Main Icon

حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 231

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِىْ قَتَادَةَ الْحَارِثِ بْنِ رِبْعِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اِنِّى لَاَقُوْمُ اِلیَ الصَّلَاةِ واُرِيْدُ اَنْ اُطَوِّلَ فِيْهَا فَاَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِىِّ فَاَتَجَوَّزُ فِى صَلاَتِىْ كَرَاهِيَةَ اَنْ اَشُقَّ عَلٰى اُمِّهِ. ( )

عن ابى قتادة الحارث بن ربعی رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : انى لاقوم الی الصلاة واريد ان اطول فيها فاسمع بكاء الصبى فاتجوز فى صلاتى كراهية ان اشق على امه. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو قتادہ حارِث بن رِبعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے ، فرماتے ہیں کہ شہنشاہِ

مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’میں نماز پڑھانے کے لئے کھڑا ہوتا ہوں تو میں چاہتا ہوں کہ نماز میں قراءت طویل کروں لیکن جب میں کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے قراءت کو طویل نہیں کرتاکہ یہ اس کی ماں پر دشوار ہوگا۔ ‘‘

شرح حدیث

رسولُ اللہکی اپنی اُمَّت پر کمال شفقت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! “ یہ حضور سید عالَم ، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اپنی اُمت پر کمال شفقت ہے کہ آپ بچوں کے رونے کی آواز سن کر قراءت میں تخفیف فرمادیتے تھے اور اس زمانے میں عورتیں بھی نماز میں شامل ہوا کرتی تھی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم چھوٹی سورتیں اِس لئے پڑھتے تاکہ ماں کا دل بچے کی وجہ سے پریشان نہ ہو۔ ‘‘( )
واضح رہے کہ عورتوں پر نہ عیدین کی نماز واجب ہے نہ ہی جمعہ کی نماز فرض ، بلکہ اُن پر جمعۃ المبارک کے دن ظہر کی نماز فرض ہوتی ہے۔ پنج وقتہ فرض نماز ہو یا عام نفل نماز ، اُن کی ادائیگی میں عورتوں کے لیے افضل یہی ہے کہ گھر میں ہی ادا کریں اور گھر میں بھی جتنا چُھپ کر نماز پڑھے اتنا ہی افضل ہے ، کسی بھی نماز کے لیے عورتوں کو مساجد میں جانے کی اجازت نہیں۔ درمختار میں ہے : فسادِ زمان کی وجہ سے مفتی بہ قول یہ ہے کہ عورتوں کو کسی بھی نماز کی جماعت میں اگرچہ وہ جمعہ یا عیدین کی نماز ہو ، حاضر ہونا مکروہ ہے۔ ( )
نماز کو مختصر کرنے کا معنٰی:مذکورہ حدیث پاک میں اِختصار کا معنی یہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قراءت کو کم کردیتے تھے جیساکہ ایک حدیث پاک میں ہے : ’’حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پہلی رکعت میں تقریبا ًساٹھ آیتیں پڑھیں پھر آپ نے بچےکے رونے کی آواز سنی تو دوسری رکعت میں تین آیتیں پڑھیں۔ ‘‘( )
نماز کو مختصر نہ کرنے پر تنبیہ:روایت میں ہے کہ تاجدارِ رسالت ، شہنشاہِ نُبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں ایک شخص نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں فجر کی نماز فلا ں شخص کی وجہ سے تاخیر سے ادا کرتا ہوں کیونکہ وہ بہت لمبی قراءَت کرتا ہے۔ ‘‘ (راوی فرماتے ہیں کہ) میں نے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوجتنے جلال وشدت میں اس دن نصیحت کرتے ہوئے دیکھا ، اس سے پہلے کبھی اتنی شدت نہ دیکھی۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اے لوگو! تم میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو لوگوں کو متنَفِّرکرتے ہیں ، لہٰذاجب تم میں سے کوئی لوگوں کی امامت کرائے تو نماز کو مختصر رکھے کیونکہ اس کے پیچھے بچے ، بوڑھے اور ضرورت مند بھی ہوتے ہیں۔ ‘‘( )نماز میں امام کے لیے قراءت کو مختصر کرنے یا طویل کرنے کے مختلف احکام جاننے کے لیے اسی باب کی حدیث نمبر۲۲۸ کی شرح ملاحظہ کیجئے۔مدنی گلدستہ
’’مکہ‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی اُمَّت پر کمال مہربان ہیں۔
(2) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نماز میں بچوں کی آواز سن کر قراءت میں تخفیف فرمادیتے تھے۔
(3) امام کو چاہیے کہ تمام نمازیوں کا خیال کرتے ہوئے نہ تو بہت مختصر قراءت کرے اور نہ ہی بہت زیادہ طویل قراءت کرے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی شفقت ومہربانی کی نعمت عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 231