Main Icon

حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 225

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَبَّلَ النَّبِیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَسَنَ ابْنَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا وَعِنْدَہُ الْاَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَقَالَ الْاَقْرَعُ : اِنَّ لِيْ عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ مِنْهُمْ اَحَدًا فَنَظَرَ اِلَیْہِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ.( )

عن ابي هريرة رضی اللہ عنہ قال : قبل النبی صلى الله عليه وسلم الحسن ابن علی رضی اللہ عنہما وعندہ الاقرع بن حابس فقال الاقرع : ان لي عشرة من الولد ما قبلت منهم احدا فنظر الیہ رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : من لا يرحم لا يرحم.( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ ایک بارحضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا امام حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما کو چوما۔ اس وقت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس حضرت سیدنا اَقرع بن حابس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی موجودتھے۔ انہوں نے عرض کی : ’’میرے دس بیٹے ہیں اورمیں نے ان میں سے کسی ایک کوبھی نہیں چوما۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُن کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : ’’جو شخص رحم نہیں کرتااس پررحم نہیں کیاجاتا۔ ‘‘

شرح حدیث

امام حسن کو چومنا بوسہ رحمت تھا:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بوسہ یعنی چومنے کی پانچ قسمیں ہیں ، جن میں سے ایک بوسۂ رحمت یعنی رحم اور شفقت کرتے ہوئے کسی کو چومنا بھی ہےجیسے اپنے بچوں کو چومنا۔ حضور نبی رحمت شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا امام حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے رخسار چومے یا سر یا پھر رخسار اور سر دونوں کو چوما اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ چومنا بوسہ رحمت ہی تھا۔ بچوں کو چومنا بوسہ رحمت ہے جس کے دل میں رحم نہیں اس پرخدا تعالیٰ بھی رحم نہیں فرماتا۔ ‘‘( )
محبت سے نہ چومنے کی وجہ:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’جب حضرت سیدنا اَقرع بن حابس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نےدیکھاکہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت سیدنا امام حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو چوم رہےہیں توانہوں نے کہاکہ ’’میرے دس بیٹے ہیں لیکن میں نےکسی کابھی بوسہ نہ لیا۔ ‘‘ اس کی وجہ یہ تھی کہ دیہات والوں میں سخت دلی اور خشک مزاجی ہوتی ہےجیساکہ حدیث پاک میں ہے : “ جوشخص دیہات میں رہا اس کی طبعیت میں سختی آگئی۔ ‘‘سیدنا اقرع بن حابس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کااپنی اولاد پر شفقت نہ کرنے ، انہیں پیارومحبت سےنہ چومنےاورانہیں نہ اُٹھانے کی وجہ سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےاُن کی طرف تعجب سے دیکھااورفرمایا : ’’جوشخص رحم نہیں کرتااُس پر رحم بھی نہیں کیاجاتا۔ ‘‘( )رحم وکرم کی عادت بہت بڑی نعمت ہے:میٹھےمیٹھےاسلامی بھائیو! رحم کرنا اور مہربانی وشفقت کا سلوک اور برتاؤ کرنا یہ مسلمان کی بہترین خصلت اور اعلیٰ درجے کی قابل تعریف عادت ہےکہ خود تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’رحم کرنے والوں پر اللہ عَزَّوَجَلَّ رحم فرماتا ہے۔ اے لوگو!تم زمین والوں پررحم کرو تو اللہ عَزَّوَجَلَّ تم پر رحم فرمائے گا۔ ‘‘( ) نرم خوئی ، مہربانی اور رحم وکرم کی عادت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ حدیث پاک میں ہے کہ ’’جس شخص کونرمی سے حصہ ملا اسے دنیا و آخرت کی بھلائی سے حصہ ملا اورجو نرمی سے محروم ہوا وہ دنیا و آخرت کی بھلائی سے محروم ہو ا۔ ‘‘( )بچوں پر شفقت کیجئے:میٹھےمیٹھےاسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک سےمعلوم ہواکہ اپنے بچوں پر شفقت کرنی چاہیے ، انہیں پیار سے چومنا ان پر رحم کرنا ہےاورجوکسی پررحم کرتاہے تواس پر بھی رحم کیاجاتاہے۔ اس حدیث

پاک سے یہ بھی معلوم ہواکہ بندہ دوسروں کے ساتھ جو سلوک کرتاہے اس کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کیاجاتاہے۔ اگر دوسروں پررحم کرےگا تو اس پربھی رحم کیاجائے گااور اگر دوسروں پر ظلم کرے گا تو اس پر بھی ظلم کیا جائےگا۔ چار فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے :
(1)’’رحم کروتم پررحم کیا جائے گا اورمعا ف کرو اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہاری مغفرت فرمائے گا۔ ‘‘( ) (2)ایک شخص نے بارگاہ رسالت میں عر ض کیا : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! بکری کوذبح کرتے ہوئے مجھے اس پررحم آتاہے۔ ‘‘اللہ
1∞کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اگر تو اس پررحم کرےگاتو اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ پر رحم فرمائے گا۔ ‘‘( )(3)’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنےرحم کرنےوالے بندوں پر رحم فرماتاہے۔ ‘‘( )(4)’’تم ہرگز مومن نہیں ہوسکتے جب تک ایک دوسرے پررحم نہ کرو ۔ ‘‘بارگاہِ رسالت میں عر ض کی گئی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !ہم میں سے ہر ایک رحم دل ہے۔ ‘‘فرمایا : ’’اپنے ساتھی پررحم کرنا کافی نہیں بلکہ عام لوگوں پر بھی رحم کرو۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’بغداد‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)اسلام میں اگر بزرگوں کے ادب واحترام کی تعلیم دی گئی ہے تووہیں چھوٹے بچوں پر شفقت ومحبت کی بھی تعلیم دی گئی ہے۔
(2)اپنے چھوٹے بچوں کو شفقت سے چومنا ، ان پر رحم کرنا حدیث پر عمل کرنا ہے۔
(3)جوشخص نرم دلی ، رحمت و مہربانی کی خصلت سے محروم کردیاگیاتووہ دنیا و آخرت کی بھلائیوں سے

محروم ہو گیا۔
(4)رحم کرنا اورمہربانی و شفقت کا سلوک کرنا یہ ایک بہترین اور قابل تعریف عادت ہے۔
(5)اگر بندہ دوسروں پررحم کرےگا تواس پربھی رحم کیاجائے گااور اگر انسان دوسرے انسانوں پر ظلم کرے گاتو اس پر بھی ظلم کیا جائےگا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعاہے کہ وہ ہمیں بزرگوں کے ادب واِحترام کے ساتھ ساتھ چھوٹے بچوں پر شفقت کرنے کی توفیق عطا فرمائے بلکہ ہرمسلمان پررحم وشفقت کرنےکی توفیق عطا فرمائے ۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 225