- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- حدیث نمبر 230
حدیث مبارکہ
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ : نَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ رَحْمَةً لَهُمْ فَقَالُوْا : اِنَّكَ تُوَاصِلُ؟ قَالَ : اِنِّي لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ اِنِّي اَبِیْتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي. ( )قَالَ النَّوَوِی:مَعْنَاہُ یَجْعَلُ فیِ قُوَّۃَ مَنْ اَکَلَ وَشَرِبَ.
عن عائشة رضي الله عنها قالت : نهاهم النبي صلى الله عليه وسلم عن الوصال رحمة لهم فقالوا : انك تواصل؟ قال : اني لست كهيئتكم اني ابیت يطعمني ربي ويسقيني. ( )قال النووی:معناہ یجعل فی قوۃ من اکل وشرب.
حدیث ترجمہ
ام المؤمنین حضرت سیدتناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : ’’شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مسلمانوں پر شفقت کرتے ہوئے انہیں صومِ وِصَال سے منع فرمایا تو صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کیا : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !آپ بھی توصومِ وِصال رکھتے ہیں۔ ‘‘ارشاد فرمایا : ’’میں تمہاری طرح نہیں ہوں بلکہ میں اپنے رب کے ہاں اس حال میں رات گزارتاہوں
کہ وہ مجھے کھلاتاپلاتاہے۔ ‘‘علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کھلانے پلانے کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ مجھ میں کھانے پینے والی طاقت پیداکردیتا ہے۔ ‘‘
شرح حدیث
صوم وصال کسے کہتے ہیں؟فقیہ اعظم حضرت علامہ مفتی شریف الحق اَمجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’صومِ وصال کا مطلب یہ ہے کہ روزہ رکھ کرنہ افطارکرے نہ سحری کھائےنہ اور کسی وقت کچھ کھائے پیے حتی کہ پانی کاایک گھونٹ بھی نہ لےاور پھردوسرے دن روزہ رکھے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما پندرہ دن تک کھانا ، پینا چھوڑدیتے تھے۔ امام طبری نے فرمایا کہ بعض صحابہ کے بارے میں مروی ہےکہ وہ کئی کئی دن تک کھانا ، پیناچھوڑدیتے تھےمگراِس سے اُن کے معتاد (روزمرہ کے) کاموں میں کوئی خلل نہیں پڑتاتھایہ اِس بنا پر تھا کہ انھیں کھانے ، پینے کی حاجت نہ تھی ، اِس سے مستغنی تھے ، اپناکھانا حاجت منداور فاقہ کش افراد کو دے دیتے تھے۔ حضرت ابرہیم تیمی( رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ) کبھی کبھی ایک ایک مہینہ اورکبھی کبھی دودومہینے بے کھائےپیےرہ جاتے تھے کراہت دفع کرنے کےلیے ایک گھونٹ نبیذ پی لیتے تھے ۔ رِیاضت ومجاہدہ کے لئے مشائخ سالکین کو صومِ وصال رکھنے کا حکم دیتے ہیں مگر کراہت دفع کرنے کے لیے ایک گھونٹ پانی یااور کوئی چیز بہت قلیل مقدارمیں کھانے کی اجازت دیتے ہیں۔ مثلًا کشمش کے چنددانے ، سوکھی روٹی کے ٹکڑے وغیرہ وغیرہ۔ مجددِاعظم اعلیٰ حضرت امام احمدرضا قدس سرہ نے ایک بارچالیس پینتالیس دن تک ، چوبیس گھنٹے میں ایک گھونٹ پانی کے سوااورکچھ نہیں کھایاپیا ، اِس کے باوجودتصنیف ، تالیف ، فتویٰ نویسی ، مسجدمیں حاضر ہو کر نمازِ باجماعت ، اِرشاد وتلقین ، وارِدِین وصادِرِین سے ملاقاتیں وغیرہ معمولات میں کوئی فرق نہیں آیااور نہ ضعف ونقاہت کے آثار ظاہرہوئے۔ ‘‘( )وِصال کے روزوں سے منع فرمانے کی حکمت:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا صومِ وِصال سے منع کرنے میں حکمت یہ تھی کہ وِصال کے روزے رکھنے کی وجہ سےکمزوری ہوگی اِطاعت وعبادت اور اُس کے حقوق اداکرنے اور اُس پر ہمیشگی اختیارکرنے سے انسان عاجز ہو جاتا ہے اس وجہ سےآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کووِصال کے روزوں سے منع فرمایااور علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اس بات میں اختلاف ہے کہ یہ ممانعت تحریمی ہے یاتنزیہی۔ ظاہریہ ہے کہ یہ ممانعت تحریمی ہے۔ ‘‘( )
