Main Icon

باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 157

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي نَجِيْحٍ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَعَظَنَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَوْعِظَةً بَلِيْغَةً وَجِلَتْ مِنْهَا القُلُوبُ وَذَرَفَتْ مِنْهَا العُيُونُ، فَقُلْنَا: يَارَسُولَ اللهِ! كَاَ نَّهَا مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَاَوْصِنَا قَالَ: اُوْصِيْكُمْ بِتَقْوَى اللهِ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَ اِنْ تَاَمَّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ، وَاِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اِخْتِلَافاً كَثيراً، فَعَليْكُمْ بسُنَّتِي وسُنَّةِ الخُلَفاءِ الرَّاشِدِينَ المَهْدِیِّینَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بالنَّواجِذِ، وَاِيَّا كُمْ وَ مُحْدَثَاتِ الاُمُورِ فاِنَّ كلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ. ( )

عن ابي نجيح العرباض بن سارية رضي الله عنه قال: وعظنا رسول الله صلى الله عليه وسلم موعظة بليغة وجلت منها القلوب وذرفت منها العيون، فقلنا: يارسول الله! كا نها موعظة مودع فاوصنا قال: اوصيكم بتقوى الله، والسمع والطاعة و ان تامر عليكم عبد، وانه من يعش منكم فسيرى اختلافا كثيرا، فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهدیین، عضوا عليها بالنواجذ، وايا كم و محدثات الامور فان كل بدعة ضلالة. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُناابونَجِیحعِرباض بن سارِیہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ہمیں ایسا بلیغ وعظ فرمایا جس سے دل خوف زدہ اور آنکھیں آبدیدہ ہو گئیں ۔ہم نے عرض کی: ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّم! یہ تواَلْوَداعی وعظ معلوم ہوتاہے، آپ ہمیں وصیت فرمائیے۔ ‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’ میں تمہیںاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرنے، (حاکم کی) بات سننے اور اِطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں ، اگرچہ کسی غلام کو تم پر حاکم بنادیا جائے۔اور بے شک !تم میں سے جو زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت اختلاف دیکھے گا۔ پس تم پر میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء کی سنت اختیار کرنا لازم ہے، اسے مظبوطی سے تھامے رکھنااور اپنے آپ کو نئی باتوں سے بچانا ، بے شک ہر نئی بات (جو خلافِ شرع ہو) گمراہی ہے۔ ‘‘

شرح حدیث

آخرت کاخوف دلانے والاوعظ:اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے ایک ایسا بلیغ وعظ فرمایا جس سے دل خوف زدہ ہو گئے اور آنکھیں آبدیدہ ہو گئیں ۔ جیسا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمان ہے: (وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا (۶۳))(پ۵، النساء:۶۳) (ترجمۂ کنزالایمان:اور اُن کے معاملے میں اُن سے رسا بات کہو۔) حدیث مذکور میں بہنے کی نسبت آنکھوں کی طرف کی گئی جیسا کہ قران مجید میں ہے: (تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ)(پ۷، المائدۃ:۸۳) (ترجمۂ کنزالایمان:تو ان کی آنکھیں دیکھو کہ آنسوؤں سے اُبل رہی ہیں ۔) گویا کہ آنسوؤں کی جگہ ان کی آنکھیں بہہ رہی ہیں ۔ یہ رونے میں مبالغہ بیان کرنے کے ‏لیے ہے ۔ (صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وعظ کوالوداعی وعظ کہا) کیونکہ وصیت کرنے والا بوقت رُخصت بہت اہم اور ضروری باتیں بیان کرتا ہے ۔ ‘‘ ( )¥الوداعی نصیحت کی کیفیت:امامِ جلیلعِارِف بِاللّٰہحضرت سَیِّدُنَا علّامہ عبدالغنی نابُلسیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضورنبی رحمت شفیعِ اُمَّتصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمنے الوداع کہنے والے کی طرح نصیحت فرمائی یعنی ایسے شخص کی طرح وصیت کی جو اپنی قوم کو چھوڑ کر جارہاہواوراُنہیں ضروری باتوں کی وصیت کرے تو ایسا شخص نصیحت کرتاہے ، خوف دلاتا ہے ، زجر وتوبیخ کرتا ہے اوراپنی مخالفت سے ڈراتا ہے اوریہ صرف اُن کی بھلائی کی اِنتہائی چاہت کے سبب کرتا ہے کہ کہیں وہ اِس کے بعدگمراہ نہ ہوجائیں ۔ حدیثِ مذکورمیں اس طرف اشارہ ہے کہ مبلغ بیان کرتے وقت حاضرین کونصیحت کرنے میں پوری کوشش کرے اور کوئی ایسی فائدہ مند بات ترک نہ کرے جس کے متعلق جانتاہوکہ حاضرین اس کے ‏لیے دوسری مجلس کے محتاج ہوں گے کیونکہ دوسری مجلس تک زندہ رہنے کاکوئی بھروسہ نہیں ۔اور مبلغ کو چاہیے کہ بغیرمشقت اٹھائے حسبِ موقع حاضرین کو ( عذاب سے) ڈرائے اور زجر وتوبیخ کرے۔البتہ !اس کی عادت نہ بنائے جیسا کہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکامبارک عمل تھاکہ کبھی ڈراتے اورکبھی نہ ڈراتے ۔ ‘‘ ( )تقویٰ کی اقسام اور اُن کے شرعی اَحکام:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہمیں وصیت فرمائیے۔ ‘‘ یعنی اگر معاملہ ایسا ہی ہے کہ وقتِ رخصت ہےتو ہمیں ایسا حکم ارشاد فرمائیے جس میں آپ کے وصالِ ظاہری کے بعد ہماری دنیوی اور اُخْروی زندگی کے ‏لیے کامل رُشدو ہدایت ہو۔ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:”میں تمہیںاللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں ۔“ یعنی اس کی نافرمانی سے بچنے اور اُس کے عذاب سے ڈرنے کی۔ فرمان ِ خداوندی ہے: (وَ لَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ اِیَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-) (پ۵، النساء:۱۳۱)ترجمۂ کنزالایمان: اوربے شک تاکید فرمادی ہے ہم نے ان سے جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے اور تم کو کہاللہسے ڈرتے رہو۔ یعنی تقویٰ کی اِن تینوں اقسام کی تاکید کردی ہے:
(۱) تقوٰیٔ شرک یعنی شرک سے بچو۔
(۲) تقوٰیٔ معصیت یعنی
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی سے بچو۔
(۳) تقوٰیٔ
ما سِوَی اللہیعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّکے علاوہ ہر چیز سے بچو۔
اوریہ کلام آپ
صَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکےجَوامِعُ الْکَلِمسے ہےکیونکہ تقویٰ نام ہے تمام احکامات بجا لانے اور ممنوعات سےاجتناب کرنے کا۔اور تقویٰ ہی ہےجو تمہیں اَبَدی عذاب سے نجات دیتا، خوشی والے گھر (جنت) تک پہنچاتااور ربّ ذوالجلال کے درِ رحمت پر لے جاتا ہے اورمیں تمہیں خلیفۂ وقت کی بات سننے کی وصیت کرتاہوں اورجسے تمہارا حاکم بنایا گیااس کی اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں جب تک کہ وہ خلافِ شرع حکم نہ دے، اس کا حکم مانو، خواہ وہ عادل ہو یا ظالم۔ ہاں !خلافِ شرع حکم دے تو نہ مانو کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی کے کام میں کسی کی اطاعت جائز نہیں ۔ لیکن اُس سے جنگ کرنا جائز نہیں ۔ اگرچہ وہ حاکم جسے خلیفۂ وقت نے تم پر مقرر کیا ہے حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو ، پس اس کی اطاعت کرو اور اس کے نسب کی طرف مت دیکھو بلکہ اُس کے مقام ومرتبے کی طرف نظر کرو۔ ‘‘ ( )
