Main Icon

حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 236

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ عَنِ النَّبِىّ ِصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم َ قَالَ:لَا يُؤْمِنُ اَحَدُكُمْ حَتّٰى يُحِبَّ لِاَخِيْهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ. ( )

عن انس عن النبى صلى الله عليه وسلم قال:لا يؤمن احدكم حتى يحب لاخيه ما يحب لنفسه. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا اَنَس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’تم میں سے کوئی بھی شخص اُس وقت تک (کامل)مؤمن نہیں ہوسکتاجب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لئے بھی وہی شےپسندنہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے ۔ ‘‘

شرح حدیث

اِیمان سے مراد اِیمانِ کامل ہے:فقیہ اعظم ، حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اِس حدیث پاک میں اِیمان سے مراد اِیمانِ کامل ہے۔ محبت کسی کی طرف دِل کے میلان کو کہتے ہیں ، یہاں محبت سے مراد پسندیدگی ہے۔ مراد یہ ہے کہ کامل مؤمن وہی ہے جو اپنے مسلمان بھائی کے لئے وہی پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ اس کو لازم ہے کہ جو بات اپنے لئے ناگوار جانے وہ دوسروں کے لئے بھی ناپسند کرے یعنی آدمی یہ چاہتا ہے کہ ہم آرام ، اِعزاز کے ساتھ خوش وخرم رہیں کوئی ہماری توہین و تذلیل نہ کرے کوئی ہمیں

اِیذا نہ پہنچائے ، کوئی ہمارا حق غصب نہ کرے ، اِسی طرح یہ بھی چاہیے کہ میرا بھائی اِعزاز و اکرام کے ساتھ خوش و خرم رہے ، نہ اس کی توہین و تذلیل ہو ، نہ اس کا حق غصب کیا جائے ۔ اس سے بطورِ لزوم یہ بھی سمجھ میں آیا کہ ہر شخص اگر اس کا عادی ہوجائے تو معاشرہ صاف و ستھرا رہے گااور زندگی چین و اطمینان سے گزرے گی اس حدیث میں تواضع ، مروت ، امداد ، باہمی ایک دوسرے کے کام آنے اور دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی بلیغ ترین تبلیغ ہے ، حسد ، کینہ ، عداوت ، بغض ، ایذا رسانی ، حق تلفی ، تفوق ترفع تحقیر و تذلیل سے دور رہنے کی انتہائی دلنشین پیرائے میں تلقین ہے اسی لئے علماء نے اس حدیث کو بھی جَوَامِعُ الْکَلِم اور اُمُّ الْحَدِیث میں سے شمار فرمایا ہے۔ ‘‘( )
شے سے مراد عبادات یا مباحات ہیں:علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک کا معنی یہ ہے کہ کسی بھی شخص کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لئےبھی اس چیز کو پسند نہ کرے جس کو اپنے لئے پسند کرتا ہے اور اس چیز سے مراد عبادات یامباح چیزیں ہیں تو جس کا ایمان کامل ہوگا وہ اپنے بھائی کے لئے اسی نعمت کو پسند کرے گا جسے اپنے لئے پسند کرتا ہے۔‘‘( )مسلمان بھائی کے لیے پسند یا ناپسند کی وضاحت:جو شےاپنے لیے پسند کرے وہی اپنے بھائی کے لیے بھی پسند کرے۔ شاہ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’خواہ اس شے کا تعلق دُنیوی خیر سے ہو یا اُخروی خیر سے ہو۔ اُخروی خیر یہ ہے کہ دوزخ کے عذاب سے نجات اور درجاتِ جنت کا حصول اور یہ ایمان ، نیک اَعمال کا تقاضہ کرتا ہے اور دُنیوی خیر سے مراد اَسبابِ متاع اور اہل و اولاد ہیں جو آخرت میں بھلائی کا ذریعہ ہیں ، جب اِنسان اپنے لئے اِن دونوں کی خواہش کرتا ہے تو اُسے دوسرے تمام مسلمانوں کے لئے بھی یہی

خواہش کرنی چاہیےلیکن وہ شخص جو نفس و شیطان کے شر اور فتنہ و فسادِ باطن کی وجہ سے ایسے مال کی خواہش کرے جو ظلم و فساد اور عذاب کاذریعہ بنے تو اس کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ ایسی چیز کی خواہش دوسرے مسلمان کے لئے بھی کرےبلکہ اسے خود ایسے بُرے عمل سے باز آنا ضروری ہے یا ایک شخص مال ودولت کے حُصُول کی خواہش تو رکھتا ہےاور اُس کا مقصد یہ ہو کہ میں اُس مال کو نیکی کے کام میں خرچ کروں گاتو یہ اچھی چیز ہے لیکن یہ کسی ایسے شخص کے لئے یہ خواہش نہ کرے کہ جس کے بارے میں یہ سمجھتا ہو کہ اسے مال و دولت ، گناہ کے کاموں کی طرف لے جائے گا کیونکہ یہ اس کے حق میں خیر نہیں۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’پنجتن‘‘ پاک کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اُس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)جو شے اپنے لیے پسند ہو وہی اپنے بھائی کے لیے بھی پسند کرنا ایمانِ کامل کی نشانی ہےلہٰذا جو شے اپنی ذات کے لیے بندہ پسندنہیں کرتا تو اُسے چاہیے کہ اپنے بھائی کےلیے بھی اُسےپسند نہ کرے۔
(2)پسند یا ناپسند کا تعلق دینی واُخروی دونوں طرح کی چیزوں سے ہے ، جس طرح دِینی طور پر بندہ اپنے بارے میں یہ چاہتا ہے کہ دنیا سے وہ ایمان سلامت لے جائے ، اُس کا خاتمہ ایمان پر ہو ، کل بروزِ قیامت اُس کے لیے آسانیاں ہوں ، جنت میں داخلہ نصیب ہو ، یہی تمام باتیں وہ اپنے دیگر مسلمان بھائیوں کے لیے بھی پسند کرے اور اِس کی کوششیں کرے ، اِسی طرح دُنیوی نعمتوں کا معاملہ ہے۔
(3)جو شخص نفس و شیطان کے شر کی وجہ سے حرام ذریعے سے مال جمع کرنے کا خوہش مند ہو تو اس کے لئے یہ بات جائز نہیں کہ اپنے مسلمان بھائی کے لئے بھی یہ خواہش رکھے کیونکہ یہ تو بذاتِ خود گناہ ہے اور گناہ سے بچنے کا حکم ہے نہ کہ بندہ اپنے بھائی کے لیے بھی اس گناہ کی خواہش کرے۔
(4)اگر کوئی شخص اپنی ذات کے لیے مال ودولت کی اس لیے خواہش رکھتا ہے کہ اسے نیکی وبھلائی کے

کاموں میں خرچ کرے البتہ اسے معلوم ہے کہ میرا فلاں بھائی مال ودولت کو نیکی کے کاموں میں خرچ نہیں کرپائے گا تو اس کے حق میں مال ودولت کی خواہش نہ کرنا بہتر ہے۔
(5)یہ بھی معلوم ہوا کہ مال ودولت میں اضافے کی خواہش کرنا مطلق ممنوع نہیں ہے بلکہ نیکی وبھلائی کے کاموں میں خرچ کرنے کی نیت سے مال میں اضافے کی خواہش کرنا اچھی بات ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے بھی وہی اچھی چیزیں اور باتیں پسند کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو ہم اپنی ذات کے لیے پسند کرتے ہیں۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 236