Main Icon

حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 232

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللہِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ فَلَا يَطْلُبَنَّكُمْ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ فَاِنَّهُ مَنْ يَطْلُبْهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ يُدْرِكْهُ ثُمَّ يَكُبَّهُ عَلٰی وَجْهِهِ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ. ( )

عن جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من صلى صلاة الصبح فهو في ذمة الله فلا يطلبنكم الله من ذمته بشيء فانه من يطلبه من ذمته بشيء يدركه ثم يكبه علی وجهه في نار جهنم. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا جُندُب بن عبداللہ رَضِيَ اللهُ تَعَالیٰ عَنْهُ فرماتے ہیں کہ حضور نبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’جس شخص نے صبح کی نماز پڑھی تو وہ ربّ تعالیٰ کی امان میں ہے لہٰذا ربّ تعالیٰ تم سے اپنی امان کے بارے میں پوچھ گچھ نہ فرمائے کیونکہ جب وہ کسی سے اپنی امان کے بارے میں پوچھ گچھ فرمائے گا تو اُس کی سخت پکڑ فرمائے گااور پھر اُسے اوندھے منہ جہنم میں ڈال دے گا۔ ‘‘

شرح حدیث

عذاب الٰہی سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں:شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی مذکورہ حدیث پا ک کے تحت فرماتے ہیں : ’’یعنی تم کوئی ایسا کام نہ کرو کہ جس سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عَہد اور اُس کی طرف سے لازم کئے ہوئے کاموں میں خلل واقع ہو اور ربّ تعالیٰ اِس پر تم سے پوچھے اور تمہاری باز پرس فرمائےاور صبح کی نماز ادا کرنے والے کسی بھی شخص کو تکلیف نہ پہنچاؤکہ اِس طرح اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عَہد ٹوٹتا اور اُس کی امانت میں خیانت واقع ہوتی ہے اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں عذاب میں مبتلا کرے گا اور اُس کے عذاب سے چھٹکارہ کی کوئی صورت بھی نہیں ہے۔ ‘‘( )نمازِ فجر ادا کرنے والااللہکی امان میں ہے:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’فجر کی نماز پڑھنے والا اللہکی امان میں ایسا ہوتا ہے جیسے ڈیوٹی کا سپاہی حکومت کی امان میں کہ اس کی بے حرمتی حکومت کا مقابلہ ہے۔ خیال رہے کہ کلمہ کی امان اور قسم کی ، نماز کی امان اور

قسم کی۔ لہٰذا اَحادیث میں تعارض نہیں۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ تم نمازی کوستاؤ اور قیامت میں سلطنتِ اِلٰہیہ کے باغی بَن کر پکڑے جاؤ۔ ‘‘( )
نمازِفجر کی ادائیگی کی خصوصیت:اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’فجر کی نماز کو خصو صیت کے ساتھ اِس لئے ذکر کیا کہ اِس نماز کی ادائیگی دوسری نمازوں کے مقابلے میں نفس پر زیادہ گراں گزرتی ہےاور اس نماز کی ادائیگی نمازی کے اِخلاص پر دلالت کرتی ہے۔ ‘‘( )باجماعت نمازِ فجر کی فضیلت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک میں نماز ِفجر کا ذکر ہے ، نمازِ فجرکی احادیث مبارکہ میں بہت اہمیت وفضیلت بیان فرمائی گئی ہے ، چنانچہ باجماعت نمازِ فجر کی فضیلت پر تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے : (1)’’جس نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی گویا اس نے آدھی رات قیام کیا اور جس نے فجر کی نماز باجماعت ادا کی گویا اس نے پوری رات قیام کیا۔ ‘‘( ) (2)’’منافقین پر سب نَمازوں سے بھاری فجر اور عشاء کی نَماز ہے ، اگر جان لیتے کہ اِن دونوں نَماز وں میں کیا ہے تو ضرور حاضرہوتے اگرچہ گھسٹتے ہوئے آتےاور بیشک میں نے اِرادہ کیا کہ میں نَماز قائم کرنے کاحکم دوں اور کسی شخص کو نَماز پڑھانے پر مقرر کروں ، پھر کچھ لوگو ں کو اپنے ساتھ چلنے کےلئے کہوں جو لکڑیا ں اٹھائے ہوئے ہوں ، پھر اُن لوگوں کی طر ف جا ؤں جو نَماز میں حاضر نہیں ہوتے اور اُن کے گھروں کو آگ سے جلا دوں۔ ‘‘( ) (3)’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اِس طرح عبادت کرو گویاکہ تم اسے دیکھ رہے ہو ، اگرتم اسے دیکھ نہیں سکتے تو بے شک وہ تمہیں دیکھ رہا ہے اور اپنے آپ کو مُردوں میں شمار کرواور مظلوم کی بد دعا سے بچتے رہوکیونکہ وہ ضرور قبول ہوتی ہے اور تم میں جو

