Main Icon

باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 162

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِيَ اللهُ بِهِ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ غَيْثٍ اَصَابَ اَرْضًا فَكاَنَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ، قَبِلَتِ الْمَاءَ فَاَنْبَتَتِ الْكَلَاَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيْرَ، وَكَانَ مِنْهَا اَجَادِبُ اَمْسَكَتِ الْمَاءَ، فَنَفَعَ اللهُ بِهَا النَّاسَ فَشَرِبُوْا مِنْهَا وَسَقُوْا وَزَرَعُوْا، وَاَصَابَ طَائِفَةً مِنْهَا اُخْرَى، اِنَّمَا هِيَ قِيْعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً وَلَا تُنْبِتُ كَلَاً فَذٰلِكَ مَثَلَ مَنْ فَقُهَ فِي دِيْنِ اللهِ تَعَالیَ، وَنَفَعَهُ بِمَا بَعَثَنِي اللهُ بِهِ، فَعَلِمَ وَعَلَّمَ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذٰلِكَ رَاْسًا، وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللهِ الَّذِي اُرْسِلْتُ بِهِ. ( )

عن ابی موسی رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم: ان مثل ما بعثني الله به من الهدى والعلم كمثل غيث اصاب ارضا فكانت منها طائفة طيبة، قبلت الماء فانبتت الكلا والعشب الكثير، وكان منها اجادب امسكت الماء، فنفع الله بها الناس فشربوا منها وسقوا وزرعوا، واصاب طائفة منها اخرى، انما هي قيعان لا تمسك ماء ولا تنبت كلا فذلك مثل من فقه في دين الله تعالی، ونفعه بما بعثني الله به، فعلم وعلم، ومثل من لم يرفع بذلك راسا، ولم يقبل هدى الله الذي ارسلت به. ( )

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُنا ابوموسٰیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسےروایت ہے کہ حضورنبی کریمرؤف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے جس ہدایت اورعلم کے ساتھ مجھے بھیجا ہے اس کی مثال اس بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی تو زمین کےایک عمدہ حصےنے اس پانی کو چوس کر گھاس اور بہت سبزہ اُگایااور زمین کا کچھ حصہ بنجر تھا جس نے اس پانی کو روک لیاتواللہ عَزَّ وَجَلَّنےاس سےلوگوں کو فائدہ پہنچایا اس طرح کہ انہوں نے خود پیا، دوسروں کو پلایااور کاشت کاری کی اور وہ بارش زمین کے ایک ایسے حصے کو پہنچی جو چٹیل میدان تھا، اس نے نہ پانی روکا اور نہ ہی گھاس اُگائی۔ (تو پہلی) اس شخص کی مثال ہے جس نےاللہ عَزَّ وَجَلَّکے دین کو سمجھااور جس چیز کے ساتھاللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے بھیجا اس نےاُسے نفع پہنچایاتو اس نے خود بھی علم حاصل کیا اور دوسروں کو بھی سکھایا۔ (اور دوسری) اس شخص کی مثال ہے کہ جس نے اس (علم) کی طرف توجہ نہ دی (تکبر کی وجہ سے) اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی وہ ہدایت جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہےاسے قبول نہ کیا۔ ‘‘

