Main Icon

حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 234

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:الْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَخُوْنُهُ وَلَا يَكْذِبُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ كُلُّ الْمُسْلِـمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ عِرْضُهُ وَمَالُهُ وَدَمُهُ التَّقْوَى هَا هُنَا بِحَسْبِ امْرِئٍ مِّنَ

الشَّرِّ اَنْ يَحْقِرَاَخَاهُ الْمُسْلِمَ.( )

عن ابي هريرةرضي الله عنه قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:المسلم اخو المسلم لا يخونه ولا يكذبه ولا يخذله كل المسلـم على المسلم حرام عرضه وماله ودمه التقوى ها هنا بحسب امرئ من

الشر ان يحقراخاه المسلم.( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ، نہ اس سے خیانت کرے ، نہ اُس سے جھوٹ بولے اور نہ اُسےرُسوا کرے۔ ہر مسلمان کی عزت ، مال اور جان دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ تقویٰ یہاں ہے ۔ (اوریہ فرماتے ہوئےدست اقدس سے اپنے دل کی طرف اشارہ فرمایا۔ پھر فرمایا : )کسی بھی انسان کے بُرا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقارت کی نگاہ سے دیکھے ۔ ‘‘

شرح حدیث

خیانت کی مذمت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اپنے کسی بھی مسلمان بھائی کے ساتھ خیانت کرنا ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ، مگر ہمارے معاشرے میں خیانت کی وبا بہت تیزی سے پھیلتی چلی جارہی ہے ، امانت میں خیانت کرنا کسی مسلمان کی شان نہیں بلکہ منافق کی صفت ہے ، خیانت میں کوئی بھلائی نہیں بلکہ اس میں دنیا وآخرت کی ذِلت ورُسوائی اور تباہی وبربادی چھپی ہوئی ہے۔ احادیث میں خیانت کی بہت شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے ، چنانچہ خیانت کی مذمت پر تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے :
(1) ’’جس شخص میں یہ چارخصلتیں پائی جائیں وہ پکا منافق ہے اور جس میں اِن میں سے کوئی ایک خصلت پائی جائے تو اُس میں نفاق کی ایک علامت پائی جائے گی یہاں تک کہ وہ اُس کو چھوڑ دے اور وہ خصلتیں یہ ہیں : جب بات کرے تو جھوٹ بولےجب امین بنایا جائے تو خیانت کرے جب عہد کرے تو دھوکا دے اورجب کسی سے جھگڑے تو گالی گلوچ کرے ۔ ‘‘ ( )(2) ’’خیانت اور حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتے ہیں جس طرح آگ لکڑیوں کوکھا جاتی ہے۔ ‘‘ ( )(3) ’’قیامت کے دن ہر خائن کے لئے

ایک جھنڈا گاڑا جائے گا اور کہا جائے گا : سنو! یہ فلاں بن فلاں کی خیانت ہے۔ ‘‘( )
جھوٹ سے بچئے:مذکورہ حدیث پاک میں جھوٹ نہ بولنے کا بھی حکم ارشاد فرمایا گیا ہے۔ جھوٹ کی مذمت سے کون واقف نہیں؟ جھوٹ کی مذمت کے لیے تو فقط اتنا ہی کافی ہے کہ جھوٹے پر قرآن پاک میں لعنت فرمائی گئی ہے۔ مگر افسوس! صد کروڑ افسوس!آج ہماری اکثریت اس گندی بیماری میں لت پت ہوچکی بلکہ جھوٹ ہمارے معاشرے کا ناسور بن چکا ہے ، بات بات پر جھوٹ بولنا عام ہوچکا ہے ، کوئی بات جھوٹ سے خالی نہیں ہوتی ، گھر میں بھی ایک دوسرے سے جھوٹ بولتے ہیں اورباہر بھی ۔ باپ بیٹے سے ، بیٹا باپ سے ، ماں بیٹی سے بیٹی ماں سے ، استاد شاگرد سے ، شاگرد استاد سے ، بیچنے والا خریدنے والے سے اور خریدنے والا بیچنے والے سے جھوٹ بولتا ہے۔ اسی جھوٹ کی نحوست کے سبب ہمارے معاشرے سے امن وسکون رخصت ہوچکا ہے ، رزق میں بے برکتی پیدا ہوچکی ہے ، صبح سے شام تک کماتے ہیں مگر گزارہ نہیں ہوتا۔ کاش! ہم جھوٹ سے توبہ کرنے والے اور سچ بولنے والے بن جائیں ، جھوٹ بولنے میں دنیا وآخرت کی تباہیاں اور سچ بولنے میں دنیا وآخرت کی بھلائیاں پوشیدہ ہیں۔ جھوٹ کی مذمت پر تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے : (1) ’’مؤمن میں دوخصلتیں جمع نہيں ہو سکتیں : (۱)بخل اور (۲)جھوٹ۔ ‘‘( )(2) ’’منافق کی3 علامتیں ہيں : (۱)جب بات کرے تو جھوٹ بولے (۲)جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور (۳)جب امانت اُس کے سپرد کی جائے تو اُس میں خيانت کرے۔ ‘‘( ) (3) ’’بیشک سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اور بےشک بندہ سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک صدیق یعنی بہت سچ بولنے والا ہوجاتا ہے جبکہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتاہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے اور بے شک بندہ جھوٹ

بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک کذّاب یعنی بہت بڑا جھوٹا ہو جاتا ہے۔ ‘‘( )
دھوکہ دینے کی ممانعت:مذکورہ حدیث پاک میں دھوکے سے بھی منع فرمایا گیا ہے ، دھوکہ تمام بُرائیوں کی جڑ ہے اور اسی سے ہلاکت میں ڈالنے والے تمام معاملات کی ابتدا ہوتی ہے ، دھوکہ ایک ایسا راستہ ہے جس کا اَنجام گہرا گڑھا ہے ، دھوکے باز شخص سے تمام لوگ نفرت کرتے ہیں ، دھوکہ قلبی سکون کا بہت بڑا دشمن ہے ، یہی وجہ ہے کہ دھوکے سے اگر کوئی شخص لاکھوں روپے بھی کمالے مگر اس کا دل مطمئن نہیں ہوتا جبکہ ایمان داری سے کمائے جانے والے چند روپوں میں بھی بہت سکون ہوتا ہے ، دھوکہ دینا بھی ہمارے معاشرے میں عام ہوچکا ہے ، دھوکہ مکروفریب وہ بڑی بڑی بیماریاں ہیں جو معاشرے کے بگاڑ کا سبب بنتی ہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اس گناہ سے اور تمام گناہوں سے محفوظ فرمائے ، آمین۔ کئی احادیث مبارکہ میں دھوکہ دہی کی مذمت بیان فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ دھوکےکی مذمت پر تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے : (1) ’’جس نے کسی مومن کونقصان پہنچایا یا اس کے ساتھ فریب کیا وہ ملعون ہے۔ ‘‘( ) (2) ’’مکروفریب اور خیانت جہنم میں(لے جانے والے ) ہيں۔ ‘‘( ) (3) ’’جس نے کسی مسلمان کے ساتھ بددیانتی کی یا اسے نقصان پہنچایا یا دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔ ‘‘( )مسلمان کی عزت، مال اور جان کی حرمت:مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کی تصریح ہے کہ ایک مسلمان کی عزت ، مال اور جان دوسرے مسلمان پر حرام ہیں ، کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی عزت پامال کرے ، اسے دیگر لوگوں کے سامنے بلاوجہ شرعی بے عزت کرے ، اس کے مال میں ناجائز تصرف کرے ،

اس کی جان کی حرمت کو پامال کرے۔ بہت بد نصیب ہیں وہ لوگ جو اپنے مسلمان بھائیوں کی عزتوں کو پامال کرتے ہیں ، اُن کے اَموال کو ناجائز طریقے سے اپنے تصرف میں لاتے ہیں ، اگرچہ انہیں وقتی طور پر کچھ دُنیوی فائدہ ہوجاتا ہے مگر اِس میں آخرت کا خسارہ ہی خسارہ ہے ، کل بروزِ قیامت جس کا کوئی بھی حق تلف کیا ہوگا جب تک اسے راضی نہیں کریں گے نجات نہیں ملے گی ، دنیا میں تو کسی کو مال وغیرہ دے کر راضی کیا جاسکتا ہے مگر آخرت میں یا تو اسے اپنی نیکیاں دینی ہوں گی یا نیکیاں نہ ہونے کی صورت میں اس کے گناہ لینے ہوں گے ، یقیناً نیکیاں نہ ہونا اور دوسروں کے گناہ لینا بہت ہی گھاٹے کا سودا ہے ، سب سے بڑا مفلس وہ شخص ہے جو کل بروزِقیامت نیکیوں کے ساتھ آئے گا مگر حقوق العباد کی تلفی کے سبب اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی ، اور بالآخراسے جہنم میں داخل کردیا جائے گا۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں دنیا وآخرت دونوں کی آزمائشوں سے محفوظ فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
متقی شخص کی عزت کا حکم:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’جب کوئی مسلما ن اپنے مسلمان بھائی کو ظاہری یا جسمانی بُری حالت میں دیکھے تو نہ اس کے عیب کو بیان کرے ، نہ اسے بُرے الفاظ سے پکارے ، نہ اس کی حالت کا مذاق اڑائے اور نہ ہی اس کو حقیر سمجھے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ شخص باطن کے اعتبار سے نیک ہوتو وہ اس کی بے عزتی کر کے خود اپنا نقصان کرے گا کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے متقی شخص کی عزت کرنے کا حکم دیا ہے۔ ‘‘( )متقی شخص تحقیر نہیں کرتا:امام مظہر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’جو مسلمان اپنے آپ کو شرک اور گناہ سے بچائے تو اس کی تحقیر کرنا جائز نہیں اور تقویٰ کا محل دل ہے اور جس چیز کا محل دل ہو ، وہ لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہوتی ہے تو جب تقویٰ نظروں سے پوشیدہ ہے تواب کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان میں تقویٰ نہ ہونے کا حکم لگائے اور اس کی تحقیر کرے۔ اس جملے کا ایک معنیٰ یہ بھی بیان کیا گیاہے کہ جس کے دل میں تقویٰ ہوتو

