- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- حدیث نمبر 238
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِـمِ خَمْسٌ:رَدُّ السَّلَامِ وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ وَ اِجَابَةُ الدَّعْوَةِ وَتَشْمِيْتُ الْعَاطِسِ.( )
وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِم ٍ : حَقُّ الْمُسْلِمِ سِتٌّ: اِذَا لَقِيْتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَاِذَا دَعَاكَ فَاَجِبْهُ وَاِذَا اسْتَنْصَحَكَ
فَاَنْصِحْ لَهُ وَاِذَا عَطِسَ فَحَمِدَ اللهَ فَشَمِّتْهُ وَاِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ وَاِذَا مَاتَ فَا تَّبِعْهُ.( )
عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:حق المسلم على المسلـم خمس:رد السلام وعيادة المريض واتباع الجنائز و اجابة الدعوة وتشميت العاطس.( )
وفي رواية لمسلم : حق المسلم ست: اذا لقيته فسلم عليه واذا دعاك فاجبه واذا استنصحك
فانصح له واذا عطس فحمد الله فشمته واذا مرض فعده واذا مات فا تبعه.( )
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق ہیں : سلام کا جواب دینا ، بیمار کی عیادت کرنا ، جنازوں کے پیچھے چلنا ، دعوت قبول کرنا اور چھینک کا جواب دینا۔ ‘‘
اورصحیح مسلم کی ایک روایت میں یہ ہے کہ ’’مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں : جب وہ تم سے ملاقات کرے تو تم اسے سلام کرو ، جب وہ تمہیں دعوت دے تو تم اُس کی دعوت قبول کرو ، جب وہ تم سے کوئی نصیحت طلب کرے تو تم اُس کو نصیحت کرو اور جب وہ چھینکے اور اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہے تو اُس کی چھینک کا جواب دواور جب وہ بیمار ہوجائے تو اُس کی عیادت کرواور جب وہ مر جائے تو اُس کے جنازہ میں شرکت کرو۔ ‘‘
شرح حدیث
حقوق میں تمام مسلمان برابر ہیں:حضرت علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’اِس حدیث پاک میں ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر جو حقوق بیان کئے گئے ہیں ان میں تمام مسلمان برابر ہیں ، چاہے نیک ہوں یا بد لیکن اتنا ضرور ہے کہ نیک لوگ خندہ پیشانی ، اچھے طریقے سے ملاقات کرنے اور مصافحہ میں پہل کرنے کے زیادہ حقدار ہیں۔ ‘‘( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ احادیث میں ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق بیان فرمائے گئے ہیں ، اِن چھ حقوق کا اِجمالی بیان پیش خدمت ہے :(1)۔۔۔سلام کا جواب اور اس کے بہترین الفاظ:مذکورہ حدیث پاک میں مسلمان کا ایک حق یہ بھی بیان فرمایا گیا کہ جب وہ سلام کرے تو اسے جواب دیا جائے۔ آج کل ہماری اکثریت سلام کرنے کے طریقے اور الفاظ سے ناواقف نظر آتی ہے ، اسی طرح سلام
