے ۔ خیال رہے کہ تیر کی لکڑی کو پَر اور پیکان لگنے سے پہلے قدح کہتے ہیں اور اس کے لگنے کے بعد سَہم۔ قدح نہایت سیدھی کی جاتی ہے اسے سیدھا کرنے کے لیے نہایت سیدھی لکڑی لیتے ہیں جس کے برابر قدح کو لیتے ہیں یعنی حضورصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمصفوں کو ایسا سیدھا کرتے تھے جیسے قدح سیدھی کرنے والی لکڑی۔ (یہاں تک کہرسول اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے دیکھا کہ ہم آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامکی بات سمجھ چکے ہیں ۔ ) تب آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامنے کندھے پکڑ کر سیدھا کرنا چھوڑ دیا صرف زبان شریف سے سیدھا کرنے کی ہدایت فرمادیتے۔ (اےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے بندوں !تم اپنی صفوں کو سیدھا کرو، ورنہاللہ عَزَّ وَجَلَّتمہارے درمیان اختلاف ڈال دےگا۔) یعنی اگر تمہاری نماز کی صفیں ٹیڑھی رہیں تو تم میں آپس میں اختلاف اور جھگڑے پیدا ہوجائیں گے، شیرازہ بکھرجائے گا یا تمہارے دل ٹیڑھے ہوجائیں گے کہ اُن میں سوز و گداز، درد، خشوع خضوع نہ رہے گا یااندیشہ ہے کہ تمہاری صورتیں مسخ ہوجائیں جیسے گزشتہ قوموں پر عذاب آئے تھے، یہاںوَجْہٌبمعنی ذات ہے یا بمعنی چہرہ، خیال رہے کہ عام مسخ وغیرہ ظاہری عذاب حضور مصطفٰےصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی تشریف آوری سے بند ہوگئے لیکن خاص مسخ وغیرہ اب بھی ہوسکتے ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥صفوں کی درستگی وظاہری آداب:شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ صفوں کی درستگی سےمراد یہ ہے کہ نماز میں مل کر کھڑے ہوں ، دوشخصوں کے درمیان خالی جگہ نہ ہو، صفیں بالکل سیدھی ہوں ، کوئی بھی صف سے آگے پیچھے نہ ہو بلکہ سب برابر اور سیدھے کھڑے ہوں ، اگر صفیں زیادہ ہوں تو سب ایک ہی رخ کھڑے ہوں ، اگلی صفیں مکمل ہونے کے بعد ہی پچھلی صفیں بنائیں ، ایک دوسرے کے پیچھے ایک ہی سمت میں کھڑے ہوں ، صفوں کا درمیانی فاصلہ برابر ہو، آگے پیچھے نہ ہوں ، پھر ترتیب کو ملحوظ رکھا جائے ، یہ صف کے ظاہری آداب ہیں ۔ ‘‘ ( )
میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو! نماز شروع کرنے سے پہلے صفوں کی درستی کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ صفوں کی بے ترتیبی اور ٹیڑھا پن حضو نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو سخت ناپسند تھا جیساکہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ صَفوں کو برابر کرو ، کندھے سے کندھا ملا لو ، اپنے بھائیوں کے ہاتھوں میں نرم ہوجاؤ اور کُشاد گیوں کو بند کردو کہ شیطان بھیڑکے بچے کی طرح تمہارے درمیان داخل ہوجاتا ہے۔ ‘‘ ( )اللہ عَزَّ وَجَلَّعمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
میں پانچوں نمازیں پڑھوں باجماعت
ہو توفیق ایسی عطا یاالٰہیصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
’’ مدینہ ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)نماز قُربِ الٰہی کا بہت بڑاذریعہ ہے لہٰذا اس کی ادائیگی کے لیے خوب اہتمام کرناچاہیےنیز پاکیزگی و طہارت کے ساتھ ساتھ صف بندی کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے ۔
(2) صف بندی میں غفلت سے کام لینا جہاں نمازکی ادائیگی میں خلل کاباعث ہےوہاں روحانی اعتبار سے بھی نقصان کا باعث ہے۔
(3) نماز میں صفیں ٹیڑھی رہیں تو آپس میں اختلاف اور جھگڑے ہوتے ہیں ۔
(4) امام کو چاہیے کہ نماز سے پہلے لوگوں کی صفیں درست کرائے۔
(5) صف سیدھی کرتے وقت کندھے سے کندھا ملا لینا چاہیے تاکہ درمیان میں جگہ باقی نہ رہے کہ شیطان اختلاف ڈالنے کے لیے بھیڑ کی بچے کی طرح صفوں میں گھس جاتا ہے ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نماز شروع کرنے سے قبل صفوں کی درستی کی توفیق عطا فرمائے، صفوں کی درستی کی برکت سے ہمارے قلوب کو بھی درست فرمائے، ہمیں دین ودنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے، سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری حتمی مغفرت فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 160