¥
کیاغلام حاکم وامیر بن سکتاہے؟حضرتِ سَیِّدُناشیخ عبدالحقمُحَدِّثدہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ امیر کی طاعت کرو اگرچہ غلام ہی کیوں نہ ہو۔حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےاِس ارشاد سے امیر کی اطاعت میں مبالغہ مقصود ہےورنہ غلام حاکم و امیر بننے کا اہل نہیں کیونکہ حاکم و امیر کے ‏لیے آزاد ہونا شرط ہے۔یہ کلام بالکل اُس حدیث کی طرح ہے جس میں فرمایا گیا کہ:”جس نےمسجد بنائی اگرچہ چڑیا کے گھونسلے جتنی ہو اُس کے ‏لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔“ظاہر ہے چڑیا کے گھونسلے جتنی مسجد نہیں ہو سکتی بلکہ اس سے مقصود چھوٹی مسجد کی شان بطورِ مبالغہ بیان کرنا ہے۔البتہ یہ ممکن ہے کہ حبشی غلام سلطانِ کبیر کانائب ہوتواس صورت میں سلطان کے حکم کی وجہ سےاُس غلام کی اطاعت بھی ضروری ہو گی۔ ‘‘ ( )¥رسولِ خدا کاعلم غیب:دلیلُ الفالحین میں ہے: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ تم میں سے جو زندہ رہے گا عنقریب وہ بہت اختلافات دیکھے گا۔ ‘‘ یہ فرمان ِعالی آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکے معجزوں میں سے ایک معجزہ ہے کہ جو کثیراختلافات آپ کے بعد واقع ہوں گےان کی پہلے ہی خبر دے دی ۔ بے شک! آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمان تمام واقعات کو (جو مستقبل میں وقوع پزیر ہونے والے ہیں ) اِجمالی و تفصیلی طور پہ جانتے ہیں کیونکہ یہ بات اَحادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکو جنتیوں اور جہنمیوں کے ٹھکانے دکھا دیئے گئے ، لیکن آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمعموما ًہر کسی کو اس بارے میں بتانے سے احتیاط فرماتے ، کسی کسی کو بتاتےجیسا کہ حضرت سَیِّدُنَا حذیفہ اور حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاوغیرہ۔ ‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ جب تم کثیر اختلاف دیکھو توتم پر لازم ہے کہ اس وقت میری سنت وسیرت اوراَحکامِ اعتقادیہ، عملیہ، واجبہ، مندوبہ پر عمل کرنا اور (میرے بعد) میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت پر عمل کرنااور وہ حضرت سَیِّدُنَاابو بکرصدیق ، سَیِّدُنَا عمرفاروق اعظم ، سَیِّدُنَاعثمان غنی ، سَیِّدُنَا
علی المرتضیٰ اور سَیِّدُنَا امام حسن بن علی
رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنہیں ۔ ‘‘ ( )
¥
وِصال ظاہری کے بعداختلافات:عَارِفْ بِاللہ عَلَّامَہ عَبْدُالْغَنِی نَابُلُسِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ رحمت عالم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ تم میں سے جو زندہ رہے گاوہ کثیر اختلافات دیکھے گا۔ ‘‘ یہ آپصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکے وصالِ ظاہری کے بعد وقوع ہونے والے اُمور کے بارے میں غیبی خبر ہے۔چنانچہ سب سے پہلا اختلاف خلافت کے معاملے میں حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ اورحضرت سیِّدُنا امیر معاویہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے مابین ہوا اوراس معاملے میں حضرات صحابۂ کرامرِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْھِمْ اَجْمَعِیْنکی اِجتہادی آرائیں بھی مختلف تھیں اوربے شک! وہ اپنے اجتہادمیں ثواب کے حقدار ہیں ۔اگرچہ بعض سے اجتہادی خطابھی ہوئی مگر اُن کا اختلاف محض اپنی ذات کے ‏لیے نہ تھا بلکہ دین کے ‏لیے تھا ۔نیزیہ غیبی خبراُن جنگوں اور کثیر اختلافات کو بھی شامل ہے جو مسلمان بادشاہوں اور اُمَرا کے درمیان ہوئے اور اُس وقت سے آج تک جاری ہیں ۔