Main Icon

حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 227

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ جَرِيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِیَ اللہُ عَنْھُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَا يَرْحَمِ النَّاسَ لَا يَرْحَمْہُ اللہُ. ( )

عن جرير بن عبد الله رضی اللہ عنھ قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من لا يرحم الناس لا يرحمہ اللہ. ( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سیدنا جریربن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : “ جوشخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی اس پر رحم نہیں فرماتا۔ ‘‘

شرح حدیث

ربّ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کا معنٰی:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’جولوگوں پررحم نہیں کرتےاللہ عَزَّوَجَلَّ ان لوگوں پرشفقت ومہربانی فرمائےگا نہ نرمی۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کایہ فرمان بطورِخبر ہے یا ایسے لوگوں کے کے خلاف دعا جو لوگوں پر رحم نہیں کرتے ۔ معنیٰ یہ ہوئے کہ جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا وہ ان لوگوں میں سے نہیں ہے جنہیں رحمت کاملہ ملی ہے اورجو رحمت کے گھر کی طرف سبقت کرنے والے ہیں ورنہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت تو ہرشے کوشامل ہے۔ ‘‘( )بچوں پرشفقت ومحبت کے مدنی پھول:میٹھےمیٹھےاسلامی بھائیو!محبت و شفقت اولاد کے ساتھ اچھے برتاؤ کا اہم ترین ذریعہ ہے ، اسی لیے

اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کو انسان ہی نہیں بلکہ ہر جاندار کی فطرت میں ودیعت رکھاہے۔ جانوروں کو دیکھ لیجئے کہ کس طرح وہ اپنے بچوں سے پیار کرتے ہیں ، ایک چھوٹے پرندےسے لے کر بڑے بڑے درندوں میں بھی بچوں کی محبت موجود ہوتی ہے ، انسان تو پھر انسان ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے ، جب یہ انسان خود اپنے رب تعالیٰ کے رحم وکرم کا ہروقت محتاج ہے تو اس کا دل کیسے رحم سے خالی ہوسکتا ہے؟ ربّ تعالیٰ نے تو اپنے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بھی عالمین کے لیے رحمت بنا کر بھیجا اور حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خود اِرشاد فرمایا : ’’وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے۔ ‘‘( )
شایدہی کوئی ماں باپ ایسے ہوں جن کے دل میں اولاد کی محبت اور اس پر مہربانی کا جذبہ نہ ہو لیکن یہ ضرور ہوتا ہے کہ یا تو والدین محبت کا تقاضا پورا نہیں کرتے یا محبت کا طریقہ غلط اختیار کرتے ہیں۔ محبت کا تقاضا پورا نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ والدین کو بچوں سے محبت کی وجہ سے جو طرزِ عمل اختیارکرنا چاہیے وہ اُس میں لاپرواہی کرتے ہیں۔ بچوں کو محبت دینے کا غلط طریقہ یہ ہے کہ بچوں کی ہر ضد پوری کی جائے۔ مثلاً جو چیز بھی وہ مانگیں انہیں دے دی جائے ، چاہے اُس سے انہیں نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ اُن کی اَنجان حرکتوں پر غور نہ کرنا ، چاہے وہ اُن کے اَخلاق و عادات کو بگاڑ ہی کیوں نہ دے۔ محبت و شفقت بچوں کا حق ہے لیکن اُس میں اعتدال ہونا چاہیے کہ نہ تو بچوں کی حق تلفی ہو اور نہ وہ اُن کے لیے مضر و نقصان دہ ہو۔ اِس سلسلے میں سب سے زیادہ ماں کو محتاط ہونا چاہیے کہ ماں کا دل اَولاد کی محبت سے لبریز ہوتا ہے اوروہ اپنی محبت سے مجبور ہو کر بچوں کی غلط ضد پوری کرتی ہے اُن کی بری عادتوں کی پردہ پوشی کرتی ہے ، اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ماں بچوں کی غلط عادات کی اُن کے والد کو اطلاع نہیں ہونے دیتی تاکہ اُن کا والداُن پر سختی نہ کرے اور وہ سز ا سے بچ جائیں۔ ماں کی محبت کا یہ انداز اولاد کے لیے زہر قاتل ہے ، ایسی ماں اولاد کی محبت کا حق ادا نہیں کرتی بلکہ اسے تباہی کے گڑھے میں دھکیلتی ہے کہ غلطیوں پر بچوں کو فوراً تنبیہ کرنی چاہیے اور یہی اُن کے ساتھ اچھا

برتاؤ ہےاور اُن کی محبت کا حق ادا کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
مدنی گلدستہ
سیدنا ’’عمر‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) اللہ عَزَّوَجَلَّ اسی پر رحم کی بارش فرماتاہے جس کادل دوسروں کے لئےرحم ومحبت سے بھراہواہو۔
(2) اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی اس شخص پر رحم اور نرمی نہیں فرماتا جس کا دل رحم ونرمی سے خالی ہو۔
(3) محبت و شفقت بچوں کا حق ہے لیکن اُس میں اعتدال ہونا چاہیے کہ نہ تو بچوں کی حق تلفی ہو اور نہ ہی اُن کے لیےنقصان دہ ہو۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعاہے کہ وہ ہمیں مسلمانوں پررحم ونرمی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 227