شرح حدیث

تین قسم کے لوگ تین زمینوں کی مانند ہیں :عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ زمین کی تین قسمیں ہیں ، اسی طرح لوگوں کی بھی تین قسمیں ہیں :
٭زمین کی پہلی قسم وہ ہے جو بارش سے نفع حاصل کرتے ہوئے مُردہ سے زندہ ہو جاتی ہے، اس طرح کہ اس پر سبزہ اُ گ جاتا ہے توانسان، جانور، کھیت اور اس کے علاہ اورچیزیں اس زمین سے نفع حاصل کرتے ہیں ۔اسی طرح انسانوں کی پہلی قسم وہ ہے کہ جن کے پاس ہدایت اور علم پہنچاتو انہوں نے اس کو یاد کیا اور اس سے اپنے دلوں کو زندہ کیا اور اس پر عمل بھی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی سکھاتے ہیں تو انہوں نے اس علم سے خود بھی نفع حاصل کیا اور دوسروں کو بھی پہنچایا۔
٭زمین کی دوسری قسم وہ ہے کہ جوخود تونفع قبول نہیں کرتی لیکن اس میں دوسروں کے ‏لیے فائدہ ہوتاہےوہ اس طرح کہ وہ بارش کے پانی کودوسروں کے‏لیے جمع کر لیتی ہے تو اس پانی سے انسان اور جانور فائدہ حاصل کرتے ہیں اسی طرح انسانوں کی دوسری قسم وہ ہے کہ جن کے حافظے قوی ہوتے ہیں (اور وہ اپنے دلوں میں علم کو محفوظ کرلیتے ہیں ) لیکن اُن میں اِفہام وتفہیم (سمجھنے اورسمجھانے) کی صلاحیت نہیں ہوتی اور نہ ہی اُن کی عقل میں اِس بات کی صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ معانی اور اَحکام کو نکال سکیں ، نہ ہی وہ عبادت میں کوشش کرتے ہیں نہ ہی اپنے علم پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، بس وہ صرف اُس علم کو یاد کرتے ہیں ، یہاں تک کہ ایک طالب علم آتا ہےاور اُس علم کا طلبگار ہوتاہے جوعلم اُن کے پاس ہے اور وہ طالب علم ایسا ہے جو علم سے نفع حاصل کرنے اور دوسروں کوپہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتاہےپس وہ اُن سے خود علم حاصل کرتا ہے اوردوسروں کو اس سے فائدہ پہنچاتا ہےتو یہ ہیں وہ لوگ جن کے علم سے لوگوں نے تو فائد ہ اُٹھایا (لیکن وہ خود اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے ) ۔
٭زمین کی تیسری قسم بنجر زمین ہےجو سبزہ وغیرہ نہیں اُگاتی، وہ پانی سے نفع حاصل نہیں کرتی اور نہ ہی پانی کو دوسروں کے نفع کے ‏لیے جمع کرتی ہے۔اسی طرح انسانوں کی تیسری قسم وہ ہے جن کے حافظے کمزور ہوتے ہیں اور ان کے پاس افہام وتفہیم کی صلاحیت بھی نہیں ہوتی ، پس جب وہ علم کی بات سنتے ہیں تو اس سے فائدہ حاصل نہیں کرتے اور نہ ہی اسےیاد کرتے ہیں کہ دوسرےاس سے فائدہ حاصل کریں ۔حدیث مذکور میں علم کی کچھ صورتوں کومثالوں کے ذریعےبیان کیا گیا ہےنیز تعلیم وتعّلم کی فضیلت بیان کی گئی ہےاور علم حاصل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے پر سختی سے ابھارا گیاہے اور علم سے اِعراض کرنے کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ ‘‘ ( )
دین سےفائدہ اٹھانےاورنہ اٹھانےوالے:شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :
٭ ’’ معلوم ہونا چاہیے کہ یہاں بندوں کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں : (1) ایک وہ جس سےدین کو فائدہ پہنچے۔ (2) دوسری وہ کہ جو نہ خود فائدہ حاصل کرے نہ دوسروں کو نفع پہنچائے۔
٭زمین کی بھی دوقسمیں بیان کیں : (1) ایک وہ جو پانی سے نفع یاب ہوتی ہے۔ (2) دوسری وہ جو پانی سے کچھ فائدہ حاصل نہ کرے۔ ٭پھر فائدہ مند زمین کی دو قسمیں ہیں : (1) ایک وہ جو فصل اگائے۔ (2) اور دوسری وہ زمین جس میں کچھ نہ اُگے۔٭اسی طرح دین سے فائدہ اٹھانے والےدوقسم کے ہیں : (1) ایک عالم، عبادت گزار، فقیہ اور لوگوں کو دین سکھانے والایہ اس زمین کی طرح ہے جو پاک اور عمدہ ہو، پانی جذب کرے، اس طرح خوداسے بھی فائدہ پہنچے اور گھاس چارہ اُگائےاور لوگوں کو بھی فائدہ پہنچائے۔ (2) دوسراوہ جو عالم اور معلم ہو (دوسروں کو تعلیم دینے والا) مگر نوافل اور زائد اعمال کی عبادت میں مشغول نہ ہوتاہواور فقہ کاجو علم حاصل کیا اس پر پوری طرح عمل پیرانہ ہو، یہ اس زمین کی طرح ہے جس میں پانی ٹھہرجاتاہےاو رلوگ اس سے فائدہ حاصل کرتےہیں لیکن یہ خود فائدہ نہیں اٹھاتا۔اور کچھ بھی نفع نہ اٹھانے والاوہ شخص ہے جس نے علم دین کی طرف کوئی توجہ والتفات نہ کیااورعلم دین کی بات سننے کے ‏لیے بالکل تیارنہ ہوا یا سُن کراس پرنہ عمل کیااور نہ تعلیم حاصل کی اور دین میں آنے نہ آنے سے کوئی سروکارنہ رکھااور منکر وکافر ہوگیایہ اس چٹیل زمین کی مانند ہے جو نہ پانی جذب کرے اور نہ ہی پانی کاذخیرہ کرے اور نہ اس میں کوئی چیز اُگے۔
حدیث کا مفہوم یوں بیان کرنابھی ممکن ہے کہ قسم اول سے وہ شخص مرادہے جس نے علم دین سیکھا، درجۂ اجتہاد پر فائز ہوا اور اس قوت اجتہاد کی بدولت دین کے باریک معانی ، اسراراور اس کی شرح کی جیسے فقہائے مجتہدین اور علمائے کاملین ومحققین کاحال تھاجس طرح وہ گھاس جو زمین سے اُگتی ہے اور لوگ اس کے ثمرات ونتائج سے بہرہ ورہوتے ہیں ۔دوسری قسم سے وہ شخص مراد ہے جس نے علم حاصل کیا، اسے اپنے سینے میں جمع کیاپھر اس کی حفاظت کی اور اس امانت کو پورے اہتمام کے ساتھ آگے پہنچایااور اس کے اہل کے حوالے کردیا۔جس طرح محدثین ، حفاظِ احادیث اور اس علم کی طرف دعوت دینے والے حضرات ہیں ۔ ‘‘ ( )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدرحمت کا بادل:مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ اس تشبیہ کاخلاصہ یہ ہے کہ حضورگویا رحمت کابادل ہیں ، حضور کا ظاہری اور باطنی فیض اور نورانی کلام بارش، انسانوں کے دل مختلف قسم کی زمین، چنانچہ مؤمن کا دل قابلِ کاشت زمین ہے جہاں عمل اور تقویٰ کے پودے اُگتے ہیں ، علماءاور مشائخ کے سینے گویا تالاب ہیں اور اس خزینہ کے گنجینے ہیں جس سے تاقیامت مسلمانوں کے ایمان کی کھیتیاں سیراب ہوتی رہیں گی۔منافقین اور کفار کے سینے کھاری زمین ہیں نہ فائدہ اٹھائیں نہ پہنچائیں ۔
خیال رہے کہ
مُشَبَّہْ بِہٖمیں زمین کے تین حصے بیان فرمائے گئے مگرمُشَبَّہمیں انسان کی صرف دو جماعتوں کا ذکر ہوا کیونکہ علماء ہدایت میں عالی ہیں اور کفار گمراہی میں عالی ، درمیانی لوگ یعنی صالح مؤمن خود سمجھ میں آجاتے ہیں ، اس ‏لیے ان کا ذکر نہ ہوا۔ خیال رہے کہ تالاب بہت سی قسم کے ہیں : بڑے، چھوٹے، بہت نافع، کم نافع، بعض تالابوں سے نہریں جاری ہوجاتی ہیں جیسے بھوپال کا تالاب، ایسے ہی علماء کے مختلف مراتب ہیں : بعض مجتہدین ہیں جیسے چاروں امام، بعض کاملین ہیں ، بعض راسخین ہیں ، پھر ان میں بعض محدثین ہیں اور بعض مفسرین ، یہ تشبیہ ان سب کو شامل ہے۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’ صِدِّیْق ‘‘ کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
بہترین انسان وہ ہے جس کے پاس ہدایت اورعلم پہنچا اس نے اسےیادکیا، اس کے ذریعے اپنے دل کو زندہ کیا، اس پر عمل کیااور دوسروں کوسکھایا۔
(2) علماء اور مشائخ کے سینے گویا تالاب ہیں اور اس خزینہ کے گنجینے ہیں جس سے تاقیامت مسلمانوں کے ایمان کی کھیتیاں سراب ہوتی رہیں گی۔
(3) مؤمن کا دل قابلِ کاشت زمین کی طرح ہےجہاں عمل اور تقویٰ کے پودے اُگتے ہیں ۔
(4) کوئی شخص کسی بھی درجے پر پہنچ کر شہنشاہِ مدینہ قرارِ قلب وسینہ
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔ زمین کیسی ہی اعلیٰ کیوں نہ ہو اور کتنا ہی اچھا تخم بویا جائے مگربارش کی محتاج ہے، دین و دنیا کی ساری بہاریں حضور کے دم سے ہیں ۔حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے محبت کے رشتے کو مضبوطی سے تھامے رکھنے میں ہی دارین کی بھلائی ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں باعمل عالمِ دین بنائے، تقویٰ وپرہیزگاری نصیب فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 162