Main Icon

حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 237

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْہُ:قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اُنْصُرْ اَخَاكَ ظَالِمًا اَوْ مَظْلُومًا فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُوْلَ اللَّهِ اَنْصُرُهُ اِذَا كَانَ مَظْلُوْمًا اَرَاَ يْتَ اِنْ كَانَ ظَالِمًا كَيْفَ اَنْصُرُهُ؟ قَالَ: تَحْجُزُهُ اَوْ تَمْنَعُهُ مِنَ الظُّلْمِ فَاِنَّ ذٰلِكَ نَصْرُهُ. ( )

وعنہ:قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:انصر اخاك ظالما او مظلوما فقال رجل يا رسول الله انصره اذا كان مظلوما ارا يت ان كان ظالما كيف انصره؟ قال: تحجزه او تمنعه من الظلم فان ذلك نصره. ( )

حدیث ترجمہ

: حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اپنے بھائی کی مدد کرو ، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ ‘‘ ایک شخص نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! جب وہ مظلوم ہوتا ہےتو میں اس کی مدد کرتا ہوں لیکن جب وہ ظالم ہو تو میں اس کی مدد کس طرح کروں؟‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’اُسے روکو یا ظلم کرنے سے منع کرو کیونکہ یہی اس کی مدد ہے ۔ ‘‘

شرح حدیث

ظالم کی مدد:علامہ غلام رسول رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’ظالم کی مدد اس کو ظلم سے روکنا ہے کیونکہ اگر

اس کو ظلم سے نہ روکو گے تو وہ ظلم میں اور آگے بڑھ جائے گا اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کی ایک دن اس سے قصاص لیا جائے گا لہٰذا اس کو ظلم سے روکنے میں اس کو قصاص سے نجات دلانا ہے اور یہ اس کی مدد ہے ۔ ‘‘( )
مسلمان بھائی کی ہر حال میں مدد کرو:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ اپنے بھائی مسلمان کی بہرحال مدد کرو ، خواہ تمہاری مدد اس کو خوش کرے یا مغموم کرے۔ یعنی ظالم کو ظلم سے روک دینا ہی اس کی بڑی مدد ہے کہ اسے مظلوم کی بددعاؤں سے ، اللہ کے عذاب سے بچالینا ہے۔ ‘‘( )حدیث پاک کا مفہوم کلی:شارح حدیث سیدمحمود احمدرضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’رُوحِ حديث یہ ہے کہ تمام دنیا کے مسلمانوں کے درمیان اِسلامی رشتے کی بنیا دپر ایک دوسرے پر جو حقوق ہیں اُس کا لحاظ رکھنا چاہیے ۔ بلا وجہ کسی مسلمان پر ظلم وزیادتی کرنا تو حرام و ناجائز ہے لیکن اِسلامی رشتے کا تقاضہ یہ بھی ہے کہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو نشانۂ ظلم بننے کے لئے بے مدد نہ چھوڑا جائے اور حتی المقدور اُس کی قانونی ، مالی اور اَخلاقی اِمداد کی جائے۔ ‘‘( )دو اہم مدنی پھول:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک سے یہ دو اہم مدنی پھول حاصل ہوئے : (۱) فقط کسی کو نیکی کی دعوت دینا یا اچھائی کی طرف بلانا ہی اُس کی مدد نہیں ہے بلکہ کسی کو ظلم سے روکنا ، یا اُس کی ذات میں پائی جانے والی کسی بھی برائی سے روکنا بھی دراصل اُس کی مدد کرنا ہے۔ (۲) حقیقی مددگار اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پاک ذات ہے ، مگر اُس کی عطا سے اُس کے بندے بھی ایک دوسرے کے مددگار ہیں ، کوئی اپنے بھائی کو نیکی و اچھائی کی طرف بلا کر اُس کی مددکرتا ہے تو کوئی اپنے بھائی کو برائی سے منع کرکے یا بچا کر اُس کی مدد کرتا ہے۔

لہٰذا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے بھی اُس کی عطا سے ایک دوسرے کے مددگار ہوسکتے ہیں۔
مدنی گلدستہ
اسم جلالت ’’اللہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)اسلامی رشتے کی بنیاد پرمسلمانوں کے درمیان جو حقوق لازم ہوتے ہیں اُن کا لحاظ رکھنا چاہیے۔
(2)اپنے مسلمان بھائیوں کی ہرحال میں ہرطرح سے مدد کرنی چاہیے۔
(3)ظالم اور مظلوم دونوں کی مدد کی جاسکتی ہے ، ظالم کو اُس کے ظلم سے روکنااور مظلوم کو ظالم کے ظلم سے چھڑا نا اُس کی مدد ہے۔
(4)حقیقی مددگار فقط اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی ہے مگر اُس کی عطا سے اُس کے بندے بھی ایک دوسرے کے مددگار ہیں اور وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کی ہر طرح سے مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، انہیں نیکی کی دعوت دینے اور گناہوں سے بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 237