وہ کسی مسلمان کی تحقیر نہیں کرسکتا کیونکہ متقی شخص کبھی کسی مسلمان کی تحقیر نہیں کر تا۔ ‘‘( )
تقویٰ کیا ہے۔۔۔؟میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! تقویٰ کیا ہے؟ اس کے بارے میں علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے مختلف اَقوال بیان فرمائے ہیں۔ چنانچہعَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جن کاموں کو کرنے کا حکم دیا ہے اُن کو کرکے اور جن سے منع فرمایا ہے اُن کو نہ کرکے اپنے آپ کو اس کے عذاب سے بچانے کا نام تقویٰ ہے۔ ‘‘( )
حضرت علامہ ابو القاسم عبد الکریم بن ہوازن قشیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’تقویٰ تمام نیکیوں کا مجموعہ ہے ، تقویٰ کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت کے ساتھ اس کے عذاب سے بچے۔ تقویٰ کی اصل شرک سے بچنا ، پھر گناہوں اور بُرائیوں سے بچنا ، اس کے بعد شبہات سے بچنا ہے اور اس کے بعد فضول باتوں کو ترک کرنا ہے۔ استاذ ابوعلی دقاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاق فرماتے ہیں : تقویٰ کی ہر قسم کا الگ باب ہے اور قرآن پاک میں جو یہ فرمایا گیا کہ ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈروجیسا اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ ‘‘اس کی تفسیر میں یہ بھی آیا ہے کہ اُس کی اطاعت کی جائے ، اُس کی نافرمانی نہ کی جائے ، اُسے یاد رکھا جائے ، بھلایا نہ جائے ، اُس کا شکر ادا کیا جائے ، ناشکری نہ کی جائے۔ ‘‘( )
تقویٰ کی جگہ دل کیوں ہے؟عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تقویٰ کی جگہ دل بتائی کیونکہ تقویٰ خوف سے حاصل ہوتا ہے اور خوف دل میں ہی ہوتا ہے۔ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ

تمہارے جسموں اور تمہاری صورتوں کی طرف نہیں بلکہ وہ تو تمہارے دِلوں کی طرف دیکھتا ہے۔ ‘‘( )
تقویٰ وپرہیزگاری کا مرکز:حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے دل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تقویٰ یہاں ہے۔ اس کی شرح کرتے ہوئے مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’صوفیاء کرام اِس جملہ کے معنیٰ یہ کرتے ہیں کہ حضورنے اپنے سینے کی طرف اِشارہ کرکے فرمایا کہ تقویٰ و پرہیزگاری یہاں ہے یعنی تقویٰ کی کان اور پرہیزگاری کا مرکز میرا سینہ ہے۔ میرے سینے سے تمام اولیاء و علماءکے دلوں کی طرف تقویٰ کے دریا بہتے ہیں۔ پھر اُن کے سینوں سے عوام کے سینوں کی طرف تقویٰ کی نہریں نکلیں۔ حضور کا سینہ کشف غیوب (یعنی پوشیدہ باتوں کے ظاہر ہونے) کا آئینہ ہے ، کونین یعنی سارے عالَم میں حضور کی عطائیں بہتی ہیں۔ ‘‘( )کسی مسلمان کو حقارت سے دیکھنا:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں جو سب سے آخر میں بات بیان فرمائی گئی وہ یہ ہے کہ ’’کسی شخص کے براہونے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ وہ دوسرے کو حقارت سے دیکھے۔ ‘‘ اگر ہم اپنے معاشرے میں غور کریں تو کئی لوگ اِس بیماری کے مریض نکلیں گے ، خصوصاً وہ لوگ جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے کوئی نعمت مل جائے تو اُس نعمت پر ربّ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی بجائے غرور تکبر سے پھولے نہیں سماتے ، خود کو بڑا اور دوسروں کو حقیر سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ اگر کوئی اُن کے نئے کپڑوں کو غلطی سے بھی ہاتھ لگادے تو غصے میں لال پیلے ہوجاتے ہیں ، ’’تمہاری جرأت کیسے ہوئی میرے نئے کپڑوں کو ہاتھ لگانے کی؟ ‘‘ تکبر سے بھرے ہوئے ایسے جملے اُن کی زبان سے اکثر سننے کو ملتے ہیں ، نئی گاڑی ، نئی موٹر سائیکل ، یا گھر کی کوئی بھی نئی چیز لی ، یا گھر ہی نیا خریدا یا کوئی اچھی نوکری مل گئی تو فوراً دوسروں کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں۔ ایسے