فجر اور عشاء کی نما ز میں حاضر ہوسکے اگرچہ گھسٹتے ہوئے ، تو اُسے چاہیے کہ وہ ضرور حاضر ہو۔ ‘‘( )
ربّ تعالیٰ کی پکڑ اور گرفت بہت سخت ہے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پکڑ اور اُس کی گرفت کا ذکر ہوا ، واقعی رب تعالیٰ کی گرفت بہت سخت ہے ، وہ جس کی گرفت فرمائے گا ، اُس کا انجام جہنم کے سوا کچھ نہیں ، ہمیں اُس سے پناہ مانگنی چاہیے ، اُس سے اُس کا فضل وکرم طلب کرنا چاہیے۔ قرآن واحادیث میں بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی شدید پکڑ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتاہے :وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌؕ-اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ(۱۰۲) اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِؕ-ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌۙ-لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ(۱۰۳) وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ(۱۰۴) یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖۚ-فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ(۱۰۵) فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ(۱۰۶) خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَؕ-اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ(۱۰۷) وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَؕ-عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ(۱۰۸)(پ۱۲ ، ھود : ۱۰۲۔ ۱۰۸)
ترجمۂ کنزالایمان : اور ایسی ہی پکڑہے تیرے رب کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پر بے شک اس کی پکڑ دردناک کرّی (سخت)ہے بے شک اس میں نشانی ہے اس کے لئے جو آخرت کے عذاب سے ڈرے وہ دن ہے جس میں سب لوگ اکٹھے ہوں گے اور وہ دن حاضری کا ہے اور ہم اسے پیچھے نہیں ہٹاتے مگر ایک گنی ہوئی مدت کے لئے جب وہ دن آئے گا کوئی بے حکمِ خدا بات نہ کرےگا ، تو ان میں کوئی بد بخت ہے اور کوئی خوش نصیب تو وہ جو بد بخت ہیں وہ تو دوزخ میں ہیں وہ اس میں گدھے کی طرح رینکیں (چیخیں چلائیں)گے وہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان وزمین رہیں مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا بے شک تمہارا رب جب جو چاہے کرے اور وہ جوخوش نصیب ہوئے وہ جنت میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے جب تک آسمان وزمین رہیں مگر جتنا تمہارے رب نے چاہا یہ بخشش ہے کبھی ختم نہ ہوگی۔

سرکارِ مدینہ ، راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : ’’ کیا جو کچھ میں سن رہا ہوں ، تم بھی سن رہے ہو؟ آسمان چِرچِرااُٹھا ہے اوروہ اس کا حق بھی ہے کیونکہ اُس پر ہر چار انگلیوں کی جگہ پر ایک فرشتہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے سجدے میں یاقیام یا رکوع میں ہے ، جو کچھ میں جانتا ہوں ، اگر تم بھی جان لیتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف سے پہاڑوں کی طرف نکل کھڑے ہوتے اوراس کی عظیم پکڑ اور سخت انتقام سے ڈرتے ہوئے اُس کی پناہ مانگتے۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے : ’’اور تم اس بات سے بے خبر ہوتے کہ تمہیں نجات ملے گی یانہیں۔ ‘‘( )
حدیث پاک کی باب سے مناسبت:(1) اس حدیث پاک میں نمازِ فجر ادا کرنے والے شخص کی عزت وحرمت ، اُس کے حقوق کا بیان ہے ، اور یہ باب بھی مسلمانوں کی حرمت کی تعظیم ، اُن کے حقوق اور اُن پر رَحمت وشفقت کا باب ہے۔ (2)اِس حدیث پاک میں نمازِ فجر کی ادائیگی کرنے والے کااللہ عَزَّوَجَلَّ کی امان میں ہونا بیان فرمایا گیا ہے ، چونکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امان میں ہے لہذا اب دیگر مسلمانوں کو اُس کی حرمت کی تعظیم ، اُس کے حقوق کی ادائیگی اور اُس پر رحمت وشفقت کرنا ضروری ہے ، اور یہ باب بھی اسی سے متعلق ہے۔ (3)فرمایا گیا کہ نمازِ فجر کی ادائیگی کرنے والا ربّ تعالیٰ کی امان اور عہد میں ہے ، رب تعالیٰ کا کسی کو اپنی امان اور عہد میں لے لینا دراصل اس کی حرمت ، اس کے حقوق اور اس پر رحمت وشفقت کا بیان ہے ، اب جو کوئی اس عہد کو پامال کرے گا گویا اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عہد کو پامال کیا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ سے خیانت کی۔ یہ باب بھی مسلمانوں کی حرمت کی تعظیم ، ان کے حقوق اور ان پر رحمت وشفقت کا باب ہے ، اسی لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی نے یہ حدیث مبارکہ اس باب میں بیان فرمائی ہے۔مدنی گلدستہ
’’نماز‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) اسلام میں تمام نمازوں کی اہمیت بیان کی گئی ہے مگر نمازِ فجر کی اہمیت کو خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
(2) فجر کی نماز پڑھنے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امان میں ہوتا ہے لہٰذا اسے کسی طرح کی بھی تکلیف نہ پہنچاؤ۔
(3) جب عام مسلمانوں پر شفقت ومہربانی اور نرمی وآسانی کا حکم دیا گیا ہے تو نمازی شخص کے ساتھ تو خاص طور پر اچھا سلوک کرنا چاہئے کہ ایسا شخص تو خود اللہ عَزَّوَجَلَّ کی امان میں ہے۔
(4) نماز ِفجر کی ادائیگی دوسری نمازوں کے مقابلے میں طبیعت پر زیادہ گراں ہے اس لیے اس نماز کے لیے خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں پانچوں نمازیں باجماعت پہلی صف میں تکبیر اولی کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، تمام مسلمانوں خصوصاً نمازیوں کے ساتھ شفقت ومہربانی ، نرمی وآسانی کے ساتھ پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنی سخت پکڑ سے محفوظ فرمائے ، ہم پر اپنا فضل وکرم فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 232