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’روزہ کا وصال یہ ہے کہ شب کو بغیر افطار کیے ، بغیر کچھ کھائے پئے دوسرا روزہ رکھ لیا جائے ، حق یہ ہے کہ یہ وصال ہمارے لیے مکروہ تحریمی ہے اور یہاں ممانعت حرمت کی ہے ، اس ممانعت میں صدہا حکمتیں ہیں : وصال سے جسم بہت کمزور ہوجاتا ہے ، وصال سے دوسری عبادتیں بھاری پڑ جاتی ہیں ، وصال میں جو گیوں ، سادھوؤں کی مشابہت ہے ، وصال ساری اُمَّت کے لیے ناجائز ہے خواہ اولیاء ہوں یا دیگر طبقہ کے لوگ۔ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصرف ایک دن کا نہیں بلکہ متواتر کئی کئی روز کا وصال فرماتے تھے کہ مسلسل روزے پر روزے رکھتے تھے ، اس لیے سائل کو شبہ ہوا کہ وصال تو سنت رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہونا چاہیے ، منع کیوں ہے؟‘‘( )میں تمہاری مثل نہیں ہوں:حضور نبی کریم ، رَ ؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمانا کہ ’’میں تمہاری مثل نہیں ہوں ، میں اپنے رب کے ہاں اِس حال میں رات گزارتاہوں کہ وہ مجھے کھلاتاپلاتاہے۔ ‘‘ مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’اس جملہ سے چند مسئلے معلوم ہوئے : (1) ایک یہ کہ کوئی شخص کسی بھی درجہ پر پہنچ کر حضورِ اَنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مثل نہیں ہوسکتا ، جب
انسان کو ناطق کی قید نے تمام حیوانیات سے ذاتی امتیاز دے دیا تو نبوت اور وحی کی صفتوں نے بھی دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تمام انسانوں سے ذاتی ممتاز کر دیا۔ (2)دوسرے یہ کہ اگر حضورِ اَنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہ نیت عبادت کھانا پینا چھوڑیں تو خواہ ہفتوں نہ کھائیں ضعف و کمزوری بالکل طاری نہ ہوگی اور اگر بطورِ عادت کھانا ملاحظہ نہ کریں تو ضعف بھی نمودار ہوگا ا ور شکم پاک پر پتھر بھی باندھے جائیں گے کیونکہ حضور ِاَنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نوربھی ہیں اور بشربھی۔ عبادت میں نورانیت کا ظہورہے اور عادت میں بشریت کی جلوہ گری۔ لہذا یہ حدیث حضرت جابر( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ )کی اس روایت کے خلاف نہیں کہ حضور نبی کریم ، رَ ؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دو وقت کھانا نہ کھانے پر دو پتھر پیٹ سے باندھے۔ (3) تیسرے یہ کہ جنتی میوے کھانے اور وہاں کا پانی پینے سے روزہ نہیں جاتا جیسے رب تعالیٰ سے کلام کرنے اور حضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سلام کرنے سے نماز نہیں جاتی۔ بعض اولیاء خواب میں کھا پی لیتے ہیں کہ کھانے کی خوشبو بیداری کے بعد اُن کے منہ میں پائی جاتی ہے مگر اُن کا روزہ قائم رہتا ہے جیسے احتلام سے ہمارا روزہ نہیں جاتا۔ (4) چوتھے یہ کہ بعض بندوں کو اِسی زندگی میں جنتی میوے ملتے ہیں ، حضرت مریم عَلَیْہَا السَّلَام کا جنتی میوے کھانا قرآنِ پاک سے ثابت ہے۔ (5) پانچویں یہ کہ حضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ہرکام ہمارے لیے سنت نہیں بلکہ وہ کام سنت ہے جو ہمارے لیے لائق عمل ہو ، خصوصیات مصطفٰے ہمارے لیے سنت نہیں ، روزۂ وصال ، ۹بیویاں نکاح میں جمع فرمانا ہمارے لیے نہ سنت ہیں نہ لائق عمل ، سنت وحدیث میں یہی فرق ہے۔ ‘‘( )ربّ تعالیٰ کے کھلانے پلانے کے معنٰی:’’میں اپنے رب کے ہاں اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ وہ مجھے کھلاتاپلاتاہے۔ “ کے تحت شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’واضح رہے کہ اس کھانے پینے میں چنداقوال ہیں : (1)ایک یہ ہے کہ اس کھانے پینے سے حسی کھانا پینا مرادہوجو حضورِاَقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ سے ہرشب آتا تھا ، آپ وہی کھاتے اور پیتے تھے ، یہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
کی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے عزت افزائی تھی جو آپ کے ساتھ خاص تھی اور آپ کا یہ کھاناپیناروزہ کے وصال کے منافی اور روزہ کے باطل ہونے کا سبب نہ تھا ، اگرچہ یہ کھانا پینادن کے وقت بھی فرض کر لیا جائے۔ جیساکہ ایک روایت میں ہے : ’’میں دن کواپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے پاس ہوتا ہو ں وہ مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے۔ ‘‘ کیونکہ جس کھانے سے روزہ شرعاً ٹوٹتا ہے وہ یہ عادی کھاناپیناہےاور وہ کھاناجوخرقِ عادت(معجزہ)کے طور پر جنت سے اللہ عَزَّوَجَلَّ بھیجتاہے اس کے کھانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ (2)بعض نے کہا : یہاں کھانے پینے سے وہ قوت وطاقت مرادہے جوخوراک سے حاصل ہوتی ہے تو گویا سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یوں فرمایا : ’’مجھے میراپروردگارکھانے پینے والے انسان کی طرح قوت وطاقت عطافرماتا ہے اوروہ چیزجو کھانے پینے کے قائم مقام ہے وہ مجھےاللہ عَزَّوَجَلَّ عطافرماتاہے اس کی وجہ سے مجھے عبادت وطاعت کی قوت حاصل ہوتی ہے۔ مختاراور پسندیدہ بات یہ ہے کہ اس کھانے اورپینے سے محسوس کھاناپینامرادنہیں ہےبلکہ اس سے غذائے روحانی مرادہے جوآپ کے قلب مبارک پر مَعَارِف ، لَذت ومُناجات اور فیضانِ لَطائفِ اِلٰہیہ کی صورت میں وارد ہوتی تھی اور اس کی بدولت آپ جسمانی غذا اوراس کے لوازمات سے بے نیاز رہتے تھے۔ یہ چیز مجازی محبتوں ومسرتوں میں ایک تجربہ شدہ چیزہے تومحبتِ حقیقی اور مَسَرَّتِ مَعنوی کا کیا عالَم ہوگا جوآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوہروقت حاصل رہتی تھی۔ ( )کھانے پینے کے قائم مقام کیفیت کا فیضان:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : رات میں افطار کئے بغیر تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دو روزوں کوملایاتو صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے بھی آپ کی اتباع کرتے ہوئے دو روزوں کوملایا۔ ان پرصوم وصال دشوار ہوگیا کیونکہ اس میں بھوک اورپیاس کی مشقت تھی ، آپ نےانہیں صومِ وصال سے منع کرتے ہوئےارشادفرمایاکہ ’’میں تمہاری مثل نہیں ہوں مجھے تو کھلایا اور پلایاجاتاہے۔ ‘‘مطلب یہ ہے کہ تمہارے کھانے اورپینے کی مثل مجھے نہیں کھلایا پلایاجاتا کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھ پر ایسی کیفیت کا فیضان فرماتا ہے جوکھانے پینے کے قائم مقام ہوتی ہےاس سے مجھے بھوک اور پیاس کا