کا جواب دینے کا بھی علم نہیں ہوتا۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت ، امام اہلسنت ، مجدددین وملت ، پروانہ شمع رسالت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ شریف میں ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں : ’’(سلام کرنے والا) کم از کم اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہےاور اس سے بہتر وَرَحْمَۃُ اللہِ ملانا اور سب سے بہتر وَبَرَکَاتُہٗ شامل کرنا (یعنی سلام کے سب سے بہتر الفاظ یہ ہیں : اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ) اور اس پر زِیادت نہیں (یعنی اس سے زائد الفاظ نہ کہے) پھر سلام کرنے والے نے جتنے الفاظ سلام میں سلام کیا ہے جوا ب میں اتنے کا اعادہ تو ضرور ہے اور افضل یہ ہے کہ جواب میں زیادہ کہے ۔ اس نے اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہا تو یہ وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللہِ کہے اور اگر اس نے وَبَرَکَاتُہٗ کہا تو یہ بھی اتنا ہی کہے ، اس سےزیادت نہیں۔ ‘‘( )سلام کے 11 مَدَنی پھول:دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۳۲ صفحات پر مشتمل رسالے’’۱۰۱مدنی پھول‘‘ صفحہ ۲ سے سلام کے ۱۱مدنی پھول پیش خدمت ہیں : (1)مسلمان سے ملاقات کرتے وقت اُسے سلام کرنا سنّت ہے۔ (2) بہارِ شریعت حصہ ۱۶صفحہ ۱۰۲ پر لکھے ہوئے جُزیئے کا خلاصہ ہے : ’’ سلام کرتے وَقت دل میں یہ نیّت ہو کہ جس کو سلام کرنے لگا ہوں اِس کامال اور عزّت و آبرو سب کچھ میری حفاظت میں ہے اور میں اُن میں سے کسی چیز میں دَخل اندازی کرنا حرام جانتا ہوں ۔ ‘‘(3) دن میں کتنی ہی بار ملاقات ہو ، ایک کمرہ سے دوسرے کمرے میں بار بار آنا جانا ہو وہاں موجود مسلمانوں کو سلام کرنا کارِ ثواب ہے۔ (4) سلام میں پہل کرنا سنّت ہے۔ (5) سلام میں پہل کرنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کامُقرَّب ہے۔ (6) سلام میں پہل کرنے والا تکبُّر سے بھی بری ہے جیسا کے میرے مکّی مَدَنی آقا ، میٹھے میٹھے مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ باصفا ہے : ’’ پہلے سلام کہنے والا تکبُّر سے بَری ہے۔ ‘‘ (7) سلام (میں پہل) کرنے والے پر ۹۰ رَحمتیں اور جواب دینے والے پر ۱۰ رَحمتیں نازِل ہوتی ہیں۔ (8) اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم کہنے سے ۱۰ نیکیاں ملتی ہیں۔ ساتھ میں وَ رَحمَۃُ اللہ بھی کہیں گے تو ۲۰نیکیاں ہو جائیں گی اور وَبَرَکاتُہ شامل کریں گے تو ۳۰ نیکیاں ہو جائیں
گی۔ بعض لوگ سلام کے ساتھ جنَّتُ المقام اور دوزخُ الحرام کے الفاظ بڑھا دیتے ہیں یہ غلط طریقہ ہے۔ بلکہ مَن چلے تومعاذاللہیہاں تک بَک جاتے ہیں : ’’آپ کے بچّے ہمارے غلام۔ ‘‘ (9) اِسی طرح جواب میں وَعَلَیکُمُ السَّلامُ وَ رَحمَۃُ اللہِ وَ بَرَکاتُہٗ کہہ کر ۳۰ نیکیاں حاصِل کی جا سکتی ہیں۔ (10) سلام کا جواب فوراً اور اتنی آواز سے دینا واجِب ہے کہ سلام کرنے والا سُن لے۔ (11) سلام اور جوابِ سلام کا دُرُست تلفُّظ یاد فرما لیجئے۔ سلام کا درست تلفظ یہ ہے : اَلسَّلامُ عَلَیکُمْ(اَسْ۔ سَلا۔ مُ ۔ عَلَے۔ کُمْ) جواب کا درست تلفظ یہ ہے : وَعَلَیْکُمُ السَّلَام (وَ۔ عَ۔ لَیکُ۔ مُسْ۔ سَلام)۔ ہزاروں سنّتیں سیکھنے کیلئے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ دو کُتُب ’’بہارِ شریعت حصّہ۱۶‘‘ نیز ’’سنّتیں اور آداب‘‘ ہدیۃً حاصِل کیجئے اور پڑھیے۔ سنّتوں کی تربیت کا ایک بہترین ذَرِیعہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلوں میں عاشِقانِ رسول کے ساتھ سنّتوں بھرا سفر بھی ہے۔
سیکھنے سنّتیں قافلے میں چلو …… لُوٹنے رَحمتیں قافلے میں چلو