لوگوں کو ڈر جانا چاہیے ، کیونکہ انہیں حدیث مبارکہ میں بُرا فرمایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ فقط دُنیوی عیش وعشرت کی کوئی اہمیت نہیں جب تک اِس دنیا سے ایمان سلامت لے کر نہ جائیں ، ہماری یہ امارت کس کام کی جو ہمیں اُخروی اعتبار سے کوئی فائدہ نہ دے ، ہم سے وہ غریب اچھا جس کے پاس پرانی چیزیں ہیں مگر وہ ربّ تعالیٰ کی رضا والے کاموں میں مصروف ہے ، اُس کی اطاعت وفرمانبردای میں لگا ہوا ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے کون واقف ہے؟ کسے معلوم کہ اُس کا انجام کیا ہوگا؟ ہمارے بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن بھی دوسروں کو حقیر سمجھنے کی بجائے فقط اپنی اِصلاح کی کوشش میں مصروف رہا کرتے تھے ، نیز ہروقت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے خائف رہا کرتے تھے۔ چنانچہ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ’’اگر آسمان سے ندا کی جائے کہ روئے زمین کے تمام لوگ بخش دیے گئے ہیں سوائے ایک کے تومیں خوفِ خدا کے سبب یہی سمجھوں گا کہ وہ شخص میں ہی ہوں اور اگر یہ ندا کی جائے کہ رُوئے زمین کے تمام لوگ دوزخی ہیں سوائے ایک شخص کے تو میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے امید کے سبب یہی سمجھوں گا کہ وہ شخص بھی میں ہی ہوں۔ ‘‘( )
کاش! ہم بھی دوسروں کو حقیر سمجھنے کی بجائے عاجزی وانکساری کرنے والے بن جائیں ، احترامِ مسلم کرنے والے بن جائیں ، اپنی آخرت کی تیاری کرنے والے بن جائیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خفیہ تدبیر سے ڈرنے والے بن جائیں ، تقویٰ وپرہیزگاری اختیار کرنے والے بن جائیں۔ آمین
مدنی گلدستہ
’’صفامروہ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1)تمام مسلمان آپس میں دِینی بھائی ہیں ، جس طرح ہم اپنے سگے بھائی کو کوئی تکلیف وغیرہ نہیں پہنچاتے ویسے ہی اپنے دینی بھائیوں کو بھی کسی قسم کی تکلیف نہیں دینی چاہیے۔

(2)کسی بھی مسلمان کے ساتھ خیانت کرنا ناجائز وحرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
(3)جھوٹوں پر لعنت فرمائی گئی ہے ، نیز جھوٹ کی بھی احادیث میں شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے ، جھوٹ سے رزق میں بے برکتی پیدا ہوتی ہے لہٰذا جھوٹ سے بچنے میں ہی عافیت ہے۔
(4)دھوکہ ، مکروفریب کئی بیماریوں کی جڑ ہے ، دھوکے میں سراسر نقصان ہے ، دھوکے سے بظاہر تھوڑا سا دُنیوی نفع تو حاصل کیا جاسکتا ہے مگر اُس کا اُخروی نقصان بہت زیادہ ہے لہذا دھوکہ دہی سے بچنا اور ایمان داری سے کام لینا چاہیے۔
(5)اپنے آپ کو رضائے الٰہی کے لیے گناہوں سے بچانا اور نیکیوں میں مشغول رکھنا حقیقی تقویٰ ہے۔
(6)جب عام مسلمان کو تکلیف دینے کی ممانعت ہے تو متقی شخص کو تکلیف پہنچانا تو بدرجہ اَولیٰ منع ہے۔
(7)کسی بھی مسلمان کو حقیر جاننے کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے نیز اسے بُرائی سے تعبیر فرمایا گیا ہے ، لہٰذا غرور تکبر کرکے کسی کو بھی حقیر نہیں جاننا چاہیے بلکہ عاجزی واِنکساری کرتے ہوئے اپنا محاسبہ کرنا چاہیے اور ربّ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے ہردم ڈرتے رہنا چاہیے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ ہمیں مسلمان کے ساتھ خیانت ، دھوکہ اور جھوٹ سے محفوظ فرمائے ، ہمیں تمام مسلمانوں کی عزت ، مال اور جان کی حرمت کی تعظیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، تقویٰ وپرہیزگاری اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 234