Main Icon

حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 239

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَ عَنْ اَبِیْ عُمَارَۃِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاقَالَ : اَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ ، اَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَازَةِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَ اِجَابَةِ الدَّاعِي وَاِفْشَاءِ السَّلَامِ وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمَ اَوْ تَخَتُّمٍ بِالذَّهَبِ وَعَنْ شُرْبٍ بِالْفِضَّةِ وَعَنِِ

الْمَيَاثِرِ الْحُمْرِوَعَنِ الْقَسِّيِّ وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالْاِسْتَبْرَقِ وَالدِّيْبَاجِ. ( )
وَفِيْ رِوَايَة ٍ:وَاِنْشَادِ الضَّالَّةِ فِيْ السَّبْعِ الْاُوَلِ. ( )
اَلْمَيَاثِرُ بِيَاءٍمُثَنَّاةٍ قَبْلَ الْاَلِفِ وَثَاءٍ مُثَلَّثَةٍ بَعْدَهَا وَهِيَ جَمْعُ مَيْثِرَةٍ وَهِيَ شَيْءٌ يُتَّخَذُ مِنْ حَرِيْرٍ وَيُحْشٰى قُطُنًا اَوْ غَيْرَهُ وَيُجْعَلُ فِيْ السَّرْجِ وَكُوْرِ الْبَعِيْرِ يَجْلِسُ عَلَيْهِ الرَّاكِبُ وَالْقَسِّيُّ بِفَتْحِ الْقَافِ وَكَسْرِ السِّيْنِ الْمُهْمَلَةِ الْمُشَدَّدَةِ وَهِيَ ثِيَابٌ تُنْسَجُ مِنْ حَرِيْرٍ وَكَتَّانٍ مُخْتَلِطَيْنِ واِنْشَادُ الضَّالَّةِ: تَعْرِيْفُهَا.

و عن ابی عمارۃ البراء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہماقال : امرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بسبع ونهانا عن سبع ، امرنا بعيادة المريض واتباع الجنازة وتشميت العاطس وإبرار المقسم ونصر المظلوم و اجابة الداعي وافشاء السلام ونهانا عن خواتيم او تختم بالذهب وعن شرب بالفضة وعن

المياثر الحمروعن القسي وعن لبس الحرير والاستبرق والديباج. ( )
وفي رواية :وانشاد الضالة في السبع الاول. ( )
المياثر بياءمثناة قبل الالف وثاء مثلثة بعدها وهي جمع ميثرة وهي شيء يتخذ من حرير ويحشى قطنا او غيره ويجعل في السرج وكور البعير يجلس عليه الراكب والقسي بفتح القاف وكسر السين المهملة المشددة وهي ثياب تنسج من حرير وكتان مختلطين وانشاد الضالة: تعريفها.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو عمارہ براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں سات چیزوں کے کرنے کا حکم دیا اور سات سے منع کیا ۔ آپ نے ہمیں بیمار کی عیادت کرنے ، جنازے کے ساتھ جانے ، چھینکنے والے کا جواب دینے ، دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنے ، سلام کو پھیلانے ، مظلوم کی مدد کرنے اور قسم کھانے والے کی قسم کو پورا کردینے کا حکم فرمایا ۔ اور سونے کی انگوٹھی ، چاندی میں پینے یا چاندی کے برتن میں پینے نیز ریشمی گدوں اور پردوں ، ریشم ، دیباج اوراستبرق پہننے سے منع فرمایا۔ ‘‘
ایک روایت میں پہلی سات چیزوں میں گم شدہ چیز کے اعلان کا بھی ذکر فرمایا۔
چندمشکل الفاظ کے معانی : ’’اَلْمَیَاثِر‘‘اس شے کو کہتے ہیں جسے ریشم سے تیار کیا جاتا ہے اور اس میں روئی وغیرہ ڈالی جاتی ہے ، پھر اسے گھوڑوں اور اونٹوں کی زینوں پررکھا جاتا ہے تاکہ اس پر سوار ہونے والا شخص آرام سے بیٹھے۔ ’’اَلْقَسِّیُّ‘‘ سے مراد ایسے کپڑے ہیں جو ریشم اور سُوت کو ملاکر بُنے جاتے ہیں۔ ’’اِنْشَادُ الضَّالَّۃ‘‘ کا مطلب گمشدہ چیز کا اعلان کرنا ہے۔

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث پاک میں بھی حقوقِ مسلمین کا بیان ہے ، اِن میں سے چند حقوق یعنی بیمار کی عیادت ، جنازے میں شرکت ، چھینک کا جواب ، دعوت قبول کرنا ، سلام کو پھیلانا اور مظلوم کی مدد کرنے کی شرح اور بیان تو پچھلی اَحادیث میں گزر چکا ہے ، بقیہ اُمور کا اِجمالی بیان پیشِ خدمت ہے۔
مسلمان بھائی کی قسم کو پورا کرنا:علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’اگر کوئی شخص مستقبل کے متعلق کسی ایسے کام کی قسم کھائے جو تم کرسکتے ہو تو ضرور کردو تاکہ اُس کی قسم پوری ہوجائے اور قسم ٹوٹنے کی وجہ سے اُس پر کفارہ واجب نہ ہوجیسے کوئی کہے : خداکی قسم! جب تک تم فلاں کام نہ کر لو ، میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا تو تم وہ کام ضرور کر لوبشرطیکہ وہ کام ناجائز نہ ہو۔ ‘‘( )
شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’بعض نے کہا کہ اِس کامعنی یہ ہے کہ اگر کوئی کسی کو قسم دے کر کہے کہ تم یہ کام ضرور کرو تو تمہارے لئے اُس کام کو کرنا مستحب ہے تاکہ خدا تعالیٰ کے اسم مبارک کی تعظیم بر قرار رہے اگر چہ ایسی قسم کو پورا کرنا لازم و ضروری نہیں ۔ ‘‘( )
چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے اور استعمال کا حکم:اسلام میں سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے سے منع فرمایا گیا ہے ، چنانچہ اس ضمن میں تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ ہوں : (1) ’’حریر اور دیباج نہ پہنو اور نہ سونے اور چاندی کے برتن میں پانی پیو اور نہ ان کے برتنوں میں کھانا کھاؤ کہ یہ چیزیں دنیا میں کافروں کے لیے ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں۔ ‘‘( ) (2) ’’جو شخص سونے اور چاندی کے برتن ميں کھاتا پيتا ہے وہ اپنے پيٹ ميں غٹا غٹ جہنم کی آگ بھرتا ہے۔ ‘‘( ) (3)’’جس نے دنیا میں سونے چاندی کے برتنوں میں پیا وہ آخرت میں ان کے ذریعے نہ پی سکے گا۔ ‘‘( )
صدرالشریعہ ، بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں :

’’سونے چاندی کے برتن میں کھانا پینا اور ان کی پیالیوں سے تیل لگانا یا ان کے عطر دان سے عطر لگانا یا ان کی انگیٹھی سے بخور کرنا (یعنی دھونی لینا)منع ہے اور یہ ممانعت مرد و عورت دونوں کے لیے ہے۔ عورتوں کو ان کے زیور پہننے کی اجازت ہے۔ زیور کے سوا دوسری طرح سونے چاندی کا استعمال مرد و عورت دونوں کے لیے ناجائز ہے۔ سونے چاندی کے چمچے سے کھانا ، ان کی سلائی یا سرمہ دانی سے سرمہ لگانا ، ان کے آئینہ میں منہ دیکھنا ، ان کی قلم دوات سے لکھنا ، ان کے لوٹے یا طشت سے وضو کرنا یا ان کی کرسی پر بیٹھنا ، مرد عورت دونوں کے لیے ممنوع ہے۔ سونے چاندی کی چیزوں کے استعمال کی ممانعت اس صورت میں ہے کہ ان کو استعمال کرنا ہی مقصود ہو اور اگریہ مقصود نہ ہو تو ممانعت نہیں ، مثلاً سونے چاندی کی پلیٹ یا کٹورے میں کھانا رکھا ہوا ہے اگر یہ کھانا اسی میں چھوڑ دیا جائے تو اضاعتِ مال ہے اُس کو اُس میں سے نکال کر دوسرے برتن میں لے کر کھائے یا اُس میں سے پانی چلّو میں لے کر پیا یا پیالی میں تیل تھا ، سر پر پیالی سے تیل نہیں ڈالا بلکہ کسی برتن میں یا ہاتھ پر تیل اس غرض سے لیا کہ اُس سے استعمال ناجائز ہے ، لہٰذا تیل کو اُس میں سے لے لیا جائے اور اب استعمال کیا جائے یہ جائز ہے اور اگر ہاتھ میں تیل کا لینا بغرضِ استعمال ہو جس طرح پیالی سے تیل لے کر سر یا داڑھی میں لگاتے ہیں ، اس طرح کرنے سے ناجائز استعمال سے بچنا نہیں ہے کہ یہ بھی استعمال ہی ہے۔ ‘‘( )
ریشمی لباس و ریشم کے استعمال کا حکم:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ریشم کے کپڑے مرد کے لیے حرام ہیں ، جبکہ عورتوں کے لیے جائز ہیں ، البتہ بعض مخصوص شرائط کے ساتھ مردوں کو ریشم کا استعمال جائز ہے۔ چنانچہ ریشم کی ممانعت سے متعلق تین فرامین مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے :
(1)’’جو دنیا میں ریشم پہنے گا ، وہ آخرت میں نہیں پہنے گا۔ ‘‘( )

(2) ’’ دنیا میں وہی ریشم پہنے گاجس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ ‘‘( )
(3) ’’سونا اور ریشم میری اُمت کی عورتوں کے لیے حلال ہے اور مردوں پر حرام۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’حقوقِ مسلم‘‘کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) اپنے کسی بھی بیمار مسلمان بھائی کی عیادت کرنا سنت ہے اور اجرو ثواب کا کام ہے۔
(2) جنازے کے ساتھ چلنا بھی بڑے اجروثواب کا کام ہے۔
(3) جب کسی مسلمان کو چھینک آئے اور وہ اَلْحَمْدُلِلّٰہ کہے تو اس کی چھینک کا جواب ضروری ہے۔
(4) اپنے مسلمان بھائی کی دعوت کو قبول کرلینا چاہیےجبکہ اس میں کوئی خلاف شرع کام نہ ہو۔
(5) سلام کو عام کرنا چاہیے ، چلتے پھرتے ، اٹھتے بیٹھتے جہاں بھی موقع ملے اپنے مسلمان بھائیوں کو سلام کرنا چاہیے ، سلام میں پہل کرنے والے کو زیادہ اجروثواب کی بشارت ہے۔
(6) احادیث میں اپنے مظلوم مسلمان بھائی کی مدد کرنے کا بھی حکم دیاگیا ہے لہذا جو اس پر قادر ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنے بھائی کی ضرور مددکرے۔
(7) اپنے مسلمان بھائی کی قسم کو پورا کرنا اور اس کو قسم توڑنے کے کفارے سے بچانا بھی مستحب ہے۔
(8) سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا پینا ممنوع ہےاور مَردوں کے لیے ریشم کا لباس حرام ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اَحکامِ شرعیہ پر عمل کرنے ، اپنے مسلمان بھائیوں کے تمام حقوق کو کما حقہ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 239