ہو ں گی حل مشکلیں قافلے میں چلو …… پاؤ گے بَرَکتیں قافلے میں چلو(2)دعوت قبول کرنا :مسلمان پر اپنے مسلمان بھائی کا دوسرا حق ’’اُس کی دعوت کو قبول کرنا ‘‘بیان فرمایاگیا ہے۔ چنانچہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’مسلمان بھائی کی دعوت قبول کرتے ہوئے اُس میں شرکت کرنا یہ اُس وقت سُنّتِ مبارکہ ہے جبکہ وہاں کوئی خلافِ شرع کام نہ ہو اور اگر خلاف شرع کام ہورہے ہوں تو دعوت قبول نہ کرنا لازم ہے۔ حجۃ الاسلام امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِینے تو یہاں تک فرمایا کہ جو دعوت اپنے آپ کو اونچا دکھانے ، فخر اور واہ واہ کے لئے ہو اس دعوت کو قبول کرنا منع ہے۔ سلف صالحین اس طرح کی دعوتوں میں شرکت کرنے کو مکروہ فرماتے ہیں۔ ‘‘( )(3)نصیحت کرنا :تیسرا حق نصیحت کرنا ہے۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’نصیحت سے
مسلمانوں کی خیر خواہی مراد ہے ، عام حالت میں نصیحت کرنا سنت مبارکہ ہے اور جب کوئی نصیحت کی بات سننے کی خواہش ظاہر کرے تو پھر اس کو نصیحت کرنا واجب ہے ۔ ‘‘( )مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’(نصیحت کرنے سے مراد یہ ہے کہ جب )تم سے کوئی مشورہ کرے تو اچھا مشورہ دو ، اگر شرعی مسئلہ پوچھے تو ضرور بتاؤ۔‘‘ ( )(4)چھینک کا جواب دینا:مسلمان پر مسلمان کا ایک حق یہ بھی ہے کہ وہ اُس کی چھینک کا جواب دے۔ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۳۲ صفحات پر مشتمل رسالے’’۱۰۱مدنی پھول‘‘ صفحہ ۱۳سے چھینکنے اور چھینک کا جواب دینے کی چند سنتیں اور آداب پیش خدمت ہیں : (1)’’چھینک کے وقت سر جھکائیں ، منہ چھپائیں اور آواز آہستہ نکالیں ، چھینک کی آواز بلند کرنا حماقت ہے۔ ‘‘فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : ’’کسی کو ڈکار یا چھینک آئے تو آواز بلند نہ کرے کہ شیطان کو یہ بات پسند ہے کہ اِن میں آواز بلند کی جائے۔ ‘‘ ( ) (2)’’جب چھینک آئے او ر اَلْحَمْدُلِلّٰہ کہیں گے تو فرشتے رَبِّ الْعٰلَمِیْن کہیں گے ۔ اگر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنکہیں گے تو معصوم فرشتے یہ دعا کریں گے : یَرْحَمُکَ اللہ(یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ پر رحم فرمائے ) ۔ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : ’’ جب کسی کو چھینک آئے اور وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہے تو فرشتے کہتے ہیں : رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ اور وہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ کہتا ہے ، تو فرشتےکہتے ہیں : یَرْحَمُکَ اللہُیعنیاللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ پر رحم فرمائے۔ ‘‘( ) (3)’’چھینک آنے پر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا سنت ہے بہتر یہ ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنکہے ۔ سننے والے پر واجب ہے کہ فو راً یَرْ حَمُکَ اللہ(یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ پر رحم کرے )کہے اور اتنی آواز سے کہے کہ چھینکنے والاخود سن لے۔ اگر جواب میں تا خیر کردی تو گنہگار ہوگا۔