نیز اُمورِ دین میں بھی علمائے کرامرَحِمَھُمُ اللّٰہُ السَّلَامکے مابین اختلافات ہو ئےاور اُن سے منقول اَقوال، اَعمال اور اِعتقاد ات مختلف ہوگئے اوروہ اُصول وفُروع میں بہت سے مذاہب میں تقسیم ہوئے۔ حضور نبی اکرمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکی مذکورہ غیبی خبرمیں اِن تمام اختلافات کی طرف اشارہ موجودہے۔ ‘‘ ( )ہرسنت لائق اتباع ہے:مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ ہر سنت لائق اتباع ہے مگر ہر حدیث لائق اتباع نہیں ۔حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے خصوصیات، منسوخ اَحکام و اَعمال حدیث ہیں مگر سنت نہیں ، اسی ‏لیے یہاں حدیث کو پکڑنے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ سنت کو۔اَلحَمْدُلِلّٰہہم اہل سنت ہیں ، دنیا میں اہل حدیث کوئی نہیں ہو سکتا۔ صحابۂ کرام کے اَعمال و اَفعال بھی لغوی معنیٰ سے سنت ہیں یعنی دین کا اچھا طریقہ اگرچہ اُن کی اِیجادات بدعت حسنہ ہیں ۔سَیِّدُنَاعمر فاروق (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) نے جماعت کی باقاعدہ تراویح کو جو آپ نے جاری کی تھی بدعت فرمایا کہ کہا :”نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ھٰذِہ“ (یعنی یہ کیا ہی اچھی بدعت ہے۔) آپ کا وہ کلام اس حدیث کے خلاف نہیں کیونکہ وہ شرعاً بدعت ہے لغۃًسنت اور مسلمانوں کے واسطے لازم العمل ۔خیال رہے کہ تمام صحابہ ہدایت کے تارے ہیں ، خصوصا ً خلفائے راشدین۔ لہٰذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہاَصْحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ(یعنی میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ) تمام صحابہ کی پیروی باعث نجات ہے۔ (حدیث میں فرمایا:اپنے آپ کو نئی باتوں سے بچانا، بےشک ! ہر نئی بات گمراہی ہے۔) یہاں نئی چیز سے مرادنئے عقیدے ہیں جو اسلام میں حضور کے بعد ایجاد کیے جائیں ، اس ‏لیے کہ یہاں اسے گمراہی کہا گیا۔ گمراہی عقیدہ میں ہوتی ہے نہ کہ اعمال میں ، لہٰذایہ حدیث اپنے عموم پر ہےاوراگر اس سے نئے اعمال مراد ‏لیے جائیں ۔ تو یہ حدیثعام مَخصُوص مِنہُ البَعْضہے یعنی ہر بُری بدعت گمراہی ہے۔ بدعت حسنہ کبھی مباح کبھی مستحب کبھی واجب اور کبھی فرض بھی ہوتی ہے۔ حدیث کی کتب اور قرآن کے پارے بدعت ہیں مگر اچھے ہیں ۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’ شیرِخدا ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)
دین کی باتیں سن کر آبدیدہ ہوجانا، خوفِ آخرت دامن گیر ہونا اور دنیا سے بے رغبتی میں اضافہ ہو جانا نیک بندوں کی علامات ہیں ۔
(2) مبلغ کو چاہیے کہ خوفِ خدا، عذابِ جہنم ، عذابِ قبر اور دیگر خوف دلانے والے اُمور کا بیان کرے مگر اس کی عادت نہ بنائے بلکہ کبھی کبھی حسب موقع ترکیب بنائے۔
(3) کثیر اختلافات اور فتنوں سے بچنے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ سنت مصطفےٰ کو مضبوطی سے تھام لیا جائے ۔
(4) تمام نیک اَعمال کی اصل خوفِ خدا یعنی
اللہ عَزَّ وَجَلَّسےڈرنا ہے۔
(5) تمام اَحکاماتِ شرعیَّہ بجا لانے اور ممنوعاتِ شرعیَّہ سے بچنے کا نام تقویٰ ہے اور تقویٰ عذاب سے نجات دلانے کا بہترین ذریعہ ہے۔
(6) دین میں ہر وہ نئی بات گمراہی ہے جو شریعت کے خلاف ہو۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمکے فرامین پر کاربند رہنے، خلفائے راشدین کی اتباع کرنےاورتقویٰ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 157