احساس نہیں ہوتا۔ ( )تین عظیم الشان نعمتوں کا ذکر:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’علماء نے اس کھلانے پلانے کی بہت توجیہیں کی ہیں۔ بعض نے کہا کہ اس سے قوتِ برداشت مراد ہے ، بعض نے فرمایا کہ اس سے روحانی غذائیں مراد ہیں ، بعض نے فرمایا کہ اس سے معنوی فیضان اور مناجات کی لذتیں مراد ہیں ، بعض نے فرمایا کہ اس سے بھاک پیاس کا نہ ہونا مراد ہے وغیرہ۔ مگر حضرت عشق کا فتویٰ یہ ہے کہ حدیث اپنے بالکل ظاہری معنیٰ پر ہے اور اس میں حضورِ انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےرب تعالیٰ کی تین نعمتوں کا ذکر فرمایا : ایک یہ کہ تم سب اپنے بچوں بیوی کے پاس رات گزارتے ہو اور میں اپنے رب کے پاس۔ دوسرے یہ کہ میں رب تعالیٰ کے پاس رہ کو خود نہیں کھاتا پیتا بلکہ مجھے میرا رب تعالیٰ کھلاتا پلاتا ہے ، کھلانے والا اس کا دست کرم ، کھانے والا میں۔ تیسرے یہ کہ ربّ تعالیٰ مجھے وہ روزی کھلاتا پلاتا ہے جس سے نہ روزہ ٹوٹے ، نہ روزوں کا تسلسل جائے ، یعنی جنت کے میوے اور سلسبیل تسنیم وغیرہ کے شربت۔ ‘‘( )تمام جہاں کے اولیاء ایک صحابی کی مثل نہیں:“ مرآۃ المناجیح “ میں ہے : ’’جب صحابہ حضورِ اَنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مثل نہ ہوسکے اور کسی کا کیا منہ ہے جو اُن سے ہمسری کا دعویٰ کرے۔ تمام جہان کے اولیاء ایک صحابی کی مثل نہیں ہوسکتے جس نے ایمانی نگاہ سے ان کا چہرہ ایک آن دیکھا ، اُن کی ذات تو بہت اعلیٰ ہے۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’ابدال‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول(1) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود تو صومِ وِصال رکھتے تھے لیکن اُمَّت کی آسانی کے لیے انہیں صومِ وِصال رکھنے سے منع فرمایا۔
(2) صومِ وِصال اس روزے کو کہتے ہیں جس میں روزہ رکھ کر نہ تو افطاری کی جائے اور نہ تو اگلے روزے کے لیے سحری کی جائےاور نہ کسی اور وقت کچھ کھایا پیا جائے۔
(3) کوئی بھی امتی چاہے جتنی بھی عبادت وریاضت کرلے کبھی بھی کسی صورت بھی حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مثل نہیں ہوسکتا ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مثل ہوناتو دُور کی بات ہے اُمَّتِ مُسْلِمَہ کا کوئی غوث قُطب اَبدال کسی ایک صحابی رسول کے مقام ومرتبے کو نہیں پہنچ سکتا۔
(4) حضورِ اَکرم نورِمجسم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے یہ خصوصی مَقام ومَرتبہ عطا فرمایا ہے کہ آپ اپنے رب کے ہاں رات گزارتے ہیں ، آپ کا رب آپ کو کھلاتا پلاتا ہے۔
(5) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کواپنے رب تعالیٰ کے ہاں سے وہ نعمتیں کھلائی جاتی ہیں جن سے نہ تو روزہ ٹوٹتا ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا دُنیوی خلل واقع ہوتا ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعاہے کہ وہ ہمیں اپنی رضا والے کاموں کو کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اُن تمام کاموں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے جن سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے منع فرمایاہے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 230