صرف جواب دینے سے گناہ معا ف نہیں ہوگا توبہ بھی کرنا ہوگی۔ ‘‘(4)’’جواب سن کر چھینکنے والاکہے : یَغْفِرُاللہُ لَنَاوَلَکُمْ (یعنیاللہ عَزَّوَجَلَّ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے) یا یہ کہے : یَھْدِیْکُمُ اللہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ (یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں ہدایت دے اور تمہاری اصلاح فرمائے)۔ ‘‘ (5)’’چھینکنے والا زورسے حمد کہے تا کہ کوئی سنے اور جواب دے دونوں کو ثواب ملے گا۔ ‘‘ (6)’’چھینک کا جواب ایک مرتبہ واجب ہے۔ دوبارہ چھینک آئے اور وہ اَلْحَمْدُلِلّٰہ کہے تو دو بارہ جواب واجب نہیں بلکہ مستحب ہے۔ ‘‘ (7)’’جوا ب اس صورت میں واجب ہوگاجب چھینکنے والا اَلْحَمْدُلِلّٰہکہے ، اور حمد نہ کرے تو جواب واجب نہیں۔ ‘‘ (8)’’بڑھیا کی چھینک کاجواب مَرد ، زور سے دے اور جوان عورت کا جواب دل میں دے۔ ‘‘ (البتہ اتنی آواز ضروری ہے کہ جواب دینے والا خود سن لے)(9) ’’چھینکنے والا دیوارکے پیچھے ہوجب بھی جواب دیں ۔ ‘‘ (10)’’کئی اسلامی بھائی موجود ہوں اوربعض حاضرین نے جواب دے دیا تو سب کی طرف سے جواب ہوگا مگر بہتریہی ہے کہ سارے جواب دیں ۔ ‘‘(11)’’نماز کے دوران چھینک آئے تو اَلْحَمْدُلِلّٰہ نہ کہیں ۔ ‘‘ (12)’’کسی کو چھینک آئی اور نماز پڑھنے والے نے دورانِ نماز جواب دے دیا تو اُس کی نماز فاسد ہوگئی۔ ‘‘ (13)’’کافر کو چھینک آئی اور اس نے اَلْحَمْدُللّٰہ کہا تو جواب میں یَھْدِیْکَ اللہُ(اللہ عَزَّ وَجَلَّ تجھے ہدایت کرے)کہاجائے۔ ‘‘اے ہمارے پیارے اللہ عَزَّوَجَلَّ ! ہمیں چھینک کی سنتوں اور آداب پر عمل کرنے کی تو فیق عطا فرما۔ آمین(5)عیادت کرنا:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اپنے بیمار مسلمان بھائی کی عیادت کرنا نہایت ہی اَجروثواب کا کام ہے ، اَحادیث میں اِس کی بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ، چنانچہ تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پیش خدمت ہیں : (1) ’’مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کو گیا تو واپس ہونے تک جنت کے پھل چننے میں رہا۔ ‘‘( )(2)’’جو مسلمان کسی مسلمان کی عیادت کے لیے صبح کو جائے تو شام تک اس کے لیے ستر ہزار فرشتے اِستغفار کرتے ہیں اور شام کو جائے تو صبح تک ستر ہزار فرشتے اِستغفار کرتے ہیں اور اُس کے لیے جنت
میں ایک باغ ہوگا۔ ‘‘( )(3)’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں جہادکرنے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ضمانت میں ہے اور مریض کی عیادت کرنے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ضمانت میں ہے اورمسجد کی طرف جانے والا یا مسجد سے لوٹنے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ضمانت میں ہے اور حا کمِ اسلام کے پاس اُس کی عزت اور اِعانت کرنے کیلئے آنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ضمانت میں ہے اوراپنے گھرمیں بیٹھ کر کسی کی غیبت نہ کرنے والا بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ضمانت میں ہے۔ ‘‘( )
مریض کی عیادت سے متعلق چار مدنی پھول پیش خدمت ہیں : (1) ’’عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’جب كوئی شخص کسی بیماری میں مبتلا ہو اور اس کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی ہو تو اس کی عیادت کرنا سنت مبارکہ ہے اور اگر دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہ ہو توعیادت کرنا واجب ہے ۔ ‘‘( ) (2)فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : ’’مریض کی پوری عیادت یہ ہے کہ اُس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر پوچھے کہ مزاج کیسا ہے؟ اور پوری تحیت(سلام کرنا ) یہ ہے کہ مصافحہ بھی کیاجائے۔ ‘‘( ) (3)جب مریض کی عیادت کو جائیں تو اُس سے اپنے لیے دعا کروائیں۔ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : ’’مریض جب تک تندرست نہ ہوجائے اس کی کوئی دعا رَد نہیں ہوتی۔ ‘‘( )(4) ’’جب کسی مریض کی عیادت کو جائیں تو مریض کے لئے بھی دعا کریں ، ایک دعا حدیث مبارکہ میں تعلیم فرمائی گئی ہے ہو سکے تو یہ دعا ہی پڑھ لیں۔ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : ’’جس نے کسی ایسے مریض کی عیادت کی جس کی موت کا وقت قریب نہ آیا ہواورسات مرتبہ یہ الفاظ کہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے اُس مرض سے شفا عطا فرمائے گا۔ ‘‘(الفاظ یہ ہیں : )’’اَسْئَلُ اللہَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِِ اَنْ یَّشْفِیَکَیعنی میں عظمت والے ، عرش عظیم کے مالک اللہ عَزَّوَجَلَّ سے تیرے لئے شفاء کا سوال کرتا ہوں۔ ‘‘( )
(6)جنازے کے ساتھ جانا:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جنازے میں شریک ہونا بھی اجر وثواب کا کام ہے ، اس کے بھی کثیر فضائل وارد ہوئے ہیں ، چنانچہ اِس ضمن میں تین فرامینِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے : (1)’’جو نماز ادا کرنے تک جنازے میں شریک رہا اُس کے لئے ایک قیراط ثواب ہے اور جو تدفین تک شریک رہا اُس کے لئے دوقیراط ثواب ہے۔ ‘‘ پوچھا گیا : ’’دوقیراط کیا ہیں؟‘‘فرمایا : ’’دوعظیم پہاڑوں کی مثل۔ ‘‘( )جبکہ مسلم شریف کی روایت میں ہے : ’’ اُن میں سے چھوٹا پہاڑ جبل اُحد جتنا ہے ۔ ‘‘( ) (2) ’’جو شخص میت کے ساتھ اُس کے گھر سے نکلا اور اُس پر نماز پڑھی اور تدفین تک اُس کے ساتھ رہا تو اُس کے لئے دو قیرا ط ثواب ہے اور ہر قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہے اور جو نماز پڑھ کر لوٹ آیا اُس کے لئے اُحد پہاڑجتنا ایک قیرا ط ہے۔ ‘‘( ) (3) ’’بندے کو اپنی موت کے بعد سب سے پہلے جو جزا دی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اُس کے جنازے میں شریک تمام اَفراد کی مغفرت کردی جاتی ہے ۔ ‘‘( )
مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’جنازے کے ساتھ جانا عام حالات میں سنت ہے لیکن جب کوئی یہ کام نہ کرے تو فرض ہے کبھی فرضِ کفایہ کبھی فرضِ عین ۔ ‘‘( )
علامہ بدرُالدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’جمہور علماء کے نزدیک نمازِ جنازہ پڑھنا فرضِ کفایہ ہے۔ جنازے کے ساتھ جانے کا مطلب یہ ہےکہ جنازے کو اُٹھانا اور ایک دوسرے سے کندھے بدلنا یہ رشتہ داروں اور پڑوسیوں پر لازم ہے۔ جنازے کی اتباع کرنے کی تین اقسام ہیں : پہلی قسم تو یہ ہے کہ صرف اُس پر نمازہ
جنازہ پڑھی جائے اِس میں ایک قیراط اجر ہے۔ دوسری قسم یہ کہ جنازے کے ساتھ جائے اور تدفین تک اُس کے ساتھ رہے اور اس میں دو قیراط اجر ہے۔ تیسری قسم یہ ہے کہ دفن کے بعد اُس کو تلقین بھی کرے ۔ ‘‘( )حقوق مسلمین سےمتعلق اہم وضاحت:واضح رہے کہ مذکورہ احادیث میں ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق کو بیان فرمایا گیا ہے لیکن یہ حقوق فقط ان چھ میں منحصر نہیں ، چنانچہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’مسلمانوں کے ایک دوسرے پر بہت سے حقوق ہیں ، صرف اِن چھ میں اِنحصار نہیں ۔ حضورِاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مختلف مواقع پر موقع کی مناسبت سے مختلف حقوق کو بیان کیا یا پھر حقوق المسلمین بتدریج نازل ہوئے ، جو حق جب نازل ہوا آپ نے اُسی وقت اُس کو بیان فرمادیا۔‘‘( )مدنی گلدستہ
’’رسول کریم‘‘کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول(1)حقوق العباد كے معاملے میں تمام مسلمان چاہے نیک ہوں یا گنہگار سب برابر ہیں ، البتہ نیک لوگ حسن سلوک کے زیادہ حق دار ہیں۔
(2)ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر کئی حقوق ہیں ، البتہ اِن تمام حقوق کو کسی ایک حدیث میں نہیں بلکہ وقتاً فوقتاً مختلف اَحادیث مبارکہ میں بیان فرمایا گیا ہے۔
(3)ملاقات کے وقت اپنے مسلمان بھائی کو سلام کرنا سنت ہے ، اور سلام کا جواب اتنی آواز سے دینا واجب ہے کہ سلام کرنے والا سن لے۔ سلام کرنے کے بہترین الفاظ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗہیں اورجواب دینے کے بہترین الفاظ وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ ہیں۔
(4)اپنے مسلمان بھائی کی دعوت کو قبول کرنا اُس وقت سنت ہے جبکہ اُس میں کوئی خلافِ شرع کام نہ ہو ، یا وہ دعوت دوسروں کو نیچا دکھانے ، فخر اور اپنی واہ واہ کے لئے نہ ہو ورنہ ایسی دعوتوں میں شرکت کرنا شرعاً ممنوع ہے۔
(5)اپنے مسلمان بھائیوں کو نصیحت اور اُن کی خیر خواہی کرنا سنت مبارکہ ہےاور جب کوئی نصیحت طلب کرے اور دوسرا اُس پر قادر ہو تو اب نصیحت کرنا واجب ہے۔
(6)چھینکنے والے کو چاہیے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن کہے ، جبکہ سننے والا اُس کے جواب میں یَرْحَمُکَ اللہ کہے اور اب چھینکنے والا یَغْفِرُاللہُ لَنَا وَلَکُمْ یا یَھْدِیْکُمُ اللہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُم کہے ، چھینک کا جواب ایک بار دینا واجب ہے جبکہ چھینکنے والا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہے ، ورنہ واجب نہیں۔
(7)اپنے بیمار مسلمان بھائی کی عیادت کرنا سنت مبارکہ ہے اور اَحادیث میں اِس کا بڑا اَجروثواب بیان فرمایا گیا ہے اور اگر اُس کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی بھی نہ ہو اور یہ اُس پر قادر ہے تو اب اُس کی دیکھ بھال کرنا اِس پر واجب ہے۔
(8)اپنے مسلمان بھائی کے جنازے میں حتی المقدور شرکت کرنی چاہیے کہ احادیث مبارکہ میں اِس کے بھی بہت فضائل بیان فرمائے گئے ہیں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کے حقوق کو اچھی طرح ادا کرنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 238